واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


مسلم دنیا میں تعلیم کی صورتحال اور ہماری ترجیحات

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-04-10, 10:58 AM   #1
مسلم دنیا میں تعلیم کی صورتحال اور ہماری ترجیحات
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 01-04-10, 10:58 AM

تحریر : راجہ اکرام الحق

قوموں کے عروج و زوال میں تعلیم کا کردار سب سے اہم رہا ہے۔ جس قوم نے اس میدان میں اپنے جھنڈے گاڑے دنیا اس کے سامنے سرنگوں ہوتی چلی گئی ۔ سیدنا آدم علیہ السلام کو فرشتوں پر دی جانے والی فوقیت سے لے کر آج مغرب کی دیگر اقوام پر برتری کے پیچھے اگر کوئی عامل کار فرما ہے تو وہ علمی تفوق ہے۔اسلام دنیا میں غلبے کے لئے آیا ہے اس لئے پہلا حکم ہی اس چیز کا دیا گیا جو ترقی و کامیابی اور غلبے کی شرط اول ہے۔
اور یہ صرف خیال ہی نہیں بلکہ تاریخی حقیقت ہے کہ جب تک مسلمانوں نے اس میدان میں اپنے قدم جمائے رکھے دنیا پر حکمرانی کرتے رہے۔ اور جیسے جیسے ’اقراء‘ کا درس ان کے ذہنوں سے محو ہوتا گیا غلامی کا گھیرا ان کے گرد تنگ ہوتا گیا اور آخر کار پوری قوم غلام بنا لی گئی۔ اور آج تک بد ترین ذہنی اور جسمانی غلامی سے گزر رہی ہے۔

ویسے تو روز اول ہی سے مسلمانوں نے تعلیم پر توجہ دینا شروع کر دی تھی لیکن اسلامی تاریخ میں تعلیم کے حوالے سے پہلا سنہری دور عباسیوں کا گزرا ہے، اس میں خلفاءپوری دنیا سے مختلف علوم کے ماہرین کو دربار میں بہت اہم مقام دیا کرتے تھے، بڑی بڑی مراعات دی جاتیں جس کے نتیجے میں دنیا بھر سے اہل علم کھنچے چلے آتے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک میں بہت جلد مختلف علوم و فنون کو بڑی ترقی ملی۔ پانچویں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے بارے میں مشہور مورخ سرجان باگوٹ کلب لکھتے ہیں کہ ان کے دور میں نہ صرف دارالخلافہ میں بلکہ سلطنت کے دیگر بے شمار حصوں میں فری ہسپتال قائم ہو چکے تھے ۔فسلفہ یونان اور طب یونانی کی عربی زبان میں منتقلی کا کام بھی اسی زمانے میں ہوا۔ بازنطین کے ظلم و ستم سے تنگ آکر جو نسطوری عیسائی عراق میں آ کر آباد ہوئے تھے انہوں نے دیگر اقوام کے علوم و فنون کی عربی میں منتقلی میں اہم کردار ادا کیا۔گنیز بک و ورلڈ ریکارڈ کے مطابق دنیا کی سب سے پرانی یونیورسٹی جامعہ القرویہ ۔ مراکش ہے ۔
ترقی کا یہ سفر جاری رہا یہاں تک کہ سمرقند و بخارااور بغداد و غرناطہ مرجع خلائق بن گئے۔ اور ایسا بھی وقت آیا کہ یورپ اپنے تاریک ترین دور سے گزر رہا تھا اور مسلم دنیا میں علم کا سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔


وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی ترجیحات میں تبدیلی آتی گئی، علم و تعلیم کی جگہ رقص و سرود آ گئے اور بادشاہوں کے درباروں میں علماءاو ر اہل علم کی جگہ گویوں اور رقاصاو ¿ں نے لے لی۔ شمشیر و سناں کے دلدادہ طاؤس و رباب کے خوگر ہو گئے اور یہ حقیقت ہے کہ طبلے کی شاپ ہر تھرکتے شانوں کے ماحول میں پلنے والی قوم بہادری، ہنر مندی اور خود داری کی اوصاف سے عاری ہوتی ہے۔ اور کوئی بھی قوم انہیں غلامی و محکومی کی زنجیر بہنا کر دست نگر کر سکتی ہے۔ ایسا ہی مسلمانوں کے ساتھ ہوا۔

یورپ جو تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا مسلمانوں سے فیض پا کر ایسا چمکا کہ پوری دنیا کی نگاہوں کو اس کی چکا چوند نے خیرہ کر دیا اور مسلمان جو دوسروں کی رہبری کا فریضہ سر انجام دیتے تھے خود گم گشتہ راہ ہو گئے ۔

خلافت عباسیہ کے بعد خلافت عثمانیہ بھی بکھر گئی، انگریزوں اور یورپیوں نے کم و بیش پوری مسلم دنیا کو اپنی کالونی بنا لیا ۔ بیسویں صدی میں آزادی کی لہر اٹھی اور بے شمار آزاد مسلم ریاستیں دنیا کے نقشے پر ابھریں ۔ ان مسلمانوں کو اپنے ماضی پر رشک تو ضرور تھا لیکن ان کے نقش قدم پر چلنے کے لئے کوئی تیار نہیں۔ کچھ تو وسائل کی کمی کی بنا پر علمی و اقتصادی ترقی کے میدان میں کوئی نمایاں کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں اور وہ ریاستیں جنہیں قدرت نے بے شمار وسائل سے مالامال کیا ہے علم و تعلیم ان کی ترجیحات میں بہت نیچے ہے۔

آج دنیا سکڑ کر ایک گاو ¿ں کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ مختلف بین الاقوامی قوانین کے باعث اب جسمانی غلامی کی پرانی شکلیں تقریبا ختم ہو چکی ہیں۔ اب ذہنی غلامی کا دور ہے جو جسمانی غلامی سے کہیں بد تر اور خطرناک ہے۔ کیوں کہ اس میں بظاہر آزاد نظر آنے والے لوگ انتہائی مجبور ہوتے ہیں ، ان کی سوچ اور ان کا عمل مختلف طرح کی پابندیوں میں جکڑا ہوتا ہے۔ جسمانی طور پر غلام کم از کم اپنی آزادی کے لئے سوچتا ہے، کوشش کرتا ہے اور آزاد زندگی کے خواب دیکھتا ہے ۔ لیکن ذہنی غلام اس سوچ تک سے عاری ہوتا ہے۔ اور بد قسمتی سے پوری مسلم دنیا اس وقت اس بدترین غلامی کا شکار ہے۔ جسمانی غلامی کی طرح ذہنی غلامی کی وجہ بھی علم و تحقیق کے میدان میں پس ماندگی اور دیوالیہ پن ہے۔ بلکہ آج اس میدان میں ترقی جتنی ناگزیر ہے شاید اس سے قبل اتنی ناگزیر نہیں تھی۔


لیکن مسلمان ممالک تمام تر وسائل کے باوجود ایسی سرگرمیوں میں مشغول ہیں جن کا فائدہ سوائے گنیز بک میں اپنا نام درج کروانے کے اور کچھ نہیں۔ دنیا کی سب سے خوبصوت مسجد، دنیا کے سب سے بڑے یا سب سے چھوٹے سائز کا قرآن مجید ، دنیا کی سب سے اونچی عمارت اور اس طرح کی ترجیحات میں بے دریغ پیسے کا استعمال ہو رہا ہے جب کہ علم و تحقیق جو کہ ہر قسم کی ترقی کا ضامن ہے اسے در خور اعتناءہی نہیں سمجھا جاتا۔

اسلامی دنیا کے امیر ترین ممالک وہ عرب ہیں جن کے پاس تیل اور دیگر معدنی ذخائر وافر مقدار میں ہیں۔ اس قدرتی دولت نے انہیں نہ صرف خطے میں بلکہ دنیا بھر میں انتہائی اہم مقام دیا ہے۔ لیکن ان کی ساری دولت بڑی بڑی مارکیٹیں بنانے، اونچی اونچی عمارتیں تعمیر کرنے ، اونٹ بھگانے اور عیش و عشرت کی نذر ہو جاتی ہے۔ حال ہی میں دبئی میں برج الخلیفہ کے نام سے دنیا کی بلند ترین عمارت بنائی گئی، اس پر کتنا پیسہ اور کتنا وقت لگا اس کی تفصیلات مختلف جرائد میں آچکی ہیں۔ اس کی تفصیلات پڑھتے ہوئے خیال آیا کہ اس عمارت سے دنیا کو یا امت مسلمہ کو کیا فائدہ ہو گا؟

اس کے برعکس اگر ہم عرب دنیا میں تعلیم کی صوتحال دیکھیں تو وہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ ورلڈ بینک نے 2008میں مشرق وسطی اور شمالی افریقہ میں تعلیم کی صورت حال کا جائزہ لیا۔ اس جائزے سے وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ تعلیم کی صورتحال انتہائی ابتر ہے اور اصلاحات کی فوری ضرورت ہے۔

اسی طرح جنوری میں تیونس میں واقع ایک تنظیم” عرب لیگ ایجوکیشنل اینڈ کلچرل آرگنائزیشن “نے ایک سروے کیا جس کے مطابق تین سو ملین نوجوانوں میں سے 30 فیصد ناخواندہ ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس خطے میں گزشتہ 40سالوں میں GDPکا صرف پانچ فیصد تعلیم پر لگایا گیا ہے۔ پوری مسلم دنیا میں کوئی ایسی یونیورستی نہیں جسکا دنیا کی پہلی 200 بہترین یونیورسٹیوں میں شمار کیا جاتا ہو۔ اگر امیر ملکوں کی یہ صورتحال ہے تو باقی مسلم ممالک کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔


کیا ہی اچھا ہوتا کہ دبئی کی یہ بلند ترین عمارت دنیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہوتی، یہ سارے وسائل صرف کر کے دنیا بھر سے ماہرین کو بہترین مراعات دے کر یہاں بلایا جاتا اور ایک بار پھر علم و تحقیق کے میدان میں مسلم دنیا اپنا مقام بنانا شروع کرتی۔ دبئی اور ابوظہبی اور دیگر ممالک کے اس طرح کے شہر سب سے زیادہ پانچ ستارہ ہوٹلوں کے شہروں کے بجائے سب سے اچھی جامعات کے شہروں کے طور پر جانے جاتے۔ یہ سب ہو سکتا ہے لیکن مسئلہ صرف ترجیحات کے تعین کا ہے۔
__________________
محتاج اصلاح و دعا


 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 373
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
rabab (30-04-10), ھارون اعظم (01-04-10), منتظمین (01-04-10), حیدر (03-04-10), رضی (03-04-10), شاہ جی 90 (03-04-10), عارف اقبال (02-04-10), عبداللہ حیدر (02-04-10)
پرانا 01-04-10, 11:09 AM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں۔

لیکن اس سوچ پر بھی لکھیں جو علم کو "علم" ماننے پر ہی تیار نہیں ہے۔ اور اگر کبھی بہت ہی زیادہ کوئی زور لگا لے تو پھر اس کو "معلومات" تسلیم کر لیتے ہیں۔ مسلمانوں کی اصل تباہی کی ذمہ دار یہ سوچ ہے۔ 
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (01-04-10), راجہ اکرام (01-04-10), رضی (03-04-10), شاہ جی 90 (03-04-10)
پرانا 01-04-10, 11:26 AM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واقعی یہ موضوع بھی اہم ہے اور اس پر بھی ضرور لکھنا چاہیئے۔۔ آپ اس کی کچھ وضاحت کر دیں تا کہ اس پر غور و فکر کیا جا سکے۔

ویسے آپ بھی تو لکھ سکتے ہیں جناب
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
رضی (04-04-10), شاہ جی 90 (03-04-10), عبداللہ حیدر (02-04-10)
پرانا 02-04-10, 09:33 AM   #4
Senior Member
 
عارف اقبال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مراسلات: 979
کمائي: 15,197
شکریہ: 1,882
726 مراسلہ میں 1,803 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عارف اقبال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے عارف اقبال کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (04-04-10), شاہ جی 90 (03-04-10)
پرانا 03-04-10, 07:29 PM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,382
شکریہ: 52,449
11,147 مراسلہ میں 35,182 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشا اللہ راجہ بھائی آپکا فکر انگیز مضمون پڑھ کر مزا آیا اور سوچ کو نئی جہت ملی۔
منتظمین بھائی کی بات بھی اہم ہے تاہم اگر کوئی "علم اور معلومات" میں فرق پر روشنی ڈال سکے تو خوشی ہو گی اور کئی اقسام کی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (03-04-10), رضی (04-04-10), شاہ جی 90 (03-04-10)
پرانا 03-04-10, 07:41 PM   #6
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم بدر بھائی
حاصلہ افزائی کا شکریہ
اور میرا تو خیال ہے علم اور معلومات کے فرق پر آپ ہی قلم اٹھائیے تو مناسب رہے گا

اور بھائی کیسے ہیں ، غائب ہی ہو گئے ہیں آپ؟؟
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
شاہ جی 90 (03-04-10)
پرانا 03-04-10, 07:52 PM   #7
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,337
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

راجہ بھائی، اچھی کاوش ہے۔ تعلیم کو ہمیشہ نظر انداز کرنے کی وجہ سے ہی آج ہم لوگ ترقی کی دوڑ میں پیچھے ہیں۔ آج بھی مسلم دنیا میں تعلیم پر خرچ نہ ہونے کے برابر ہے۔ جبکہ آپس میں لڑائیوں، شاہ خرچیوں کے لئے کوئی حساب نہیں۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (04-04-10), شاہ جی 90 (03-04-10)
پرانا 03-04-10, 10:04 PM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,382
شکریہ: 52,449
11,147 مراسلہ میں 35,182 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں غائب ہی ہو گیا ہوں؟ ارے نہیں بھائی اصل میں اب اتوار کو بھی کم کم فرصت ملتی ہے۔ اب بھی راجن پور کی پی ٹی سی ایل ایکسچینج میں بیٹھا تھا کہ سوچا "مال مفت دل بے رحم"۔

وقت کی قلت کی وجہ سے نہ قلم اٹھا پاؤں گا اور نہ ہی بال پین۔ یہ ٹرمنالوجی (علم بمقابلہ معلومات" کافی دلچسپ موضوع ہے اور کافی باریک فرق ہے تو سوچا کسی کو معلوم ہو تو "معلومات/علم" میں اضافہ ہو۔

شاید منتظمین بھائی کوئی روشنی ڈالیں اس مسئلہ پر
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
راجہ اکرام (03-04-10), شاہ جی 90 (03-04-10)
پرانا 03-04-10, 10:30 PM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی بدر بھیا
موضوع اہم اور دقیق ہے، اور ان دونوں کے فرق کو واضح کرنے کے لئے دو جمع دو چار کی طرح کچھ نہیں کہا جا سکتا جب تک کہ مکمل تیاری نہ ہو

ویسے میرا بھی دل ہے کہ منتظمین بھائی قلم اٹھائیں
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
شاہ جی 90 (03-04-10), عبداللہ حیدر (03-04-10)
پرانا 03-04-10, 11:55 PM   #10
Senior Member
 
شاہ جی 90's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: اٹک سٹی
عمر: 36
مراسلات: 4,843
کمائي: 98,040
شکریہ: 22,157
4,085 مراسلہ میں 10,802 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لیجئیے صاحب
علم اور معلومات میں فرق
شاہ جی 90 آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شاہ جی 90 کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (04-04-10), منتظمین (04-04-10), راجہ اکرام (04-04-10), رضی (04-04-10)
پرانا 04-04-10, 08:33 AM   #11
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,382
شکریہ: 52,449
11,147 مراسلہ میں 35,182 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشااللہ "علم اور معلومات میں فرق" کا سوال کرتے وقت جس شخصیت سے جواب کی توقع تھی اسی طرف سے ہی جواب آیا ہے یعنی شاہ جی

خالص اور دقیق علمی مباحث سے ہٹ کر عام فہم انداز میں اگر بات کی جائے تو میں راجہ اکرام کی مندرجہ بالا پوسٹ سے متفق ہوں "کہ
علم وہ ہے جس کے حصول میں تفکر، تدبر، تعقل اور تفہم کی ضرورت پیش آتی ہے
معلومات وہ ہے جو طے شدہ ہے، جس کو سمجھنے کی نہیں بلکہ یاد کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔"

چونکہ معاملہ تعلیمی نظام سے متعلق تھا تو باقی کی باتیں میں اُدھر ہی کروں گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔
راجہ بھائی جس نقطے کی طرف اشارہ کر رہے تھے اسکی وضاحت وہ خود ہی کریں گے، تاہم معلومات حاصل کرنے اور علم حاصل کرنے میں جو باریک سا فرق ہے وہ راجہ بھائی کی وضاحت سے پورا ہو رہا ہے۔
ہم آج کی دنیا میں معلومات حاصل کرتے ہیں علم نہیں۔ علم وہ ہے جو سابقہ معلومات کو بنیاد بناتے ہوئے تدبر، تفکر کے ذریعے نئی جہتوں کو متعارف کروائے۔ بد قسمتی یہ ہے کہ ہم مسلم معاشروں میں "معلومات رکھنے والے" تو بہت ہیں لیکن "علم رکھنے والے" قلت کا شکار ہیں۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (04-04-10), راجہ اکرام (04-04-10), شاہ جی 90 (04-04-10)
پرانا 04-04-10, 09:08 AM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم بدر بھائی
آپ نے بالکل درست سمت اشارہ کیا کہ ہمارے ہاں صاحب معلومات کی تو بہتات ہے، اور موجودہ نظام ہر سال ایسے بے شمار لوگ تیار کر رہا ہے۔ لیکن بصد افسوس صاحبان علم اب ناپید ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
ترقی کی راہوں کے مسدود ہونے کا بنیادی سبب یہی ہے۔
کتاب خواں تو بہت ہیں صاحب کتاب کوئی نہیں، اقبالیات کے ماہرین تو بہت سارے ہیں لیکن کوئی اقبال نہیں۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (04-04-10), شاہ جی 90 (04-04-10)
جواب

Tags
فری, قدم, قرآن, لوگ, نظر, منتقلی, مجید, آج, امیر, اسلامی, اسلامی تاریخ, بہترین, بلند ترین عمارت, تحریر, تعلیم, جلد, حکم, حال, دبئی, زندگی, سفر, شہر, صورتحال, صدی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
صوبے سیلاب زدگان کیلئے آنے والی غیر ملکی امداد سے متعلق لاعلم گلاب خان خبریں 0 01-09-10 03:44 AM
جاپان : فضاء میں بجلی گھرتعمیر کرنے کا منصوبہ عدنان دانی عمومی بحث 2 06-12-09 04:44 PM
مکۃالمکرمہ اور مدینۃالمنورہ کی تعمیر کا مستقبل کا منصوبہ حسن مغل گپ شپ 7 28-02-09 03:58 PM
برطانیہ میں موبائل فون سے ''میڈیکل نرس'' کا کام لینے سے متعلق نئے منصوبے پر غور چیتا چالباز موبائل ہی موبائل 0 17-01-09 11:24 PM
یکل سلیمانی کی تعمیر کا گھناؤنا یہودی منصوبہ آخری مرحلے میں عبداللہ حیدر اسلام اور عصر حاضر 4 18-08-08 02:08 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:03 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger