واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


معاشرتی تبدیلیوں میں مسلمان عورت کا کردار

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 18-06-10, 04:07 PM   #1
معاشرتی تبدیلیوں میں مسلمان عورت کا کردار
ھارون اعظم ھارون اعظم آف لائن ہے 18-06-10, 04:07 PM

سمیحہ راحیل قاضی


1995ء میں عورت کے بارے میں ہونے والی سب سے بڑی عالمی کانفرنس بیجنگ میں منعقد ہوئی اور اس کانفرنس میں مسلمان عورت کی صحیح نمائندگی نہ ہونے کے برابر تھی۔ اسلامی تحریکوں کی اکادکا خواتین کو وہاں پر احساس ہوا کہ کوئی ایسا بین الاقوامی پلیٹ فارم ہونا چاہیے جہاں مسلم عورت کی آواز اسلام کی اصل روح اور صحیح اسلامی اقدار و روایات کے ساتھ بلند آہنگ کے ساتھ سنائی دے۔ چنانچہ سوڈان کی اسلامی تحریک کی عظیم خاتون راہنما اُستاذہ سعاد الفاتح نے اس کا م کابیڑا اٹھایا اور 70ممالک سے اسلامی تحریکوں کی خواتین راہنماؤں کو جمع کیا اور انٹرنیشنل مسلم ویمن یونین کی بنیاد رکھی ۔ اس کا ایک جنرل سیکرٹریٹ بنایا جس کی نگران سیکرٹری جنرل ہوتی ہیں اور ایک بورڈ آف ٹرسٹیزہوتا ہے جس کے ارکان پہلے 60تھے پھر 30کردیئے گئے اور اب اس جنرل کانگرس میں 40ارکان کو منتخب کیاگیا۔ پورے عالم کو Regions-12میں تقسیم کیاگیاہے جن کے نگران کو ASGکہاجاتاہے۔ 1995ء کے پہلے اجلاس میں بحیثیت بانی رکن شرکت کی اور 15سالوں سے اس یونین کے باقاعدہ سالانہ بورڈ آف ٹرسٹیز کے اجلاس اور ہر 3سال بعد جنرل کانگریس کا اجلاس منعقد ہوتارہاہے۔ سینیٹر ڈاکٹر کوثر فردوس صاحبہ ایشین ریجن کی ASGکی حیثیت سے اور میں بورڈ آف ٹرسٹیز کی منتخب رکن کی حیثیت سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے ۔ اس دفعہ کی جنرل جنرل کانگرس کو لبنان کی اسلامی تحریک کے عظیم قائد استاذ فتحی یکن کے گھرانے نے میزبانی کا شرف بخشا۔ ان کی اہلیہ (ڈاکٹر مُنی حداد)جو لبنان کی مشہور یونیورسٹی جامعة الجنان کی وائس چانسلر بھی ہیں نے 27سے 30مئی تک جنان یونیورسٹی طرابلس لبنان میں IMWUکا اجلاس طلب کیا جس میں 28ملکوں نے شرکت کی ۔

ہم نے استنبول میں ترکی کے بین الاقوامی تھنک ٹینک ESAMکی ایک کانفرنس میں شرکت کرتے ہوئے لبنان کے شہر طرابلس پہنچناتھا اس لئے ہم پہلے دن کے افتتاحی اجلاس میں شرکت نہ کرسکے ۔ جس میں ڈاکٹر کوثر فردوس کا افتتاحی خطاب بھی شامل تھا۔ ہم 28مئی کو شب کی آخری ساعتوں میں بیروت ائیرپورٹ پر اُترے ۔ جہاں سے ڈیڑھ گھنٹے کے مسافت پر لبنان کے ایک چھوٹے شہر طرابلس میں ہمارے قیام و طعام اور کانفرنس کا انتظام کیاگیاتھا۔ ہوٹل پہنچے تو فجر کی اذانیں ہو رہی تھیں جو آپ کو کسی بھی نئی جگہ پر اپنائیت کا بے پناہ احساس دیتی ہیں۔ مسلمانوں کی آبادیوں میں جہاں پر بھی چلے جائیں ،اذان کی آوازآپ کو ایک مشترک رشتے اور اپنائیت کا احساس دلا کر اجنبیت کو ختم کردیتی ہے ۔ فجر کی نماز کے بعد تھوڑی دیر آرام کے بعد ہم نیچے بھاگم بھاگ ہوٹل کی لابی میں پہنچے ۔ جنان یونیورسٹی کی بسیں ہمیں کانفرنس ہال میں لے جانے کے لئے تیار کھڑی تھیں ۔ ہمیں وہاں تمام ممالک سے آئی ہوئیں دیرینہ رفاقتوں کی محبتوں سے سرشار بہنیں ایک دوسرے کو سلام اور دعاؤں کے ہدیوں سے نوازتی ہوئیں ملیں ۔ ایک طرف استاذہ سعاد الفاتح جنہیں ہم Women of Substanceکے نام سے جانتے ہیں جو اپنی پیرانہ سالی کے باوجود سب سے زیادہ پر عزم اور ولولوں اور جذبوں سے بھرپور ہدایات دیتی ہوئی نظر آتی ہیں ، دوسری طرف ایوان ریڈلے ہیں جو طالبان کی قید میں اسلام سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئیں اور پھر اسلام کی ترویج کو ہی اپنا مقصدزندگی بنا بیٹھیں ۔ ایک طرف ہماری سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مظاہر ہیں اور دوسری انڈونیشیا کی سابق صدارتی امید وار ڈاکٹر توتی علویہ نظر آتی ہیں ۔ ایران ،سوڈان ،ملائیشیا ،جرمنی ،افریقہ ،عرب اور یورپ کے ممالک کے وفود بھی نظر آ رہے ہیں ۔ جنان یونیورسٹی استاذ فتحی یکن کے گھرانے کا علمی ورثہ ہے جہاں عالم عرب اور دیگر ممالک کے طلباء و طالبات کو اسلامی ماحول دینے کے ساتھ ساتھ جدید علوم سے بھی آراستہ کیا جاتاہے ۔

کانفرنس کا آغاز بہت ہی خوبصورت تلاوت کے ساتھ ہوا اور اس کے ساتھ ہی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر مظاہرایم عثمان نے 3سالہ کارکردگی رپورٹ پڑھ کر سنائی ۔ IMWUکو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے اکنامک اینڈ سوشل کونسل سے بھی وابستہ ہے اور اسے Ecosoc- Statusحاصل ہے ۔ IMWUہر سال مختلف ممالک میں اپنے جاری شدہ پروگرامز اور پراجیکٹس کے ذریعے دنیا بھر کی عورتوں کے لیے فلاح اور بہبود کے منصوبے جاری کرتی اور چلاتی ہے ۔ پاکستان میں بھی ہم نے ۔۔۔۔۔قواریر فیشن ، Food for all, Education for allچھوٹے بلاسود قرضوں کی اسکیم ، گھریلو ماسیوں کی فلاح و بہبود ،تقریبات کے لئے خواتین میزبانوں کی اسکیم ، ملازمتوں میں معاونت کے لئے پروگرام اور خواتین میں ان کے حقوق اور فرائض کی آگہی کے منصوبے شروع کئے ہیں ۔ ہماری رپورٹ پر سب نے ہمیں مبارک باد دی اور اُستاذسعادالفاتح نے ہمارے ایک ایک پروجیکٹ کو لوگوں کے سامنے اُجاگر کیا اور ہمیں ہدایت دی کہ اپنے یہ پراجیکٹس تمام ممالک کو بھیجیں تاکہ وہ اس کی راہنمائی میں اپنے ممالک میں کام کرسکیں ۔ اس کے بعد یونین کا بجٹ سیشن ہوا۔ جس میں اگلے سال کے منصوبے اور بجٹ پیش ہوکر پاس کیاگیا ۔ یونین کے پروجیکٹس کے لئے فنڈ ریزنگ کے لئے کمیٹی تشکیل دی گئی اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسلمان صاحب ثروت اور مخیر تنظیموں اور حکومتوں سے اپیل کی جائے گی کہ وہ مسلمان عورتوں کی سب سے بڑی بین الاقوامی تنظیم کی دامے ، درمے ، سخنے مدد کرے ۔

اس کے بعد یونین کے دستور میں بورڈآف ٹرسٹیز کے 30منتخب ممبران کی بجائے اس تعداد کو 40کرنے کی ترمیم پیش کی گئی جس کو متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔ پاکستان کو اپنی کارکردگی اور آبادی میں اضافہ کی وجہ سے ایک بجائے 2نشستیں دینے کا فیصلہ کیاگیا۔ اس کے بعد اہم سیشن میں اُستاذ ہ سعادالفاتح نے الیکشن کمشنر کے فرائض سرانجام دیئے ۔ مجھے بھی اس وقت ان کے ساتھ معاونت کا اعزاز بخشا گیا۔ 37ممالک سے بورڈ آف ٹرسٹیز کے ممبران کا انتخاب عمل میں لایا گیا اور پاکستان، ملائیشیا اور سوڈان کو ایک ایک اضافی نشست دے کر 40ممبران کو منتخب کیاگیا۔اس کے بعد ایوان ریڈلی کو یورپ ،استاذہ فتحی یکن کی اہلیہ محترمہ منی الحداد کو عرب اور مجھے ایشیا کا نگران جسے یونین کی اصطلاح میں اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل (ASG)کہا جاتاہے،منتخب کیاگیا۔ اس کے بعد اہم ترین ذمہ داریاں یعنی بورڈ آف ٹرسٹیز کے صدر اور سیکرٹری جنرل کے انتخاب پر توجہ مرکوز تھی کہ ان اہم مناصب پر جنرل کانگرس کس کا انتخاب کرتی ہے ؟ آپ سب کو یہ جان کر بہت خوشی ہوگی کہ اس بار جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی سابقہ نگران محترمہ ڈاکٹر کوثر فردوس صاحبہ کو صدر بورڈ آف ٹرسٹیز منتخب کیاگیا جو سینیٹر کے فرائض بھی سرانجام دے چکی ہیں اور پاکستان آرمی کی پہلی نقاب کے ساتھ کیپٹن بھی رہ چکی ہیں۔ سیکرٹری جنرل کے لئے ڈاکٹر مظاہر ایم عثمان کا انتخاب عمل میں لایا گیااور اس اہم ترین سیشن کا اختتام ہوا۔

رات کو طرابلس کے مفتی اعظم ڈاکٹر مالک شعار اور ان کے دارالفتاء کی طرف سے عشائیہ دیا گیا۔ دارالفتاء کی طرف سے دیئے گئے اس عشائیے میں اُستاذ فتحی یکن کی بیٹی ڈاکٹر عائشہ یکن سے تفصیلی ملاقات اور گفتگو ہوئی ۔ انہوں نے بتایا کہ میرے والد آپ کے والد اور پاکستان سے محبت کا تعلق رکھتے تھے ۔ میں نے انہیں بتایا کہ ہم نے اپنی خواتین کارکنان کے لئے اُستاد کی ایک کتاب کا اُردو ترجمہ تربیتی نصاب میں شامل کیا ہے تو وہ بہت خوش ہوئیں اور کہاکہ آپ کو اپنی دوسری بہن جو میرے والد کی کتابوں کے ترجمے اور اس کے ابلاغ کی انچارج ہیں ،سے کل ضرور ملاؤں گی ۔ ہمیں اس کام سے بڑی دلچسپی ہے تاکہ ہم اپنے والد کے مشن کو زندہ رکھ سکیں ۔

محترم مفتی صاحب ڈاکٹر مالک شعار نے استقبالیہ کلمات کہتے ہوئے فرمایاکہ خواتین نے اسلام کے صدر اول سے ہی انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اسلام قبول کرنے والی پہلی ہستی کا اعزاز ایک خاتون نے ہی حاصل کیا ۔ اُم الموٴمنین حضرت خدیجہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اولین وحی کی ذمہ داری کے کڑے وقت میں ایسے دلنشین الفاظ میں تسلی دی جو تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے گئے ہیں۔ آج کے دور میں مسلمان عورت پر انتہائی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے فرائض کو پہچانے کیونکہ اس کی غفلت سے ہماری اُمت کی تاریک رات سحر میں تبدیل نہ ہوسکے گی ۔ مساوات مردوزن کا نام نہاد مغربی تصور ہمارے اوپر مسلط کیاگیاہے۔ ان غلط تصورات کی بجائے ایک عادلانہ نظام کا تصور پیش کیا ہے۔ مردوزن کے درمیان حقوق و فرائض عدل کی بنیاد پر تقسیم کئے گئے ہیں کیونکہ وہ مختلف اجسام اور مختلف ساخت اور مختلف صلاحیتوں اور مختلف کردار اداکرنے کے لیے پیدا کئے گئے ہیں۔ وہ یکساں نہیں ہیں اس لئے ان کے درمیان یکساں نہیں بلکہ عدل کی بنیاد پر خالق نے ذمہ داریوں اور حقوق کا تعین کیاہے۔

انہوں نے خاندان میں عورت کے کردار کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے کہاکہ اس ادارے میں شوہر کو بیوی پر اور ماں کو باپ پر فوقیت دے کر عدل کیاگیاہے اور بیک وقت اس ادارے میں ایک ہی سربراہ کو قوام کا درجہ دے کر اس کے نظام کو ترتیب دیاگیاہے تاکہ اس میں خلل واقع نہ ہو ۔ اسلام کے اس نظام عدل کا پرچم بلند کرنے میں عورت کا بھی اتنا ہی اہم کردار ہے جتنامرد کا ، ہمارے بلاد اسلامیہ کی تہذیب مغربی فکر میں رنگی جا رہی ہے ۔ اس کو صرف مسلمان عورت کا عزم ہی بچا سکتاہے ۔ اس اسلامی تہذیب کو بچانے میں آپ ہی ہراول دستے کا کردار ہیں۔ اپنے اس کردار کو ادا کرنے میں کوئی کوتاہی اور غفلت نہ برتیں ۔

اس کے بعد محترمہ ڈاکٹر کوثر فردوس صاحبہ نے جو تھوڑی دیر پہلے ہی کے سیشن میں بورڈ آفس ٹرسٹیز کی صدر منتخب ہوئیں تھیں نے مہمانوں کی طرف سے دارالافتاء اور علمائے کرام کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ محترم مفتی مالک شعار صاحب انتہائی اہم موقع پر ہمیں ہماری ذمہ داریوں کا احساس دلایا ہے ۔ ہم اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے نظام پر اللہ کی حمد بیان کرتی ہیں اور ان شاء اللہ اپنے کردار کو بحسن و خوبی سرانجام دینے کی جدوجہدکرتی رہیں گی ۔ ہماری یونین کا قیام بھی اسی لئے عمل میں لایا گیا کہ مسلمان عورت اسلام کا صحیح چہرہ اور صحیح عادلانہ نظام دنیا کے سامنے پیش کرسکے کہ جس کے پیغام کو گرداڑا کر دھندلایا جا رہاہے ۔

محترمہ ڈاکٹر کوثر فردوس صاحبہ کی تقریر کے بعد عربوں کی روایتی مہمان نوازی اور لبنانی ضیافت کا لطف لیا اور واپس اپنے ہوٹل پہنچے ۔ رات کو ہمارے وفد نے جو محترمہ ڈاکٹر کوثر فردوس ، محترمہ گلفرین نواز اور راقمہ پر مشتمل تھا،صبح پاکستانی سٹال لگانے کے لیے تیاری کی ۔ ہمارے ساتھ اس میں ہماری کشمیری بہن محترمہ شمیمہ شال نے بھی معاونت کی اور کشمیر پاکستان کی شہ رگ اور اٹوٹ انگ ہونے کا ثبوت پیش کرتی رہیں۔ ہم نے اس سٹال پر پاکستانی کپڑے ، جیولری اور پاکستان کی اسلامی تحریک کا تعارف پیش کیا ۔ ہمارے قواریر فیشن کے سٹال پر بہت رش رہا اور ہماری بہت پذیرائی کی گئی ۔ اگلا دن جنان یونیورسٹی کے تعارف اور اُستاذ فتحی یکن پر بنائی گئی ایک دستاویزی فلم سے شروع ہوا اور مجھے ان کی بیٹی ڈاکٹر رابعہ اپنے عظیم والد کے بارے میں جنان یونیورسٹی کے ایک شعبہ میں لے گئیں اور میں ان کے کام ، ان کے جذبے اور نظم اور ترتیب کو دیکھ کرحیرانی اور خوشی کا ملا جلا اظہار کرتی رہی کہ اُمت مسلمہ میں ایسے ایسے جوہر قابل موجود ہیں مگر ہمیں آپس میں مربوط ہونے سے روکنے کے لیے کچھ ان دیکھی طاقتیں مصروف عمل ہیں اور وہ اس میں کامیاب بھی ہیں مگر اب وقت آگیاہے کہ ان دیواروں کو توڑ دیا جائے اور عوام سے عوام کے رابطے کو ممکن بنا کرایک نئی سحر کے خواب کو تعبیر دی جائے۔ انہوں نے اپنے عظیم والدکے بارے میں بتایا کہ ان کا پورا نام اُستاذ محمد فتحی شریف یکن تھا۔ وہ لبنان کے اسی شہر طرابلس میں 3مئی 1933ء کو پیدا ہوئے ۔ بیروت یونیورسٹی سے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی اور عربی زبان او ر اسلامی علوم میں ڈاکٹریٹ کیا۔ انہوں نے 50ء کی دہائی میں لبنان میں اسلامی تحریک کی بنیاد رکھی اور آخری عمر تک اس کی راہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتے رہے۔

انہوں نے لبنان کی پارلیمنٹ میں بھی تاریخی کردار ادا کیا اور عرب دنیا کی مشہور شخصیات سے روابط قائم کئے اور ان کو دعوت و نصیحت سے نوازتے رہے ۔ وہ ایک مشہور علمی شخصیت تھے اور انہوں نے عالم عرب کی نوجوان نسل پر اپنی فکر کے گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ اس علم کی اشاعت کے لئے انہوں نے جنان یونیورسٹی قائم کی جو اس علم کی ترویج کے لیے مصروف عمل ہے ۔

ڈاکٹر رابعہ سے اُستاد ، ان کی کتابوں ،تحریروں اور سمعی و بصری مواد کی فہرستیں لے کر جواُنہوں نے انتہائی مستعدی سے اپنے چاروں طرف لگے ہوئے کمپیوٹر ز پر تیز رفتاری سے نکال کردیں اور واپس ہال میں جلدی سے داخل ہوئے جہاں کچھ دیر بعد ”معاشرتی تبدیلیوں میں عورت کے کردار “پر ایک سیمینار منعقد ہونے والا تھا۔ اس سیمینار کاآغاز ہماری عظیم قائدہ اُستاذہ سعاد الفاتح نے اپنے پُر مغز مقالے سے کیا۔ اُن کی دی گئی ہدایات دل میں اُترتی چلی جار ہی تھیں اور ہر جملہ سن کر بے اختیار سبحان اللہ کی آوازیں سنائی دیئے چلی جا رہی تھیں ۔ میں اپنے رب کے اس احسان عظیم پر اس کی شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے اپنے وقت کی ولی اللہ، مجاہدہ اور دور جدید کے تقاضوں اور چیلنجوں سے اپنی پوری صلاحیتوں کے ساتھ نبر د آزماہونے اور باطل کے خلاف پوری استقامت کے ساتھ صف آراء ہونے کا عزم جواں کرنے والی خاتون کا ساتھ عطاکیاہے۔ انہوں نے اس دفعہ مجھے اور کوثر باجی کو بہت زیادہ وقت دیا اور یونین کے کاموں کے لئے اور اسلامی تحریکوں کے کام کومزید منظم کرنے کے لئے بہت دلسوزی کے ساتھ ہدایات دیں ۔ انہوں نے کہاکہ آج کے دور میں مسلمان عورت کو رنگ بدلتی دنیا میں اپنا کردار صحیح طور پر نبھانے کے لئے پہلے اپنی ذات کو دریافت کرنا ضروری ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی اس زمین پر اس کا دیا ہوا نظام نافذ کرنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنی نیتوں اور ارادوں کو خالصتاً اپنے رب کی رضا کے حصول کے لیے خالص کرلینا چاہیے۔ نیت اور ارادے کو تمام بھلائی کے کاموں میں بنیاد کی حیثیت حاصل ہے ۔ اگر یہ بنیاد مضبوط نہ ہوگی تو بھلائی کی عمارت کا استحکام خواب و خیال بن جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنی برکت تب شامل حال کرتاہے جب کام اس کے لئے ہی کیا جائے ۔ جتنا اللہ سے قریب ہو کر اور اُس کی محبت حاصل کرنے کے لئے اُس کے بندوں کی خدمت کی جائے اُتنا ہی اسے ہر خوف سے نجات مل جاتی ہے۔ یہ ایک سجدہ انسان کو ہزاروں سجدوں سے بچا لیتاہے اور آپ جب ایک دفعہ خالص ہو کر اپنا سفر شروع کرلیتے ہیں تو ضرور منزل پر پہنچ جائیں گے اور منزل یہاں ملے یا وہاں ،ایک مسلمان عورت کے لئے صرف اسی بات کی اہمیت ہے کہ اس کا رب اس کے ساتھ ہو اور اس سے راضی ہو۔ دنیا میں ایک عام آدمی کیسے بڑا آدمی بن جاتاہے اور کیسے وہ ہزاروں ، لاکھوں لوگوں کی راہبری کرتاہے ؟؟اس کے لئے لوگوں کو جاننا اور ان سے محبت کا تعلق بنانا بہت ضروری ہے ۔ عربی میں مقولہ ہے کہ ”معرفة الناس فنا“لوگوں کو جانناایک فن اور آرٹ ہے اور لوگوں سے تعلق پیدا کرنا اور ان کی سننااور منظم انداز میں بڑے صبر کے ساتھ لوگوں کے رویوں پر غور کرکے ان کے مسائل حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ مسلمان عورت کو بہت صبر ، بہت دھیمے مزاج اور عزم و ثبات کے ساتھ اپنی فکر کی تعمیر اور کردار کی تاثیر سے لوگوں کے دل جیتنے ہیں۔ علم چاہے وہ قدیم علوم ہوں یا عصری جدید علوم ، مسلمان عورت کا ہتھیار ہے جس سے اس کو کبھی بھی غافل نہ ہونا چاہیے۔ قرآن کریم تمام جدید و قدیم علوم کا سرچشمہ ہے اُس سے وابستہ رہ کر ہمیں جدید دنیا کے چیلنجز کو حل کرنا ہے۔ ہمیں علم جہاں سے ملے اُس کو فوراً حاصل کرلینا چاہیے کیونکہ بعد میں افسوس کرنے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ اپنے آپ کو باخبر رکھنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ اپنے آپ کو سنائیے اور سننے کی عادت ڈالیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک زبان اوردوکان دے کر بھیجا ہے کہ ہم اپنی سماعت کو زیادہ استعمال کریں اور زبان کا استعمال سوچ سمجھ کر اور نپے تلے انداز میں کریں ۔ ہر قسم کی نا انصافی کا انکار کیجئے اور معروف میں اپنے مردوں کی اطاعت کریں مگر جب بات ظلم کی ہو اور عدل وانصاف کے خلاف ہو تو اس کی مزاحمت کریں ظلم کے آگے ہتھیار ڈال دینا مسلمان عورت کی شان کے خلاف ہے وہ اپنی نسل میں باطل کی مزاحمت کے بیج کیسے بو سکے گی اگر وہ خود ہی ظلم کے آگے سرتسلیم خم کردے ۔ اپنے اردگرد کی نا انصافیوں ،ظلم ، دہشت گردی سے اپنے آپ کو باخبر رکھیں اور بے حسی کو ختم کرکے لوگوں کی مصیبتوں کا احساس اور ادراک کریں ۔ ان نا انصافیوں اور ظلم و تشدد کا جب تک ہم احساس نہ کریں گے ہم اس کے خلاف کیسے صف آرا ہوسکیں گے ؟؟ان کا احساس کریں تو ان کے مسائل کا حل بھی تبھی ممکن ہوسکے گا۔ مسلمان عورت کو اپنی تاریخ یاد ہونی چاہیے تب ہی وہ اپنے جغرافیہ کی حفاظت بھی کرسکے گی ۔ہر کسی تک پہنچنا چاہیے۔ یہ عالمگیر اخوت کا پیغام ہے ،ہمیں اپنی مرضی کی بنیاد پر نہیں بلکہ ہر انسان تک پہنچنا چاہیے جہاں وہ جہاں کا ہو اور جیسا بھی ہو ،ہمیں من القلب الی القلب یعنی دوسروں کے دلوں تک پہنچنے کے لیے اپنے دل سے سفر کاآغاز کرنا چاہیے کیونکہ جو بات دل سے نکلتی ہے وہی دل تک پہنچتی ہے۔ ہمیں اسلام کا صحیح پیغام اور صحیح صاف ستھرا چہرہ عالم تک پہنچانا ہے جس کا ہم سب پر فریضہ عائد ہے اور جس کو آج دہشت گردی اور دقیانوسیت سے جوڑا جارہاہے ۔

اس کے بعد سوڈان کے سابق وزیر تعلیم اور اسلامی دنیا کے ممتاز دانشور محترم پروفیسر زکریابشیرامام نے یونین کے زیر اہتمام معاشرے کے محروم طبقات کے لیے بنائے گئے انسام سکولز کا تعارف پیش کیا ۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بنیادی فریضہ اور میراث ہے جو انہوں نے ہمارے لیے ورثہ میں چھوڑا ہے مگر مغرب اور اسلامی دنیا کی تعلیم کے بارے میں ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے آبدیدہ ہو کر کہاکہ دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں اب کوئی مسلمانوں کی دانش گاہ نہیں ہے۔ ناخواندگی ہمارا ایک بڑا مسئلہ اور کمزوری ہے ۔ یہ ہمارا جرم ضعیفی ہے کہ اس کے بارے میں کسی کو فکر نہیں ہے۔ انہوں نے ہمارے ساتھ ملاقات میں بتایا کہ انہوں نے 40کے قریب کتابیں لکھی ہیں جن میں چار کو اسلامک فاؤنڈیشن نے چھاپاہے۔ انہوں نے پروفیسر خورشید احمد صاحب اور میرے آغاجان کو سلام کہا اور یہ بھی فرمایا کہ میں نے CEDAWکا تجزیہ لکھاہے۔ اسے ہم بحث کے بعد ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کرکے اسلامی تحریکوں کی طرف سے پیش کریں گے ۔ اس کے بعد ایوان ریڈلے کو دعوت خطاب دی گئی ۔ میں اس وقت شرم سے سر اٹھا نے کے قابل نہ رہی جب انہوں نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر عافیہ کے مسئلے کو اجاگر کرتے ہوئے کہاکہ پرویز مشرف نے اپنی کتاب ان دی لائن آف فائر میں اعترا ف کیا ہے کہ میں نے اتنے لوگوں کو اتنے ڈالروں کے عوض امریکہ کے حوالے سے کیاہے اور اسی میں ہی ایک پاکستانی بیٹی ڈاکٹر عافیہ بھی ہے۔ اُس وقت میرے دل سے بددعا نکلی کہ ان دی لائن آف فائرمیں ان کا یوم حساب بھی جلد آجائے ۔ میں نے ایوان ریڈلی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کانفرنس میں درخواست کی کہ یہاں ایک قرار داد پاس ہوجائے جو امریکہ اور پاکستان دونوں کے حکمرانوں سے اس مسلمان بیٹی کی باعزت وطن واپسی کے لئے درخواست کرے۔ ایوان ریڈلی نے یہ قرار داد سیمینار میں پیش کی جسے متفقہ طور پر منظور کیاگیا۔

سوڈان ،یمن ،شام ، فلسطین ،مصر ،جرمنی ، ملائیشیا اور انڈونیشیا کے مندوبین نے بھی اپنے مقالے پڑھے ۔

آخری سیشن میں جنرل کانگرس کی طرف سے اعلان طرابلس پڑھا گیا او رسفارشات پیش کی گئیں کہ 4ستمبر کو عالمی یوم حجاب منایا جائے گا اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کی حفاظت کے لئے اپنی مہم کو منظم اور تیز کیا جائے گا۔ حجاب کو دہشت گردی سے جوڑنے کے خلاف مزاحمت کو تیز کیا جائے گا اور اسے مسلمان عورت کے ایک حق کے طور پر دنیا سے لیا جائے گا۔ عورت کے حقوق کا تحفظ اور خاندان میں اپنے کردار کو اہم سمجھتے ہوئے ادا کیا جائے گا۔

ہم اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے حقوق و فرائض پر دل و جان سے اطمینان اور رضا کا اعلان کرتی ہیں ۔ اس کے بعد بورڈ آف ٹرسٹیز کا اجلاس نو منتخب صدر ڈاکٹر کوثر فردوس کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اس میں انہوں نے آئندہ سال کی اور ذمہ داریاں تفویض کیں ۔ سب ممبران نے اپنا تعارف کرایا اور دستور میں ممبران کی ذمہ داریاں پڑھی گئیں تاکہ ان کا علم ہوسکے۔ صدر محترمہ ڈاکٹر کوثر فردوس صاحبہ نے خطبہ صدارت میں کیا کہ ہمارے دواہم فرائض ہیں۔1)۔ پلان آف ایکشن بنانا ۔2)۔ انسانی و مادی وسائل کی فراہمی ۔
3سالہ مدت کے لیے اپنی حکمت عملی بنائی گئی اور یہ اعلان کیاگیا کہ ان 3سالوں میں درج ذیل 3نیٹ ورک بنائے جائیں گے ۔

1۔ مسلم میڈیا ویمن نیٹ ورک (2)مسلم بزنس ویمن نیٹ ورک (3)مسلم ویمن پارلیمنٹرین یونین ۔
او آئی سی اور اسلامک ڈیویلپمنٹ بنک اور اقوام متحدہ کی ایجنسیز سے بھی رابطہ کرکے ان سے نیٹ ورکنگ کی جائے گی فنڈ کے حصول کے لیے بھی ایک کمیٹی بنائی گئی جو مختلف اسلامی ملکوں کے صدور اور مخیر حضرات کو اپنی کارکردگی رپورٹ پیش کریں گی اور ان کا تعاون حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔

نئے عزم او رارادوں کے ساتھ ہم طرابلس سے بیروت آئے جہاں سوڈان کے سفیر نے بیروت کے خوبصورت شہر میں پُرتکلف ضیافت اور تعارف کا پروگرام بنایاتھا۔ ڈھلتی رات کے آخری پہروں میں بیروت سے استنبول آ رہے تھے اور جب استنبول کے ائیرپورٹ پر اُترے تو ہمارے میزبان نے سفینہ حریت پر اسرائیل کے ظالمانہ حملے کی خبردی مگر چار دن استنبول میں مظاہروں میں شرکت کے بعد یہ یقین ہے کہ ان شاء اللہ ۔

دلیل صبح روشن ہے ستاروں کی تنک تابی
اُفق سے آفتاب اُبھرا ۔ گیادورگراں خوابی
عطا مومن کو پھر درگاہ حق سے ہونے والا ہے
شکوہ ترکمانی ،ذہن ہندی ، نطق اعرابی

ـــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــ
روزنامہ جنگ۔
__________________


http:// haroonazam.wordpress.com

ھارون اعظم کا بلاگ۔

 
ھارون اعظم's Avatar
ھارون اعظم
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 195
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (08-07-10), حیدر (18-06-10)
پرانا 18-06-10, 07:44 PM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,382
شکریہ: 52,449
11,147 مراسلہ میں 35,182 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ابھی ایک چوتھائی پڑھا ہے۔ فی الوقت تو ایک سرگزشت لگ رہی ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
ڈاکٹر مالک شعار کے انگلش سپیلنگ کیا ہوں گے؟
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم (19-06-10)
پرانا 19-06-10, 12:29 AM   #3
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,337
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,893 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بدرالزمان مراسلہ دیکھیں
ابھی ایک چوتھائی پڑھا ہے۔ فی الوقت تو ایک سرگزشت لگ رہی ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔
ڈاکٹر مالک شعار کے انگلش سپیلنگ کیا ہوں گے؟
شعار نام لبنانیوں میں بہت عام ہے۔ عام طور پر لبنانی اس کو Chaar یا Sha'ar لکھتے ہیں۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
education, فارم, کمپیوٹر, کتابوں, پاکستان, پاکستانی, وزیر, قید, قرآن, نماز, نظر, میراث, ممکن, ماں, مسائل, آج, ایران, اقوام متحدہ, امریکہ, تعلیم, خواتین, دریافت, طالبان, عورت, صدارتی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
عوام سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتی؟ ALI-OAD سیاست 17 06-12-10 12:38 PM
بھارتی فوجیوں کو راشن سپلائی میں بدعنوانیوں کا انکشاف جاویداسد خبریں 0 04-08-10 07:13 PM
مغرب کی عورتیں اسلام کیوں قبول کرتی ہیں ؟ ام غزل عورت کہانی 5 22-03-09 02:25 PM
بلاول کے پُراعتماد لہجے نے صحافیوں کو متاثر کیابھٹو اور بینظیر یاد آ گئے، عوام میں تعریف ابن ضیاء خبریں 0 09-01-08 11:19 AM
عورت کا معاشرتی ترقی میں کردار کشورناہید گپ شپ 22 18-10-07 05:39 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:07 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger