واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


محرم آ گیا، اب تو شرم کرو

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-11-11, 08:13 PM   #1
محرم آ گیا، اب تو شرم کرو
سید شاہ رُخ کمال سید شاہ رُخ کمال آف لائن ہے 29-11-11, 08:13 PM

یہ مضمون پچھلے سال لکھا گیا تھا۔

رسول اللہ ﷺ نے آج سے چودہ سو سال پہلے ارشاد فرما دیا تھا کہ مومن کی یہ نشانی ہے کہ وہ کبھی علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے بغض نہیں رکھے گا اور منافق کی یہ نشانی ہے کہ وہ ہمیشہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے بغض رکھے گا۔ ایک اور مقام پر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اہل بیت اور آلِ محمد کی محبت میں مرا وہ مومن اور شہید مرا اور وہ شخص جو اہلِ بیت اور آلِ محمد کے بغض میں مرا وہ کافر اور کافر کی موت مرا۔

حضرت محبوبِ ذات قدس سرہُ العزیز اپنے کلام میں ارشاد فرماتے ہیں:

حبّ حیدر کا عوضانہ جنت
بغضِ حیدر ہے دوزخ کنارے

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جتنے ظلم و ستم اہل بیت اور آلِ رسول نے سہے، شاید ہی کسی اور مسلمان نے سہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ ظلم ہمیشہ ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کے ذریعہ سے ہی ملا۔ غیر مسلم کہ جس سے توقع کی جا سکتی ہے کہ نبیء اسلام کی آل کو ختم کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں وہ تو ہمیشہ سے ہی اہلِ بیت اور آل محمد کا احترام کرتے رہے۔ کبھی اہلِ بیت پر اُمویوں کے ظلم تھے تو جو عباسی یہ علم اٹھا کر آگے آئے کہ ہم نے اہلِ بیت پر ہوئے مظالم کا بدلہ لینا ہے، اُن کا اپنا کردار کیا رہا؟ جب تخت و تاج مل گیا تو خود عباسی ہی آلِ محمد کو ذبح کرنے شروع ہو گئے۔ لوگ تو سوچتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کی قربانی کے ساتھ ہی اسمٰعیل علیہ السلام کی قربانی بھی پوری ہو گئی اور ذبح ہونا بھی پورا ہو گیا۔ یہ کہنا تو ٹھیک ہے کہ قربانی تو پوری ہو گئی مگر اُس قربانی کے بعد بھی مسلمان آلِ محمد کو ذبح کرنے سے باز نہ آئے۔ اب مجھے یہ تو سمجھاؤ کہ بنی اسرائیل اور مسلمانوں میں کیا فرق رہ گیا؟ بنی اسرائیل کا عمل اگر یقتلون النبیین بغیر الحق تھا تو مسلمانوں کا عمل یقتلون آل النبی الامی و الصالحین بغیر الحق رہا۔

جب کوئی قصرِ ستم آراء بنا
خون سے سادات کے گارا بنا

جس طرح دنیا دن بہ دن قیامت کی طرف بڑھ رہی ہے اور اس میں برائی پھیل رہی ہے اُسی طرح دنیا میں بغضِ حیدر بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ خواہ جمرات حقیقت میں شیاطین تو نہیں مگر وہ حقیقی شیاطین کے بارے میں ضرور آگاہی دیتے ہیں۔ جس طرح دنیا میں برائی بڑھتی جا رہی ہے اُسی طرح جمرات میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی جمرات ایک ستون کی مانند ہوتے تھے جبکہ آج کل انہیں بہت لمبا اور چوڑا کر دیا گیا ہے۔ اس سال جمرات پانچ منزل تک پہنچ گئے تھے جبکہ یہ جمرات اگلے سال تک مکمل ہو کر سات منزلہ بن جائیں گے۔ تو در حقیقت یہ جمرات کا بڑھنا بھی معاشرے میں برائی کے بڑھنے کی طرف اشارہ ہے۔

میرا تو شاید یہ سب لکھنے کا ارادہ ذرا بھی نہ تھا مگر چند وجوہات کی بنا پر اپنے قلم کو حرکت دینی ہی پڑی۔ محرم کی آمد سے قبل ماہِ محرم الحرام پر بے شمار مضامین لکھے جاتے ہیں۔ محرم الحرام چار حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔ یوں تو اِس کی اہمیت بنی اسرائیل کے نزدیک بھی بہت ہے مگر مسلمانوں میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ بنی اسرائیل عشورہ کے دن کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فتح کی خوشی میں عید مناتے ہیں اور حضور اکرم ﷺ کے زمانہ میں یہودی اس دن روزہ بھی رکھا کرتے تھے۔ اسلام میں اس مہینے کی اور خصوصاً عشورہ کی بہت اہمیت ہے۔ اس کی فضیلت کے بارے میں مورخین اور علماء نے بہت کچھ لکھا اور کہا۔ عشورہ کا دن خاص طور پر امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے دن کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ مگر جو لوگ آلِ اُمیہ ہونے کے ناطے بغضِ اہلِ بیت و آلِ محمد اپنی فطرت اور وراثت میں حاصل کرتے ہیں ان کے لیے یہ دن بہت ہی بھاری گزرتا ہے۔ اگر ان کے ہاتھ میں قلم آ جائے اور تھوڑا علم آ جائے تو اِس علم کے نشے میں مست وہ ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں کہ جن کے بارے میں قرآن بہت واضح الفاظ میں منع فرماتا ہے۔

پہلی بات تو یہ کہ شہید کو مردہ کہنا بلکہ مردہ سمجھنا بھی قرآن نے واضح الفاظ سے منع فرمایا ہے۔ حتیٰ کہ یہاں تک فرمایا گیا کہ وہ زندہ ہیں اور تمہیں شعور نہیں اور انہیں اپنے رب کی طرف سے رزق بھی ملتا ہے۔ ایک جگہ فرمایا ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات۔ بل احیاء ولکن لا تشعرون۔ تو دوسری جگہ ارشاد فرمایا ولا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا۔ بل احیاء عند ربھم یرزقون۔ پہلے تو مسلمانوں نے ہی انہیں شہید کر دیا اور پھر آج ان کی شہادت سے بھی انکار ہو رہا ہے جبکہ کچھ لوگ اپنے بڑوں کو حضرت یزید رضی اللہ عنہ کے ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ افسوس تو ہمیشہ اسی بات کا رہا ہے کہ جب بھی آلِ محمدﷺ کو ذبح کیا گیا تو کسی غیر مسلم نے نہیں بلکہ اپنے ہی مسلمانوں نے کیا۔

چلو حسین کی تقلید بھی کرے کوئی
کہ صرف سوگ منانے سے کچھ نہیں ہو گا
اٹھو کہ ہم بھی جھکا دیں کسی یزید کا سر
لہو کے اشک بہانے سے کچھ نہیں ہو گا

اے مسلمانو کیا تمہیں اب بھی شرم آتی ہے یا نہیں؟ کیا تم اتنی ہمت رکھتے ہو کہ اپنے زمانے کے یزید کے سامنے خادمِ حسین علیہ السلام بن کر دکھاؤ؟ ارے حسین علیہ السلام بننا تو بہت دور کی بات ہے کہ وہ سبطینِ رسول ﷺ میں سے ایک تھے، اگر آج کسی مسلمان میں تھوڑی سی غیرت بھی زندہ ہے تو حسین علیہ السلام کے خادموں کے ہی خادم بن کے دکھاؤ۔ خادمِ حسین علیہ السلام نہ سہی، خادمِ حُر ہی بن کے دکھا دو۔ حُر کی طرح اگر پہلی زندگی مسلمان ہو کر بھی جہالت میں گزر گئی ہے تو اب ہی حسینی بنو اور اسلام کے لیے کچھ کرو۔ پرانے قصوں کو یاد کرنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ اپنے باپ دادا کی شجاعت پر بنی اسرآئیل کی طرح ناز کرنا چھوڑو اور اپنے باپ دادا کی طرح بن کے دکھا دو۔ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں

دھرا کیا ہے بھلا عہدِ کہن کی داستانوں میں؟

اور خطاب بہ جوانانِ اسلام میں فرماتے ہیں

تجھے آبا سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی
کہ تو گفتار وہ کردار تو ثابت وہ سیارا
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

سید شاہ رُخ کمال
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مقام: پنجاب
مراسلات: 11
شکریہ: 4
9 مراسلہ میں 35 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 124
Reply With Quote
سید شاہ رُخ کمال کا شکریہ ادا کیا گیا
فرحان دانش (29-11-11)
جواب

Tags
کوشش, کلام, قرآن, لوگ, مکمل, میراث, موت, موسیٰ علیہ السلام, منافق, محبت, آج, اہل بیت, اللہ, اسلام, تاج, روزہ, زندگی, زمانہ, سال, شخص, عید, علی, عباسی, غیرت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مرا نہیں تو کسی اور کا بنے تو سہی سیفی خان شعر و شاعری 4 25-11-11 04:50 PM
حکومت تو عوام کی دعائیں لگ گئ تو ---------- Haya 786 گپ شپ 7 25-02-11 10:42 AM
ميں تو نفرت ہوں تو محبت کا سمندر ہے Wahid Mahmood شعر و شاعری 1 11-03-10 11:10 PM
آؤ پشتو سیکھیں = راشہ پشتو ذدہ کہ محمد کاشف حبیب پشتو فورمز 113 09-07-09 08:30 PM
تو نے کہا تو تیری تمنا ہی چھوڑ دی Shani شعر و شاعری 3 19-11-08 08:22 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:55 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger