واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


مصلحین اُمت میں فکر کی یکسانیت...قاضی حسین احمد

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-02-10, 10:29 PM   #1
مصلحین اُمت میں فکر کی یکسانیت...قاضی حسین احمد
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 16-02-10, 10:29 PM

جامران چناروں میں گھری ہوئی تہران کی ایک مضافاتی دیہاتی بستی ہے۔آیت اللہ امام جامرانی جامران کی ایک ہر دلعزیز دلچسپ علمی شخصیت ہیں ۔ امام ان کا نام ہے جب کہ امام خمینی کا لقب ہے۔ان کی دوسری امتیازی خوبیوں کے علاوہ انہیں یہ افتخار بھی حاصل ہے کہ امام خمینی جب امام خمینی کی بجائے ابھی آیت اللہ روح اللہ خمینی تھے تو انہوں نے انہیں جامران میں اپنا دیہاتی مکان رہائش کے لئے دیا تھا جس میں اس وقت امام خمینی کے پوتے حسن خمینی رہائش پذیر ہیں ۔اس چھوٹے مگر صاف ستھرے اور سادہ مکان میں حسن خمینی سے ایک ملاقات ہوئی جس میں میں نے انہیں جماعت اسلامی کے چار نکاتی طریق کار کے بارے میں بتایا اور انہیں یہ بھی بتایا کہ یہ پروگرام قرآن و سنت کی تعلیمات سے اخذ کیا گیا ہے۔پہلا نکتہ یہ ہے کہ ہماری دعوت کسی لیڈر یا کسی جماعت کی طرف نہیں بلکہ اللہ کی بندگی کی طرف ہے جو لوگ ہماری اس دعوت کو قبول کریں ہم ان کی تربیت کرتے ہیں انہیں حرام و حلال سمجھاتے ہیں اور ان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اپنی زندگی سے دورنگی اور ہر طرح کی منافقت نکال کر یک رنگی اختیا ر کر لیں اور اللہ جس رنگ میں ایک موٴمن کو رنگنا چاہتا ہے وہی رنگ اختیا ر کریں ۔ اس تربیت یافتہ اور یک رنگ گرو ہ کو ہم اللہ کے بندوں کی خدمت میں لگا دیتے ہیں اور اللہ کے بندوں کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ انہیں اللہ کی بندگی کی طرف بلایا جائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہم ان کی تعلیم اور ان کی دوسری انسانی ضروریات کی طرف بھی توجہ دیتے ہیں ۔ چوتھا اور آخری نکتہ یہ ہے کہ اس طرح جو رائے عامہ تیار ہوتی ہے ہم انہیں ایک اسلامی حکومت اور اسلامی معاشرہ قائم کر کے کام پر لگا تے ہیں تاکہ اللہ کے بندے بندوں کی غلامی سے نکل کر بندوں کے رب کی غلامی میں آجائیں۔میں نے حسن خمینی کو بتایا کہ یہ سارا کام ہم اس لئے کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے دین کی سربلندی جسے قرآن کریم میں اقامت دین کی اصطلا ح سے تعبیر کیا گیا ہے یہی طریقہ اختیار کیا تھا۔اسے قرآن کریم میں اعلائے کلمتہ اللہ ، اظہار دین اور نظام عدل و انصاف اور نظام قسط کے قیام سے بھی تعبیر کیا ہے اور قرآن کریم کے متعدد آیات میں صاف طور پر بیان ہوا ہے کہ اللہ کے نبی اس کام کے لئے مبعوث ہوئے تھے۔بلکہ ایک آیت تو اس پہ شاہدہے کہ سارے نبی اور ساری کتابیں اس لئے بھیجی گئی ہیں کہ لوگ " قسط" یعنی عدل و انصاف پر کھڑے ہو جائیں اور اللہ کے حقوق بھی ٹھیک ٹھیک ادا کریں اور بندوں کے حقوق بھی ٹھیک ٹھیک ادا کردیں۔
حسن خمینی نے میرے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے ایران کے ایک مشہور مصلح ملا صدرا کا حوالہ دیا جو پچھلی صدی میں گزرے ہیں اور جنہوں نے تقریباً اس سے ملتا جلتا طریق کارذرا مختلف انداز میں بیان کیا ہے اور وہ بھی سیرت رسولﷺ کی روشنی میں بیان فرمایا۔
پہلا نکتہ ہے " با خود" یعنی اپنی ذات کی طرف متوجہ ہونا۔
دوسرا نکتہ ہے" باخدا" اللہ کے ساتھ لو لگانا اور اللہ کے ساتھ جڑجانا۔ تیسر ا نکتہ ہے" از خدا بہ خلق" یعنی اللہ کا پیغام لے کر مخلوق کی طرف آنا۔چوتھا نکتہ ہے" باخلق بہ خدا" لوگوں کو اللہ کے پاس لے جانا۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلک کے اختلاف کے باوجود جو لوگ اخلاص کے ساتھ اللہ کا کام کرتے ہیں ان کی فکر اور طریق کار میں مما ثلت پائی جاتی ہے۔ سارے اختلافات اس وقت جنم لیتے ہیں جب ہم اللہ کے ساتھ رشتہ توڑ کر اپنے تعصبات کا شکار ہو جاتے ہیں ۔مجھے پنجاب کے قلب میں ایک دیہاتی علاقے میں ایک مرتبہ اہل تشیع کے ایک اجتماع میں شرکت کی دعوت دی گئی ۔ میں نے قرآن و سنت کی تعلیما ت کی روشنی میں جماعت اسلامی کے چار نکاتی پروگرام کی تشریح جماعت کا نام لئے بغیر ان کے سامنے رکھی ، (۱) تطہیر و تعمیر افکار۔ (۲) تعمیر سیرت اور تنظیم۔ (۳) اصلاح معاشرہ۔ (۴) اصلاح حکومت۔
ایک گھنٹہ کی تقریر سنانے کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ کیا میں نے ان کے مسلک کے خلاف کوئی بات ان سے کہی ہے سب نے با لاتفا ق کہا کہ تمہاری باتوں میں ایسی کوئی بات نہیں تھی جو ہمارے مسلک سے ٹکراتی ہو۔
علامہ محمد اقبال نے اپنی مایہٴ ناز کتاب اسرا ر خودی میں فرمایا
اند کے اندر حرائے دل نشین
ترک خودکن سوئے حق ہجرت گزین
محکم از حق شو سوئے خود گامزن
لات و عزیٰ ہوس راسر شکن
لشکر ے پیدا کن از سلطان عشق
جلوہ گر شو برسر فاران عشق
تا خدائے کعبہ بنوازد ترا
شرح انی جاعل سازد ترا
ان اشعار میں علامہ محمد اقبال نے بڑے دل نشین انداز میں اس طریق کار کو اجاگر کیا ہے جو حضورنبی کریم ﷺ نے ایک اسلامی معاشرہ اور اسلامی حکومت قائم کرنے کے لئے اختیار کیا تھا اور اس دورکے مسلما ن کو تلقین کی ہے کہ خلافت قائم کرنے کے لئے اس طریق کار کو اختیا ر کرے۔ فرماتے ہے کہ:کچھ مدت کے لئے دل کے "حرا " میں سکونت اختیا ر کرو پھر اپنے آپ کو ترک کرکے " ذات حق" کی طرف ہجرت کر لو۔ ذات حق کے ساتھ محکم اور قوی رشتہ باندھ کر اپنی طرف متوجہ ہو جاؤ اور ہوس کے لات و عزی کو توڑ کر اپنی خودی کو مضبوط کر لو اور عشق کی قوت سے ایک لشکر جمع کر کے کوہ فاران کی طرح عشق کی ایک چوٹی پر جلوہ گر ہو جاؤتاکہ رب کعبہ تمہیں زمین میں اپنا خلیفہ بنا دے۔
مولانا مودودی  ، ملا صدرا اور علامہ اقبال کی فکر میں جو یک رنگی پائی جاتی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ یہ فکر قرآن کے نور سے اور حبیب مصطفیﷺ کی سیرت سے اخذ کی گئی ہے۔ سید قطب سے جب مصری عدالت میں پوچھا گیا کہ کیا اپنی کتاب جادہ ومنزل(معالم فی الطریق) میں جو خیالات اس نے پیش کئے ہیں یہ مولانا مودودی سے ماخوذ ہیں تو اس نے جواب دیا کہ" ہمارا دل و دماغ ایک ہی نور سے منور ہے اور یہ نور قرآن و سنت کا نور ہے" اس نور کے بارے میں علامہ اقبا ل نے فرمایا،
در دل مسلم مقام مصطفی است
آبروئے ماز نام مصطفی است
مسلما نوں کے دل میں مصطفی ﷺکامقام ہے۔ ہماری آبرومصطفی ﷺ کے نام سے قائم ہے۔
درشبستان حرا خلوت گزید۔قوم و آئین و حکومت آفرید
انہوں نے حرا کی تاریکیوں میں تنہائی اختیار کی۔ وہاں سے نکل کر قوم و آئین اور حکومت بنائی۔
ماند شبہا چشم او محروم نوم ۔تابہ تخت خسروی خوا بید قوم
طویل راتوں تک ان کی آنکھیں نیند سے محروم رہیں۔ تا کہ ان کی قوم خسرو کے تخت پر بیٹھ جائے۔
از کلید دین در دنیا کشاد ۔ہمچواو بطن ام گیتی نہ زاد
انہوں نے دین کی چابی سے دنیا کا دروازہ کھولا ان کی طرح اس کائنات میں کوئی پیدا نہیں ہوا۔
در نگاہ او یکے بالاو پست ۔با غلام خویش بریک خوان نشست
ان کی نظر میں سب انسان آپس میں برابر ہیں۔اپنے غلام کے ساتھ ایک دستر خوان پر بیٹھ گئے۔
ان اشعار میں علامہ محمد اقبال  مسلمانوں کو حضوربنی کریم ﷺ کے ساتھ عشق و محبت کی تلقین کر کے ان کی کامل تقلید کرنے کی نصیحت کرتے ہیں اور ان کے اسوہٴ حسنہٴ اور سنت کی یہ بنیادی تعلیم دیتے ہیں کہ ان کی طرح دل کی حرا کی تنہائیوں میں اپنی طرف متوجہ ہو کر اپنے آپ کو پہچانیں اس طرح وہ اپنے رب کی معرفت پیدا کر لیں گے ۔ اپنے رب کے ساتھ کامل جوڑ پیدا کرکے اپنی خودی کو مستحکم کر لیں اور اپنی قوم کو حق کا پیغام دیں اور اپنی قوم کوایک خدائی لشکر میں تبدیل کر کے اللہ کی زمین پر اللہ کی نیابت اور خلافت کے مستحق قرار پائیں۔
یہ وہ بنیادی تعلیم اور بنیادی سنت ہے جس کے بارے میں حضور بنی کریم ﷺ نے فرمایاکہ
من احیاء سنتی عند فساد امتی فلہ اجر ماتہ شہید
جس نے میری امت کے فساد کے وقت میری سنت کو زندہ کیا تو اس کے لئے سو شہیدوں کا ثواب ہے۔
جو مصلح بھی قرآن و سنت کا مطالعہ تعصبا ت سے بالا تر ہو کر کرے گا وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ اللہ نے اپنے نبی کو دین حق کے غلبے کے لئے بھیجا تھا انہوں نے اس کے لئے لوگوں کو دعوت دی ان کی تربیت کی اور ایک زبردست جہاد کبیر کے ذریعے اللہ کے دین کو سر بلند کیا اور یہی اللہ کی رضا حاصل کرنے کا راستہ ہے۔

-----------------------------------------------------------------------
روزنامہ جنگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 155
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-02-10), راجہ اکرام (17-02-10)
پرانا 16-02-10, 11:42 PM   #2
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,430
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : [/SIZE
ھارون اعظم;266338]امام ان کا نام ہے جب کہ امام خمینی کا لقب ہے۔ان کی دوسری امتیازی خوبیوں کے علاوہ انہیں یہ افتخار بھی حاصل ہے کہ امام خمینی جب امام خمینی کی بجائے ابھی آیت اللہ روح اللہ خمینی تھے تو انہوں نے انہیں جامران میں اپنا دیہاتی مکان رہائش کے لئے دیا تھا

انا للہ و انا الیہ راجعون
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : [/SIZE
ھارون اعظم;266338]حضور بنی کریم ﷺ نے فرمایاکہ
من احیاء سنتی عند فساد امتی فلہ اجر ماتہ شہید
جس نے میری امت کے فساد کے وقت میری سنت کو زندہ کیا تو اس کے لئے سو شہیدوں کا ثواب ہے۔

اللہ قاضی صاحب کو معاف کرے۔ اس حدیث کو محدثین نے "ضعیف جدا" یعنی بہت ہی زیادہ ضعیف قرار دیا ہے۔(سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ 326)
شہید کے مرتبے کو پہنچنا بڑی اونچی شئے ہے گھر بیٹھے رہنے والے عابد و زاہد تو کسی غازی مجاہد کے مرتبے کو بھی نہیں پا سکتے۔
لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا (95)
جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے (اور لڑنے سے جی چراتے) ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے وہ اور جو اللہ کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہو سکتے اللہ نے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے اللہ نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہے
براہ مہربانی اسے تنقید برائے تنقید نہ سمجھیں۔ قاضی صاحب ٕمیرے لیے محترم ہیں، کئی بار ان سے بالمشافہ ملاقات بھی ہوئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ قرآن و حدیث کے بارے میں ان کے سہو کی بھی نشاندہی نہ کی جائے۔
والسلام علیکم
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (17-02-10), فرحان دانش (17-02-10), ھارون اعظم (17-02-10)
پرانا 17-02-10, 07:34 PM   #3
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,337
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ کی تنقید سر آنکھوں پر۔ میں نے قاضی صاحب کا یہ کالم اس لئے یہاں پیش کیا کہ اس میں بنیادی طور پر اتحاد کی بات کی گئی تھی۔ باقی قاضی صاحب کوئی معصوم عن الخطا نہیں ہیں، ان سے بھی غلطی ہوسکتی ہے۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
کلید, قرآن, لوگ, نیند, نظر, محمد اقبال, محبت, معلوم, معاشرہ, ایران, اللہ, اسلامی, اشعار, بندگی, جواب, جلتا, حسن, خلاف, راستہ, زندگی, عدالت, عشق, غلامی, صاف, صدی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
حکومت نے سفارتکاروں اور دفاتر کی سیکیورٹی میں اضافے کی ہدایت کردی ابن جلال خبریں 0 26-09-08 02:59 PM
الطاف حسین کی ہدایت پر متحدہ کے پارلیمنٹیرین پبلک سیکریٹریٹ میں عوا می شکا عبدالقدوس خبریں 0 19-04-08 04:16 AM
:::کرسٹوفرہل کی جنوبی کوریا میں سینئر حکام سے بات چیت::: ابو کاشان خبریں 0 09-01-08 11:14 PM
کوہاٹ چھاؤنی میں خود کش حملہ،فٹبال میچ جیت کر آنے والے12 سیکورٹی اہلکار شہید عبدالقدوس خبریں 0 18-12-07 07:08 AM
نسیم حسن شاہ، افضل ظلہ سمیت کئی وکلاء 45 برس سے کم عمر میں جج بنے عبدالقدوس خبریں 0 16-12-07 08:53 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:07 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger