واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


معاشرہ شدت پسندی کے شکنجے میں؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 09-01-11, 08:18 PM   #1
معاشرہ شدت پسندی کے شکنجے میں؟
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 09-01-11, 08:18 PM

پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے پولیس اہلکار کی پیشی کے موقع بعض مذہبی تنظیموں کے کارکنوں اور وکلاء کے ایک گروپ کی جانب سے راولپنڈی کی عدالت کے گھیراؤ اور ملزم پر گل پاشی نے دنیا بھر میں لوگوں کے ذہنوں میں ایک نیا سوال جنم دیا ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی معاشرہ مذہبی شدت پسندی کی آخری حد بھی پار کرگیا ہے۔

اور یہ بھی کہ کیا اب پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی کے سامنے انسانیت، رواداری اور ملکی آئین و قانون کی کوئی اہمیت نہیں رہی جو تمام شہریوں کو برابری اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کی یقین دہانی کراتا ہے خواہ ان کا کسی بھی مذہب، فرقے، نسل یا علاقے سے تعلق ہو۔ ایسا کیوں ہے اور اسکے اثرات کیا ہوسکتے ہیں۔

توہین رسالت کے قانون کے بارہا غلط استعمال کے پیش نظر اسے ملک کے کئی سیاسی، سماجی اور قانونی حلقے متنازعہ قرار دیتے رہے ہیں اور اس میں بہتری لانے کی بات کرتے رہے ہیں لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال کے خلاف بات کرنے پر ایک صوبے کے گورنر کو انہی کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار نے قتل کردیا اور اس پر مستزاد یہ کہ قاتل کی پذیرائی اور حمایت بھی ہورہی ہے۔

جمعرات کو نقص امن کے خدشے کے پیش نظر سرکاری حکام نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے راولپنڈی، اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کو اسلام آباد منتقل کردیا تھا لیکن صبح سویرے ہی وکیلوں اور مذہبی تنظیموں کے درجنوں کارکنوں نے راولپنڈی میں واقع عدالت کو گھیر لیا اور جج کو اسلام آباد جانے نہیں دیا۔ ملزم کے حامیوں کے جلوس کی وجہ سے استغاثہ کے وکلاء بھی عدالت میں پیش نہیں ہوسکے تھے جس کے بعد جج کو مجبوراً راولپنڈی کی عدالت میں ہی سخت دباؤ کے ماحول میں مقدمے کی سماعت کرنا پڑی۔
ممتاز حسین قادری

قانون کی نظر میں سیدھے سادھے اس قتل کے معاملے پر مذہبی حلقوں کے دباؤ کے بعد پاکستان کی لبرل حلقے بھی پریشان نظر آتے ہیں اور کئی افراد اس معاملے پر کھل کر بات کرنے کو اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف تصور کررہے ہیں۔

تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ پاکستانی معاشرہ اب پوری طرح شدت پسندی کے شکنجے میں ہے؟

سیاسی اور دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ اگر ایسا پہلے نہیں تھا تو اب پاکستانی معاشرہ اسکے قریب ضرور پہنچ گیا ہے۔

ان کے بقول ان شدت پسندوں کی تعداد اب بھی کم ہے جو تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن وہ طرز فکر جو شدت پسندی کو فروغ دیتی ہے یا ان کے خلاف کارروائی سے روکتی ہے، وہ خاصی بڑھ گئی ہے۔

ڈاکٹر رضوی کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کی حامی یہ سوچ اب ہمارے تعلیم یافتہ طبقے، سرکاری اداروں، مسلح افواج میں بھی سرایت کرگئی ہے۔

لیکن پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر اعجاز خان کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ شدت پسندی کی حمایت بڑھ رہی ہو لیکن یہ سوچ اب بھی عوام میں مقبول نہیں ہوئی ہے۔

ان کے بقول اگرچہ مذہبی جماعتوں نے مقتول سلمان تاثیر کی نماز جنازہ میں شرکت کو ایک گناہ قرار دیا تھا لیکن اسکے باوجود ہزاروں لوگوں نے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور ملک کے کئی حصوں میں غائبانہ نماز جنازہ بھی کی۔

پروفیسر اعجاز کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذہبی جماعتوں نے کبھی بھی انتخابات میں چھ فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں لیے اور ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے میں ان کی ناکامی اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ ان جماعتوں نے دھونس دھمکی اور قتل جیسے ہتھکنڈوں کا سہارا کیوں لیا ہے۔

پروفیسر اعجاز کہتے ہیں کہ مذہبی شدت پسند اس لیے بھی کامیاب ہوتے نظر آتے ہیں کہ ملک کی سیکیورٹی اسٹیبلشمینٹ اکثر اپنے مفادات کے لیے ان کی حمایت کرتی رہی ہے۔


وکلاء کے ایک گروپ نے راولپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کا گھیراؤ کیا اور ملزم پر گل پاشی کی

‭BBC Urdu‬ - ‮قلم اور کالم‬ - ‮معاشرہ شدت پسندی کے شکنجے میں؟‬
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 110
Reply With Quote
ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا گیا
نورالدین (10-01-11)
پرانا 09-01-11, 08:25 PM   #2
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,749
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default نوجوانوں میں شدت پسندی

آڈیو

‭BBC Urdu‬ - ‮پاکستان‬ - ‮نوجوانوں میں شدت پسندی‬
ALI-OAD آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 09-01-11, 11:34 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2009
مقام: Dubai
مراسلات: 761
کمائي: 15,387
شکریہ: 2,135
582 مراسلہ میں 1,657 بارشکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں dxbgraphics کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ALI-OAD مراسلہ دیکھیں
پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے پولیس اہلکار کی پیشی کے موقع بعض مذہبی تنظیموں کے کارکنوں اور وکلاء کے ایک گروپ کی جانب سے راولپنڈی کی عدالت کے گھیراؤ اور ملزم پر گل پاشی نے دنیا بھر میں لوگوں کے ذہنوں میں ایک نیا سوال جنم دیا ہے اور وہ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی معاشرہ مذہبی شدت پسندی کی آخری حد بھی پار کرگیا ہے۔

اور یہ بھی کہ کیا اب پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی کے سامنے انسانیت، رواداری اور ملکی آئین و قانون کی کوئی اہمیت نہیں رہی جو تمام شہریوں کو برابری اور بنیادی آزادیوں کے تحفظ کی یقین دہانی کراتا ہے خواہ ان کا کسی بھی مذہب، فرقے، نسل یا علاقے سے تعلق ہو۔ ایسا کیوں ہے اور اسکے اثرات کیا ہوسکتے ہیں۔

توہین رسالت کے قانون کے بارہا غلط استعمال کے پیش نظر اسے ملک کے کئی سیاسی، سماجی اور قانونی حلقے متنازعہ قرار دیتے رہے ہیں اور اس میں بہتری لانے کی بات کرتے رہے ہیں لیکن ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اس قانون کے غلط استعمال کے خلاف بات کرنے پر ایک صوبے کے گورنر کو انہی کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار نے قتل کردیا اور اس پر مستزاد یہ کہ قاتل کی پذیرائی اور حمایت بھی ہورہی ہے۔

جمعرات کو نقص امن کے خدشے کے پیش نظر سرکاری حکام نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے راولپنڈی، اسلام آباد کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت کو اسلام آباد منتقل کردیا تھا لیکن صبح سویرے ہی وکیلوں اور مذہبی تنظیموں کے درجنوں کارکنوں نے راولپنڈی میں واقع عدالت کو گھیر لیا اور جج کو اسلام آباد جانے نہیں دیا۔ ملزم کے حامیوں کے جلوس کی وجہ سے استغاثہ کے وکلاء بھی عدالت میں پیش نہیں ہوسکے تھے جس کے بعد جج کو مجبوراً راولپنڈی کی عدالت میں ہی سخت دباؤ کے ماحول میں مقدمے کی سماعت کرنا پڑی۔
ممتاز حسین قادری

قانون کی نظر میں سیدھے سادھے اس قتل کے معاملے پر مذہبی حلقوں کے دباؤ کے بعد پاکستان کی لبرل حلقے بھی پریشان نظر آتے ہیں اور کئی افراد اس معاملے پر کھل کر بات کرنے کو اپنی موت کو دعوت دینے کے مترادف تصور کررہے ہیں۔

تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ پاکستانی معاشرہ اب پوری طرح شدت پسندی کے شکنجے میں ہے؟

سیاسی اور دفاعی تجزیہ کار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کہتے ہیں کہ اگر ایسا پہلے نہیں تھا تو اب پاکستانی معاشرہ اسکے قریب ضرور پہنچ گیا ہے۔

ان کے بقول ان شدت پسندوں کی تعداد اب بھی کم ہے جو تشدد کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں لیکن وہ طرز فکر جو شدت پسندی کو فروغ دیتی ہے یا ان کے خلاف کارروائی سے روکتی ہے، وہ خاصی بڑھ گئی ہے۔

ڈاکٹر رضوی کا کہنا ہے کہ شدت پسندی کی حامی یہ سوچ اب ہمارے تعلیم یافتہ طبقے، سرکاری اداروں، مسلح افواج میں بھی سرایت کرگئی ہے۔

لیکن پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر اعجاز خان کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ شدت پسندی کی حمایت بڑھ رہی ہو لیکن یہ سوچ اب بھی عوام میں مقبول نہیں ہوئی ہے۔

ان کے بقول اگرچہ مذہبی جماعتوں نے مقتول سلمان تاثیر کی نماز جنازہ میں شرکت کو ایک گناہ قرار دیا تھا لیکن اسکے باوجود ہزاروں لوگوں نے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور ملک کے کئی حصوں میں غائبانہ نماز جنازہ بھی کی۔

پروفیسر اعجاز کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذہبی جماعتوں نے کبھی بھی انتخابات میں چھ فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں لیے اور ووٹروں کی حمایت حاصل کرنے میں ان کی ناکامی اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ ان جماعتوں نے دھونس دھمکی اور قتل جیسے ہتھکنڈوں کا سہارا کیوں لیا ہے۔

پروفیسر اعجاز کہتے ہیں کہ مذہبی شدت پسند اس لیے بھی کامیاب ہوتے نظر آتے ہیں کہ ملک کی سیکیورٹی اسٹیبلشمینٹ اکثر اپنے مفادات کے لیے ان کی حمایت کرتی رہی ہے۔


وکلاء کے ایک گروپ نے راولپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کا گھیراؤ کیا اور ملزم پر گل پاشی کی

‭BBC Urdu‬ - ‮قلم اور کالم‬ - ‮معاشرہ شدت پسندی کے شکنجے میں؟‬
بی بی سی نیوز کے لئے اطلاعاَ َ عرض ہے کہ سلمان تاثیر کو ناموس رسالت قانون کو کالا قانون کہنے پر قتل کیفر کردار تک پہنچایا گیا۔
لیکن کیا کریں۔ مغربی میڈیا مغربی پروپیگنڈا
__________________
میرے ٹیوٹوریل میرے بلاگ پر ملاحظہ فرمائیں
http://dxbgraphics.blogspot.com

Last edited by dxbgraphics; 09-01-11 at 11:37 PM.
dxbgraphics آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
governor, images, پولیس, پاکستانی, نماز, نظر, موقع, موت, منتقل, ممکن, معاشرہ, اسلام, تعلیم, حسن, خلاف, خان, خصوصی, عوام, علاقے, عدالت, عسکری, غلط, غائبانہ, صوبے, صبح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
انتہا پسندی کے رنگ:کیا ہم بھی مجرم ہیں؟ حیدر اپکے کالم 128 24-06-11 02:14 AM
آپ کو کونسے پھول پسند ہیں؟ Zullu230 گپ شپ 47 24-04-08 05:18 AM
آپ کو پاکستان کے کونسے کونسے شہر پسند ہیں؟ Zullu230 عمومی بحث 27 22-04-08 06:20 AM
آپ کو نسا لباس پہننا پسند فرماتے ہیں؟ Zullu230 گپ شپ 21 21-09-07 06:16 PM
آپ کو نسے کونسے پرندے پسند ہیں؟ Zullu230 عمومی بحث 12 24-08-07 10:55 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:07 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger