فضل حق
ہر زمینی اور سرنگی رہ پہ برساتی لہو
فوج میری خیمہ زن ہے کامران و سرخرو
دسترس میں ہیں مری قصر شہی کی برجیاں
ابن آدم کا ہے خون میرے لئے آب وضو
( قول ابلیس)
حالات حاضرہ سے نمنٹے کو قصر صدارت کے گرد ایک آہنی رکاوٹوں کا گول حلقہ ہے، اس کے اندر کی سرزمین سرخ علاقہ(Red zone) کہلاتی ہے، ان رکاوٹوں سے قریباً آدھ گھنٹے کے سفر پر مغرب میں ایک گاﺅں سنیاسی نام کا واقع ہے۔ روایت یہ ہے کہ یہ قدیم گاﺅں اس وقت آباد ہوا جب مہاراجہ اشوک کے اب و جد ، راجہ چندر گپت موریانے، صوبہ بہار(ہندوستان) سے پنجاب، سندھ اور سرحد کے کچھ علاقے فتح کرکے ٹیکسلا کو اپنا پایہ تخت بنایا تھا، سنیاسی ہندی زبان میں تارک الدنیا کا ترجمہ ہے۔
اس نام کا ریکارڈ چار سو سال قبل مسیح تک ملتا ہے، یہ وہ زمانہ ہے جب مہاراجہ اشوک نے اپنے آبائی دین کو چھوڑ کر بدھ مت کا توحیدی دین قبول کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس وقت سے یہ گاﺅں نیک روحوں کا مرکز ہے اور یہاں پاکستان سے پہلے ہندو مت کے پیرو اور سری کرشن چندر کی پیمبری کے معتقد لوگ اکثر مراقبے کے لئے آتے تھے۔ اسی وجہ سے اس گاﺅں کا نام آج تک سنیاسی ہے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ مرگلہ کے دامن کا یہ حصہ پرانے زمانے میں بدروحوں کا مرکز اور ابلیسی قوتوں کا مسکن رہا ہے اور وہ روحیں چھوٹی چھوٹی سرنگ نما پناہ گاہوں میں بسیر ا کرکے پہلو میں مراقبہ کرتے سنیاسیوں کو تنگ کرتی رہتی تھیں۔ گویا
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرارِ بولہبی
اقبال
ماہرین اراضیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ مرگلہ پہاڑی کی جنوبی جڑوں کے ساتھ ساتھ آج بھی زمینی سطح زیرو ز برسی ہے اور نالیاں سی پائی جاتی ہیں۔ اس تمام پس منظر میں مجھے اپنی ملازمتی زندگی کا ایک پرانا واقعہ یاد آیا،1960ءمیں مرحوم صدر ایوب کا زمانہ تھا ،میں سندھ میں ڈی آئی جی پولیس تھا۔ مرحوم صدر سرما کے دو تین ماہ سندھ کی شکار گاہوں میں گزارتے تھے اور ہم پولیس والے سیکورٹی کے فرائض ادا کرتے ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ اکثر کھانے بھی شکار کے میدان میں بچھے صدارتی دستر خوان پر کھاتے تھے۔ اس وقت سی ڈی اے وجود میں آچکی تھی۔ سرکار پاکستان اپنا صدر مقام کراچی سے نئے زیر تعمیر شہر میں منتقل کرنے کا فیصلہ کرچکی تھی۔ ایک شکار گاہ کے دستر خوان پر ناشتے کے دوران مرحوم صدر نے بشمول میرے مہمانوں سے کہا کہ نئے دارالحکومت کا نام تجویز کریں۔ میری باری آئی تو میں نے عرض کیا کہ نئے دارالحکومت کے پہلو میں ایک تاریخی دارالحکومت ٹیکسلا کے کھنڈر موجود ہیں۔ اس نام کو عربی لہجہ دے کر نئے شہر کا نام”طقصیلہ“ رکھ لیا جائے۔ صدر مرحوم کو پسند آیا لیکن واپسی پرنہ جانے کن اوامر پر مبنی نئے شہر کا نام اسلام آباد رکھا گیا ،میں نے طقصیلہ اس کی تاریخی حافظے سے اگلا تھا، جس کا تعلق ہسپانیہ کی سرزمین پر اسلامی فوجوں کی فتح سے تھا۔ وہاں(Granada)غرناطہ اور (Gordova) قرطبہ ہوگیا تھا لیکن شاید میری تاریخ پر مبنی تجویز، توحیدی دین کے گہوارے گاﺅں”سنیاسی“ میں بستی روحوں کو پسند نہ آئی، سو اچھا ہوا کہ نام اسلام آباد رکھا گیا ۔سنیاسی زندہ باد، اسلام آباد پائندہ باد، اسلام ،دین حق، ہر خطرے کا جواب ،شرط، صرف ایمان محکم، اقبال نے کہا۔
کافر ہے تو تقدیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو وہ آپ ہے تقدیر الٰہی
روزنامہ جنگ راولپنڈی