واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


مذہبی افتراق کے اسباب سے پرہیز کی ضرورت

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-05-11, 04:36 PM   #1
مذہبی افتراق کے اسباب سے پرہیز کی ضرورت
آبی ٹوکول آبی ٹوکول آن لائن ہے 19-05-11, 04:36 PM

قرآن اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تعلیمات اسلام کا وہ منبع و مصدر ہیں جن کی تشریحات اور تعبیرات کا سلسلہ ہر دور میں جاری رہا اور اب بھی جاری ہے۔ ہر کسی نے اپنی علمی وسعت اور تحقیقی صلاحیت کے مطابق خدمت کی تاہم ہر دور میں بعض سطح بین اور سستی شہرت کے حامل لوگ اسلامی اعتقادات میں من پسند خیالات و نظریات داخل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں جن سے خون آشام فتنوں کا ظہور بھی ہوتا رہا۔ تاریخ اسلام میں سب سے پہلے جس اعتقادی فتنے نے سر اُٹھایا وہ گستاخِ رسول ذوی الخویصرہ تمیمی نامی انتہا پسند شخص کے ہاتھوں اُبھرا جس نے مال غنیمت کی تقسیم میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عدل پر اعتراض کیا تھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس بے باکی کے بطن سے خوارج کا پورا طبقہ پیدا ہوگیا جنہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ دونوں کے بارے میں کفر کا فتویٰ دے دیا۔ بعد ازاں اسی انتہا پسند فرقے سے تعلق رکھنے والے ایک ملعون شخص ’’عبدالرحمن بن ملجم‘‘ نے سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر چھپ کر قاتلانہ حملہ کیا اور آپ نے دو دن بعد جام شہادت نوش فرمایا۔ سیدنا علی اور اہل بیت اطہار کے بغض میں حد سے گزرنے والے ان سخت مزاج لوگوں کے ردعمل میں ایک دوسرا گروہ پیدا ہوا جنہوں نے ابتداً سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت اطہار کا دفاع کیا لیکن جب یہ بھی انتہا پسندی (غلو) کی حدوں کو عبور کرگیا تو اس گروہ نے ازواج مطہرات اور سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر جیسے اکابر صحابہ کو برا بھلا کہنا شروع کردیا۔ صاف ظاہر ہے دونوں طرف کی اس انتہا پسندی نے امت کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کردیں اور ایک عرصہ تک یہ نفرت جنگ و جدل کا باعث بنی رہی جس کے آثار آج بھی دیکھے جاسکتے ہیں۔

چنانچہ اسلامی تاریخ کے چمکتے دمکتے چہرے پر بادشاہت کی قباحتوں کے ساتھ ساتھ اگر کوئی بدنما داغ ہے تو وہ یہی خوارج اور روافض کی طویل اور خون آشام کشمکش ہے۔ اسی دور میں چونکہ تفسیر اور حدیث کی تدوین ہو رہی تھی۔ تاریخ اور دیگر علوم عقلیہ و نقلیہ خصوصاً علم الکلام وجود میں آرہا تھا۔ اس لئے اس دور کے علماء کی طرف سے وجو د میں آنے والا قابل قدر علمی ذخیرہ بھی ایسی روایات سے محفوظ نہ رہ سکا جن میں فریقین نے ایک دوسرے کے نظریات کو غلط ثابت کرنے کی کوششیں کی تھیں۔ بہت کم لوگوں پر یہ حقیقت منکشف ہوسکی ہے کہ اس خطرے کے سبب روایت حدیث کے مقدس سلسلے کو فلٹر کرنے کے لیے ائمہ نے جتنی کڑی شرائط متعین کیں ان کی مثال انسانی تاریخ کے کسی شعبے میں موجود نہیں۔ قبولیت و اخذِ حدیث کے باب میں اس قدر کڑے معیارات مقرر کیے گئے کہ کذب و افتراء کے سرچشمے خاصی حد تک خود بخود خشک ہوگئے۔ اسی احتیاط کے باعث امام بخاری نے پوری زندگی لگا کر حاصل کیے گئے 3 لاکھ احادیث کے ذخیرے میں سے صرف چند ہزار احادیث مبارکہ صحیح بخاری میں درج کیں اور یہی حالت دوسرے ائمہ حدیث کی بھی ہے۔ اسی احتیاط کی بناء پر علم جرح و تعدیل اور اسماء الرجال کی درجنوں ضخیم کتب معرض وجود میں آئیں۔ مدعائے کلام یہ ہے کہ اس اعتقادی تعصب نے علمی میدان اور تاریخی ادوار میں بھی مضر اثرات مرتب کیے اور باہمی قوت کو بھی منتشر کیے رکھا۔ یہ افتراق و انتشار مسلمانوں کی ایسی کمزوری رہا جس کے ذریعے عالم کفر کوجارحیت اور مداخلت کیلئے ہمیشہ آسانی اور سہولت میسر رہی۔

تیرھویں صدی عیسوی میں جب چین کے شمالی علاقوں سے خانہ بدوش تاتاری قبیلہ دنیا کی ہیبت ناک قوت کی شکل میں چین، روس، ہنگری پولینڈ اور جرمن قوم کو روندتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا مگر اسلامی سلطنت پر چڑھائی کی ہمت اسے بھی نہیں ہو رہی تھی لیکن یہ ایک تلخ تاریخی حقیقت ہے کہ تاتاری سردار ہلاکو خان کو بغداد پر حملہ کرنے کی ترغیب اور ترکیب بھی ایک معروف مذہبی فرقہ کی طرف سے دی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے 7 سو سالہ اسلامی سلطنت شاندار علمی تہذیبی اور انسانی امتیازات کے باوجود تاخت و تاراج ہو گئی۔ دارالخلافہ بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی، گلیاں مسلمانوں کے خون سے نہا گئیں اور دجلہ و فرات کے دریا مایہ ناز علمی ذخائر کی سیاہی سے بھرگئے۔ سقوط غرناطہ کی طرح خلافت عثمانیہ کا خاتمہ بھی اگرچہ سیاسی اور عسکری کمزوریوں کے باعث ممکن ہوا مگر اس سیاسی کمزوری کے پیچھے بھی مسلمانوں کا افتراق اصل سبب تھا جس سے دشمنان اسلام نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

گذشتہ دو اڑھائی سو سالہ دور زوال میں جہاں جہاں بھی اسلامی تحریکیں اور شخصیات ابھریں تمام تر قربانیوں اور صلاحیتوں کے باوجود مسلمانوں کا اتحاد و احیاء ایک خواب ہی رہا۔ کیونکہ ہر دور میں ان علمی فکری اور احیائی تحریکوں کو اندر سے ہی نقصانات پہنچتے رہے۔ اب جبکہ پوری دنیا دو بڑی عالمی قوتوں کی باہمی سرد جنگ کے خاتمے کے بعد ایک ’’سپر طاقت‘‘ کے زیر اثر آچکی ہے تو ان مذہبی کاوشوں اور اسلامی قوتوں کو ایک مرتبہ پھر نشانے پر رکھ لیا گیا ہے۔

تہذیبوں کے درمیان تصادم کا نظریہ اور چرچا صرف اسلام کے خلاف عام کیا جا رہا ہے کیونکہ اس وقت روئے زمین پر کوئی دوسری تہذیب ایسی نہیں جو اتنے مضبوط اور مربوط نظام الوہیت کے تحت مزاحمتوں اور مخالفتوں کو چیرتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سالہ اختلافات کے باوجود دنیا کی بیشتر اقوام اور مذاہب اسلام کے مقابلے میں متحد اور یکجا دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کے برعکس یہ کتنی عجیب اور حیران کن حقیقت ہے کہ اپنی آنکھوں کے سامنے آگ اور خون کے بہتے دریا دیکھ کر بھی اسلامی دنیا سبق سیکھنے کے لئے تیار نہیں۔ آپ غور کریں تو اس گہری خاموشی اور تاریخی سرد مزاجی کے کئی اسباب ہیں۔ کچھ سیاسی و معاشی ہیں کچھ سماجی و ثقافتی ہیں کچھ فکری و علمی ہیں اور کچھ مذہبی مسلکی ہیں۔ یہ مسائل صرف مسلمانوں کا ورثہ نہیں بلکہ تقریباً ہر قوم کو ہر دور میں درپیش رہتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ان میں سے بعض کے اثرات ختم بھی ہوجاتے ہیں لیکن مسلمانوں کے درمیان موجود مذہبی و مسلکی مسائل اس لیے مسلسل اور طویل تاریخ کے حامل ہیں کہ اسے اچھالنے والا طبقہ مذہبی پیشوائیت کے منصب پر فائز رہا۔ اس کو حاصل تقدس اور احترام ان کے نظریات کو تقویت دیتا رہا جس کی وجہ سے ان نظریات کو ماننے اور اپنانے والوں کا کوئی نہ کوئی حلقہ بھی موجود رہا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان گروہوں اور حلقہ ہائے اثر میں سے بعض دائرہ اسلام سے بھی خارج ہوگئے۔ اس سارے پس منظر کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دین و مذہب کی دعوت دینے والوں پر سب سے زیادہ نازک اور حساس ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ وہ چاہیں توسادہ لوح عوام کو متحد رکھ سکتے ہیں اور چاہیں تو پورا ماحول آپس میں دست و گریباں ہوسکتا ہے۔

علماء و مصلحین کے لئے یہ ذمہ داری اس دور میں اور زیادہ اہم اور حساس ہوگئی ہے کیونکہ اب ذرائع ابلاغ خصوصاً الیکٹرانکس میڈیا نے زمان و مکاں کے فاصلوں کو سمیٹ دیا ہے۔ بیسیوں ٹی وی چینلز پردن رات براہ راست افکار و خیالات کا اظہار ہو رہا ہے۔ بڑے بڑے نازک موضوعات پر قرآن و حدیث کے حوالہ جات پیش کیے جا رہے ہیں۔ ان سے جہاں لوگوں کو علم و عرفان میں وسعتیں حاصل ہو رہی ہیں وہاں بعض اوقات غلط فہمیاں اور انتشارات کا امکان بھی رہتا ہے۔ میڈیا پر گفتگو کرنے والے سب حضرات ایک جیسی علمی اور استدلالی قوت کے حامل نہیں اور نہ سب کو حکمتِ دعوت کا پیغمبرانہ وصف حاصل ہے۔

ہم کسی مبلغ، مصلح اور داعی کی نیت اور اس کے اخلاص پر شک نہیں کرتے البتہ بعض حضرات کی افتادِ طبع سے ضرور شکوہ ہوتا ہے۔ حال ہی میں ایک معروف دانشور اور عالم دین نے بڑی سادگی اور روا روی میں جمہور صحابہ کرام سمیت پروردئہ نبوت اور جانشین رسالت سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کو شراب نوشی کا رسیا قرار دے دیا۔ کچھ حلقوں کی طرف سے جب ان کی اس لغزش پر گرفت ہوئی تو موصوف نے ایک اور وضاحتی بیان جاری کیا مگر تعجب ہے کہ اس میں بھی انہوں نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کو نشے کی حالت سے مستثناء نہیں کیا بلکہ مزید حوالوں سے اپنی لغزش پر اصرار کیا حالانکہ انہوں نے حدیث کی جس روایت کا ذکر کیا ہے وہ ایک مطعون راوی کی وجہ سے ضعیف اور متروک ہے خصوصاً تفسیر قرآن کے باب میں اکابر ائمہ نے اس سے احتراز برتا ہے۔ اسی طرح ایک اور بھارتی نژاد معروف نوجوان دینی سکالر نے گذشتہ دنوں یزید کو اس کی ’’شاندار خدمات‘‘ پر ’’خراج تحسین‘‘ پیش کیا۔

یہ دونوں حضرات متعدد مرتبہ تحریراً اور تقریراً ایک مخصوص اور ناپسندیدہ اعتقادی روش کا اظہار کر چکے ہیں۔ ہم انہیں دیانتدارانہ مشورہ دیتے ہیں کہ یہ دور ایسے اضافی متنازعہ امور کو چھیڑنے کا ہرگز متحمل نہیں۔ جس طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت اہل ایمان میں نہایت قابل احترام ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ رضی اللہ عنہ کو خود شہر علم کا دروازہ قراردیا۔ آپ صسلسلہ ہائے ولایت و روحانیت کے امام اور پیشوا ہیں، اسی طرح یزید اکابر ائمہ سمیت جملہ اہل اسلام کے نزدیک بدترین کاموں کے سبب ملعون اور مغضوب ہے۔ متفقہ امور کو چھیڑنا نہ حکمت و تدبر کا تقاضا ہے اور نہ معاصر حالات اس کی اجازت دیتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود سے امام مسلم نے ایک روایت صحت کے ساتھ نقل کی ہے جو ان حضرات کے پیش نظر رہنی چاہیے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

ما انتَ بمحّدِتٍ قوماً حَديثًا لا تبلغُه عقولهم الا کان لبعضهم فتنة.

یعنی اگر تم لوگوں کے سامنے ایسی بات بیان کروگے جس کا مطلب ان کے ہاں معروف نہ ہوگا تو یہ چیز ان میں سے بعض لوگوں کے لیے فتنے کا سبب بن جائے گی۔ ‘‘

اللہ تعالیٰ ہمیں دعوت دین کے لیے کماحقہ حکمت، بصیرت، محبت اور خلوص کی نعمتوں سے بہرہ یاب فرمائے۔

از ڈاکٹر علی اکبر قادری الازہری
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا

 
آبی ٹوکول's Avatar
آبی ٹوکول
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
شکریہ: 4,380
1,825 مراسلہ میں 6,817 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 315
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (20-05-11), منتظمین (19-05-11), مرزا عامر (19-05-11), بزم خیال (20-05-11), حیدر (20-05-11), حیدر Rehan (20-05-11)
پرانا 20-05-11, 01:08 AM   #2
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,898
شکریہ: 23,988
4,983 مراسلہ میں 14,693 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

یزید کا مسئلہ اختلافی ہے اور اس کو اتفاقی قرار دینا خود ایک بڑی علمی لغزش کہی جا سکتی ہے!!!

اور حضرت علی رضی اللہ عنہ والی روایت کا تعلق شراب نوشی کی حرمت سے پہلے کے دور سے ہے اور اس سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شان میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا.حرمت خمر سے پہلے صحابہ کرام شراب پیا کرتے تھے جب یہ حرام ہوئی تو مدینہ کی گلیوں میں ایسے بہنے لگی کہ پانی بھی کیا بہتا ہو گا!!!

معلوم ہوتا ہے کہ ساحب مضمون کا "دکھڑا" درحقیقت تھا کوئی اور، جو انہوں نے اس "اتفاقی" مضمون کی آڑ میں سنانے کی کوشش کی ہے.

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (20-05-11), آبی ٹوکول (20-05-11), بلال الراعی (20-05-11), حیدر (20-05-11), راجہ اکرام (20-05-11)
پرانا 20-05-11, 10:30 AM   #3
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,881
کمائي: 51,156
شکریہ: 7,909
2,137 مراسلہ میں 4,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

۔
انسان بہت جاہل اور جلدباز واقع ہوا ہے
’’القران‘‘
حیدر Rehan آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (20-05-11), حیدر (20-05-11)
پرانا 20-05-11, 01:06 PM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,382
شکریہ: 52,449
11,147 مراسلہ میں 35,182 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
معلوم ہوتا ہے کہ ساحب مضمون کا "دکھڑا" درحقیقت تھا کوئی اور، جو انہوں نے اس "اتفاقی" مضمون کی آڑ میں سنانے کی کوشش کی ہے.
مجھے بھی یہی محسوس ہوا۔ کہانی گھما پھرا کر کہاں سے کہاں لائی گئی۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (20-05-11), راجہ اکرام (20-05-11), عبداللہ آدم (21-05-11)
پرانا 20-05-11, 03:23 PM   #5
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,070
شکریہ: 4,380
1,825 مراسلہ میں 6,817 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
مجھے بھی یہی محسوس ہوا۔ کہانی گھما پھرا کر کہاں سے کہاں لائی گئی۔
اصل میں یہ میری ایک فورم پر بہت پرانی شئرنگ تھی خصوصا ان دنوں کی جب ڈاکٹر اسرار والا مسئلہ کھڑا ہوا تھا یہ مجلہ منھاج القرآن کا انہی دنوں کا اداریہ ہے مگر اسے میں نے یہاں آج کہ دور کہ حوالہ سے شئر کرنا چاہا لیکن زرا سی چوک ہوگئی ایک مخصوص تناظر والے مسئلہ میں لکھے گئے پیراگراف کو حذف نہ کرسکا بحرحال آپ احباب اس پیراگراف کو چھوڑ کر باقی جو تجزیہ کیا گیا ہے اسی کو ملحوظ خاطر رکھیں ۔ ۔ ۔ والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
حیدر (20-05-11), عبداللہ آدم (21-05-11), عبداللہ حیدر (20-05-11)
پرانا 20-05-11, 03:28 PM   #6
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,070
شکریہ: 4,380
1,825 مراسلہ میں 6,817 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبداللہ آدم مراسلہ دیکھیں
یزید کا مسئلہ اختلافی ہے اور اس کو اتفاقی قرار دینا خود ایک بڑی علمی لغزش کہی جا سکتی ہے!!!

اور حضرت علی رضی اللہ عنہ والی روایت کا تعلق شراب نوشی کی حرمت سے پہلے کے دور سے ہے اور اس سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی شان میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا.حرمت خمر سے پہلے صحابہ کرام شراب پیا کرتے تھے جب یہ حرام ہوئی تو مدینہ کی گلیوں میں ایسے بہنے لگی کہ پانی بھی کیا بہتا ہو گا!!!

معلوم ہوتا ہے کہ ساحب مضمون کا "دکھڑا" درحقیقت تھا کوئی اور، جو انہوں نے اس "اتفاقی" مضمون کی آڑ میں سنانے کی کوشش کی ہے.

والسلام
یزید کی بد بختی کا مسئلہ اتفاقی ہی ہے اسے اختلافی قرار دینا خود ایک بڑی لغزش ہے اختلافی اس باب میں یہ ہے کہ آیا اس کی بدبختیوں پر لعنت کرنا جائز ہے یا نہیں باقی اپنی اپنی محبت اور اسکا مدار ہوا کرتا ہے سو انسان اسی تناظر میں بہک کر سوچتا سمجھتا اور لکھتا ہے ۔ ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں اس حدیث سے استدلال کرنا ڈاکٹر صاحب کی بہت بڑی علمی خطا تھی خصوصا جب آیہ تطہیر کا نزول اس واقعہ سے پہلے ثابت تھا دوسرے ڈاکٹر اسرار صاحب کا اپنی غلطی پر اصرار انکو اس مسئلہ میں مشکوک بنا رہا تھا سو یہی وجہ تھی کہ صاحب مضمون کو اپنا اصل دکھڑا رونا پڑا اور آپ نے بجا فرمایا صاحب مضمون نے جس وقت یہ مضمون رقم کیا تھا اس کا اصل دکھڑا یہی تھا یعنی دفاع شان سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور یہ اپنے اپنے نصیب کی بات ہے ۔کہ این سعادت بزور بازو نیست ۔۔۔والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (20-05-11)
پرانا 20-05-11, 09:43 PM   #7
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ڈاکٹر صاحب جیسی مذہبی علمی شخصیت کے ادا کئے گئے وہ الفاظ مجھے حیران کر گئے تھے ۔ جب انہوں نے ایک جملہ " عادت گدی میں شامل ہو " خود سے اس میں شامل کیا تھا ۔
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
بزم خیال کا شکریہ ادا کیا گیا
آبی ٹوکول (20-05-11)
پرانا 20-05-11, 10:09 PM   #8
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,070
شکریہ: 4,380
1,825 مراسلہ میں 6,817 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمودالحق مراسلہ دیکھیں
ڈاکٹر صاحب جیسی مذہبی علمی شخصیت کے ادا کئے گئے وہ الفاظ مجھے حیران کر گئے تھے ۔ جب انہوں نے ایک جملہ " عادت گدی میں شامل ہو " خود سے اس میں شامل کیا تھا ۔
گُھٹی میں سر جی ۔ ۔ ۔گدی میں نہیں ۔ ۔ ۔ ویسے یہ ایسے کوئی اچنبے کی بات نہیں میں نے بڑی بڑی شخصیت کی لغزشیں دیکھی ہیں اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے سامنے شخصیت کا قد کاٹھ اتنا بڑا دیو بن کر کھڑا ہوجاتا ہے کہ پھر ہمیں انکی کہی ہوئی ہر بات حرف آخر نظر آنے لگتی ہے میں نے بارہا ڈاکٹر اسرار صاحب کو فحش قسم کی خطائیں کرتے سنا ہے اسی طرحدیگر اور علماء کو بھی ۔ ۔ ۔
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا گیا
مہتاب (22-05-11)
جواب

Tags
php, پسند, قرآن, لوگ, نفرت, چین, ممکن, محبت, مسائل, آج, اہل بیت, اکبر, ایمان, اللہ, اسلام, اسلامی, اسلامی تاریخ, بادشاہت, جام, حدیث, خون, زندگی, صحابہ, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پلیز پلیز پلیز مددکریں مشال خان مائیکروسوفٹ آفس 9 01-03-11 07:00 PM
پلیز 25 روپے پلیز! فیصل ناصر گپ شپ 28 31-01-11 04:09 PM
حیرت انگیز ابو عمار فضیلیت قرآن 3 04-07-09 04:22 PM
مّمی کم ہئر پلیز چاچا کمال قہقہے ہی قہقے 2 30-10-08 01:41 AM
الطاف حسین دھمکی آمیز بیانات سے گریز کریں، غوث بخش مہر عبدالقدوس خبریں 0 17-04-08 08:20 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:00 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger