واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


مسلمانوں سے اوبامہ کا خطاب اور موجودہ منظر نامہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات درجہ بندی: موضوع  کی درجہ بندی:  1 ووٹ 5.00 اوسط ظاہری انداز
پرانا 30-06-09, 02:36 PM   #1
مسلمانوں سے اوبامہ کا خطاب اور موجودہ منظر نامہ
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 30-06-09, 02:36 PM
درجہ بندی: (1 votes - 5.00 average)

امریکی صدر باراک حسین اوباما کو مصر کی مشہور درسگاہ جامعہ ازھر میں خطاب کئے ہوئے بیس دن سے زائد کا عرصہ گزر گیا ہے تاہم بعض حلقوں میں اس کی بازگشت تا حال سنائی دے رہی ہے۔ انداز تقریر اور مشمولات تقریر دیکھ کر خوش بیانی کی صلاحیت کو داد دینے کو جی چاہتا ہے ۔ خطاب میں جہاں اور بہت سی گلفشانیاں ہوئیں وہیں مسلمانوں کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہاراورتنازعات کے حل کی مخلصانہ کوششوں کا یقین بھی دلایا گیا۔کئی حلقوں کی جانب سے اس تقریر کو خوش آئند قرار دیا گیاہے لیکن بعض حلقے اسے بھی اوبامہ کے صدارتی مہم کے دوران دئیے گئے بیانات کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔
اگر صدر اوباما کی صدارتی مہم کی تقاریر کا جائزہ ان کے موجودہ اقدامات کے روشنی میں لیا جائے تو بخوبی اندازہ ہو گا کہ ”تبدیلی“ کا نعرہ صرف ستائی ہوئی دنیا کو حسین خواب دکھانے کے مترادف تھا۔ لوگ تبدیلی کے خواہاں تھے جس کا لازمی نتیجہ اوباما کی جیت کی صورت میں نکلنا تھا اور نکلا۔ لیکن وقت بڑا استاد ہے، ایک سال پورا ہونے سے قبل ہی موصوف کے اندارونی اور بیرونی ”رنگ“ کی مماثلت کو آشکار کر دیا۔ 2010ءتک عراق سے فوجی انخلاءکا دعوی، ایران کے ساتھ مستحکم تعلقات کی خواہش، مشرق وسطی کے لئے نئی کمیٹی کا قیام اور اس طرح کے بے شمار اقدامات دنیا کو بے وقوف بنانے کی ہی کوشش تھی۔
تبدیلی کے نعرے کی طرح اس تقریر کے حوالے سے بھی مختلف رد عمل دیکھنے میں آرہے ہیں۔ لیکن اگر زمینی حقائق کو مد نظر رکھا جائے تو بظاہر خوش ہونے کا کوئی سبب نظر نہیں آتا۔ چونکہ صدر اوبامہ بارہا مسلمانوں سے خوشگوار تعلقات کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں لیکن اس کے فورا بعد ہونے والے فیصلے ان کے باطن کو ظاہر کر دیتے ہیں۔
اگر مسلمانوں کے ساتھ واقعی ہمدردی ہے اور وہ ان کے دل جیتنا چاہتے ہیں تو انہیں کچھ عملی اقدامات کرنا ہوں گے اور وہ مسائل حل کرنے کے لئے کردار ادا کرنا ہو گا جو مسلمانوں کے لئے سخت تکلیف کا باعث ہیں۔
دنیاجانتی ہے کہ امریکی انتظامیہ اور اقتصادیات بری طرح شکنجہ یہود میں جکڑی ہوئی ہے۔ کوئی اقدام ان کی مرضی کے خلاف کرنے کا مطلب خودکشی ہے۔ اس لئے یہ خوشنما دعوے تو ہو سکتے ہیں لیکن حقیقت کی دنیا سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔
اگر ہم مسلم دنیا کی موجودہ صورتحال پر نظر ڈالیں تو شاید ہی کوئی ایسی جگہ ہو جہاں امریکہ بالواسطہ یا براہ رست ملوث نہ ہو۔دنیا کے نقشے کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہر ملک میں کسی نہ کسی حوالے سے امریکہ کی مداخلت جاری ہے ۔ کہیں حکومتیں بنانے اور گرانے میں ، کہیں فوجی اڈوں کی صورت میں ، کہیں داخلی انتشار کو ہوا دینے کی صورت میں اور کہیں اپنی ہی عوام کو اپنی ہی فوج کے خلاف لڑانے کی صورت میں ۔
دوغلے پن کی انتہا تو دیکھئے ۔ ایک طرف عراق سے فوجی انخلاءکی تاریخ دی جاتی ہے اور دوسری جانب طویل قیام کی منصوبہ بندی جاری ہے۔ فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کی خواہش ہے لیکن اسرائیل کی سرپرستی بھی جاری ہے۔ افغانستا ن کے حوالے سے کہا کہ فوج مسئلے کا حل نہیں اور مزید افواج کچھ تو پہنچ چکی ہیں اور کچھ پا بہ رکاب ہیں۔ ایران کے ساتھ اچھے تعلقات کی خواہش بھی ہے اور پابندیوں میں توسیع بھی ہو رہی ہے۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے تشویش ہے لیکن انڈیا اور اسرائیل کے ایٹمی پروگرامات کسی تشویش کا باعث نہیں۔ حالانکہ انڈیا اور اسرائیل کی جانب سے جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں مسلمان ممالک میں ان کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔
قصہ مختصر موجودہ منظر نامہ کسی لحاظ سے بھی اوبامہ کے رنگیں خیالات کا ترجماں نہیں ہے بلکہ ”منہ چڑاتا“ محسوس ہوتا ہے۔ اور اس منظر نامے میں اس طرح کی تقاریر سے کسی بھی قسم کی توقع ’روشن خیالی‘ تو ہو سکتی ہے لیکن عقلمندی نہیں۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم خود کچھ کرنے کے بجائے دوسروں کے سہارے جینے کے عادی بن چکے ہیں۔ جس کے بے شمار مظاہر میں سے ایک اس طرح کی تقاریر سے بہتری اور تبدیلی کی امیدیں وابستہ کرنا بھی ہے۔
امریکہ کے اس دوغلے پن سے مسلمانوں اور امریکہ کے مابین ایک خلیج حائل ہو چکی ہے۔ جسے پاٹنے کے لئے خوبصورت تقاریر اور نیک خواہشات کا اظہار کارگر نہیں ہو گا۔ بلکہ مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کے لئے زمینی حقائق کو بدلنا ہو گا۔
نیز موجودہ زمینی حقائق مسلمانوں سے بھی یہ تقاضا کرتے ہیں کہ وہ فروعی اختلافات کو بھلا کر یکجا ہو جائیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر مغربی اداروں پر اعتماد کرنے کے بجائے اپنا ایک پلیٹ فارم بنائیں تا کہ حالات میں بہتری آئے اور یہود و ہنود کے مظالم کو روکنے کے لئے مو ¿ثر اقدامات کئے جا سکیں۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا


 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 350
Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
Arabian (01-07-09)
پرانا 30-06-09, 04:46 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق پر پیش کریں ۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (01-07-09)
جواب

Tags
فارم, پاکستان, لوگ, نظر, موجودہ, منصوبہ, مسائل, معلوم, ایران, اقوام متحدہ, انتظامیہ, امریکہ, استاد, جیت, حال, خودکشی, خوش, خلاف, سال, صورتحال, صلاحیت, صدارتی, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بسوں، ویگنوں ، ٹرکوں اور رکشوں پر لکھی گئی شاعری, مصوری اور نثر نگاری ڈاکٹرنور گپ شپ 35 01-01-11 11:05 AM
ہاکی کے ”گلابوں “ کا پیر محل میں منوں پھولوں سے استقبال جاویداسد خبریں 1 20-12-10 06:51 PM
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم ::: ابو کاشان خبریں 0 23-12-07 11:01 PM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) چاچا کمال خبریں 0 04-12-07 11:50 AM
نواز شر یف کے کاغذات ِ نامزدگی بھی مسترد،پی سی او ججوں کو مانتا ہوں نہ اپیل کر وں گا،سر براہ مسلم لیگ(ن) عبدالقدوس خبریں 0 04-12-07 09:12 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:02 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger