واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


محرم الحرام اور میرے بچپن کی یادیں!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 14-12-10, 11:59 AM   #1
محرم الحرام اور میرے بچپن کی یادیں!
shafresha shafresha آف لائن ہے 14-12-10, 11:59 AM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

محرم الحرام چل رہا ہے ۔
اپنے بچپن کی یادوں کو کھنگالوں تو اس ماہ سے متعلق کچھ دلچسپ باتیں یاد آتیں ہیں!!!

کورنگی کے جس علاقے میں ہم رہتے تھے ، وہاں شیعہ ، سُنی ، وہابی سمیت دیگر مشہور فقہ کے لوگ آباد تھے۔ عام طور پر قریبی گھروں میں آنے جانے پر کوئی پابندی نہیں ہوتی تھی، البتہ دروازہ کھٹکھٹا کر جاناضروری خیال کیا جاتا تھا۔ ہمارے پڑوس میں صادق بھائی رہتے تھے۔ صادق بھائی کی کئی بہنیں تھیں شہلا، صائمہ وغیرہ اب تو کچھ کے نام بھی یاد نہیں۔ یہ گھرانہ اہل تشیع تھا۔ پڑوسی ہونے کے ناتے اُن کے گھر میں ہمارا آزادانہ آنا جانا تھا۔ صادق بھائی اور اُن کے گھر والے بہت خوبصورت تھے۔ اُن کی بہنیں ہمارا خیال رکھتی تھیں۔
اُس زمانے میں گھر میں کسی اچھی چیز کے پکنے پر پڑوسی کے یہاں بھیجنے کی درینہ رورایت کی بڑی سختی سے پابندی کی جاتی تھی۔ اماں کے ہاتھ کے پائے سارے جہاں میں مشہور تھے۔ چناچہ جب بھی پایوں کا اہتمام کیا جاتا تو محلے میں سبھی کو خصوصا صادق بھائی کے یہاں ضرور بھیجا جاتا۔ اسی طرح اکثر اُن کے یہاں سے بھی کچھ نا کچھ آجاتا تھا۔

محرم کا مہینہ شروع ہوتے ہی نا صرف علاقے بلکے محلے کا ماحول بھی تبدیل ہوجاتا تھا۔ سُنی گھرانوں کے بچے تقریبا گھروں میں مقید ہوجاتے تھے۔ بلا اجازت گھروں سے نکلنا ممنوع ہوجاتا تھا۔ شام کو کھیلے جانے والے کھیل بھی ختم ہوجاتے تھے یوں بھی شیعہ گھرانوں کے بچے کھیل کود میں حصہ لینا چھوڑد دیتے تھے۔ اُن گھرانوں کے افراد سیاہ رنگ کے کپڑے زیب تن کرتے تھے۔ بعضوں کے گھروں پر علم یا سیاہ جھنڈے لہرانے لگتے تھے۔

محرم سے متعلق جو معلومات اُس وقت ہمارے ننھے ذہنوں میں ادھر اُدھر کی باتیں سُن کی بھری ہوئی تھی وہ کچھ اس طرح کی تھیں۔ دوپہر میں نکلنے والے بچوں کو شیعہ پکڑ کے لے جاتے ہیں۔ وہ اُس بچے کو چاولوں کے ایک ڈھیر کے درمیان میں کھڑا کردیتے ہیں اور پھر چاروں طرف سے تیر برساتے ہیں۔ یہان تک کے وہ چاول خون سے رنگین ہوجاتے ہیں۔

دوسری روایت کے مطابق ان دنوں میں شیعہ حضرات دوسروں کو پینے کی جو بھی چیز دیتے ہیں اُس میں تھوک دیتے ہیں لہذا اُن کی دی ہوئی کوئی بھی چیز نا کھائی جائے اور ناہی اُن کی لگائی ہوئی سبیل سے پانی یا شربت پیا جائے۔

تو اس قسم کے خیالات کو اپنے ننھے ذہنوں میں لیئے ہم دس محرم تک ایک خوف کی حالت میں رہتے تھے۔
(اب اس قسم کی باتیں یاد کرکے ہنسی آتی ہے)

محرم کے شروع ہوتے ہیں اہل تشیع گھرانوں میں مجالس شروع ہوجاتی تھیں۔ قناعتوں کے پار کیا ہوتا ہے، کیا کہا اور سُنا جاتا ہے ہم اس بارے میں تقریبا لاعلم ہوتے تھے۔ البتہ ایسے بڑے بچے جن کے شام کو باہر جانے پر پابندی نہیں تھی بتاتے تھے کہ وہ لوگ قناعتوں کے پیچھے کچھ دیر تو چیخ چیخ کر بولتے ہیں پھر آخر میں رونے لگ جاتے ہیں۔

کیا وہ بچوں کو قتل کرنے کے بعد روتے ہیں! میں دل ہی دل میں سوچتا تھا۔

یکم محرم کی آمد کا علم "میراثیوں" جو خود کو (میر عالم کہتے ہیں)‌ کے علاقے میں بجنے والے ڈھول تاشے کی آواز سے از خود ہوجاتا تھا۔ یہاں ڈھول بجانے کا مقابلہ بھی ہوتا تھا اور دور دور سے ڈھول بجانے والے اپنے فن کا مظاہر کرتے تھے۔ اُس پرہجوم جگہ میں مجھے جانے کی اجازت تو نہیں تھی لیکن بھائی وہاں پر ہونے والے واقعات کو خوب مزے لے لے کر سُناتے تھے۔

محرم کا اہتمام سُنی گھرانوں میں بھی بڑے زور و شور سے کیا جاتا تھا۔ اکثر گھرانوں میں بچوں کو کلاوے (ایک زرد اور سرخ رنگ کا موٹا سا دھاگہ) پہنائے جاتے تھے۔ کچھ لوگوں نے اپنے بچوں کو امام حسین کا فقیر بنانے کے منت مانی ہوئی ہوتی تھی۔ ایسے بچوں کو ہر سال ہرے رنگ کا فقیروں سے لباس پہنا کر امام حسین فقیر بنایا جاتا تھا ۔ یہ بچے گلے میں‌جھولی ڈال کر گھر گھر جاتے تھے اور امام حسین کی بھیک مانتے تھے۔ اُن کے جمع کیئے ہوئے پیسے امام حسین کی نیاز میں استعمال ہوتےتھے۔

چند سُنی گھرانوں میں سبیل بنانے کی بھی رسم تھی۔ اکثر بچے بالے اپنے گھروں سے باہر چند بانسوں کو باندھ کر ایک سبیل بناتے تھے اور پھر مٹکوں میں پانی بھر کر اُن سبیلوں پر رکھتے تھے۔ آنے جانے والے راہ گیر اُن سے پانی پیتے تھے۔ یہ بچے سبیل بنانے کے لیئے ہاتھ میں نیڈو کے دودھھ کے خالی ڈبے لیئے راہ گیروں سے یا محلے کے گھروں سے چندہ مانگتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ سب سے بلند آواز بچہ صدا لگاتا تھا سبیل کا چندہ، سبیل کا چندہ، سبیل کا چندہ!

بعض مشہور سبیلیں تو سالہا سال سے باقاعدہ لگتیں آ رہی تھی اور انہیں بنانے میں کافی محنت اور پیسہ درکار ہوتا تھا۔ ہر سال انہیں بڑی محنت سے سجایا جاتا تھا۔ اور شام کو برقی قمقموں اور جھالروں سے سجایا جاتا تھا۔ اس قسم کی سبیلوں پر دودھ کا شربت بھی بانٹا جاتا تھا۔

بدقسمتی یا خوش قسمتی سے میں اس قسم کی کسی تحریک میں حصہ نہیں لیا کرتا تھا۔ امی مجھے گھر سے باہر بھیجنے کو راضی نہیں ہوتی تھیں، میں باہر دادی کا ہاتھ پکڑے اردگرد ہونے والے ہنگاموں کو دور ہی سے دیکھتا رہتا تھا، البتہ میرے بڑے بھائی اپنے دوستوں کے ساتھ جا کر سبیلوں کو دیکھ کر اور اُن سے شربت یا پانی پی کر آتے اور مجھے پیش آنے والے واقعات سُناتے تھے۔

کورنگی نمبر ایک میں ایس ایریا میں اپنی نوعیت کی ایک عجیب سبیل لگتی تھی (اُسے شاید سبیل کہنا مُناسب نہ ہو) بچے اُسے "کھلونے والی سبیل" کے نام سے پکارتے تھے۔ یکم سے نو محمر تک لگنے والے اس سبیل میں طرح طرح کے کھلونے جمع کیئے جاتے تھے۔ اکثریت باہر ممالک سے لائے ہوئے کھلونوں کی ہوتی تھی۔ریموٹ سے چلنے والی کار ، بولنے والی گُڑیا، جلتی بھجتی اور سائرن بجاتی پولیس کار، ڈھول بجانے والے بندر، طرح طرح کے روبوٹ، ریل گاڑی، اور ناجانے کیا کیا۔
رسیاں باندھ کر ایک احاطہ بنایا ہوا ہوتا تھا۔ اس احاطے کے اند مصنوعی پہاڑ، دریا، جھیل اور کربلا کے مناظر بنائے ہوئے ہوتے تھے۔ تمام زائرین (ناظرین) احاطے سے باہر کھڑے ہو کربڑی دلچسپی سے ان کھلونوں کوچلتا ہوا دیکھتے تھے۔ احاطے کے اندر دو یا تین لوگ ہوتے تھے جو لوگوں کی فرمائش پر باری باری مختلف کھلونوں کو چلا کر دیکھاتے تھے۔ میں اپنی دادی کا ہاتھ تھامے اپنے بہن بھائیوں اور دوستوں کے ہمراہ ہر روز اُس سبیل کو دیکھنے کے لیے جایا کرتا تھا۔

ایک اور بڑی عجیب و غیریب یاد "پیگ" ہیں۔ قریبی محلے میں ایک کمیونٹی آباد تھی جنھیں "کُھمرے" کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ خود کو کسی بزرگ حضرت قمبر سے منسوب کرتے تھے۔ اس کمیونٹی کے کچھ لوگ محرم میں "پیگ" بنتے تھے۔ پیگوں کے بارے میں بڑی عجیب و غریب باتیں مشہور تھیں۔ مثلا یہ کہ یہ لوگ یکم محرم سے دس محرم تک عام کپڑے نہیں پہن سکتے، محض جھولے نما کپڑوں کو اپنے جسم سے لپیٹے دن رات ادھر سے اُدھر بھاگتے پھرتے تھے۔ ایک پیگ ہاتھ میں ایک بڑا سابانس تھامے ہوئے ہوتا تھا جس کے آخری سے پر چاندی سے بنا ہوا ایک ہاتھ لگا ہوتا تھا ، اس ہاتھ کو حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا جاتا تھا۔ یہ لوگ گلی گلی بھاگتے تھے اور کہیں کہیں رُک کو بڑی پرسوز آواز میں کچھ پڑھتے تھے کچھ ایسا کے کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔
یہ مرثیہ تو ہرگز نہیں تھا!
اکثر گھرانے پیگوں کوکھانے پینے کی چیزیں دیتے تھے اور وہ اُسے زمین پر بیٹھے بیٹھے کھاتے تھے۔

اگر کوئی پیگ ان دس دنوں میں چارپائی پر بیٹھ گیا تو "بندر" بن جائے گا!
میرے ایک دوست نے جس کا تعلق کھمروں سے تھا، میرے کان میں شرگوشی کی تھی۔

کورنگی میں دیگر علاقوں کی طرح تعزیئے بنانے کی بھی روایت تھی اور کئی گھرانے نس در نسل ایسا کرتے آرہے تھے۔ تاج المساجد کے سامنے کونے والے گھر میں ایک صاحب رہتے تھے اُن کا تعلق بھی کھمروں سے تھا۔ اُنیں‌کبوتر پالنے کا شوق تھا، کچھ لوگ اُنہیں کبوتر والے بابا کے نام سے جانتے تھے۔ اُس گھر میں تعزیہ بنانے کی روایت تھی۔ اسکول سے واپسی پر میں جان بوجھ کر اُس راستے سے آتا اور اُن لوگوں کو تعزیہ بناتے ہوئے دیکھتے۔ کبھی وہ گنبد بنا رہے ہوتے تھے، کبھی ستون پر سُنہری ورق چپکا رہے ہوتے تھے اور پھرکسی دن اُن تمام حصوں کو ایک ٹھئلے پر ٹھونکا جا رہا ہوتا تھا۔

آٹھ محرم کی آمد ہوتے ہی گلیوں سے طرح طرح کے تعزئیے گزرنا شروع ہوجاتے تھے۔ یہ تعزئیے مختلف رنگوں اور ڈیزائن کے ہوتے تھے لیکن ایک چیز جو ہر تعزئیے میں پائی جاتی جاتی تھی وہ ایک بڑے سے گنبد کا ہونا تھا۔ ان تعزئیوں کی آمد کا پتہ ہمیں ان کے ساتھ بجتے ہوئے بلند آواز ڈھول کی آواز سُن کرہوتا تھا۔ ڈھول کو واز سُن کر گلے محلے کے بچے "تعزیہ تعزیہ" کرتے اپنے اپنے گھروں کے دروازے پر جمع ہوجاتے تھے۔ اتفاق سے ہمارا گھر ایک سہ راہے پر تھا اس لیئے تقریا ہر تعزیہ گھر کے سامنے سے گزرتا تھا۔ ڈھول کی پرزور آواز کے ساتھ ان رنگ برنگے تعزئیوں اور ان کے ساتھ گزرتے ہجوم اور اُس ہجوم میں بلند علم کو تھامے چند منچلے نوجوانوں کو دیکھنا بڑا دلچسپ نطارہ ہوتا تھا۔

ہماری نانی کا گھر کورنگی ساڑھے پانچ نمبر پر تھا۔ محرم کی نو اور دس تارییخوں کی شامیں اپنے ماموؤں اور خالاؤں کے ساتھ کورنگی چھ نمبر پر بننے والے مشہور "پھولوں والے" تعزیوں کے پاس ہی گزرتیں تھی۔
یہ دونوں تعزیئے پھولوں سے بنے ہوئے ہوتے تھے اور کم از کم تین یاچار منزل اُونچے ہوتے تھے۔ ایک خلقت ان کو دیکھنے اور منتیں مانگنے کے لیئے جمع ہوتی تھی۔ میں نے اپنی امی کو کبھی کچھ مانگتے ہوئے نہیں دیکھا، البتہ خالاؤں کو دوسری خواتین کے ہمراہ تعزئیے کے نیچے سے گزرتے اور اور منت مانگتے بارہا دیکھا۔
ان تعزیوں کے پاس میلے کا سا سماں ہوتا تھا۔ اس میلے میں بندر نچانے والے مداری، ہاتھ کی صفائی دیکھانے والے جادوگر، کھانے پینے کی چیزوں کے ٹھیلے سمیت ایک بہت دلچسپ چیز بھی ہوتی تھی اور شاید اب تک ہوتی ہے "لکڑی کی بنی ہوئی تیز کمان اور تلواریں"!!!

مجھے ان تلواروں سے جنگ لڑنا بہت پسند تھا ہم سب بہن بھائی ضد کرکے ان تیر کمانوں اور تلواروں کو خریدتے تھے اور پھر گھر میں گمسان کا رَن پڑتا تھا۔
یہ "ہتھیار"دس محرم کے بعد گلی میں دیگر ساتھیوں کے ساتھ "کربلا کربلا " کھیلنے میں بھی کام آتے تھے۔

نو اور دس محرم کو لنگر دینے کا بھی رواج تھا ۔ مختلف صاحب حیثیت لوگ دیگوں کی دیگیں بانٹتے تھے۔ ہجوم کے اژدھام کی وجہ سے بیٹھا کر کھلانا ممکن نہیں تھا لہذا اس کھانے کو "لٹا" دیا جاتا تھا۔ بچے بڑے سب اُن سوزکیوں اور گھوڑا گاڑیوں کے پیجھے پیجھے بھاگتے تھے اور لنگر لوٹ کر اپنے گھر والوں کر لا لا کر دیتے تھے۔مجھے یاد ہے اُس دال اور روٹی کا مزہ بڑے سے بڑے قورمے میں بھی نا آتا تھا۔ لنگر کے کھانے زمین پر گرنے سے بچایا جاتا تھا اور بطور تبرک سب تھوڑا تھوڑا چکھتے تھے۔

دس محرم کے شام کو تمام تعزئیوں کو "ٹھنڈا" کرنے کے لیئے "کربلا" لے جایا جاتا تھا۔ کورنگی ڈھائی نمبر پر ابراھیم گوٹھ کے پاس ایک مقام کو کربلا کہا جاتا تھا۔

وہاں کیا ہوتا ہے بھائی؟؟؟؟ ایک دن میں نے اپنے بڑے بھائی سے پوچھا تھا۔
کچھ نہیں یار وہ لوگ سارے تعزیوں کی "چمک" نوچ نوچ کر اُتارتے ہیں، سارا میوہ جمع کرلیتے ہیں اور پھر تعزئیوں کو توڑ توڑ کر نیچے سمندر میں پھینک دیتے ہیں، بھائی نے بڑی لاپرواہی سے جواب دیا تھا!

وہ زمانہ بہت اچھا تھا!!!
میں نے کبھی اپنے اسکول یا مسجد کے باتھ روم میں "کافر کافر۔۔۔۔۔ کافر جو نا مانے وہ بھی کافر" کا مطالبہ لکھا ہوا نہیں دیکھا تھا!!!

میری یادوں‌پر مشتمل میری دیگر تحاریر مندرجہ ذیل لنکس پر پڑھی جاسکتی ہیں:

پنجتن کا ٹولہ!

وہ کاغذ کی کشتی!

وہ کاغذ کی کشتی! "دوسرا حصہ"

وہ کاغذ کی کشتی! "تیسرا حصہ"

وہ کاغذ کی کشتی! "چوتھا حصہ"

وہ کاغذ کی کشتی! "پانچواں حصہ"

وہ کاغذ کی کشتی! "چھٹا حصہ"
__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!

Last edited by shafresha; 17-12-10 at 11:54 PM.. وجہ: چند الفاط‌کی تصیح!

 
shafresha's Avatar
shafresha
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 482
Reply With Quote
22 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (14-12-10), ہادی (10-12-11), کنعان (03-03-11), ھارون اعظم (16-12-10), نبیل خان (12-12-11), موجو (10-12-11), منتظمین (11-12-11), محمدخلیل (17-12-10), مرزا عامر (03-03-11), معظم (14-12-10), wajee (13-12-11), احمد نذیر (10-12-11), احمد بلال (03-03-11), بنت حوا (13-12-11), حیدر (14-12-10), حیدر Rehan (10-12-11), رضی (14-12-10), سیپ (14-12-10), شمشاد احمد (18-12-10), عبدالقدوس (15-12-10), عروج (14-12-10), غلام خان (26-01-12)
پرانا 14-12-10, 12:10 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,850
کمائي: 277,992
شکریہ: 1,151
6,263 مراسلہ میں 14,131 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم

بہت اچھا لکھا۔۔

بہت اچھا لگا پڑھ کر
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-12-10), کنعان (03-03-11), حیدر (14-12-10), عروج (14-12-10)
پرانا 14-12-10, 12:43 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

(اُسے شاید سبیل کہنا مُناسب نہ ہو) بچے اُسے "کھلونے والی سبیل" کے نام سے پکارتے تھے۔ یکم سے نو محمر تک لگنے والے اس سبیل میں طرح طرح کے کھلونے جمع کیئے جاتے تھے۔ اکثریت باہر ممالک سے لائے ہوئے کھلونوں کی ہوتی تھی۔ریموٹ سے چلنے والی کار ، بولنے والی گُڑیا، جلتی بھجتی اور سائرن بجاتی پولیس کار، ڈھول بجانے والے بندر، طرح طرح کے روبوٹ، ریل گاڑی، اور ناجانے کیا کیا۔
رسیاں باندھ کر ایک احاطہ بنایا ہوا ہوتا تھا۔ اس احاطے کے اند مصنوعی پہاڑ، دریا، جھیل اور کربلا کے مناظر بنائے ہوئے ہوتے تھے۔ تمام زائرین (ناظرین) احاطے سے باہر کھڑے ہو کربڑی دلچسپی سے ان کھلونوں کوچلتا ہوا دیکھتے تھے۔ احاطے کے اندر دو یا تین لوگ ہوتے تھے جو لوگوں کی فرمائش پر باری باری مختلف کھلونوں کو چلا کر دیکھاتے تھے۔ میں اپنی دادی کا ہاتھ تھامے اپنے بہن بھائیوں اور دوستوں کے ہمراہ ہر روز اُس سبیل کو دیکھنے کے لیے جایا کرتا تھا۔
ھم اُس نظارے کو بارہ ربیعُ الاَ وّّل کو پہا ڑیوں کے نام سے دیکھنے جایا کرتے تھے۔ بلکہ تایا زاد بھائی بھی انجوائے کرنے شیخوپورہ کے قریبی گاؤں سے اکٹھے ھو کرآتے تھے۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-12-10), فیصل ناصر (14-12-10), کنعان (03-03-11), مرزا عامر (03-03-11), حیدر (14-12-10), حیدر Rehan (10-12-11), رضی (14-12-10), عبدالقدوس (15-12-10), غلام خان (26-01-12)
پرانا 14-12-10, 02:41 PM   #4
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب شاہد بھائی
حسب معمول اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحریر

شاید کچھ مقامات کے فرق کے علاوہ بعینہ یہی صورتحال ہمارے بچپن میں لالوکھیت میں بھی ہوا کرتی تھی
کیا اچھے دن تھے جب فرقہ واریت "جان لینے" کی قائل نہیں ہوا کرتی تھی
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-12-10), کنعان (03-03-11), حیدر (14-12-10), حیدر Rehan (10-12-11), رضی (14-12-10), عبدالقدوس (15-12-10)
کمائي نے فیصل ناصر کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
18-12-10 شمشاد احمد کیا اچھے دن تھے جب فرقہ واریت "جان لینے" کی قائل نہیں ہوا کرتی تھی 0
پرانا 14-12-10, 05:31 PM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,382
شکریہ: 52,449
11,147 مراسلہ میں 35,182 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھے اس قسم کے کسی و اقعہ یا روایت کی کبھی بھنک تک نہیں پڑی۔

آپ کے اس قسم کے تھریڈز سے کم از کم تاریخ تو تحریر کی صورت میں محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔ برسوں بعد جب مجھ جیسا کوئی اور بنداجب یہ تحریر پڑھے گا تو اسکو روایات کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی علم ہو جائے گا کہ فرقے پہلے بھی ہوا کرتے تھے اور غلط فمہیاں بھی ہوا کرتی تھیں۔ لیکن اسلام کے نام پر جان لینے کا تصور نہیں ہوا کرتا تھا۔

آپکا بہت شکریہ شافی بھائی۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (14-12-10), فیصل ناصر (14-12-10), ہادی (10-12-11), کنعان (03-03-11), ھارون اعظم (10-12-11), موجو (10-12-11), منتظمین (11-12-11), مرزا عامر (03-03-11), احمد نذیر (10-12-11), حیدر Rehan (10-12-11), رضی (14-12-10), شمشاد احمد (18-12-10), غلام خان (26-01-12)
پرانا 17-12-10, 11:46 PM   #6
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,732
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آج کورنگی گیا تو دیکھا کہ اب وہ رونقیں نہیں‌ہیں البتہ کہیں کہیں‌کچھ پرانی چیزیں‌دیکھنے کو ملیں!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-12-10), کنعان (03-03-11), ھارون اعظم (18-12-10), موجو (10-12-11), مرزا عامر (03-03-11), رضی (17-12-10), شمشاد احمد (18-12-10), عبدالقدوس (18-12-10), غلام خان (26-01-12)
پرانا 02-03-11, 11:21 PM   #7
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,732
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

نئے ساتھیوں کی خدمت میں‌پیش ہے!!!!!!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
کنعان (03-03-11)
پرانا 03-03-11, 04:57 AM   #8
ذیلی ناظم
 
کنعان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,579
شکریہ: 13,494
4,906 مراسلہ میں 16,692 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم!

بہت اچھی تحریر آپ نے پیش کی اس میں ایک چیز میں بھی شامل کرنا چاہتا ہوں جو شائد آپ سے رہ گئی ہو۔

میں جب پرائمری سکول میں پڑھتا تھا تو اس وقت ہمارے سکول کی 2 ٹیچر اھل تشیع تھیں جن کی وقت کے ساتھ ساتھ شادی ہو گئی، پھر ہمارے ساتھ والا گھر میں ایک فیملی رہتی تھی جن کے والد حنفی مسلم تھے اور والدہ شیعہ مسلم، اور ان کے گھر کا ماحول ایسا تھا کہ ان کی والدہ اپنے گھر میں اپنے مسلک کے مطابق تمام پروسیس / مجلس وغیرہ کروایا کرتی تھیں مگر ان کے والد صاحب کا اس پر کوئی اعتراض یا انٹرفیئر نہیں ہوتا تھا۔ پھر جب میں نویں جماعت میں آیا تو میرے دو دوست بنے جن کا تعلق اھل تشیع سے تھا، لیکن مجھے اس کا علم نہیں تھا، ایک دن اچانک انہوں نے کہا کہ ہم فلاں جگہ جا رہے ہیں تم بھی ہمارے ساتھ چلو خیر گھر سے چوری میں ان کے ساتھ کسی مجلس میں چلا گیا، اس وقت میں ایک گلفام صاحب ہوتے تھے انہوں نے خطاب کیا اسے سنا۔

اس کے بعد میری زندگی میں جس بھی ملک، شہر، جگہ ، کمپنی، گورنمنٹ ادارے جہاں بھی گیا جتنے بھی دوست بنے ان میں سب سے زیادہ تعداد اھل تشیع کی تھی لیکن وہ دن اور آج کا دن میرے ساتھ آج تک کسی نے بھی مذھب پر کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی میں نے ان کے زبانی کوئی غلط بات سنی حالنکہ میں نے ان کی مجالس میں بھی بہت مرتبہ بلکہ یوں کہہ لیں پاکستان میں جتنی دیر رہا ان میں شرکت بھی کی ہوئی ھے مگر کبھی بھی کسی مجلس میں کوئی نازیبا الفاظ نہیں سنے جو انٹرنٹ پر لوگ آپس میں لڑانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

والسلام
__________________


کنعان آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے کنعان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-03-11), موجو (10-12-11), مرزا عامر (10-12-11), احمد بلال (03-03-11), حیدر Rehan (10-12-11), رضی (10-12-11)
پرانا 03-03-11, 01:59 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,689
کمائي: 31,853
شکریہ: 10,596
1,219 مراسلہ میں 3,224 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت مزہ آیا پڑہ کے۔۔ توقع کے عین مطابق کسی فرقے کو ہِٹ نہیں کیا گیا۔محرم کے حوالے سے میرے زہن میں بھی بہت پیاری یادیں ہیں۔ تھوڑا فارغ ہو کے لکھتا ہوں۔
احمد بلال آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا
shafresha (04-03-11), کنعان (03-03-11), حیدر Rehan (10-12-11)
پرانا 10-12-11, 01:08 AM   #10
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,732
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

نئے ساتھیوں‌کی خدمت میں‌پیش ہے!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (10-12-11), رضی (10-12-11)
پرانا 10-12-11, 08:17 AM   #11
Senior Member
 
موجو's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 434
کمائي: 9,557
شکریہ: 1,636
318 مراسلہ میں 927 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
واہ ماشاء اللہ اللہ رب العزت آپ کی توفیقات حسنات میں اضافہ فرمائے آمین
مجھے آج تک ویسے یہ سمجھ نہ آئی کہ " کافر کافر۔۔۔۔۔۔ کافر" اور " جو نہ مانے وہ بھی کافر"
نہ ماننے والے کا کیا قصور اسے بھی لفظوں سے زبردستی منوانے کی کوشش کی جاتی تھی بلکہ ڈنڈا چھوڑ گن تک بھی نوبت پہنچ گئی تھی۔
واللہ اختلافات کے باوجود آپس میں میل ملاقات اور محبت رکھنا معاشرے کا حسن ہے۔
رضا علی عابدی کہتے ہیں کہ ہر فرد کو اپنے ارد گرد ہونے والا واقعات ضرور لکھنے چاہییں۔
__________________
قولوا لناس حسنا (لوگوں سے اچھی بات کہو(

Last edited by موجو; 10-12-11 at 08:21 AM.
موجو آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے موجو کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (10-12-11), حیدر Rehan (10-12-11)
پرانا 10-12-11, 02:23 PM   #12
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,156
شکریہ: 7,909
2,137 مراسلہ میں 4,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

فریشا بھائی اتنی اچھی تحریر ہے کہ مجھے بھی پچپن یاد آگیا

میرا اور میرے بھائیوں، بہنوں کا تقریبا تمام ہی پچپن گورنمنٹ کالونیز میں گزر گیا وہاں نہ کوئی جلوس تھا نہ کوئی علم اور نہ تعزیہ داری کے یہ مختلف روپ۔۔۔ پچپن میں تمام تعلق کھیل کھود سے یا اسکول سے ہی ہوتا ہے ، اس لیے بچپن کھیل کود میں ہی گزر گیا نہ کوئی مذہبی سوالات پوچھنے والہ تھا اور نہ مجھے کبھی جواب دینے کی زحمت پڑی۔
پورا محرم و صفر ہی کیا ہمیں ان کالونیز کی دیواروں کے اندر تو 9 اور 10 محرم کا بھی پتہ نہی چلتا تھا۔۔۔۔اور جب بھی ان کالونیز سے باہر نکلے وہ دن ہمارے لیے عید ہی ہوا کرتی تھی ۔۔۔۔علاقے کے تقریبا تمام ہی بچوں کی یہ عید ہوکرتی ہوگی یعنی ہم بچوں کو مسلمانوں والی 2 عیدوں کا تصور بھی نہ تھا اور جب کسی خاص عید کا ہی پتا نہی ہو تو کیا محرم اور کیا ربیع الاول ۔

9تھ یا 10تھ کے پیر دینے کی وجہ سے جو کہ بورڈ کے امتحانات ہوا کرتے ہیں چار دیواری سے باہر نکلے تو مختلف نئے چہروں سے دوستی یا میل جول بڑھا ۔ ۔ ۔پھر اس قسم کے سوالات جو فریشا بھائی نے تحریر کیے ضرور ہوئے مگر جواب کبھی نہی دیا ۔ ۔ ۔ پھر بھی تب تک یہ جلوس و تعزیہ و ماتم و عزاداری کچھ پتا نہ چل سکا ہماری والدہ نے ابو کے انتقال کے بعد ہمیں ساری دنیا سے الگ سا کردیا۔۔بلکہ ایک جملہ جو شائد چند سال پہلے کسی سے کہا تھا کہ
موتیوں کی طرح اتنا سنبھال کر رکھا جس پر ہمیں دنیا سے چھپالینے کا گمان ہونے لگا۔

اج سے 6 یا 7 سال پہلے تک ہمیں بشمول میرے بھائیوں کے صرف 9 محرم یا 10 محرم ہی کی اجازت رہی کہ ان مجالس میں شرکت کرلیں۔۔۔۔ خیر وہ بھی بس ایک گھنٹہ کی مجلس کے چکر میں 5 گھنٹے گزرجاتے ۔ ۔ ۔یعنی پورا سال اور یہ مذہبی تعلیم ۔ ۔۔

جلوس کا مجھے اج بھی یعنی شادی کے بعد بھی یاد نہی کہ میں 10 محرم کے نشترپارک کے جلوس کے علاوہ ، میں یا میرے بھائی گئے ہوں ۔۔۔
یہاں تک کے پچھلے سال جب ملیر میں سنا کے جلوس کے ختم ہونے کے بعد ایک بلاسٹ ہوا ہے ۔۔۔تو میں یہ سمجھا کہ شائد نشتر پارک کے جلوس سے واپسی کی بات ہورہی ہے کہ جب لوگ ملیر پہچ رہے تھے ۔ ۔بعد میں پتا چلا کہ ملیر میں بھی جلوس نکلتا ہے ۔ ۔پھر زیادہ معلومات کیں تو پتا چلا کہ نیو کراچی وغیرہ میں بھی مختلف جلوس نکلتے ہیں۔کورنگی میں آفس ہونے کی وجہ سے پتا چلا کہ یہاں بھی جلوس و تعزیہ داری ہوتی ہے اور تعزیہ کے جلوس یہاں اج بھی اہلسنت ہی کرتی ہے ۔۔۔جیسا کہ فریشا بھائی نے زکر کیا۔۔۔

اور 10 دن کی مجالس ضرور سننے کی کوشش کرتے ہیں چاہیے جیسے بھی حالات ہوں۔

شادی سے تقریبا دو سال پہلے ایک کتاب ہاتھ لگی اور کتاب کے ہاتھ لگنے کہ کچھ عرصے کے بعد یہ پاک ڈاٹ نیٹ ہاتھ لگ گیا۔
بس شادی کے تمام ہنگاموں کے ساتھ ساتھ پڑھنے کی دھن نے زہن کی رفتار کو اس قدر تیز کردیا کہ ہر ایک ماہ میں ایک سال کی محنت کرڈالنے کی کوشش کی شادی کے ایک ماہ کے اندر اندر میری کتابیں میرے بیڈ کے سرہانے واپس نظر آنے لگیں اس وقت سے لے کر اب تک زریعہ معاش اور خاندان کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی کوشش بخوبی جاری ہے۔

لیکن اب مختلف فورمز پر صرف پڑھنے کی حد تک ہی جاتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ بہت جلد میرا مسلمانوں سے اور مذہب سے دل اچاٹ ہونے والہ ہے۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ٹی وی پر ایک انٹریو میں جب ایدھی صاحب سے کسی نے پوچھا کہ اپ نے جرنل ضیا الحق سے تعلقات کیوں ختم کئے تو انھونے کہا کہ
کہ شروع شروع میں جرنل صاحب ایک اچھے انسان تھے لیکن چونکہ ’بہت زیادہ مذہبی انسان زہریلا ہوجاتا ہے‘ تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا یوں میں ان سے الگ ہوگیا ۔۔

بس مجھے بھی وہی صاف دل چاہیں جو گورنمٹ کالونیز کی چاردیواری میں تھے یا پھر مجھے میرے وہ دوست چاہیں ۔۔۔۔جن کا زکر میں کرتا رہتا ہوں اور یہاں نہی کیا۔

بس ایک سوال کا جواب مل جائے کہ ’آخر خدا ہم سے چاہتا کیا ہے ؟
کیونکہ اگر عبادت چاہتا ہے تو علم و حکمت کا حاصل کرنا ، رزق حلال کمانا، ماں باپ کی تعظیم، بزرگوں کا احترام، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق، دوسروں سے محبت، خدا کی نشانیوں پر غور و فکر، چاند ستاروں کی جستجو، انسانیت کی خدمت ، لوگوں کے احسانات کو نہ بھولنا، شعائراللہ کی تعظیم اور نماز روزہ و زکات سب ہی عبادت ہیں کیونکہ اللہ نے ایک طرف کہا ہے کہ ہمیں عبادت کے لیے خلق کیا ہے ساتھ ساتھ یہ تمام باتیں بھی زکر کی ہیں کہ ان کا بجالانا بھی اسی قران و حدیث سے لازم ہے یعنی یہ سب بھی عبادت قرار پائی ہیں اور وہ کون سا احسن ترین عمل ہے ، یا وہ کون سی ایک سب سے بڑی نیکی ہے کہ جس کو ساتھ لے کرجائیں تو خدا ہم سے خوش ہوجائے وہ نباعظیم کیا ہے؟ کہ جس کے لیے سوا لاکھ نبی دنیا میں ائے۔

تاکہ میں اپنے بیٹے سے کہہ سکوں۔۔۔کہ باپ اپنی اولاد کو جو سب سے بہتر تحفہ دے سکتا ہے وہ تحفہ میری طرف میری اپنی تحقیق و جستجو کے بعد میرے بیٹے کبیر کے لیے۔
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-01-12), فیصل ناصر (10-12-11), موجو (10-12-11), منتظمین (11-12-11), مرزا عامر (12-12-11), wajee (13-12-11)
پرانا 13-12-11, 10:22 AM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,531
کمائي: 88,088
شکریہ: 5,195
5,038 مراسلہ میں 11,459 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپ نے اپنے بچپن کے محرم کو بہت اچھے طریقے سے لکھا
wajee آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-01-12), مرزا عامر (13-12-11)
پرانا 26-01-12, 02:20 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,411
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default اب یہ سب کہاں (ھمیں پورے پاکستان میں پہلے والا دور جاھیے )

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : shafresha مراسلہ دیکھیں
آج کورنگی گیا تو دیکھا کہ اب وہ رونقیں نہیں‌ہیں البتہ کہیں کہیں‌کچھ پرانی چیزیں‌دیکھنے کو ملیں!!!
اب تو کورنگی میں رونق ہی نہیں

اب ھر جگہ پان کے تھوکنے کے نشانات ہے

اور ہر طرف غربت ، صبح کام پے جانے لوں کا رش روڈوں اور بسوں کے چھتوں پر
رش، اپنائیت ختم ، ہر بات پر دھمکی (میں پارٹی کاہوں دیکھ لونگا)۔

اللہ ھم سبکو ھدایت سے نوازیں
ھمارے اندر اسلام اور ایمان کے نور کو منور کریں
ھمارے درمیان اتحاد اور اتفاق پیدا کریں

آمین یارب العالمین
غلام خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (27-01-12), حیدر Rehan (26-01-12)
جواب

Tags
php, فن, کربلا, پولیس, پسند, واقعات, لوگ, مقابلہ, ممکن, مسجد, اللہ, بھائی, بچپن, بچوں, تاج, جواب, حضرات, خون, خوش, زمانہ, سال, شور, شام, صدا, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:56 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger