| اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔ |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات |
درجہ بندی:
|
ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 482
|
||||
| 22 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (14-12-10), ہادی (10-12-11), کنعان (03-03-11), ھارون اعظم (16-12-10), نبیل خان (12-12-11), موجو (10-12-11), منتظمین (11-12-11), محمدخلیل (17-12-10), مرزا عامر (03-03-11), معظم (14-12-10), wajee (13-12-11), احمد نذیر (10-12-11), احمد بلال (03-03-11), بنت حوا (13-12-11), حیدر (14-12-10), حیدر Rehan (10-12-11), رضی (14-12-10), سیپ (14-12-10), شمشاد احمد (18-12-10), عبدالقدوس (15-12-10), عروج (14-12-10), غلام خان (26-01-12) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,850
کمائي: 277,992
شکریہ: 1,151
6,263 مراسلہ میں 14,131 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
بہت اچھا لکھا۔۔ بہت اچھا لگا پڑھ کر |
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
(اُسے شاید سبیل کہنا مُناسب نہ ہو) بچے اُسے "کھلونے والی سبیل" کے نام سے پکارتے تھے۔ یکم سے نو محمر تک لگنے والے اس سبیل میں طرح طرح کے کھلونے جمع کیئے جاتے تھے۔ اکثریت باہر ممالک سے لائے ہوئے کھلونوں کی ہوتی تھی۔ریموٹ سے چلنے والی کار ، بولنے والی گُڑیا، جلتی بھجتی اور سائرن بجاتی پولیس کار، ڈھول بجانے والے بندر، طرح طرح کے روبوٹ، ریل گاڑی، اور ناجانے کیا کیا۔
رسیاں باندھ کر ایک احاطہ بنایا ہوا ہوتا تھا۔ اس احاطے کے اند مصنوعی پہاڑ، دریا، جھیل اور کربلا کے مناظر بنائے ہوئے ہوتے تھے۔ تمام زائرین (ناظرین) احاطے سے باہر کھڑے ہو کربڑی دلچسپی سے ان کھلونوں کوچلتا ہوا دیکھتے تھے۔ احاطے کے اندر دو یا تین لوگ ہوتے تھے جو لوگوں کی فرمائش پر باری باری مختلف کھلونوں کو چلا کر دیکھاتے تھے۔ میں اپنی دادی کا ہاتھ تھامے اپنے بہن بھائیوں اور دوستوں کے ہمراہ ہر روز اُس سبیل کو دیکھنے کے لیے جایا کرتا تھا۔ ھم اُس نظارے کو بارہ ربیعُ الاَ وّّل کو پہا ڑیوں کے نام سے دیکھنے جایا کرتے تھے۔ بلکہ تایا زاد بھائی بھی انجوائے کرنے شیخوپورہ کے قریبی گاؤں سے اکٹھے ھو کرآتے تھے۔ |
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت خوب شاہد بھائی
حسب معمول اپنے سحر میں جکڑ لینے والی تحریر شاید کچھ مقامات کے فرق کے علاوہ بعینہ یہی صورتحال ہمارے بچپن میں لالوکھیت میں بھی ہوا کرتی تھی کیا اچھے دن تھے جب فرقہ واریت "جان لینے" کی قائل نہیں ہوا کرتی تھی
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں |
|
|
|
| کمائي نے فیصل ناصر کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 18-12-10 | شمشاد احمد | کیا اچھے دن تھے جب فرقہ واریت "جان لینے" کی قائل نہیں ہوا کرتی تھی | 0 |
|
|
#5 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,382
شکریہ: 52,449
11,147 مراسلہ میں 35,182 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مجھے اس قسم کے کسی و اقعہ یا روایت کی کبھی بھنک تک نہیں پڑی۔
![]() آپ کے اس قسم کے تھریڈز سے کم از کم تاریخ تو تحریر کی صورت میں محفوظ ہوتی جا رہی ہے۔ برسوں بعد جب مجھ جیسا کوئی اور بنداجب یہ تحریر پڑھے گا تو اسکو روایات کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی علم ہو جائے گا کہ فرقے پہلے بھی ہوا کرتے تھے اور غلط فمہیاں بھی ہوا کرتی تھیں۔ لیکن اسلام کے نام پر جان لینے کا تصور نہیں ہوا کرتا تھا۔ آپکا بہت شکریہ شافی بھائی۔ |
|
|
|
| 13 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (14-12-10), فیصل ناصر (14-12-10), ہادی (10-12-11), کنعان (03-03-11), ھارون اعظم (10-12-11), موجو (10-12-11), منتظمین (11-12-11), مرزا عامر (03-03-11), احمد نذیر (10-12-11), حیدر Rehan (10-12-11), رضی (14-12-10), شمشاد احمد (18-12-10), غلام خان (26-01-12) |
|
|
#6 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() |
آج کورنگی گیا تو دیکھا کہ اب وہ رونقیں نہیںہیں البتہ کہیں کہیںکچھ پرانی چیزیںدیکھنے کو ملیں!!!
|
|
|
|
| 9 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا | فیصل ناصر (17-12-10), کنعان (03-03-11), ھارون اعظم (18-12-10), موجو (10-12-11), مرزا عامر (03-03-11), رضی (17-12-10), شمشاد احمد (18-12-10), عبدالقدوس (18-12-10), غلام خان (26-01-12) |
|
|
#8 |
|
ذیلی ناظم
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jun 2009
مقام: ENGLAND
مراسلات: 5,499
کمائي: 118,579
شکریہ: 13,494
4,906 مراسلہ میں 16,692 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم!
بہت اچھی تحریر آپ نے پیش کی اس میں ایک چیز میں بھی شامل کرنا چاہتا ہوں جو شائد آپ سے رہ گئی ہو۔ میں جب پرائمری سکول میں پڑھتا تھا تو اس وقت ہمارے سکول کی 2 ٹیچر اھل تشیع تھیں جن کی وقت کے ساتھ ساتھ شادی ہو گئی، پھر ہمارے ساتھ والا گھر میں ایک فیملی رہتی تھی جن کے والد حنفی مسلم تھے اور والدہ شیعہ مسلم، اور ان کے گھر کا ماحول ایسا تھا کہ ان کی والدہ اپنے گھر میں اپنے مسلک کے مطابق تمام پروسیس / مجلس وغیرہ کروایا کرتی تھیں مگر ان کے والد صاحب کا اس پر کوئی اعتراض یا انٹرفیئر نہیں ہوتا تھا۔ پھر جب میں نویں جماعت میں آیا تو میرے دو دوست بنے جن کا تعلق اھل تشیع سے تھا، لیکن مجھے اس کا علم نہیں تھا، ایک دن اچانک انہوں نے کہا کہ ہم فلاں جگہ جا رہے ہیں تم بھی ہمارے ساتھ چلو خیر گھر سے چوری میں ان کے ساتھ کسی مجلس میں چلا گیا، اس وقت میں ایک گلفام صاحب ہوتے تھے انہوں نے خطاب کیا اسے سنا۔ اس کے بعد میری زندگی میں جس بھی ملک، شہر، جگہ ، کمپنی، گورنمنٹ ادارے جہاں بھی گیا جتنے بھی دوست بنے ان میں سب سے زیادہ تعداد اھل تشیع کی تھی لیکن وہ دن اور آج کا دن میرے ساتھ آج تک کسی نے بھی مذھب پر کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی میں نے ان کے زبانی کوئی غلط بات سنی حالنکہ میں نے ان کی مجالس میں بھی بہت مرتبہ بلکہ یوں کہہ لیں پاکستان میں جتنی دیر رہا ان میں شرکت بھی کی ہوئی ھے مگر کبھی بھی کسی مجلس میں کوئی نازیبا الفاظ نہیں سنے جو انٹرنٹ پر لوگ آپس میں لڑانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ والسلام
__________________
|
|
|
|
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,689
کمائي: 31,853
شکریہ: 10,596
1,219 مراسلہ میں 3,224 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بہت مزہ آیا پڑہ کے۔۔ توقع کے عین مطابق کسی فرقے کو ہِٹ نہیں کیا گیا۔محرم کے حوالے سے میرے زہن میں بھی بہت پیاری یادیں ہیں۔ تھوڑا فارغ ہو کے لکھتا ہوں۔
|
|
|
|
| 3 قاری/قارئین نے احمد بلال کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#11 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 434
کمائي: 9,557
شکریہ: 1,636
318 مراسلہ میں 927 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم
واہ ماشاء اللہ اللہ رب العزت آپ کی توفیقات حسنات میں اضافہ فرمائے آمین مجھے آج تک ویسے یہ سمجھ نہ آئی کہ " کافر کافر۔۔۔۔۔۔ کافر" اور " جو نہ مانے وہ بھی کافر" نہ ماننے والے کا کیا قصور اسے بھی لفظوں سے زبردستی منوانے کی کوشش کی جاتی تھی بلکہ ڈنڈا چھوڑ گن تک بھی نوبت پہنچ گئی تھی۔ واللہ اختلافات کے باوجود آپس میں میل ملاقات اور محبت رکھنا معاشرے کا حسن ہے۔ رضا علی عابدی کہتے ہیں کہ ہر فرد کو اپنے ارد گرد ہونے والا واقعات ضرور لکھنے چاہییں۔
__________________
قولوا لناس حسنا (لوگوں سے اچھی بات کہو( Last edited by موجو; 10-12-11 at 08:21 AM. |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے موجو کا شکریہ ادا کیا | مرزا عامر (10-12-11), حیدر Rehan (10-12-11) |
|
|
#12 |
|
Senior Member
![]() |
فریشا بھائی اتنی اچھی تحریر ہے کہ مجھے بھی پچپن یاد آگیا
میرا اور میرے بھائیوں، بہنوں کا تقریبا تمام ہی پچپن گورنمنٹ کالونیز میں گزر گیا وہاں نہ کوئی جلوس تھا نہ کوئی علم اور نہ تعزیہ داری کے یہ مختلف روپ۔۔۔ پچپن میں تمام تعلق کھیل کھود سے یا اسکول سے ہی ہوتا ہے ، اس لیے بچپن کھیل کود میں ہی گزر گیا نہ کوئی مذہبی سوالات پوچھنے والہ تھا اور نہ مجھے کبھی جواب دینے کی زحمت پڑی۔ پورا محرم و صفر ہی کیا ہمیں ان کالونیز کی دیواروں کے اندر تو 9 اور 10 محرم کا بھی پتہ نہی چلتا تھا۔۔۔۔اور جب بھی ان کالونیز سے باہر نکلے وہ دن ہمارے لیے عید ہی ہوا کرتی تھی ۔۔۔۔علاقے کے تقریبا تمام ہی بچوں کی یہ عید ہوکرتی ہوگی یعنی ہم بچوں کو مسلمانوں والی 2 عیدوں کا تصور بھی نہ تھا اور جب کسی خاص عید کا ہی پتا نہی ہو تو کیا محرم اور کیا ربیع الاول ۔ 9تھ یا 10تھ کے پیر دینے کی وجہ سے جو کہ بورڈ کے امتحانات ہوا کرتے ہیں چار دیواری سے باہر نکلے تو مختلف نئے چہروں سے دوستی یا میل جول بڑھا ۔ ۔ ۔پھر اس قسم کے سوالات جو فریشا بھائی نے تحریر کیے ضرور ہوئے مگر جواب کبھی نہی دیا ۔ ۔ ۔ پھر بھی تب تک یہ جلوس و تعزیہ و ماتم و عزاداری کچھ پتا نہ چل سکا ہماری والدہ نے ابو کے انتقال کے بعد ہمیں ساری دنیا سے الگ سا کردیا۔۔بلکہ ایک جملہ جو شائد چند سال پہلے کسی سے کہا تھا کہ موتیوں کی طرح اتنا سنبھال کر رکھا جس پر ہمیں دنیا سے چھپالینے کا گمان ہونے لگا۔ اج سے 6 یا 7 سال پہلے تک ہمیں بشمول میرے بھائیوں کے صرف 9 محرم یا 10 محرم ہی کی اجازت رہی کہ ان مجالس میں شرکت کرلیں۔۔۔۔ خیر وہ بھی بس ایک گھنٹہ کی مجلس کے چکر میں 5 گھنٹے گزرجاتے ۔ ۔ ۔یعنی پورا سال اور یہ مذہبی تعلیم ۔ ۔۔ جلوس کا مجھے اج بھی یعنی شادی کے بعد بھی یاد نہی کہ میں 10 محرم کے نشترپارک کے جلوس کے علاوہ ، میں یا میرے بھائی گئے ہوں ۔۔۔ یہاں تک کے پچھلے سال جب ملیر میں سنا کے جلوس کے ختم ہونے کے بعد ایک بلاسٹ ہوا ہے ۔۔۔تو میں یہ سمجھا کہ شائد نشتر پارک کے جلوس سے واپسی کی بات ہورہی ہے کہ جب لوگ ملیر پہچ رہے تھے ۔ ۔بعد میں پتا چلا کہ ملیر میں بھی جلوس نکلتا ہے ۔ ۔پھر زیادہ معلومات کیں تو پتا چلا کہ نیو کراچی وغیرہ میں بھی مختلف جلوس نکلتے ہیں۔کورنگی میں آفس ہونے کی وجہ سے پتا چلا کہ یہاں بھی جلوس و تعزیہ داری ہوتی ہے اور تعزیہ کے جلوس یہاں اج بھی اہلسنت ہی کرتی ہے ۔۔۔جیسا کہ فریشا بھائی نے زکر کیا۔۔۔ اور 10 دن کی مجالس ضرور سننے کی کوشش کرتے ہیں چاہیے جیسے بھی حالات ہوں۔ شادی سے تقریبا دو سال پہلے ایک کتاب ہاتھ لگی اور کتاب کے ہاتھ لگنے کہ کچھ عرصے کے بعد یہ پاک ڈاٹ نیٹ ہاتھ لگ گیا۔ بس شادی کے تمام ہنگاموں کے ساتھ ساتھ پڑھنے کی دھن نے زہن کی رفتار کو اس قدر تیز کردیا کہ ہر ایک ماہ میں ایک سال کی محنت کرڈالنے کی کوشش کی شادی کے ایک ماہ کے اندر اندر میری کتابیں میرے بیڈ کے سرہانے واپس نظر آنے لگیں اس وقت سے لے کر اب تک زریعہ معاش اور خاندان کو بھی ساتھ لے کر چلنے کی کوشش بخوبی جاری ہے۔ لیکن اب مختلف فورمز پر صرف پڑھنے کی حد تک ہی جاتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ بہت جلد میرا مسلمانوں سے اور مذہب سے دل اچاٹ ہونے والہ ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ٹی وی پر ایک انٹریو میں جب ایدھی صاحب سے کسی نے پوچھا کہ اپ نے جرنل ضیا الحق سے تعلقات کیوں ختم کئے تو انھونے کہا کہ کہ شروع شروع میں جرنل صاحب ایک اچھے انسان تھے لیکن چونکہ ’بہت زیادہ مذہبی انسان زہریلا ہوجاتا ہے‘ تو ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا یوں میں ان سے الگ ہوگیا ۔۔ بس مجھے بھی وہی صاف دل چاہیں جو گورنمٹ کالونیز کی چاردیواری میں تھے یا پھر مجھے میرے وہ دوست چاہیں ۔۔۔۔جن کا زکر میں کرتا رہتا ہوں اور یہاں نہی کیا۔ بس ایک سوال کا جواب مل جائے کہ ’آخر خدا ہم سے چاہتا کیا ہے ؟ کیونکہ اگر عبادت چاہتا ہے تو علم و حکمت کا حاصل کرنا ، رزق حلال کمانا، ماں باپ کی تعظیم، بزرگوں کا احترام، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق، دوسروں سے محبت، خدا کی نشانیوں پر غور و فکر، چاند ستاروں کی جستجو، انسانیت کی خدمت ، لوگوں کے احسانات کو نہ بھولنا، شعائراللہ کی تعظیم اور نماز روزہ و زکات سب ہی عبادت ہیں کیونکہ اللہ نے ایک طرف کہا ہے کہ ہمیں عبادت کے لیے خلق کیا ہے ساتھ ساتھ یہ تمام باتیں بھی زکر کی ہیں کہ ان کا بجالانا بھی اسی قران و حدیث سے لازم ہے یعنی یہ سب بھی عبادت قرار پائی ہیں اور وہ کون سا احسن ترین عمل ہے ، یا وہ کون سی ایک سب سے بڑی نیکی ہے کہ جس کو ساتھ لے کرجائیں تو خدا ہم سے خوش ہوجائے وہ نباعظیم کیا ہے؟ کہ جس کے لیے سوا لاکھ نبی دنیا میں ائے۔ تاکہ میں اپنے بیٹے سے کہہ سکوں۔۔۔کہ باپ اپنی اولاد کو جو سب سے بہتر تحفہ دے سکتا ہے وہ تحفہ میری طرف میری اپنی تحقیق و جستجو کے بعد میرے بیٹے کبیر کے لیے۔ |
|
|
|
|
|
#14 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,411
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اب ھر جگہ پان کے تھوکنے کے نشانات ہے اور ہر طرف غربت ، صبح کام پے جانے لوں کا رش روڈوں اور بسوں کے چھتوں پر رش، اپنائیت ختم ، ہر بات پر دھمکی (میں پارٹی کاہوں دیکھ لونگا)۔ اللہ ھم سبکو ھدایت سے نوازیں ھمارے اندر اسلام اور ایمان کے نور کو منور کریں ھمارے درمیان اتحاد اور اتفاق پیدا کریں آمین یارب العالمین |
|
|
|
|
| 2 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا | shafresha (27-01-12), حیدر Rehan (26-01-12) |
![]() |
| Tags |
| php, فن, کربلا, پولیس, پسند, واقعات, لوگ, مقابلہ, ممکن, مسجد, اللہ, بھائی, بچپن, بچوں, تاج, جواب, حضرات, خون, خوش, زمانہ, سال, شور, شام, صدا, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|