|
ماضی کے خزانے,,,,وغیرہ وغیرہ …شوکت تھانوی,,,,روزنامہ جنگ کراچی…2نومبر1958ء

19-12-07, 08:21 AM
ماضی کے خزانے,,,,وغیرہ وغیرہ …شوکت تھانوی,,,,روزنامہ جنگ کراچی…2نومبر1958ء
جن عزیزوں کو واصل بحق ہوئے مدتیں گزر گئیں راشن کارڈوں سے ان کی رحلت اب واقع ہوئی ہے جو اقربا انتقال نہ سہی مگر انتقال مکانی نہ جانے کب کا کرچکے ہیں راشن کارڈوں میں ان کا انتقال پرملال اب ہوا ہے اور اب راشن کے دفتروں کے سامنے وہی قطاریں نظر آتی ہیں جو چند دن پہلے غیر ملکی کپڑا اور کراکری خریدنے کے لئے نظر آتی تھیں اب جس کو دیکھئے وہ راشن کے دفتر کی طرف دوڑا ہوا چلا جارہا ہے تاکہ اپنے کارڈ درست کرائے اور راشننگ کے ذمہ داروں کواطلاع دے دے کہ اس کارڈ کے اتنے افراد پیدا بھی ہوئے تھے اور بفضلہ بقید حیات بھی ہیں مگر وہ اب دوسرے مقامات پر اپنا راشن علیحدہ وصول کررہے ہیں رہ گئے ہم واجبی لوگ ہم کورہنے دیجئے باقی سب کو اس لئے کاٹ دیجئے کہ دانہ دانہ پر مہر ہوتی ہے اور کسی کا رزق کوئی نہیں چھین سکتا۔ ایک صاحب سے پوچھا کہ بندہ نواز جب آپ کی ممانی صاحبہ مکرمہ ومعظمہ مرحومہ ومغفورہ کا پچھلے سال انتقال پرملال ہوچکا ہے اور خدانے ان کا نعم البدل بھی آپ کو نہیں دیا ہے تو آپ ان کا راشن کیوں وصول کرتے رہے اب تک تو وہ نہایت سادگی سے بولے کہ انتقال ہونے سے کیا ہوتا ہے شکر وغیرہ تو وہ اب بھی استعمال کررہی ہیں۔ یہ بات اور بھی چونکا دینے والی تھی کہ یہ محترمہ مرنے کے بعد بھی شکر سے شوق فرمارہی ہیں مسلسل، آخر ان سے پوچھنا پڑا کہ جنتی بی بی پر اگریہ الزام نہیں ہے تو براہ کرم ذرا سمجھا دیجئے کہ وہ مرنے کے بعد بھی شکر کیونکر استعمال کررہی ہیں تو وہ بولے کہ جناب والا آج تک ہر جمعرات کو ان کا فاتحہ ہوتا ہے ان کے حصے کی شکرکا حلوہ بنتا ہے جو شکر اس حلوے میں ملائی جاتی ہے وہ ان کے حساب میں نہیں تو اور کس کے حساب میں جائے گی‘ مجبوراً ان حضرات کو یہ مشورہ دینا پڑا کہ ان کو ثواب پہنچا کر آپ خواہ مخواہ عذاب میں مبتلا نہ ہوں بلکہ“ حلوائی کی دکان پر داداجی کی فاتحہ“ والی کہاوت کوبدل کر اب”حلوائی کی دکان اورنانی جی کا فاتحہ“ کو واقعہ بنالیں۔مگر ان کو اس پر اعتراض یہ تھا کہ داداجی کی فاتحہ تو حلوائی کی دکان پر ہوسکتی ہے مگر نانی جی کا فاتحہ اس طرح نہیں ہوسکتی اس لئے کہ وہ جائیداد چھوڑ کر مری ہیں۔ اب ان حضرت کو بٹھا کر سمجھاناپڑا کہ دیکھ میرے بھائی تمہاری نانی جی بیشک جائیداد چھوڑ کر مری ہیں اور اس اعتبار سے نہایت برگزیدہ محترمہ تھیں وہ مگر ان کے انتقال پر ملال کے بعد ان کا نام راشن کارڈ سے نہ کٹوا کر جوشکر آپ حاصل کرتے رہے ہیں وہ بے ایمانی سے حاصل کی ہے لہٰذا اس بے ایمانی سے حاصل کی ہوئی چیز پر فاتحہ یوں بھی نہ ہونا چاہئے وہ پجاری خدا کو کیا منہ دکھائیں گی۔ اس پر وہ حضرت بولے کہ خدا کو تو منہ دکھانا پڑے گا اورپھر کچھ یاد کرکے بولے جناب والا شکر ان کے حصے کی تھی وہ میں خود استعمال کرتا تھا اور اپنے حصے کی شکرپر ان کی فاتحہ کراتا تھا۔ عرض کیا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خود آپ کا ارادہ یہ ہے کہ خدا کو منہ نہ دکھائیں گے۔ تو جزبز ہوکر بولے کہ سوال یہ ہے کہ اب آپ نے یہ بحث کیوں چھیڑی ہے اب تو میں نے نانی جی محترمہ ومعظمہ کا نام ہی راشن کارڈ سے کٹوادیا ہے اب اگر انہوں نے خواب وغیرہ میں آکر کبھی فاتحہ کا تقاضا کیا تو صاف کہدوں گا کہ دیسی شکر کا حلوہ حاضر ہے چینی کے سلسلے میں مجبور ہوں۔ ایک اورصاحب سے بھی نیاز حاصل ہوا جو اپنے کئی مرحوم اعزہ کو راشن کارڈ میں دفنا کر واپس آئے تھے اور اس طرح غمناک بیٹھے تھے گویادس سال کے مرے ہوئے ان اعزہ کا انتقال دراصل اب ہوا ہے جب ان سے اس غم کی وجہ پوچھی تو ایک آہ سردبھر کر بولے ‘ کیا عرض کیا جائے آج مرحومین کا غم پھرتازہ ہوا ہے ان کا نام صرف راشن کارڈ میں باقی رہ گیا تھا وہاں سے بھی حرف غلط کی طرح مٹادیا گیا ۔سچ کہا ہے جس نے بھی کہا ہے کہ مٹے ناموں کے نشاں کیسے کیسے ان حضرت سے عرض کرنا پڑا کہ جناب والا جب وہ خود ہی اس دنیا سے اٹھ گئے تو ان کے حصے کا آب و دانہ بھی اٹھ گیا، یہ سن کر وہ گلوگلیر آواز میں بولے کہ جب تک ان کا نام راشن کارڈ میں باقی تھا میں سمجھتا تھا کہ وہ زندہ جاوید ہیں۔خیال تھا کہ ان کے ورثہ میں اور کچھ تو ملا نہیں ہے اگر یہ راشن ہی مل رہا ہے تو یہی بہت ہے مگر آج ان کا نام راشن کارڈ سے کٹوا کر مجھ کو پہلی مرتبہ اپنی یتیمی کا صحیح معنوں میں احساس ہوا ہے اور آج معلوم ہوا کہ وہ خود ہی نہیں گئے بلکہ اپناآب ودانہ بھی لے گئے، خدا ان کو غریق رحمت کرہی رہا تھا اب ان کے راشن کو بھی غریق رحمت کرے اور میں نے ان کا جملہ پورا کردیا کہ” اورآپ کوصبرجمیل عطا فرمائے“۔ یہ لوگ تو وہ ہیں جو اہل القبور کو راشن کارڈوں میں زندہ رکھے ہوئے تھے مگر ایسے لوگوں کی بھی کوئی کمی نہ تھی جواپنے دورافتادہ عزیزوں کو ان راشن کارڈوں کے ذریعے کلیجے سے لگائے بیٹھے تھے یعنی خود کہیں ہیں اور اہلیہ محترمہ کہیں مگر ادھر اہلیہ کے راشن کارڈ میں شوہر نامدار موجود ہیں اور ادھر شوہر نامدار کے راشن کارڈ میں اہلیہ محترمہ موجود ہیں اب اگر ان سے پوچھا جاتا ہے کہ محترمہ آپ کے خاوند تو راولپنڈی میں ہیں آپ نے کراچی کے اس راشن کارڈ میں ان کو کیوں ظاہر کیا ہے تو وہ”اوئی“والی انگلی ناک پر رکھ کر کہتی ہیں کہ وہ بھلا ان کو نہ ظاہر کرتی تو کس کو کرتی وہ میرے سرتاج ہیں یہ میرا سہاگ ان کے دم سے ہے وہ ہو یا نہ ہوں مگر میں تو ہر وقت انہی کا کلمہ پڑھتی ہوں“۔ شوہر صاحب سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ راولپنڈی میں اہل خانہ کراچی میں اورآپ راشن کارڈ میں ان کو بھی دکھارہے ہیں تو وہ ایک غماز مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں کہ دیکھئے جناب محبت اور دل کی لگن فاصلے کی قائل نہیں ہوتی، میں آپ کو کیسے بتاؤں کہ وہ اس فاصلے کے باوجود رگ جان سے قریب ہیں،آنکھوں میں سمائی ہوئی ہیں، دل میں بسی ہوئی ہیں اور میں ان کو ہروقت موجود پاتا ہوں“مگر اب یہ تمام شاعری رخصت ہوگئی اور یہ تمام نام راشن کارڈوں سے اس طرح نکل گئے جس طرح مکھن سے بال نکل جاتا ہے رہ گئی شکر اس کا کوٹہ بڑھ رہا ہے لہٰذا یہ ہے منہ میٹھا کرنے کی بات۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|