|
ماضی کے خزانے,,,,وغیرہ وغیرہ …شوکت تھانوی

05-01-08, 09:34 AM
ماضی کے خزانے,,,,وغیرہ وغیرہ …شوکت تھانوی
روزنامہ جنگ کراچی… 13/ نومبر 1958ء ایک شخص تھا لنگڑا، اور لنگڑا کر چلنا اس کی بن چکی تھی عادت، ہزار علاج کرائے مگر جس معالج کے پاس سے واپس آیا تو بدستور لنگڑاتا ہوا۔ آخر ایک طبیب نے سچ مچ اس کا ایسا علاج کر دیا کہ ٹانگ درست ہو گئی اور لنگڑا پن دور ہو گیا مگر وہ اب بھی چلا تو لنگڑا کر ہی چلا۔ معالج نے کہا کہ بھائی اب تم خواہ مخواہ لنگڑانے کی کوشش کر رہے ہو تمہاری ٹانگ بالکل درست ہو گئی ہے مریض کو کسی طرح یقین نہ آتا تھا کہ وہ ٹھیک ہو چکا ہے۔ آخر اس نے ڈرتے ڈرتے بغیر لنگڑانے چلنے کی جو کوشش کی تو اسے معلوم ہوا کہ وہ واقعی ٹھیک ہو چکا ہے اور یہ معلوم ہوتے ہی وہ مارے خوشی کے چلنے کے بجائے ناچنے لگا اس لئے کہ وہ چل تو پہلے بھی لیتا تھا مگر ناچنے کو ترسا ہوا تھا۔ کیوں صاحب کیا یہی صورت مارشل لاء کے نفاذ کے بعد اور اجناس کے ارزاں ہونے کے وقت آپ کو نظر نہیں آئی کہ ناقابل یقین ارزانی کی شہرت سن کر لوگ دکانوں پر ٹوٹ پڑے اور اس ارزانی سے ایسے بوکھلائے کہ بجائے ضرورت کی چیزوں کے جو چیز سامنے نظر آ گئی سمیٹ لائے۔ مثلاً ہمارے ہی ایک دوست چھ عدد تو صرف چوہے دان ہی خرید لائے اس لئے کہ وہ ولایتی تھے اور نہایت سستے داموں مل رہے تھے۔ ایک اور کرم فرما درجنوں پس پاٹ ہی اٹھا لائے کہ داشتہ آید بکار۔ ایک اور عزیزم جن کے پاس صرف ایک بائیسکل ہے، موٹر کے نہ جانے کیا کیا پرزے بٹور لائے۔ رہ گئے بلا ضرورت کپڑا اور خواہ مخواہ کی کراکری خریدنے والے ان کا ذکر اس لئے مناسب نہیں ہے کہ ممکن ہے کہ ان میں آپ بھی شامل ہوں۔ خریداریوں میں یہ بد حواسیاں صرف اس لئے دکھائی گئی ہیں کہ عوام دراصل خریداریوں کے لئے ترسے ہوئے تھے۔ نرخ اتنے اونچے اور ان کی اوقات سے اس قدر بلند و بالا تھے کہ بعض دکانوں کی طرف تو وہ مارے ڈر کے نظر بھی نہ اٹھاتے تھے۔ اب جو ان کو معلوم ہوا کہ نرخ گر کر ان کی حیثیت کے مطابق آ گئے ہیں تو وہ اس واقعے کو خواب سمجھے اور جب ان کو یقین آ گیا کہ یہ خواب نہیں بلکہ واقعہ ہے تو اس طرح بد حواس ہو کر دوڑے جیسے کوئی غفلت کی نیند سے یکایک بیدار ہو کر دوڑتا ہے اور بجائے غسل خانے میں جانے کے باورچی خانے میں گھس جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح لوگ اپنی بچی کھچی پونجی لے کر بازار کی طرف دوڑ پڑے۔ ارادہ تھا کہ سوٹ کا کپڑا خرید کر لائیں گے مگر چونکہ اس سے بھی ارزاں بعض چیزیں نظر آ گئیں لہٰذا ایک درجن ٹوتھ برش، ایک سیکڑہ مچھلی پکڑنے کے کانٹے، ایک ڈبہ لپ اسٹکس کا، کچھ شیشیاں ولایتی سینٹ کی، کچھ ڈبے دروازوں پر پالش کرنے کے روغن کے، ایک درجن انڈر ویر اور دو چار ولایتی کھلونے لے کر لدے پھندے گھر آ گئے کہ لو بھئی ہم تو کوڑیوں کے مول بازار لوٹ لائے ہیں بیٹھے غور کر رہے ہیں کہ یہ چیزیں لاکھ سستی سہی مگر ہم آخر لائے کیوں ہیں۔ مچھلی پکڑنے کے کانٹے ہمارے کس کام کے۔ شادی ہوئی نہیں لہٰذا یہ لپ اسٹکس کا جو پورا ڈبہ لے آئے ہیں اس کی دکان کہاں کھولیں گے۔ یہ دروازوں کا روغن آخر ہم کیا کریں گے۔ ایک درجن ٹوتھ برش کس کس کی سالگرہ پر تحفہ میں دیتے پھریں گے اور آخرکار اپنی اس احمقانہ شاپنگ کا غم غلط کرنے کے لئے وہ کوک دار کھلونوں میں کوک بھر کر بیٹھ جاتے ہیں۔ بندر ان کے سامنے اچکتا رہتا ہے اور وہ کوک ٹوٹے کھلونے کی طرح خاموش بیٹھے رہتے ہیں۔ سوٹ کا ارمان دل کا دل ہی میں رہ گیا صرف انڈر ویر پہن کر رہ جاتے ہیں۔ صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خاں جب راولپنڈی پہنچے تو اخبار نویسوں کو بیان دیتے ہوئے ایک فقرہ یہ بھی کہا کہ ممکن ہے کہ مارشل لاء کے نفاذ سے کچھ لوگوں کو تکلیف پہنچی ہو لیکن میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ ملک کے حالات عنقریب اچھے ہو جائیں گے اور کسی بھی قسم کا گلہ شکوہ باقی نہ رہے گا۔ اس سلسلے میں عرض یہ ہے کہ تکلیف اگر پہنچی ہے تو ان لوگوں کو پہنچی ہے جن کے گھروں میں اب سوائے جارجٹ، شیفون اور نائلان کے دوپٹوں کے ڈھیر کے اور کچھ نہیں ہے۔ مصیبت میں سب سے زیادہ وہی لوگ مبتلا ہیں اور قابل رحم حالت صرف ان لوگوں کی ہے جن کی بیگمات قطاروں میں لگ لگ کر دنیا بھر کے اوٹ پٹانگ کپڑے علی الحساب اٹھا لائی ہیں۔ شوہر کی دوا کے جو روپے رکھے تھے اس کا غرارہ آ گیا۔ مکان کا جو کرایہ رکھا تھا اس کی ساڑیاں آ گئیں۔ بیمہ کی جو قسط رکھی تھی اس کی قمیضیں بن گئیں۔ بچوں کے اسکول کی جو فیس رکھی تھی اس کے ریشمی رومال خرید لئے گئے اور اب ان تمام اخراجات کے لئے شوہر کا سر دونوں کانوں کے درمیان نظر آتا ہے اور اس کے ہاتھوں کے طوطے اڑے ہوئے ہیں کہ ہو گا کیا۔ مارشل لاء کے نفاذ سے ایک تو اس قسم کے یتیم شوہروں کو پریشانی لاحق ہوئی ہے اور وہ غریب سخت تکلیف میں مبتلا ہو گئے ہیں ان کے علاوہ جن دوسرے لوگوں کو تکلیف ہوئی ہے وہ ہیں گراں فروش، ذخیرہ اندوز، راشی، مرتشی، اسمگلر، کام چور قسم کے لوگ ان کی تکالیف تو خدا نہ کرے کہ دور ہوں اور ان کے لئے خدا کرے مارشل لاء قہر خداوندی ہی بنا رہے۔ ان لوگوں کی حالت یقیناً قابل رحم ہے کہ ان کے سامنے ہی ان کی محنت سے جمع کی ہوئی دولت سمندر کی تہہ تک سے نکالی جا رہی ہے اور وہ ایسے بے بس اور بیکس ہیں کہ منہ سے اف بھی نہیں کر سکتے سو دولت کو اپنا کہنے کی بھی ہمت نہیں کر سکتے ان کی حالت تو یہ ہے کہ آشیاں جلتا رہا بے بال و پر دیکھا کئے اپنی آنکھوں سے اپنی تباہی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں مگرلب نہیں ہلا سکتے ظاہر ہے ان سے زیادہ کس کو تکلیف پہنچی ہو گی مگر خدا نہ کرے ان کی اس تکلیف کا خاتمہ ہو اس تکلیف میں تو خدا برکت ہی دے۔ مگر نہیں صاحب ایک طبقہ اور بھی ہے جو اس وقت بیٹھا دانت پیس رہا ہو گا ۔ذرا ملاحظہ فرمائیے ان حضرت کو ان کے نزدیک گویا کوئی تکلیف ہی نہیں پہنچی۔ ہم آلو کو ترس گئے یہ گویا کوئی تکلیف ہی نہیں ہے۔ ہم انڈوں کا مزہ ہی بھول گئے یہ گویا کوئی تکلیف ہی نہیں ہے۔ ہم کو بغیر قطار میں لگے گھی تک نصیب نہیں ہوتا۔ یہ گویا کوئی تکلیف ہی نہیں ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی تکالیف بے شک ہیں مگر انہی کے متعلق صدر پاکستان نے کہا ہے کہ یہ وقتی تکالیف ہیں حالات کے معمول پر آتے ہی یہ آلو، انڈے سب باقاعدگی سے ملنے لگیں گے بشرطیکہ لوگ کپڑے کی طرح یہ نہ کریں کہ انڈے ملنا شروع ہوں تو درجنوں کے بجائے لوگ سیکڑے کے حساب سے خرید کر بیٹھ رہیں حالات اسی وقت اعتدال پر آئیں گے جب ہم بھی اعتدال پسند بن جائیں۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|