واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


لکشمن بی بی اور فاطمہ بی بی !بسلسلہ،میں نے کافرستان میں کیا دیکھا

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-08-11, 09:52 PM   #1
لکشمن بی بی اور فاطمہ بی بی !بسلسلہ،میں نے کافرستان میں کیا دیکھا
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 09-08-11, 09:52 PM

وادی کیلاش کی لکشن بی بی کا تذکرہ شروع کرنے سے پہلے یہ بات بھی ذہن نشین کر لی جائے کہ یونان کیلاش لڑکوں اور لڑکیوں کو ترجیحاً اپنے ہاں اعلیٰ تعلیم کے نام پر لے جاتا ہے اور جو بچے اور بچیاں غیر ملکی این جی اوز کے سکولوں میں داخل ہوتی ہیں، ان کے اکاﺅنٹ کھول کر وہاں ان کے لئے لاکھوں روپے بھی ڈال دیئے جاتے ہیں۔
چترال میں قیام کے دوران جب وادی کیلاش جانے کا ذکر چلا تو ڈاکٹر محمد ایوب کی زبان پر لکشن بی بی کا نام تھا.... کہنے لگے کہ وہاں جائیں گے تو اس کا گھر ضرور دیکھیں گے.... ہم ایون سے وادی کیلاش کے لئے روانہ ہوئے تو پہلی منزل وادی رمبور تھی، جہاں لکشن بی بی کا گھر ہے۔ لکشن بی بی اسی علاقے یعنی رمبور کی باسی ہے۔ اس کا سارا خاندان بھی یہیں مقیم ہے۔ رمبور میں اس کے گھر پہنچے تو شاندار گھر کا بیرونی گیٹ کھلا تھا لیکن آگے گھر کو تالے لگے ہوئے تھے۔ مقامی کافر کیلاشیوں سے اس سے متعلق پوچھا تو وہ کہنے لگے کہ 2سال سے زائد عرصہ ہو چکا، لکشن بی بی یہاں نہیں آئی اور اب اس کا گھر اسلام آباد میں ہے۔ آخر یہ لکشن بی بی ہے کون؟ کہ اس کا گھر ساری وادی کیلاش میں سب سے شاندار ہے، کھوج لگانے پر ہمیں پتہ چلا کہ لگ بھگ 34 سالہ لکشن بی بی کی قسمت اس دن جاگی تھی جب بے نظیر بھٹو نے اپنے پہلے دور حکومت میں اعلیٰ حکام اور غیر ملکی نمائندوں کے ہمراہ وادی کیلاش کا دورہ کیا تھا۔ کیلاش لوگوں کو جب مقامی بچوں کے فن کے مظاہرے اور بات چیت کا موقع دیا گیا تو انہوں نے سب سے زیادہ تیز بولنے اور باتیں کرنے والی لکشن بی بی کو آگے کر دیا۔ بس پھر یہیں سے وہ غیر ملکی نمائندوں کی نظر میں آئی جو اسے تھوڑے ہی دنوں بعد یہاں سے پشاور” اچھی تعلیم“ دلوانے کے لئے لے گئے۔ پھر لکشن نے برسوں پشاور میں رہ کر ”تربیت“ حاصل کی اور پھر رمبور آ کر ایک این جی او کھول کر ایسے ترقیاتی کام شروع کئے جن سے مٹتی کافر تہذیب کو بچایا جا سکے، یعنی کافر کیلاش قبیلے کے لئے ان کے مذہبی مقامات، بشالیوں کی تعمیر اور ان کے مخصوص لباس کی سستے داموں فراہمی وغیرہ وغیرہ، لیکن باہر سے آنے والا بے تحاشا پیسہ لکشن بی بی کو رمبور میں ٹکنے نہ دیتا تھا، سو وہ زیادہ تر پشاوریا اسلام آباد میں وقت گزارتی اور آخر کار اب اس نے اس علاقے کو تقریباً مکمل خیرباد کہہ دیا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ تقریباً 10 سال پہلے اس کی ایک بہن جبکہ تقریباً پانچ سال پہلے اس کا اکلوتا بھائی بھی مسلمان ہو چکا ہے۔ اب وہ خود اس کی ایک بہن اور والدین کافر ہیں۔ مقامی کافر کیلاش سردار بھی اسے سخت ناپسند کرتے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے ان کی سرداری خطرے میں پڑ گئی تھی، ہم نے اسے ”مختاراں مائی“ کے مماثل اسی لئے کہا تھا کہ اس کا کردار بھی ہوبہو مختاراں مائی والا ہے۔
چند روز پہلے ایک خبر آئی کہ امریکی اہلکاروں نے جنوبی پنجاب میں حکومت کی جانب سے داخلہ بند ہونے کے بعد خفیہ طور پر پاک سعودی فرٹیلائزر فیکٹری کا دورہ کیا ہے۔ اس پر پاکستانی حکام شدید سیخ پا تھے۔ اس کے اگلے چند روز بعد امریکی سفیر نے ملتان کا خصوصی دورہ کیا اور شاہ شمس تبریز کے دربار پر حاضری دی، چادر چڑھائی اور وہاں دربار کے تعمیراتی کام کے لئے 50 ہزار ڈالر مالیت کے منصوبے کا معائنہ کیا۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ جب 22اپریل کو سپریم کورٹ نے مختاراں مائی مقدمے کا فیصلہ سنایا تو 27 اپریل کو امریکی سفیرکا بیان امریکی سفارت خانے نے خصوصی طور پرجاری کیا جس میں کہا گیا کہ امریکہ کو عدالتی فیصلے پر شدید تحفظ ہے اور یہ کہ مختاراں مائی کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ امریکہ اور مغربی ممالک کو جنوبی پنجاب میں مختاراں مائی کے جھوٹے مقدمے کی آڑ میں خوب کھل کھیلنے کا موقع ملا تھا اور انہوں نے پاکستان کے سینے پر اپنے پنجے گاڑے تھے۔ وہی مظفر گڑھ جہاں مختاراں مائی مقدمہ سے پہلے ایک این جی اوز نہیں تھی۔ اب 200 سے زائد این جی اوز رجسٹرڈ ہو چکی ہیں لیکن مختاراں مائی کی حقیقت اور پول کھل جانے کے بعد امریکہ اور مغربی ممالک شدید پریشانی سے دوچار ہیں اور اب اس کی بجائے نئے سہارے تلاش کر رہے ہیں۔ اللہ کے فضل سے مختاراں مائی کا پول کھولنے اور پاکستان کے خلاف امریکہ اور مغرب کی اس بڑی سازش کے پردے چاک کر کے اسے ناکامی تک پہنچانے کا اعزاز بھی جرار کو حاصل ہوا ہے۔ (اس کی الگ تفصیل ہے)
بہرحال امریکہ اور مغرب کی ایسی سازشوں کی کہانی بہت طویل تہہ در تہہ ہے جو وہ پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف کرتے آ رہے ہیں۔ لکشن بی بی آج کل مختاراں مائی کی طرح بہترین گھروں میں رہتی، اعلیٰ گاڑیوں میں سیر کرتی اور جدید مغربی لباس پہنتی ہے لیکن اس کا پول بھی اب کھل چکا ہے۔
رمبور میں مسلمان اور کیلاش دونوں بستے ہیںتو اس کے ساتھ آگے رمبور شخاندہ کا گاﺅں ہے جہاں اہل توحید کی اکثریت ہے۔ جماعة الدعوة کے ضلعی مسﺅل مولانا شمس الرحمن کا تعلق بھی اسی گاﺅں سے ہے۔ اسی گاﺅں کے ایک اور رہائشی اور جماعت کے شعبہ دعوت و اصلاح کے مسﺅل مولانا زکریا اور ان کے معاون مولانا عبدالبصیر کی دعوت و کاوش سے کیلاش لڑکی فردوسیہ نے اسلام قبول کر کے مقامی نوجوان ذبیح اللہ سے شادی کر لی ہے۔
فردوسیہ کا نیا اسلامی نام فاطمہ بی بی رکھا گیا ہے۔ فاطمہ کافر کیلاش قبیلے کی رسومات سے شدید نالاں تھی۔ عجیب بے ڈھنگے لباس، گندی اور غلیظ روایات و رسومات اور خصوصاً عورتوں سے ایام مخصوصہ میں امتیازی سلوک نے اسے پریشان کر رکھا تھا۔ کیلاش قبیلے کے بیشتر مرد تو تلاش معاش میں علاقے سے باہر ہوتے ہیں جبکہ ساری کیلاش رسومات کا بوجھ عورتوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیلاش لڑکیاں سب سے زیادہ مسلمان ہوتی ہیں اور مسلمانوں کی صاف ستھری زندگی کو دیکھ کر ان کے ساتھ نکاح کو ترجیح دیتی ہیں۔ فاطمہ بی بی بھی یہی کہتی ہے کہ کیلاش روایات نے اس کا جینا حرام کر رکھا تھا۔ کیلاشیوں کی زندگی تو زندگی موت بھی مصیبت ہوتی ہے۔ مرنے کے بعد، مرنے والے کے گھر سب کا تانتا بندھ جاتا ہے.... اس کی لاش اس مخصوص ہال میں لائی جاتی ہے جہاں رقص ہوتا ہے، کیلاشیوں کی مخصوص پوجا ہوتی ہے یعنی یہ ان کا کمیونٹی سنٹر ہوتاہے۔ تابوت میں رکھی لاش کے گرد بھنگڑے ڈالے جاتے ہیں، بکرے ذبح ہوتے ہیں۔ کئی دفعہ تو ریوڑ کے ریوڑ ذبح ہو جاتے ہیں، کھانے پینے کے ساتھ ساتھ جشن منایا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ وقفے وقفے سے کئی دن تک جاری رہتا ہے یوں مرنے والا تو چلا جاتا ہے لیکن پیچھے رہ جانے والے بھاری اخراجات اور قرض کی اس دلدل میں پھنس جاتے ہیں کہ جس سے نکلنا وبال بن جاتا ہے۔ کیلاش قبیلے کی اس لحاظ سے یہ خوش قسمتی ہے کہ ان کے ہاں پائے جانے والے تمام مسلمان مرنے کے بعد کی مروجہ اور مشہور و معروف رسومات جن پر عام مسلمان بھی بھاری اخراجات کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، پر ایمان و عمل نہیں رکھتے، اور یہی باتیں کیلاشیوں کو متاثر کر کے مسلمان ہونے پر مجبور کرتی ہیں، اگر ایسا نہ ہو تو شائد وہ بھی دوہری مصیبت سے دوچار ہو جائیں اور یقینا مسلمان بھی اس قدر تیزی سے نہ ہوں ۔بمبوریت کے باسی کیلاش کافر لوک رحمت نے بھی انہی خیالات کا اظہار کیا کہ ہمارے لوگوں کے اسلام قبول کرنے کی بڑی وجہ کیلاش ثقافت سے وابستہ بھاری اخراجات ہیں۔ ہمارے جنازے اور لباس بہت ہی مہنگے ہیں اور یہاں نئی نسل.... وہ تو ہماری روایات کو نہیں مانتی وہ ہمارے روایتی گانے بھی نہیں سیکھنا چاہتے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کیلاش لڑکیاں تو یہاں ہی مسلمان ہوتی ہیں جبکہ ان کے نوجوان ملک کے دیگر حصوں میں جا کر عموماً مسلمان ہو جاتے ہیں۔ وادی کیلاش میں آپ کو جگہ جگہ ایسے نوجوان ملیں گے۔ فاطمہ اب اپنے مسلمان خاوند اور مسلمان خاندان کے ساتھ بے حد خوش ہے اور وہ تیزی سے اسلام سیکھ رہی ہے۔ وہ تہجد کی نماز کی بھی پابندی کرتی ہے، سب کو نماز کے لئے اٹھاتی ہے اور سبھی اس کی نئی زندگی پر اسے مبارکباد دیتے ہیں۔ وادی کیلاش کے مسلمانوں کی یہ بھی خوبی ہے کہ وہ ہمارے ہاں کے دیگر مسلمانوں سے ہٹ کر نومسلم خواتین کو زیادہ خوشی و رضا سے قبول کرتے ہیں اور ان کا یہ رویہ بھی اسلام کی مقبولیت میں بے پناہ ممد ومعاون ہے۔ واپسی کے بعد ہمیں پتہ چلا کہ اس علاقے کی مزید دو لڑکیوں نے بھی جماعة الدعوة کی تبلیغی سرگرمیوں سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا ہے اور ان کی بھی جلد مسلمان نوجوانوں سے شادیاں ہو رہی ہیں۔ وادی کیلاش میں ہمیں حالات و واقعات کی معلومات فراہم کرنے والے حاجی غلام رسول بھی رمبور شخاندہ کے باسی ہیں، جماعة الدعوة سے دلی محبت اور بھرپور تعاون کرتے ہیں۔
رمبور کے بعد ہم جب بمبوریت پہنچے تو ہمارا استقبال مقامی رہائشی قاری خلیل اللہ نے کیا۔ ان کے گاﺅں کا نام بمبوریت شخاندہ ہے۔ قاری خلیل الرحمن کا منفرد طرز تعمیر کا مہمان خانہ دور سے اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر ہمارے لئے بہترین دستر خوان سجایا، مقامی روایتی کھانا تیار کروایا اوربھرپور خیر مقدم کیا۔ صبح ہم جب چند قدم آگے بڑھے تو لکڑی سے تعمیر شدہ ایک شاندار مسجد دیکھ کر دل سے ماشاءاللہ اور سبحان اللہ کی صدائیں بلند ہوئیں۔ مسجد کے امام سے بات ہوئی تو اس پر شدید ناراض نظر آئے کہ آپ لوگ ہمارے علاقے کو کافرستان کیوں کہتے ہیں۔ یہاں تو دو ہزار سے بھی کم کافر بستے ہیں۔ ہم سب لوگ مسلمان ہیں.... یہ علاقہ تو اصل اسلامستان ہے لیکن اس کا نام کافرستان رکھ دیا گیا ہے۔ ہم نے کہا کہ ہم دنیا کو یہی بتانے کے لئے آپ کے پاس آئے ہیں کہ کافرستان کی اصل حقیقت کیا ہے؟ اس پر وہ بہت خوش ہوئے۔ نماز مغرب، عشاءاور فجر کے وقت جب ساری وادیاں اللہ اکبر، اللہ اکبر کی صداﺅں سے گونج رہی تھیں اور لوگ کشاں کشاں مساجد کی جانب بڑھتے نظر آ رہے تھے تو اندازہ ہوتا تھا کہ یہ کافرستان نہیں بلکہ اصل اسلامستان یہی ہے اور جلد ہی یہاں کفر کا نام و نشان مٹ جائے گا جس کے مٹنے کا خوف پاکستان کو اس طرح بھی دلایا جاتا ہے کہ اگر یہ لوگ ختم ہو گئے تو پاکستان کو بھاری مالی نقصان ہو گا کیونکہ یہاں لوگ اس کے بعد سیر و سیاحت کے لئے نہیں آئیں گے۔ اللہ کی قدرت کا کرشمہ دیکھئے کہ جس طرح پرویز مشرف کے سارے اقدامات اور فیصلے اس کے ساتھ ہی رخصت ہو گئے تھے۔ یہاں بھی اس کے ساتھ ایسا ہی ہوا ہے، وادی کیلاش میں آخری مرتبہ جو ہیلی کاپٹر اترا اور سب سے نامور بندہ جو یہاں آیا تھا وہ پرویز مشرف ہی تھا اس نے یہاں ناچ گانا کیا اور مقامی لوگوں کے مطابق ”پیا“ بھی تھا کیونکہ یہاں ”پینے پلانے“ پر پابندی نہیں، کیلاشیوں کے گھروں میں پینے کا سامان وافر دستیاب ہوتا ہے اور وہ اس کی بنیاد پر کمائی کرتے ہیں۔ ان کے بچے بھی تصویریں کھنچوانے کے پیسے لیتے ہیں اور کمائی کرتے ہیں لیکن اب یہ سارا کچھ الٹ کر رہ گیا ہے۔ اسلام کا ایک اور معجزہ دیکھئے کہ آج کیلاشیوں کے پاس بیرونی دنیا اور سیاحوں سے لوٹا جانے والا کافی پیسہ ہے لیکن آج تک اس کی وجہ سے کوئی مسلمان کافر نہیں ہوا جبکہ دنیا کی چمک دمک کو چھوڑ کر اسلام کے دامن میں فقر و فاقہ کو پسند کرنے والے کیلاشی اب بھی بے شمار ہیں۔




بشکریہ ،، ہفت روزہ جرار
والسلام ،، علی اوڈ راجپوت
ali oadrajput
_____
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 135
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (09-08-11), غلام خان (17-08-11)
پرانا 09-08-11, 09:54 PM   #2
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,749
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پارٹ 1


میں نے کافرستان میں کیا دیکھا - پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمز
ALI-OAD آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فن, کورٹ, پاک, پاکستانی, واقعات, نماز, نظر, مکمل, موت, محبت, مسجد, معجزہ, آج, ایمان, اللہ, امریکہ, اسلام, اعلیٰ, بے نظیر, بچوں, توحید, تلاش, تعلیم, خواتین, روزہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیاسی دروازے بند نہیں ہوتے ، مل کر جمہوریت مستحکم کریں گے : بابر ، پرویز ملاقات میں اتفاق جاویداسد خبریں 0 25-10-10 10:24 PM
القاعدہ افغانستان میں نہیں ، امریکی فوج پھنسی ہوئی ہے، پاکستان سب سے اہم ہے:امریکی تجزیہ کار جاویداسد خبریں 1 24-10-10 06:52 AM
وزیرستان پر میزائل حملے سے قبل امریکہ نے ہمیں آگاہ نہیں کیا‘حملوں سے تعلقات خراب ہوسکتے ہیں‘ پاکستان ابن جلال خبریں 2 18-09-08 11:51 PM
نواز ، بے نظیر کے دھاندلی کے بیانات شکست کی تیاریاں ہیں،پاکستان میں عدم استحکام پیدا کیا گیا تو امر یکا کو بعد میں پشیمانی ہو گی،صد ر پر وی خرم شہزاد خرم خبریں 0 10-12-07 08:36 AM
بلوچستان میں دہشت گردی پھیلانے والوں کا نیٹ ورک افغانستان میں ہے: صوبائی پولیس پاکستانی خبریں 0 15-09-07 03:57 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:45 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger