واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


مائیں کیا کر رہیں ہیں؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-05-09, 09:34 AM   #1
مائیں کیا کر رہیں ہیں؟
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 26-05-09, 09:34 AM

تحریر: روبینہ حبیب الرحمن

”مس باتھ روم میں ایک لڑکی موبائل پر بات کررہی ہے۔“ میرے کالج میں موبائل فون لانے پر پابندی ہے، لہذا جیسے ہی چند طالبات نے مجھے یہ اطلاع دی، میں بڑی سرعت سے جائے وقوع پر پہنچی۔ ایک سیدھی سادی سی بچی تولیے سے ہاتھ صاف کرتی ہوئی باتھ روم سے باہر نکلی۔

”موبائل نکالیے“ مجھے اس پر شک نہیںتھا، وہ تو اسے باتھ روم سے باہر آتے دیکھ کر ایسے ہی پوچھ لیا تھا۔ ”میرے پاس نہیں مس میرے پاس نہیں ہے موبائل“ چہرے پر بلا کی معصومیت تھی۔ اس کے معصوم چہرے سے نگاہ ہٹی اور براہ راست کالج مونوگرام والی جیب پر پڑگئی۔
”یہ کیا ہے“ اگلے ہی لمحے چپس کا پیکٹ میرے ہاتھ میںتھا، جس کے اندر حرکت ہورہی تھی۔
”میں نے استعمال نہیں کیا۔“ اس نے میرے ہاتھ سے چپس کے پیکٹ میں لپٹا ہوا موبائل فون جھپٹنا چاہا۔
”اول تو کالج میں موبائل فون لانے کی اجازت نہیں، پھر....“ میری بات مکمل ہونے سے قبل اس نے کہا”مس! کیا بیگ میںرکھتی، چوری نہ ہوجاتا؟“
”کل پرنسپل سے لے لینا، آج تو وہ میٹنگ میں گئی ہوئی ہیں۔“
میں نے اتنا کہا اور اگلا قدم بڑھانا چاہا جو اس نے بڑھنے نہیں دیا۔
”پلیز.... میرا موبائل دے دیجئے۔“ وہ برے طریقے سے جھپٹی۔
”میں نے کہا ناں، کل والدین کو بھیج دینا، مل جائے گا۔“ اسی وقت موبائل فون پر کال آرہی تھی۔
”نہیں مجھے ابھی چاہیے، اسی وقت“ اس کا انداز نہایت جارحانہ اور جاہلانہ ہوگیا تھا۔ مجھ پر حملہ کرنے کی لمحے بھر کی دیر تھی کہ سینئر پروفیسر نے آکر اسے ڈانٹا، مگر وہ قابو میں آنے والوں میں سے نہ تھی۔ حتیٰ کہ کالج کی چھٹی ہوگئی اور وہ تڑپ تڑپ کر روتی رہی۔ موبائل فون پوشیدہ مقام پر رکھنے سے قبل لاتعداد آنے والے ایس ایم ایس چیک کیے گئے تو معلوم ہوا آگ دوسری جانب بھی برابر لگی ہوئی تھی۔ ایک لڑکا ایس ایم ایس کے جواب نہ ملنے پر بے قرار تھا۔

اگلے دن نہ وہ بچی آئی نہ کوئی موبائل فون لینے، لیکن اس کے گھر سے کوئی اس کا فون سیٹ لینے آتا بھی تو کیا ہوتا۔ ہم جتنے بھی اس کے ایس ایم ایس پڑھو ادیتے ماں باپ کو ٹیچرز ہی کو برا بھلا کہنے پر اکتفا کرنا تھا کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ عموماً مائیں آتی ہیں تو ٹیچرز کو دقیانوسی اور اپنی بیٹی کو کھلا ذہن رکھنے والی قرار دیتی ہیں اور اکثر دوبارہ جب ملاقات کاشرف بخشتی ہیں تو بیٹی کسی کے ساتھ فرار ہو چکی ہوتی ہے اور اس آس پر آتی ہیں کہ شاید بھولے بھٹکے کالج آجائے کسی کام سے، مگر اس وقت تک پانی سر سے اونچا ہوچکا ہوتا ہے اور ان کی آس، آس ہی رہ جاتی ہے۔ کچھ والدین تو بے عزتی کے خوف سے خاموش ہو جاتے ہیں کہ ”اب کیا ہووت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت“

میں ایک گورنمنٹ کالج میں لیکچرار ہوں۔ میری فقط تین سالہ ملازمت میں یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ یہ ایک معمول ہے۔ میرے اپنے تعلیمی دور کو بیتے زیادہ عرصہ نہیں ہوا، مگر نوجوانوں کی روز بہ روز بگڑتی حالت کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میرے طالب علمی کے زمانے کو صدیاںبیت گئی ہیں۔ میں یہ نہیں کہتی کہ میرے دور میں ماحول سو فی صد پاکیزہ تھا، تمام ہی طالبات کا چال چلن مثالی تھا، مگر لڑکیوں کو یونیفارم میں آنا اور کالج کے بجائے ادھر ادھر نکل جانا، کالج دورانیے میں بھی کونوں کھدروں میں چھپ کر فون پر گفت وشنید کرنے کا تناسب روزبہ روز انتہائی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پہلے کالج کے چار سیکشن میں سے کسی ایک سیکشن کی لڑکی غلط حرکات میں ملوث پائی جاتی تھی، وہ بھی سال دو سال میں، مگر آج ہر کلاس ہر سیکشن میں ایسے واقعات ہر پندرہ بیس روز میں سامنے آجاتے ہیں۔ میں اس کا ذمے دارنہ میڈیا کو گردانتی ہوں اور نہ ہی موبائل فون کو، میں اس بگڑتی ہوئی صورت حال کی ذمے داری برملا والدین پر ڈالتی ہوں۔ انتہائی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی طالبات جن کے لاغر وجود چیخ چیخ کر باور کروارہے ہوتے ہیں کہ انہیں کئی روز سے پیٹ بھر کر روٹی نصیب نہیںہوئی ہے، فیس جمع کروانے کے لیے مالی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، لیکن ان کے پاس موجود موبائل سیٹ قابل دید ہوتے ہیں۔ یہ سیٹ کہاں سے آیا، اگر آبھی گیا تو بیلنس کے لیے پیسے کہاں سے آرہے ہیں، یہ نت نئے نام کی دوستیاں کہاں سے ہو گئیں، موبائل فون سائلنٹ پر کیوں رکھا جانے لگا۔ وہ بچی جو رات کو کسی کمرے میں اکیلے سونے سے ڈرتی تھی، موبائل سیٹ آنے کے بعد اتنی بہادر کیسے ہوگئی۔ اسے فون سرہانے رکھے بغیر نیند کیوں نہیں آتی۔ یہ سوالات ماو ¿ں کے اذہان میں کیوں نہیں کلبلاتے۔

یہ صرف کالج طالبات ہی کی بات نہیں ہے، بلکہ اس کا شکار تمام نوجوان نسل ہے۔ لڑکے، لڑکیاں سب ہی اس بلاکا شکار ہیں۔ آپ کو چنگ سینٹرز کا دورہ کریں، وہاں مزید کم عمر اسکول کے بچے ہیں۔ اندر بچیوں کی کلاس ختم، باہر لڑکے ایس ایم ایس پڑھ رہے ہیں۔ ”میں آرہی ہوں۔“ دو گھنٹے کی کوچنگ کلاس اکثر چار گھنٹے پر محیط ہو جاتی ہے۔ مائیں بچیوں کی زبانی سن کر مطمئن ہوجاتی ہیں۔ بلا شبہ اکثر سچ بھی ہوتا ہے، مگر ماو ¿ں کو از خود تصدیق کرنی چاہیے۔ بچیوں کو انہتائی قیمتی تحائف مل رہے ہوتے ہیں۔ مائیں بہ آسامی بچیوں کے جھانسے میں آجاتی ہیں۔ یہ پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتی کہ یہ کون سی سہیلی ہے۔ اگر بچی انجانا نام لیتی ہے تو اس کی تفتیش کیوں نہیں کی جاتی، مائیں کیوں نہیں سوچتیں کہ بیٹی کی نئی دوست جس کا جمعہ جمعہ آٹھ دن سے نام سن رہی ہیں، بھلا وہ کیوں اتنے قیمتی تحائف دے گی۔ بچی کو کیوں اچانک ہی سجنے سنور نے کا شوق چڑایا۔ کیوں وہ گھر سے سنور کر نکلنے لگی؟ ماو ¿ں کوکوئی پروا ہی نہیں ہوتی۔ خود محلے کی تانک جھانک میںاس قدر مگن رہتی ہیں کہ عزت کے محل میں دراڑیں پڑتی جارہی ہیں۔ انہیں احساس ہی نہیں ہوتا، البتہ محل ڈھے جانے کے بعد واویلا مچاتی ہیں۔

میری ماوں سے التجا ہے خدارا اپنی بچیوں پر توجہ دیں۔ یہ نازک کلیاں ہیں، ان کی اچھی آبیاری کریں گی تو یہ آپ کے گلشن کی رونق ہیں، ورنہ مسلی، مرجھائی کلیاں گلشن کا حسن ماند کردیتی ہیں۔ یہ یادرکھیں۔

ایک آن لائن روزنامچے ’’کراچی اپڈیٹس‘‘ پر یہ تحریر پڑھی، سوچا کہ ضرور سب ماؤں کی نظر سے گزرے اسی لئے یہاں پیش کر رہا ہوں
__________________
محتاج اصلاح و دعا


Last edited by راجہ اکرام; 26-05-09 at 10:00 AM..

 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 421
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (26-05-09), منتظمین (26-05-09), ایس اے نقوی (26-05-09), ام غزل (06-06-09), ابن آدم (26-05-09), راشد احمد (26-05-09), رضی (27-05-09), سحر (26-05-09)
پرانا 26-05-09, 10:03 AM   #2
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت اچھی تحریر کا انتخاب کیا ہے آپ نے اور امید واثق ہے کہ اس پر بھرپور توجہ دی جائے گی
اور ایک سوال کا آپ کے اور میرے دستخط ایک جیسے ہیں جو میں نے ایک انتہائی اہم رکن کے کہنے پر دستخط میں تبدیلی کی تاہم آج پتہ چلا کہ آپ کے اور میرے دستخ ایک جیسے ہیں جس کےلئے اپ سے معذرت خواہ ہوں وہ الگ بات ہے کہ آپ کے دستخط اس سے قبل نہیں دیکھے تھے لہذا میں واپس اپنے پرانے دستخط رکھتا ہوں شکریہ اور ایک اچھی تحریر پر میری طرف سے مبارک ہو آپ کو
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (26-05-09), رضی (27-05-09)
پرانا 26-05-09, 10:30 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 617
کمائي: 11,175
شکریہ: 363
472 مراسلہ میں 1,331 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اکرام بھائی بہت فکر انگیز اور حقیقت پر مبنی تحریر ہے۔ ایسے واقعات بہت عام ہوگئے ہیں۔
دراصل ماں باپ کی تربیت ہی سب کچھ ہوتی ہے۔ ماں‌باپ کو چاہئے کہ اولاد پر نظر رکھے کہ وہ کیا کررہی ہے، اس کے کون کون سے دوست ہیں۔ سکول وکالج انتظامیہ سے مسلسل رابطہ رکھنا چاہئے۔

اسی طرح کا ایک واقعہ ہمارے کالج میں بھی پیش آچکا ہے۔ ایک لڑکی کو کسی نے مہنگا ترین موبائل سیٹ بطور تحفہ دیا۔جس کی مالیت پچیس ہزار کے قریب تھی۔ اس کے ماں باپ کالج میں تحقیق کے لئے پرنسپل کے پاس آئے کہ فلاں لڑکی نے میری بیٹی کو یہ موبائل سیٹ بطور تحفہ دیا ہے اس لڑکی کو پرنسپل آفس میں بلایا گیااس نے تسلیم کیا کہ یہ تحفہ اس نے دیا ہے۔ پرنسپل صاحب نے دوسری لڑکی کے ماں باپ کو بھی بلالیا تو پتہ چلا کہ اس کے ماں باپ تو انتہائی غریب ہیں اور وہ تو یہ سیٹ افورڈ نہیں کرسکتے۔ بعد میں مزید انکوائری اور لڑکی پر دباؤ ڈالنے کے بعد پتہ چلا کہ یہ تحفہ تو کالج کے باہر کسی لڑکے نے دیا ہے۔ مزید یہ عقدہ کھلا کہ یہ دونوں لڑکیاں اکثر لیکچرز اٹینڈ نہیں کرتیں۔ اس کے بعد ان کے ماں باپ نے ان لڑکیوں کی تعلیم پر ہمیشہ کیلئے پابندی لگادی۔
__________________
حکمران کے محبوب ہونے اور فرعون بننے میں رویے کا فرق ہے۔
راشد احمد آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (26-05-09), ایس اے نقوی (26-05-09), رضی (27-05-09)
پرانا 26-05-09, 10:35 AM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ کا بھی شکریہ
لیکن جب میں نے یہ دستخط منتخب کئے تھے تب آپ کے دستخط
ہو نہ ہو یہ کوئی سچ بولنے والا ہے قتیل
جس کے ہاتھوں میں قلم پاؤں میں زنجیریں ہیں
یہ والے تھے
بہر حال آپ نے تبدیل کر لئے تو اچھا کیا ورنہ مجھے کرنے پڑتے،،،

انتخاب پسند کرنے کا شکریہ

۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (26-05-09), راشد احمد (26-05-09), رضی (27-05-09)
پرانا 26-05-09, 10:39 AM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راشد بھائی آپ نے بالکل درست فرمایا
دیگر برائیاں تو پہلے بھی موجود تھیں لیکن اس موبائل نے رہی سہی کسر بھی نکال دی۔
میرے خیال میں نوجوانوں کے لئے موبائل کو ممنوع قرار دیا جانا چاہیے۔۔۔

۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (26-05-09), راشد احمد (26-05-09), رضی (27-05-09)
پرانا 26-05-09, 10:48 AM   #6
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (26-05-09), راجہ اکرام (26-05-09), راشد احمد (26-05-09), رضی (27-05-09)
پرانا 26-05-09, 11:04 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 617
کمائي: 11,175
شکریہ: 363
472 مراسلہ میں 1,331 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rajaikram مراسلہ دیکھیں
راشد بھائی آپ نے بالکل درست فرمایا
دیگر برائیاں تو پہلے بھی موجود تھیں لیکن اس موبائل نے رہی سہی کسر بھی نکال دی۔
میرے خیال میں نوجوانوں کے لئے موبائل کو ممنوع قرار دیا جانا چاہیے۔۔۔

۔
اکرام بھائی
اولاد اس وقت برائی کا شکار ہوتی ہے جب ماں باپ غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
موبائل فون نوجوانوں میں ممنوع قرار دیدیا تو موبائل کمپنیوں کا کیا بنے گا۔
نسل کو بگاڑنے میں میڈیا اور موبائل دونوں کا کردار ہے۔
آپ نے اکثر اشتہارات دیکھے ہوں گے کہ ٹیلی نار کے اشتہار میں لڑکی اور لڑکا اچھل کود کررہے ہوتے ہیں ٹیلی نار ٹاک شاک۔ اسی طرح زونگ، یوفون، جاز کے اشتہارات دیکھ لیں جس میں لڑکی اور لڑکے کی آپس میں باتیں کرتے لازمی دکھایا جاتا ہے۔
راشد احمد آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (26-05-09), رضی (27-05-09)
پرانا 26-05-09, 11:04 AM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 617
کمائي: 11,175
شکریہ: 363
472 مراسلہ میں 1,331 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہمارے معاشرے میں شادی شدہ لڑکیوں کے لئے بھی موبائل زہرقاتل ہے۔ ایک لڑکی کی شادی کرتے وقت ماں باپ موبائل فون دے دیتے ہیں تاکہ وہ رابطے میں رہے۔ لیکن اس کااستعمال یہ ہوتا ہے کہ لڑکی ماں باپ کو اپنے سسرال کی ہرخبر سے باخبررکھتی ہے۔ انہیں اور اپنے رشتہ داروں کو موبائل فون پر اپنے سسرال کی طرف سے کی گئی زیادتیوں کے دکھڑے سناتی ہے۔ ماں باپ طیش میں‌آجاتے ہیں یا پھر کوئی رشتہ دار الٹی سیدھی پٹی پڑھادیتا ہے جس کا نتیجہ گھر کی تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔ یہ چیز مڈل کلاس گھرانوں میں عام ہوچکی ہے۔
راشد احمد آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (26-05-09), ایس اے نقوی (26-05-09), راجہ اکرام (26-05-09), رضی (27-05-09)
پرانا 26-05-09, 11:36 AM   #9
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,511
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں مانتی ہوں یہ سب جو کچھ ہورہا ہے غلط ہے ۔ لیکن اس کی اصل وجہ کیا ہے کسی نے سوچنے کی کوشش کی ۔ اس کی وجہ ہے اسلام سے دوری ۔ جب والدین ہی کو صحیح اور غلط کا معلوم نہیں ہوگا تو وہ اپنی اولاد کی کیا تربیت کریں گے ۔
آپ نے غور کیا کہ جتنے بھی لڑکے یا لڑکیاں دوستی کرتے ہیں ان کی عمریں کیا ہوتی ہیں لڑکیوں کی 15 سے 22 سال اور لڑکوں کی 20 سے 25 سال یہی عمر اسلام میں شادی کی عمر ہے
کیوں لڑکیاں شادی کے بعد پڑھائی نہیں کرسکتیں
کیوں لڑکوں کے اوپر اتنی ذمہ داریاں ڈال دی جاتی ہیں کہ وہ 30 سال سے پہلے شادی کا سوچ نہیں سکتے
آپ معاشرے میں نکاح کو عام کریں بے حیائی خود ختم ہوجائے گی
شادی کو جتنا مشکل بنائیں گے اتنی بے حیائئ بڑھے گی
شادی کے بعد بھی مرد اور عورت پر بے جا اتنی ذمہ داریاں ڈال دی جاتی ہیں کہ نوجوان شادی سے بھاگنے لگے ہیں
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (26-05-09), راجہ اکرام (26-05-09), راشد احمد (26-05-09), رضی (27-05-09)
پرانا 26-05-09, 12:00 PM   #10
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سحر بہن ۔۔۔۔ السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکایہ
آپ نے مسئلے کی جڑ کی نشاندہی کی ہے۔۔ یقینا اسلام اور اسلامی روایات سے دوری نے ہمیں یہ دن کھائے ہیں۔
اور شادی میں تاخیر تو عموم بلوی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔۔
اگر ہر ماں آپ کی طرح سوچنا شروع کر دے تو حالات بدل سکتے ہیں۔۔۔

اللہ آپ کو عمر دراز، صحت بے مثال، رزق حلال اور آخرت میں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے ۔۔آمین

آپکا بھائی
۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (26-05-09), ایس اے نقوی (26-05-09), راشد احمد (26-05-09), رضی (27-05-09), سحر (26-05-09)
پرانا 26-05-09, 06:07 PM   #11
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,536
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھیا یہ تو روز کا معمول بن گیا ہے سمجھ میں نہیں آتا کے ہمارا معاشرہ کس ڈگر چل رہا ہے -میں آپ کو ایک واقع سناتا ہوں
مجھے ایک دوست نے بتایا کہ ایک بچا روزانہ پی سی او پر آتا اور ایک دو روپے جو گھر سے اسے چیز کھانے کے لئے ملتے پی سی او والے دے کر کہتا کہ کسی لڑکی سے بات کروا دو اور پی سی او والا بھی اس قدر الو کہ فٹ سے کوئی نمبر ملا دیتا۔ پتا چلا کے اس بچے کا باپ مزدوری کرتا ہے ۔ صرف لڑکیوں کو مورد الزام نہیں ٹھرایا جا سکتا آوے کا آوا ہی بگڑآ ہوا ہے۔
__________________

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 26-05-09, 06:08 PM   #12
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,536
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں نہیں مانتا کہ میڈیا کا قصور ہے قصور میڈیا کا نہیں ہماری اخلاقی اقداریں اس قدر پست ھو گئی ہیں کہ بس کیا بتائیں
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 26-05-09, 06:43 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 617
کمائي: 11,175
شکریہ: 363
472 مراسلہ میں 1,331 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لگتا ہے کہ آپ نے ٹیلی نار ٹاک شاک میں علی ظفر اور ساتھ ایک لڑکی کے ناچتے ہوئے نہیں دیکھا

یہ کس چیز کی عکاسی کرتا ہے؟ ایسے اشتہارات تو کشش پیدا کرتے ہیں بھائی۔

دوسرے وہ اشتہارات جس میں کہا جاتا ہے کہ ساری رات بات کرو چار روپے 99 پیسے میں۔ یہ سب کیا ہے۔
موبائل کمپنیاں ایسے اشتہارات دکھاکر تونوجوان نسل کوراغب کرتی ہیں۔ مانیں یا نہ مانیں‌قصور میڈیا کا بھی ہے۔
راشد احمد آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راشد احمد کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (26-05-09), رضی (27-05-09)
پرانا 26-05-09, 08:17 PM   #14
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

روشن خیال پاکستان !!
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (27-05-09)
پرانا 26-05-09, 08:24 PM   #15
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ایک تھریڈ میں پہلے بھی میں نے یہ سوال اٹھایا تھا
کیا بچوں کو اور خاص طور پر لڑکیوں کو موبائل فون دینا مناسب ہے ؟؟؟
لیکن یہ سوال بھی ہڑا ہڑی کی نظر ہوگیا اور موضوع تبدیل ہوکر کچھ کا کچھ بن گیا
دوبارہ ایک تھریڈ میں اس سوال کو اٹھاتے ہیں ؟؟
لنک نیچے دے دیا ہے

بچے اور موبائل
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

Last edited by فیصل ناصر; 26-05-09 at 09:27 PM.
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (27-05-09)
جواب

Tags
color, کالج, پاکستان, واقعات, قدم, لڑکی, نیند, نظر, موبائل, ماں, معلوم, ایس ایم ایس, انتظامیہ, اسلام, اسلامی, بھائی, بچوں, تحریر, تعلیم, دوست, سال, عورت, علی, صحیح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
آپ کے خیال میں ہر کام کے کتنے پہلو ہوتے ہیں؟ Zullu230 گپ شپ 5 18-02-12 08:02 AM
آپ کی ذاتی لائبریری میں کتنی کتابیں ہیں؟ ھارون اعظم کتاب گھر 125 20-01-12 10:40 PM
پاکستان میں ریمنڈ جیسے کتنے ایجنٹ ہیں؟ حکام نے معلومات جمع کرنا شروع کردیں گلاب خان خبریں 2 18-03-11 11:29 AM
کیا آپ غزوہِ ہند کے بارے میں جانتے ہیں؟ پاکستانی عمومی بحث 75 29-08-10 09:17 AM
ہم اپنے وطن کی ترقی میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں؟ محمدعدنان کیرئر کی راہنمائی 4 08-09-07 10:16 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:49 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger