

یہاں کسی حامد کرزئی کی حکومت نہیں اور نہ اس مقام پر امن امان کی ذمہ داری کسی ایساف کے حوالے ہے۔ نہ ہی اس کا رقبہ ساڑھے چھ لاکھ کلومیٹر ہے اور نہ ہی اس کی تاریخ سکندر اعظم سے لے کر امریکہ تک مسلسل حملوں کی زد میں رہی ہے۔ نہ یہاں پوست کی کاشت ہوتی ہے اور نہ ہاں پر دری یا فارسی بولی جاتی ہے۔ یہ خشک اور خطرناک پہاڑوں میں گھرا ہوا ملک نہیں بلکہ ساحلی شہر ہے۔ یہ شہر جو پہلے بہت چھوٹا ہوا کرتا تھا اور پھر رفتہ رفتہ بڑا ہوتا گیا اور آج اتنا بڑا اور بھاری ہو گیا ہے کہ ایک اژدھے کی طرح اپنا وزان نہیں اُٹھا پاتا۔ ۔ اس لیے یہ شہر اب اپنی سڑکوں پر سرکتا اور رینگتا ہے۔ یہ شہر جو کبھی وعدہ تھا اور آج آسرا بھی نہیں ہے۔ ۔ یہ شہر جو کبھی رومانوی ناول جیسی ایک کتاب تھا ، اب بھیانک فلم بن گیا ہے۔ یہ شہر جو کبھی امرت کا گھونٹ تھا ، اب زہر کی اُلٹی بن گیا ہے۔ یہ شہر ایک سُریلا گیت تھا ، لیکن اب سنسناتی گولی بن گیا ہے۔ یہ شہر جو کبھی مون سون کے موسم میں شبنمی پھوار تھا، اب شعلوں کی بارش میں بھیگتا ایک ایسا بھکشو بن چکا ہے، کس کی کوئی منزل نہیں۔ جس کے پاؤں تھک چکے ہیں، مگر جس کی آنکھؤں میں کسی گاؤں کا دیا نہیں ٹمٹماتا۔کسی ساحل کے سہارے کے بغیر ہر طرف بہتا اور بہت سارے درد سہتا ہوا یہ انسانی سمندر جیسا شہر ، اپنے موجود حالات کے حوالے سے اس ملک جیسا محسوس ہوتا ہے جس کا آفیشل نام اسلامک ری پبلک آف افغانستان ہے۔ حالانکہ یہاں میر ویس خان سے لے کر محمد ظاہر شاہ تک کسی بادشادہ کی حکومت نہیں رہی اور نہ محمد داود خان سے کے کر حامد کرزائی تک کوئی اس شہر کا صدر رہا ہے۔ پھر بھی یہ شہر اس ملک جیسا محسوس ہونے لگا ہے جو ملک کم او میدان جنگ زیادہ رہتا آیا ہے۔ اس شہر کا افغانستان سے موازنہ اس لیے نہیں کیا جا رہا کہ اس شہر کے کُچھ لوگ ’’طالبان گھس آنے‘‘ کا شور مچاتے ہیں۔ اس شہر کو منی افغانستان کہنے کا سبب یہ ہے کہ افغانستان کی طرح یہ شہر اب نامور اور گم نام وار لارڈز کے حوالے ہو چکا ہے۔ جس طرح افغاستان کے مختلف علاقوں پر مختلف قبائل کے سرداروں کا راج رہتا آیا ہے اور ان کی اجازت کے بغیر ان علاقوں میں کوئی داخل نہیں ہو سکتا ۔ کُچھ اسی طرح اس شہر کے مخٹلف علاقوں کو سیاسی اورسماجی سرداروں کا قبضہ ہے۔ وہ سردار اگر نہ چاہیں تو کسی کے لئے بھی اس علاقے کو نو گو ایریا بنا سکتے ہیں
یہ صورت حال اس شہر میں شروع سے نہیں تھی۔ یہ شہر تو کسی سخی کے سینے کی طرح کشادہ ہوا کرتا تھا۔ انتہای کشادہ۔ یہ شہر ، جس نے قیام پاکستان کے دوران ہجرت کرنے والے لاکھوں انسانوں کو پیار کے ساتھ پناہ دی۔ یہ تو وہ شہر ہوا کرتا تھا جس میں جو جہاں چاہتا تھا ، گھر بناتا۔ اسے نرم پتوں والے پودوں سے سجاتا۔ اس میں پر کشش پھولوں والی بیل لگاتا۔ رات کی رانی اُگاتا اور اس کی مدہوش کرنے والی خوشبو میں محبت کے بھولے بسرے گیت گاتا۔ اس شہر نے سب کو محنت دی ، روٹی دی، سکون دیا، سمندر کی بھیگی ہواؤں والی نییند عطا کی۔ لیکن پھر اس شہر کو عصبیت کا نعرہ لگانے والوں نے نفرت اور بے خوابی سے بھر دیا ۔ اس لیے اس شہر میں نو گو ایای کلچر پرانا نہیں نیا ہے۔ یہ کلچر جو میڈیا کی مہربانی سے مستند حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ اس شہر میں آپ سیاسی سرداروں کی اجازت کے بغیر سانس تک نہیں کے سکتے۔ وہ سیاسی سردار، جنہوں نے اس شہر کو کٹی پہاڑی سے لے کر کھوکھرا پار تک مختلف علاقوں میں بانٹ دیا ہے اور وہاں سے اپنے مخالفین کو چھانٹ دیا ہے اور انتظامیہ کو بھی ڈانٹ دیا ہے کہ ان کی اجازت کے بغیر ان علاقوں میں قانون نافذ کرنے والوں کو بھی نہ بھیجا جائے۔ اس لیے یہ شہر انتظامی طور پر خواہ کتنے ہی اضلاع میں کیوں نہ بٹا ہوا ہو ، مگر سیاسی اور سماجی طور پر اس شہر کے بٹوارے کی نوعیت الگ ہے اور صرف اس وجہ سے ہی یہ شہر نی افغانستان محسوس نہیں پوتا، بلکہ اس شہر پر کلاشنکوف کا راج دیکھ کر اس کے منی افغانستان ہونے کا تاثر پختہ ہو جاتا ہے۔ اس شہر کو بھینس اور کلاشنکوف کو لاٹھی سمجھنے والا کلچر اب تیزی سے فروغ پا رہا ہے کہ نظریاتی ماضی رکھنے والے جماعتوں نے بھی اپنے پرانے منشور اور آئین کو بھلا کر ’’بھائی گیری‘‘ کا دندھہ شروع کر دیا ہے۔ قبضہ کلچر ن اس شہر کی آسل ہیئت کو صرف ہلایا نہیں بلکہ ملیا میٹ کر دیا ہے۔ اب یہ شہر علم و ادب ، شعر و سخن اور دانش و دیانت کا گہوارا نہیں ، بلکہ لوٹ کھسوٹ، جھوٹ اور سیاسی دلالی کی اس مارکیٹ میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں کا سب سے بڑا سکہ وہ گولی ہے جو ہتھیار کے چھوٹے سے منہ سے نکلتی ہے مگر نکلتے ہی بڑی بات بن جااتی ہے
اب اس شہر کا حال ایسا نہیں کہ ہم اس کے دریدہ دامن پر فیض کی کوئی اداس نظم لکھیں۔ کیوں کہ یہ شہر اب اُداس نہیں اور حیران بھی نہیں ، بلکہ پریشان ہے اور پریشانی کے اس عالم میں یہ شہر آہستہ آہستہ اس افغانستان کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے جس کو سمجھنے کے خواہاں اس ملک کے سیاسی ماہرین سے پوچھتے ہیں کہ ’’کابل میں تو کرزائی انتظامیہ کا راج ہے ، مگر بدخشاں کس کے پاس ہے؟ قندھار میں طالبان کی جڑیں مضبوط ہیں، مگر قندوز اور کنٹر میں کون ہے؟ پنجشیر کے بارے میں تو اندازہ کیا جا سکتا ہے مگر زابل اور نمرز میں کس کا اثر ہے؟ خوست اور پکتیا پر کون قابض ہے؟‘‘
کیا کراچی کا حال ایسا ہی نہیں؟ گو کہ رقبے کے لحاظ سے آج بھی ایک چھوٹا سا شہر ہے مگر آبادی اور آمدنی کے اعتبار سے پاکستان کے سب سے بڑے اس شہر کو سمجھنا کسی چھوٹے ذہن رکھنے والے کے بس کی بات نہیںْ اگر حٓلات یونی چلتے رہے تو بہت جلد افغانستان کی طرح کراچی کے سیاسی ماہرین بھی منظر عام پر آ جائیں گے ۔ جو ہمارے شتر بے مہار ٹی وی چینلز کے پروگراموں میں بھاری معاوضے لے کر شرکت کریں گے ۔پھر اپنے اسٹریک کروائے ہوئے بالوں کی لٹیں لہرا کر خوبصورت اینکرپرسن ان ماہرین سے پوچھیں گی کہ ‘‘ہمارے پاس ابھی ابھیہ تازہ خبر آئی ہے کہ کٹی پہاڑی پر فائرنگ کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا ہے۔ کیا آپ اس سلسلے میں رہنمائی فرمائیں گے کہ یہ علاقہ کس کے پاس ہے؟’’
’’عزیز آباد سے لے کر لالو کھیت تل اور ناظم آباد سے لے کر لائینز ایریا تک تو ہم جانتے ہیں ، مگر آپ لیاری کے باری میں بتائیں گے کہ رحمان ڈکیت کے بعد اب یہاں پر کون بااثر ہے؟ اور یہ علاقہ سیاسی طور پر کس کے پاس ہے؟‘‘
’’گلستان جوہر تو عسکری طاقت کے حوالے سے ابی تک بٹا ہوا ہے ، مگر ماڈل کالونی میں کس کا حکم چلتا ہے؟‘‘
’’ملیر اور کھورا پار میں تشدد کی جو تازہ وارداتیں ہوئی ہیں، وہاں پر متحدہ اور حقیقی کے نوازن کی صورت حال کیسی ہے؟‘‘
اسی دوران وہ ٹاک شو کُچھ وقت کے لیے روک دیا جائے گا اور ٹی وی اسکرین پر ایک بریکنگ نیوز برق کی صورت لہراتے بتائے کی کہ
’’ابھی ابھی ہمیں خبر موصول ہوئی ہے کہلیاری کے کُچھ مکین نقل مکانی میں مصروف ہیں اور فلان نے وہاں اپنا قبضہ مستحکم کر لیا ہے۔۔۔۔!’’
جب آپ کی ٹی وی اسکرین پر ایسے دل خراش تماشے نشر ہوں گے تب آپ تسلیم کریں گے کہ ’’ہا ں ۱ واقعی ، کراچی ایک چھوٹا افغانستان بن چُکا ہے؟‘‘
اب بھی نہ سمجھے تو مٹ جاؤ گے اے کراچی والو
تمہاری داستاں بھی نہ ہو گی داستانوں میں !
بشکریہ روزنامہ امت:از اعجاز منگی
انکو پہچان لو !
