واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


مسخروں سے معجزوں کی توقع,,

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 31-05-08, 12:18 AM   #1
مسخروں سے معجزوں کی توقع,,
تفسیر حیدر تفسیر حیدر آف لائن ہے 31-05-08, 12:18 AM

مسخروں سے معجزوں کی توقع,,,, ایاز امیرکی ڈائری

ہم بہت ہی عجیب قوم ہیں، ہم احمقوں اور گھامڑوں سے ہوشیاری و عقلمندی کی توقع کئے بیٹھے ہیں، ہم پیدائشی موقع پرستوں کے حوالے سے یہ سوچے بیٹھے ہیں کہ یہ نظام میں تیز تر تبدیلی لائیں اور اس پر مستزاد یہ کہ ہم اُن سے نیکی و بھلائی کی آس لگائے بیٹھے ہیں جن کی شہرت چہار دانگ عالم اس لئے پھیلی ہے کہ انہوں نے دن دہاڑے قومی خزانے کو لوٹا۔ آخر اپنے قومی منظر نامے کو دیکھ کر ہم کیا سوچ رہے ہیں کہ یہ نیپالی انقلاب کا نتیجہ ہے یا پھر چین کے لانگ مارچ کا شاخسانہ؟ بینظیر بھٹو پاکستان آئیں تو ان کا آنا ایک ایسی ڈیل کے تحت ہوا جسے امریکی آشیر باد حاصل تھی اور اسی امریکی پشت پناہی سے انہوں نے اپنی ساری امیدیں باندھ رکھی تھیں۔ دوسری طرف نواز شریف کا وطن لوٹنا سعودی شاہی مداخلت کا نتیجہ ٹھہرا۔ ان دونوں قائدین کی رومن طرز کی فتحیابی میں ہمیں کہیں دور دور تک بھی شی گوویرا کی جھلکیاں دکھائی نہ دیں۔ مشرف اگر اپنے یونیفارم سے دستبردار ہوئے تو اسکی وجہ خدانخواستہ یہ نہیں ہے کہ انہیں ان لاکھوں عوام پر ترس آگیا تھا جو آرمی ہاؤس کے باہر ہاتھوں میں مشعلیں لئے التجائیں کر رہے تھے کہ بخدا حضور انور ہمارا پیچھا چھوڑ دیں بلکہ مشرف کے جانے کی وجہ یہ رہی کہ امریکہ بہادر انکے بازو مروڑے جا رہا تھااور اسکے ساتھ ہی فوج کمان میں بھی انکی حمایت میں کمی واقع ہو رہی تھی۔ یہ ٹھیک ہے کہ وکلاء کی تحریک نے مشرف کو کمزور کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے لیکن وکلاء نے اپنے ذمے کچھ ذیادہ ہی کریڈٹ لے لیا ہے کیونکہ وہ اپنے تئیں یہ تاثر دے رہے ہیں کہ پاکستان میں جو تبدیلیاں وقوع پذیر ہو رہی ہیں ، انکے پیچھے وکلاء تحریک ہی کارفرما ہے۔ تحریک کے جتنے بھی سرکردہ رہنما ہیں، اعتزاز احسن سے لیکر منیر ملک اور علی احمد کرد تک، سبھی ہمارے بہت اچھے دوست ہیں۔ یہ سبھی حضرات قابل تعریف صلاحیتوں کے مالک ہیں لیکن افسوس صد افسوس ان میں عجز و انکسار اور وضع داری کا فقدان ہے ۔یہ حضرات دنیا کو تبدیل کرنے کی توقع کئے بیٹھے ہیں لیکن خود کو بدلنے سے قاصر ہیں، یہ اب بھی اسی فضا میں سانس لے رہے ہیں جو تحریک کے طفیل پچھلے سال وجود میں آئی تھی۔ اگر سمندر میں مد آتا ہے تو جزر بھی تو اسکے بعد ایک فطری عمل ہے۔ کٹھن لمحات آتے ہیں اور آکر گذر جاتے ہیں۔ وکلاء تحریک اپنی قوت کھو چکی ہے ، اعتزاز احسن کی قائدانہ صلاحیتیں اپنی جگہ لیکن اس تحریک کو چلانے کے لئے کچھ اور بھی چاہئیے، ہاں ہر منزل پر دس گھنٹے تاخیر سے پہنچنے کی غیر معمولی صلاحیت بھی تو اعتزاز کو ہی حاصل ہے۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے تو انہوں نے اٹھارہ فروری کو ہی موقع ملنے پر اپنے خیالات کا اظہار کر دیا ۔ اگر انہیں یہ موقع نہ ملتا تو کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ عوام سڑکوں پر نکل آتے اور اقتدار کے ایوانوں پر یلغار کر دیتے ؟آخر ہم احمقوں کی کس جنت میں رہتے ہیں ؟ہم میں جی حضوری کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے اور ہماری سیاسی کلاس تو سیاسی مزاحمت کے جملہ خصوصیات سے دور دور کی علیک سلیک بھی نہیں رکھتی بلکہ اخلاقی اور دانشورانہ دیوالیہ کی آخری حدوں کو چھو گئی ہے۔ اگر فروری کے انتخابات نہ کروائے گئے ہوتے تو جان رکھیں کہ پاکستان ایک اور گہری کھائی میں گر چکا ہوتا لیکن عوام اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوتے۔ ایک ایسی قوم جو گیارہ سال تک ایوب خان کو جھیل سکتی ہو اور مزید گیارہ سال تک تاریکی و تیرگی کے ایک اور سپہ سالار ضیاء الحق کو برداشت کر سکتی ہے اور ساڑھے آٹھ سال تک مشرف جیسے اوسط درجے کے شخص کو، جو امن و جنگ ہر دو حالتوں میں تباہی و بربادی کا موجب رہا، اسے برداشت کر سکتی ہے تو پھر یہ کچھ بھی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔لیکن اس طرفہ تماشے کے باوصف کہ امریکہ بہادر ہماری سیاسی بساط پر اپنے مہرے بڑھاتا رہا یا پھر سعودی شاہی خاندان ہماری سیاست کے تار و پود میں تبدیلی کے پھندنے جڑتا رہا، انتخابات کروائے گئے، مشرف اور اسکے سیاسی جھتے کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا، اور وہ سیاسی جماعتیں جو عرصہ دراز سے کونے کھدروں میں چھپتی پھر رہی تھیں اور جنہیں قومی امور سے دور رکھا گیا تھا، انہی جماعتوں نے انتخابات میں ڈرامائی فتح حاصل کی۔ سو اگر عوام کو یہ خواہش تھی کہ کچھ معجزے وقوع پذیر ہو جائیں تو وہ کچھ ذیادہ غلط بھی تو نہ تھے۔ لیکن انتخابات کے جواب میں عوام کو کیا ملا، وہ پرانا گھسا پٹا عبرت آموز سبق کہ وہ سیاسی جماعتیں جن پر عوام نے اعتبار کیااور اپنا اعتماد انکے سپرد کیا، انہی جماعتوں نے بیچ چوراہے میں اس اعتماد و اعتبار کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ حقیقی معاملات و مسائل کا حل تلاش کرنے اور ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کی بجائے ہماری منتخب جماعتیں سایوں کے پیچھے بھاگ رہی ہیں، پرانے جھگڑوں کا حساب برابر کیا جا رہاہے، اور ایسی بے دانت بلاؤں پر الزامات کے طومار باندھے جا رہے ہیں جن میں جواب دینے کا بھی دم نہیں۔جہاں تک زرداری کا تعلق ہے تو ان میں تو کوئی بدلاؤ آنے سے رہا، وہ آج بھی وہی ہیں جو کل تھے، انکو ہمیشہ سے اقتدار اور پیسے سے ہی رغبت رہی ہے۔ مشرف کے ساتھ ہونے والی ڈیل کے طفیل (ظاہر ہے امریکہ بہادر کے زیر سایہ) آصف زرداری کو پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی معافی کا سزاوار ٹھہرایا گیا ہے، انکے خلاف جتنے بھی کیس تھے ، جنہیں شاید گننا بھی مشکل ہو، ان سب کیسوں کو لپیٹ دیا گیا ہے۔ پاکستان کے عوام کو تو شاید اپنے حصے کے معجزے کا انتظار ہی رہیگا لیکن آصف زرداری تو اپنے حصے کا معجزہ وصول فرما چکے۔
ہمارے عزت مآب ڈوگرجو اس وقت سپریم کورٹ کے اعلیٰ ترین عہدے پر براجمان ہیں، اس معجزے کے رفیق و دمساز ہیں۔ اور پاکستان کے عوام جو ہمیشہ سے سادہ لوح اور بدھو رہے ہیں، اس بات کے متمنی ہیں کہ زرداری ، ڈوگر کو کتوں کے بھاڑے میں ڈال دیں اور عزت مآب افتخار چوہدری کو سپریم کورٹ پہنچا دیں کیونکہ وہ وکلاء اور عدلیہ کی مزاحمتی تحریک کی علامت اور ہیرو کا درجہ اختیار کر چکے ہیں۔ لیکن جناب من افتخارچوہدری کو سپریم کورٹ پہنچانے کی باتیں خیال و خواب کی باتیں ہیں، تب تک جب تک زرداری موجود ہیں۔سو ملاحظہ ہو کہ وہ کیا کر رہے ہیں، جی ہاں ہمہ وقت مسکراتے رہنے کے علاوہ وہ ایک اور کام بھی کر رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ وہ گاہے بگاہے ایسی درفنطنی چھوڑتے ہیں جس میں اداروں کی تعمیر کی بات ہوتی ہے جسے پاکستانی عوام کافی عرصے سے سنتے آرہے ہیں۔پاکستان کے عوام، جی ہاں ہماری مراد عام عوام سے ہے، نہ کہ ان خواص سے جو بہرحال وبہرکیف ہر صورت مزے اڑاتے ہیں، عوام کئی سالوں سے اس قسم کی صورتحال سے نمٹتے چلے آرہے ہیں۔ لیکن جناب زرداری کے منہ سے سیاست پر لیکچر سننے کے لئے تو کچھ ذیادہ ہی دل جگرہ چاہیئے بلکہ سننے والے کو انعام ملنا چاہیئے۔ وہ جو پی پی پی کے حلقہ یاراں میں ہیں یایوں کہیئے زرداری کے التفات سے فیضیاب ہوکر معتوب اہمیت
ٹھہرتے ہیں یا پھر انہیں کسی عہدے کا سزاوار ٹھہرایا جاتا ہے، انہوں نے بھی زرداری کی طرح مسکراتے رہنے کی ادا سیکھ لی ہے۔ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ شیری ایک قابل وزیر بنتی جا رہی ہیں۔ وہ خوفناک محمد علی درانی کانفیس ایڈیشن دکھائی دیتی ہیں۔یہ تو بات ہوئی زرداری کے حلقہ یاراں کی لیکن ان صاحبان کی حالت زار کا اندازہ فرمائیے جو حلقہ یاراں سے دور ہیں۔ انہیں تو کوئی چوں چراں کئے بغیر سب کچھ ماننا پڑتا ہے۔ ہماری سیاسی جماعتیں، جی ہاں بلاشرکت غیرے ، ہماری تمام سیاسی جماعتیں اس معجزے سے محروم ہیں کہ ان میں کوئی باغی پیدا ہو۔ فطری طور پر سیاسی جماعتوں کے کارکن درباریوں کا روپ دھار لیتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ غیر ضروری معرکہ آرائی سے گریز میں ہی بھلائی ہے۔ سو قوم کو ایک ہزار ایک راتوں کی داستانوں پر مبنی الف لیلوی کہانیاں سنائی جاتی ہیں جو آئینی پیکجز سے متعلق ہوتی ہیں۔ کوئی بھی موقع محل ہو، زرداری آئینی معاملے کی بات کہیں نہ کہیں سے نکال کر اس پر خیال آرائی فرما ہی لیتے ہیں۔ وزیر قانون فاروق نائیک کو بھی انہی گذرگاہوں اور خارزاروں سے گذرنا پڑتا ہے اور اسی رفتار سے گذرنا پڑتا ہے لیکن وہ خاصے ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔معاملات تیزی سے ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں، معیشت کی ناؤ ڈوب رہی ہے، روپے کی قدر میں دنوں کے حساب سے کمی ہو رہی ہے لیکن اسلام آباد میں سیاسی دھماچوکڑی جاری ہے اور ہر نئے دن ہمیں کوئی نیا ہی زاویہ منتظر نگاہ ملتا ہے۔ اور جناب عالی ، ہماری دوسری عوامی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن)کیا کر رہی ہے؟ جی ہاں مشرف کو لعنت ملامت کیا جا رہا ہے جبکہ اب مشرف کوئی مسئلہ ہی نہیں رہے۔ اب آرمی ہاؤس سازشوں کی آماجگاہ نہیں رہابلکہ اب یہ قصر غم و اندوہ کی صورت اختیار کر گیا ہے ، جہاں مشرف قیدی اور نشان عبرت بنے بیٹھے ہیں اور اس بات کا ثبوت بھی ہیں کہ جب طاقت و اختیار نہ ہو تو بندے کا کیا حال ہوتا ہے۔ لیکن پھر بھی پاکستان مسلم لیگ (ن)مشرف کے نام کی ہی بانسری بجائے جا رہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ جونہی مشرف چلے جائیں گے یا انکا مواخذہ کیا جائیگا، وہ صبح روشن طلوع ہو جائیگی جس کا پاکستان کو کئی برسوں سے انتظار ہے۔یہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی کشمکش کا ہی نتیجہ ہے کہ سلمان تاثیرجو سیاسی لحاظ سے کوئی حیثیت نہیں رکھتے (اس حوالے سے پریشان ہونے کی چنداں ضرورت نہیں کہ وہ مالی امور کے بہتر ماہر ہیں) کی بحیثیت گورنر تقرری کے اعلان پر پاکستان مسلم لیگ (ن) نے انتہائی ردعمل کا اظہار کیا ، جس کے بعد کم و بیش اڑتالیس گھنٹوں تک سلمان تاثیر کا نام سیاسی منظر نامے میں گونجتا رہا۔ اس وقت کی خیر منائیں جب مشرف بالآخر چلے جائیں گے اور پھر آپ کے پاس انکے نام کا بہانہ بھی نہ ہوگا۔ پھر قوم کی خامیوں یا سیاسی کلاس کی نااہلی کا الزام آپ کس کے سر دھریں گے؟
پاکستان مسلم لیگ (ن) سنگل ایشو پر سیاست کرنیوالی جماعت بھی کہی جا سکتی ہے اور یہ معاملہ کچھ خطرناک ہے، کیونکہ یہ ایک ایشو حل ہو گیا تو پھر کیا ہوگا۔ ن لیگ نے خود کو ججوں کے ایشو پر گویا ایک کمرے میں بند کر دیا ہے جہاں انکے پاس ہلنے جلنے کی گنجائش بھی نہیں ہے۔ کوئی بھی موقع محل ہو، پارٹی اور اسکے قائدین گرجتے برستے ہوئے ججوں کی بحالی کے کڑکے برساتے رہتے ہیں جبکہ ججوں کی بحالی کا معاملہ انکے اپنے ہاتھ میں ہے ہی نہیں۔ ججوں کی بحالی کی کنجی زرداری کی جیب میں ہے لیکن انکے پاس کھیلنے کے لئے اور بھی کئی کھیل ہیں اور حل کرنے لائق اور بھی کافی معاملے ہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) خو د کو اس بات پر دلاسہ دئیے بیٹھی ہے کہ پی پی پی کی مقبولیت کا گراف گر رہا ہے جبکہ انکی اپنی جماعت مقبولیت کی حدیں پھلانگ رہی ہے۔ شاید ایسا ہی ہو لیکن ایسی مقبولیت کا بھی کیا کرنا جب آپ یہ پیشن گوئی ہی نہ کر سکیں کہ اگلے پانچ ماہ میں کیا ہونے والا ہے ، پانچ سال کی پیشن گوئیوں کو تو جانے ہی دیں۔ اس وقت اشاروں کنائیوں کا جو کھیل جاری ہے ، آخر وہ کب ختم ہو گا؟ چلیں فرض کئے لیتے ہیں کہ ا س کھیل کا کوئی انت نہیں ہوگا، تو کیا ہمیں ایک اور انتخاب کی راہ دیکھنی چاہئیے یا پھر ایک اور ایسی رات۔۔۔۔ہمارا خیال ہے ہمیں یہ لفظ لکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ زرداری اپنی تئیں کوئی منفی کھیل کھیل رہے ہونگے لیکن پاکستان مسلم لیگ (ن) کا مفاد اس میں ہے کہ وہ اس معاملے کو جانچے اور دیکھے کہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی مخلوط حکومت کی کوشش کو کامیاب ہونا چاہیئے۔ لیکن اس کامیابی کے لئے یہ ضروری ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) خود کو ججوں کے ایشو سے آذاد کرائے۔ شاید ایسا ہو بھی جائے اگر پارٹی کو وکلاء برادری یا چوہدری افتخار کی طرف سے کچھ مدد مل جائے۔ لیکن لگتا ہے کہ لیگل کمیونٹی کے پاس آئیڈیاز کا قحط پڑ گیا ہے جبکہ چوہدری افتخار بھی اپنے دائرے سے باہر نکل کر سوچنے کے قابل نظر نہیں آتے۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ کئی حوالوں سے ایک عظیم شخص ہیں لیکن منڈیلاکو عام آدمی سے جو چیز ممتاز کرتی ہے ، شاید وہ چوہدری افتخار کے قبضہء قدر ت میں نہیں ہے۔ اگر حقیقی عظمت ہوتی تو اب تک یہ کہہ دیا گیا ہوتا کہ ”ٹھیک ہے، میں جانے کو تیار ہوں لیکن مشرف اور ڈوگر کو بھی جانا پڑیگا اور دو نومبر والی عدلیہ کو بحال کیا جائے“ یوں ایک عظیم مقصد کے لئے اپنی ذات کی قربانی دے دی جاتی ۔اقبال جو قوم کی روح کو جگانے والے ہیں، انکی یادیں کہاں گم گئیں، انکے شاہین کا بسیرا کہاں ہے اورانکے نغمے کیا ہوئے؟ ملک کا مستقبل خطرے میں ہے، ہمیں اس وقت ایسے قائدین کی ضرورت ہے جو ویژن رکھتے ہوں اور کسی قدر عظمت کا مظاہرہ کر سکتے ہوں۔ لیکن طرفہ تماشہ ملاحظہ ہو کہ ہمارے ہاں صرف ٍخیالی ہیولے ہی رقص کناں ہیں

 
تفسیر حیدر's Avatar
تفسیر حیدر
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
شکریہ: 1,293
980 مراسلہ میں 1,851 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 336
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے تفسیر حیدر کا شکریہ ادا کیا
J.S (31-05-08), منتظمین (31-05-08)
پرانا 31-05-08, 06:13 AM   #2
J.S
Senior Member
 
J.S's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: پاک نیٹ
مراسلات: 11,116
کمائي: 192,866
شکریہ: 9,936
7,875 مراسلہ میں 16,001 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: مسخروں سے معجزوں کی توقع,,

شکریہ
J.S آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-06-08, 04:45 PM   #3
Senior Member
 
The Great's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: لوگوں کے دل میں
عمر: 20
مراسلات: 5,772
کمائي: 82,785
شکریہ: 2
2,019 مراسلہ میں 3,246 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: مسخروں سے معجزوں کی توقع,,

اچھا لکھا ھے اپ نے جناب۔
The Great آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, کورٹ, پاکستان, پاکستانی, وزیر, چین, نواز شریف, مواخذہ, موجودہ, مخلوط, مسائل, معجزہ, آج, آدمی, آصف زرداری, امریکہ, اسلام, اعلیٰ, تلاش, جواب, خان, دوست, زرداری, سیاست, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
فتوے بازوں کا جمعہ بازار (جاوید سومرو)بی بی سی shafresha اپکے کالم 8 28-11-10 03:34 PM
پانچوں نمازوں کے بعد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ naeemuddin میری ڈائری 0 26-02-09 07:56 AM
دونوں بازوں سے محروم راجہ صاحب قہقہے ہی قہقے 0 12-08-08 01:49 PM
دوران پرواز ہوائی جہازوں کے پروں کی شکل میں تبدیلی کی ٹیکنالوجی پر کام وجدان دلچسپ اور عجیب 0 21-07-08 04:19 PM
پاکستان کی خاتون خلا باز کو خلاء میں لے جانے والے خلائی جہازوں کے ماڈلز کی نمائش وجدان خبریں 0 29-01-08 10:01 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:01 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger