واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


محمدﷺ کی محبت کا عوض 20 کروڑ؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 31-03-11, 11:03 PM   #1
محمدﷺ کی محبت کا عوض 20 کروڑ؟
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 31-03-11, 11:03 PM

ادھر ریمنڈ ڈیوس بردار جہاز نے اڑان بھری اور ادھر ہمارے سارے بھرم کے پرندے پھر سے اڑ گئے… ع
غیرت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے
ذہنی طور پر صلیبی جنگوں کے عہد میں بستے امریکی ترجمان نے اپنی پہلی ہی پریس بریفنگ میں بظاہر ہموار مگر بباطن زہردار لہجے میں جو موشگافیاں کیں، وہ جملے نہ تھے زہریلی نوک رکھنے والے تیروں کے حملے تھے جو سیدھے دل میں ترازو ہو گئے۔ موصوف نے عدلیہ کا نہیں گورنمنٹ کا شکریہ ادا کیا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا ہمارے ہاں کسی مجرم کا اس طرح رہا ہونا ممکن نہ تھا کہ یہاں قانون کی حکمرانی اور آئین کی عملداری ہے۔ تب ریمنڈ کس طرح چھڑایا گیا، صحافی نے سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: ’’مسلمانوں کا کوئی ’’شریعہ لا‘‘ ہے جس کے تحت وہ رقم کے عوض قاتل کو چھوڑ دیتے ہیں، اسی کے تحت ریمنڈ رہا ہوا ہے‘‘۔ یہ رقم کس نے ادا کی ہے؟ اگلا سوال ہوا، امریکی حکومت نے تو نہیں دی۔ وہ صاف ہی منکر ہو گئے۔
انگلش میڈیا نے کچھ اور ہی کھل کے ہماری بے بسی کو نشانہء طعن اور ہدف ملامت ٹھہرا لیا۔ کچھ نے کہا یہ قبائلی اور فرسودہ روایات ہیں کہ جان کے بدلے روپے لے کر معاملہ نمٹا دیا جاتا ہے۔ کچھ اخبارات نے پاکستان میں جانوں کی ارزانی اور سیل کے عنوان سے سرخیاں جمائیں، لکھا گیا:
Pakistan has officially opened the world,s first human hunting safari, come to pakistan, kill pakistanis, pay and leave.
’’ یعنی دنیا میں پہلی بار پاکستان نے سرکاری سطح پر ڈالروں کے عوض انسانی شکار گاہیں آغاز کر دی ہیں۔ ڈالر جیب میں ڈال کے پاکستان جایئے، پاکستانیوں کے شکار کا لطف لیجئے، بل دیجئے اور گھر کی راہ لیجئے‘‘۔
دنیا میں ہماری تذلیل کی حدیں پھلانگی جا رہی تھیں تو ادھر ہمارے حکمران خوش تھے کہ کیا کارمرداں کر لیا۔یعنی عوام کے غم و غصے اور خون ہوتی خواہشات کے باوجود امریکی قاتل باعافیت امریکہ تک پہنچا کے کارمنصبی کر دیا۔ وفاقی حکومت نے تو خیر ریمنڈ کو درجہ استثنا سے گرایا ہی کب تھا، جو ان سے شکایت ہوتی، شریف برادران میں سے بڑے میاں بغرض علالت اور چھوٹے میاں بوجہ عیادت ہمیشہ کی طرح منظر سے غائب ہو چکے تھے۔ صوبائی وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے قوم کو ریمنڈ کے بہ عافیت نکل جانے کی نوید دی تو سینیٹر پرویز رشید صاحب انکشاف کرتے رہے کہ ’’احتجاج وہ سیاسی جماعتیں کر رہی ہیں جو پارلیمنٹ سے باہر ہیں‘‘ میڈیا میں موجود ایک بڑے گروپ نے قلم کو تلوار کر لیا اور دکھے دلوں پہ وار شروع کر دیئے۔ کہا گیا مذہبی لوگ ناکام ہو گئے۔ وہ قوم کو سڑکوں پہ نہیں لا سکے، ہڑتال ناکام ہو گئی اور یہ کہ کچھ بھی تو قیامت نہیں آ سکی… یعنی کوئی خبر نہیں بنی، آندھی نہیں آئی اور کوئی طوفان نہیں اٹھا۔
بظاہر تو یہ ہوتا گیا مگر بباطن دل کی بستی میں کیسے کیسے سونامیوں نے کیا کیا ویرانیاں پھیلا دیں کون جان سکتا ہے! کیا کسی کو خبر ہے کہ اس ایک کم ظرفی اور بے حمیتی کے واقعہ نے کس کس کا شملہ نوچ کھایا اور کس کس کے شفاف دامن پر دھبے لگا دیئے ہیں۔ دل چیرا جاتا ہے اور دماغ پر درد کی دھند چھائی جاتی ہے، یہ سوچ کے کہ آج محمد عربیؐ کے دین حمیت کے بارے دنیا کو اک نچلا، اک ادنی اور اک داغ دار پیغام پہنچا۔ اس شخصیت باوقار کے بارے میں پھیلا کہ جس کی ساری زندگی اعلیٰ اقدار، انسانی وقار اور اسلامی حمیت کے نکھار میں بیتی، وہ کہ جو جب پیدا ہوا تو باپ کا سایہ سر سے اٹھ چکا تھا اور ابھی اس کے شعور نے مکمل آنکھ نہ کھولی تھی کہ سگی والدہ نے آنکھیں موند لیں۔ وہ چچا اور دادا کے دروازوں کے کواڑوں کے عقب میں پروان چڑھتا رہا مگر کبھی ایک لمحے کے لئے بھی اس کے دامن باوقار کے نکھار میں کجلاہٹ نہ آئی۔ آج ایک ایسی کیفیت میں مبتلا کہ جب آنکھ سے اشک سیدھے دامن دل پہ گرتے اور دماغ کے گودے میں جذب ہوتے محسوس ہوتے ہیں، میں سوچتا ہوں کہ ہزارہا کتابوں کے صفحات میں پھیلی اس کی زندگی کے کسی ایک لمحے کسی ایک شب یا کسی ایک بھی صبح پہ مصلحت اندیش، کم کوشی اور بزدلی کا دھبہ نہیں آنے پایا۔ جس کے پیروکاروں کے طفیل آج اس کے ’’شریعہ لا‘‘ کا تمسخر اڑایا گیا۔
ریگ زارِ مدینہ میں انہوں نے بیگانوں کی کج ادائیوں اور اپنوں کی بے وفائیوں کے داغ دل پہ لئے۔ وہ مکہ بدر ہوئے اور گھر سے بے گھر ہوئے، انہوں نے ہجرتوں کی راہوں میں پڑائو ڈالے اور وہ شعب ابی طالب کی گھاٹیوں میں محصور رہے۔ انہوں نے اوجھڑیوں کے بوجھ تلے سجدے کئے اور احد کی تلواروں کو اپنے دانتوں کی سفیدی اور سر کے بالوں کی سیاہی پہ روکا۔ عین اس لمحے جب سارا عرب ان کے چچا کی دہلیز پہ پورے کروفر سے کھڑا انہیں للکار رہا تھا تو ایسے لرزہ خیز لمحے میں بھی اک بے مثال استقامت سے وہ اکیلے رب کو پکار رہے تھے۔ وہ بدر میں اترے اور انہوں نے احد میں پیٹ پہ پتھر باندھے۔ انہوں نے صبح کی نماز میں ہمیشہ طویل اور پرسوز تلاوت کی مگر جب ایک خاتون کی بے آبروئی کی صدا پہنچی تو نماز فجر کی لذت کو اس باحمیت نبی نے محض سورہ الناس اور سورۃ الفلق تک محدود کر دیا۔
انہوں نے عیسائیوں کے ساتھ مروت برتی اور ان کے اخلاص نے یہودیوں کے دلوں کو موم کیا۔ انہوں نے مشرکوں کے سرداروں کو ستون ہائے مسجد سے کھولا اور بغیر فدیے کے چھوڑ دیا، انہوں نے چھوٹوں کو سلام کیا اور یہودی بچے کی عیادت خود اس کے گھر میں جا کے کی۔ انہوں نے انسانوں سے محبت کی، جانوروں نے ان کی الفت کی گواہی دی، پتھر ان کے لمس سے بول اٹھے اور کھجور کے خشک تنے نے ان کی جدائی میں بچے کی طرح سسکیاں بھریں۔ وہ ایسے ہی تھے رحیم ،شفیق اور ملنسار ، مروت و مودت سے گندھے تھے اور تحمل و بردباری کے پیکر تھے مگر اس ساری نرمی اور رحم دلی کے باوجود بخدا کسی بھی لمحے وہ بزدل نہ تھے، وہ نڈر تھے، بہادر تھے، بے باک تھے اور بے حد تھے… آج اس کے نام لیوا بے شعور دانش ور کانپتے ہیں … بطن اور معدے سے سوچنے والے معاش کار لرزتے ہیں کہ کہیں امریکہ سے نہ بگڑ جائے کہ وہ ہمارے منہ میں نوالے ٹھونستا ہے، وہ تعلیم کی رگوں میں ڈالر کا لہو نچوڑتا ہے، وہ ہمارے خزانوں میں امداد کی بھیک پھینکتا ہے اور اس کے بل پہ ہماری ترقی کا پہیہ گھومتا ہے۔ خردمند و! کہو تو سہی کیا رب کے بجائے آج امریکہ ہمارا خدا ہوتا ہے؟
افسوس! اسی بانجھ فکر نے ہماری ہمت چاٹ کھائی اور اس کے حاملوں نے ہماری حمیت بیچ ڈالی۔ غافلو!! نام اس نبی کا اور غلامی اس کے دشمنوںکی! کب اس نبی نے معیشت کے انباروں پر انحصار کیا تھا، وہ تو عسرتوں میں پیدا ہوا اور اس نے تنگدستیوں میں زیست کی، اس نے فاقوں سے روزہ رکھا اور کم مائیگیوں میں افطاریاں کیں، انہوں نے بدر میں زہر بجھی تلواروں کے مقابل کھجور کی ٹہنیاں بانٹیں اور احزاب میں پیٹ پر پتھر باندھ کر داد شجاعت دی۔ کوئی کہے شعب ابی طالب میں انہوں نے کس امریکہ کو پکارا تھا؟ وہ جب اپنے رب سے جا ملے تو کیا ان کی تلواریں یہودی کے ہاں گروی نہیں پڑی تھیں؟ اس سب کے باوجود مگر کبھی نبی کی تلوار نہیں رکی، وہ معیشت پر نہیں، حمیت پر مدار کرتے تھے، وہ لقمہ تر کے لئے نہیں، معیشت ابتر کے لئے بھی نہیں، وہ صرف کلمہ خدا کے بلند تر ہونے کے لئے جیتے تھے۔ حکومت اور عدلیہ کے بعد ریمنڈ کیس میں ایجنسی کا بہت نام آیا، مانا ایجنسی بلاکا نام ہے۔ اس کی قوت لامحدود اور اس کے فنڈز غیر مسدود ہوتے ہیں مگر کیا وہ انسانوں پہ مشتمل نہیں ہوتی؟ کیا وہ مسلمانوں پہ مبنی نہیں ہے؟ یہ شریف و شہباز اور یہ زرداری و گیلانی ملکی مفاد، کے نعرے پر خوش گفتار ہوتے یہ حکمران …جواب دیں کہ نبی کی حمیت کے پروردہ نخل اسلام پہ آج اغیار کے طعنے کی آری چلنے کا باعث کون ہے؟ پوری دنیا میں گونجتی Blood monay کی آواز ’’قبائلی روایت کی گالی‘‘ اور پیسوں کے عوض انسانی شکار گاہ ہونے کے طعنے سننے کا باعث کون ہے؟
حمیت و ہمت اور جہد وجہاد والے نبی، غیرتِ گفتار اور جرأتِ اظہار والے نبی، تلوار دے کر بھیجے گئے اور جہاد لے کر آئے نبی، رزق کو نیزے کی اَنی تلے بتانے والے اور نہتوں کو آہن پوشوں سے ٹکرانے والے نبی کے امتیوں کو آج ایک گال پہ تھپڑ کھا کے دوسرا سامنے کر دینے کی غیرت رکھنے والوں نے پھبتی کسی ہے، طعنہ دیا ہے اور گالی دی ہے… حکمرانو! تمہاری وجہ سے
اپنی نااہلی چھپانے، اپنی کم ظرفی کو آڑ دینے اور اپنی بطن پرستی کو مفاد پہنچانے کو تم نے شریعت کا نام رٹ لیا۔ شریعت کے قانون دیت کو اپنی بے توفیقی کی ڈھال بنا لیا، آنکھیں کھولو! مسلک اہل سنت کے 50 علماء فتویٰ دے چکے، جماعۃ الدعوۃ بھی غیر مسلم کی دی گئی دیت سے انکار کرتی ہے۔ میڈیا پہ آتے علماء مجبور کردہ دیت سے تنفر کا علی الاعلان اظہار کر چکے، بتائو کون سی دیت؟ کہاں کی دیت؟ کوئی بتائے محمدﷺ کی محبت کے حامل سینے پھاڑنے کا عوض چند ملین امریکی ڈالر؟ قرآن سے محبت سے شرابور رگوں میں بہتے لہو کا بدل کفار کے چند سکے؟ کیلانی و گیلانی صاحب! شریف و زردار صاحب! محمدﷺ کی محبت کا عوض صرف 20 کروڑ؟ نادانو! ورثاء غلط بھی سوچتے تو ریاست ان کی ماں ان کی رہنمائی کرتی، اپنے خزانوں کے در وا کرتی، مگر تم نے ان غیرتمندوں کو ڈرایا، دبایا اور بالآخر چھپا دیا اور اس ساری زور زبردستی کا نام تم نے شریعت رکھ دیا؟ کیا بتاتے ہو دنیا کو؟ کہ شریعت خون بیچنے کا نام ہے؟ نہیں اللہ کی قسم! شریعت خون کے تحفظ کا نام ہے۔ شریعت غیرت خداوندی کا نام ہے۔ شریعت محمدﷺ کی تلوار اور ابوبکر کی یلغار کا نام ہے۔ شریعت حیدری پکار اور عمر کی للکار کا نام ہے۔ شریعت سورۃ توبہ کے پیغام اور سورہ انفال میں مذکور غنیمتوں کے انعام کا نام ہے… مفاد پرستو! توہین رسالت کے ایکٹ سے تمہارے سینوں میں اس لئے جلن کہ تمہارے بقول وہ ضیاء الحق کے عہد میں سامنے آیا مگر قانون دیت کا غلط استعمال اس کے باوجود بھی قبول کہ ہے یہ بھی ضیاء کی باقیات میں سے؟ آئو قرآن تمہارا پول کھولتا ہے، تمہاری فکر کی کجی کو واشگاف کرتا ہے اور تمہاری شریعت پرستی کی حقیقت کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوڑتا ہے، لو سنو، اگر دل کی طرح کان بھی کہیں بک نہیں گئے تو ’’کیا تم کتاب مقدس کے کچھ (حسب منشا) حصوں کو مانتے ہو اور دوسرے (خلاف منشا) حصوں کا انکار کرتے ہو؟‘‘ (القرآن)
آج اسی بے حمیتی سے شہ پا کر امریکی ایک طرف تم پر ڈرون حملوں کی برسات کرتے ہیں تو دوسری طرف قرآن مجید نذر آتش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔ توفیق توبہ ہے تو قوم کو لے کر میدانوں میں نکل آئو وگرنہ جیسے آج شریعت کو تماشا بنا رہے ہو، کل خود بھی اک طرفہ تماشا بن جائو گے۔ دنیا و آخرت میں دردناک تماشا!

بشکریہ۔۔۔۔ہفت روزہ جرار
والسلام ۔۔ علی اوڈراجپوت
ali aodrajput
_____________
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 190
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
abrarhussain_73 (01-04-11), shafresha (01-04-11), مرزا عامر (01-04-11), آبی ٹوکول (01-04-11)
پرانا 01-04-11, 08:57 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,596
کمائي: 31,029
شکریہ: 7,100
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ہنسنا منع ہے۔۔۔

ایک امریکی کمپنی کو لاہور ، ہزار لیپ ٹاپ کمپیوٹر فراہم کرنے کا ٹھیکہ ملا، اس کا نمائندہ جان بلی گراہم، ہزار کمپیوٹرز کراچی سے ٹرک میں‌ لاد کر لاہور روانہ ہو، راستے میں‌ ملتان کے پاس ٹرک الٹ گیا۔ "پاکستانی" کمپیوٹرز لے لے کر بھاگنے لگے تو امریکی نے اپنی گن نکال کر ان کو شو‌ٹ کر نا شروع کردیا۔۔

دیکھتے ہی دیکھتے پولیس کی موبائیلز آنی شروع ہوگئیں ۔۔۔۔ اس امریکی کو پکڑ لیا اور پوچھا کہ کیوں؟
امریکی کہنے لگا ۔۔۔۔ پاکستانیوں کے شکار کا سیزن ہے
پاکستانی پولیس والوں‌ نے "اوپر" فون کیا ۔۔۔
جواب آیا ۔۔۔۔ ٹھیک ہے ۔۔ ۔ سیزن تو ہے ۔۔۔ پر ۔ ان کو دانہ ڈال کر جمع کرنا منع ہے ۔۔ امریکی پر ڈانہ ڈالنےکا مقدمہ قائم کرلو۔۔ ورنہ دیت دے کر بچ جائے گا۔ ۔۔۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (01-04-11), عبداللہ آدم (01-04-11)
پرانا 01-04-11, 12:08 PM   #3
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,898
شکریہ: 23,988
4,983 مراسلہ میں 14,693 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کتابوں, پاکستان, وزیر, لوگ, نماز, مکہ, مکمل, موم, ممکن, ماں, مجید, محبت, مسجد, world, اللہ, امریکہ, اسلامی, اعلیٰ, تعلیم, جواب, خون, روزہ, زرداری, صدا, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عوام کو مارتےہو اور وہ روئے بھی نہ۔۔۔۔ جب عوام بھوکے مرے گی تو تبدیلی کی آوازیں تو آئیں گی جاویداسد خبریں 2 21-09-10 08:12 PM
الطاف بھائی کا مارشل لاء کا مطالبہ اور عوام کی سوچ ۔ کیاعوام سیاستدانوں سے اکتا گئے ؟ جاویداسد خبریں 1 24-08-10 11:23 PM
عورت ایک پہیلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ام غزل عورت کہانی 61 17-05-09 08:24 PM
عوج بن عوج کی عمر کتنی تھی؟ عرفان حیدر آئیے ذہانت آزمائیے 24 14-04-09 02:40 PM
’عوامی نمائندے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کریں‘ چاچا کمال خبریں 1 07-04-08 06:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 05:56 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger