واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


موجودہ پرفتن حالات میں روشنی کا مینار۔۔ حافظ محمد سعید

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-06-11, 04:59 PM   #1
موجودہ پرفتن حالات میں روشنی کا مینار۔۔ حافظ محمد سعید
ALI-OAD ALI-OAD آن لائن ہے 10-06-11, 04:59 PM


حافظ محمد سعید
قارئین کرام! زیر نظر تحریر دراصل امیر محترم پروفیسر حافظ محمد سعید کا وہ خطاب ہے جو انہوں نے طلباء کی تربیتی نشست میں فرمایا ہے۔ نوجوان رضوان نے اس خطاب کو قرطاس پہ اتارا۔ میں نے جب اس خطاب کو ملاحظہ کیا تو فیصلہ کیا کہ اسے جرار کی زینت بنایا جائے۔
اس لئے کہ آج کے موجودہ حالات میں حافظ صاحب محترم کا یہ خطاب گم گشتگان راہ کیلئے مینارہ نور ہے۔ سب کی راہنمائی کے لئے روشنی کا ہالہ ہے۔ ناامیدی سے نکال کر یقین کے سفر پر گامزن کرنے والا ہے۔ میں تو یہ تجویز کروں گا کہ کارکنان دعوت و عزیمت اسے پمفلٹ کی شکل میں دارالاندلس سے چھپوائیں اور لاکھوں کی تعداد میں تقسیم کر کے موجودہ حالات کا قرض چکائیں۔ (امیر حمزہ، چیف ایڈیٹر)



وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ حَتَّی نَعْلَمَ الْمُجَاہِدِیْنَ مِنْکُمْ وَالصَّابِرِیْنَ وَنَبْلُوَ أَخْبَارَکُمْ ۔(سورۂ محمد۔31)
''اورہم تمہیں ضرورہی آزمائیں گے'یہاں تک کہ تم میں سے جہادکرنے والوں کواورصبر کرنے والوں کو جان لیں اورتمہارے حالات سے بھی واقف ہو جائیں۔''
یہ پندرہویں صدی کاآغاز تھا'جب روس کمیونزم کو اپنے معاشی فلسفے کی بنیادبناکر پوری دنیاپر اپناغلبہ مسلط کرنا چاہتا تھا۔ اس کا یہ دعویٰ تھاکہ دنیاکے معاشی مسائل کاحل اس کے پاس موجود ہے۔وہ پاکستان کے راستے گرم سمندروں میں پہنچ کر خلیجی ممالک' مشرق وسطیٰ اورمشرق بعیدکے ممالک پرکنٹرول حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ سمندروں کی معدنیات و ذخائر بھی حاصل کرناچاہتاتھا۔ اسی مقصد کولے کروہ افغانستان میں داخل ہوا، یہ اس کا منصوبہ تھا، لیکن اللہ کا پروگرام کچھ اورتھا۔افغانستان میںجہادکاآغازہوا اوردنیا بھرکے مسلمانوں نے جہادکے لیے اپنے آپ کوپیش کیا۔یوں یہ عظیم جہاد پندرھویں صدی ہجری کی ابتدا میں نئے دور کا آغازبن گیا۔ آخرکار مادیت کی مکروہ ترین شکل کمیونزم' جہادکے نتیجے میں اپنے انجام کو پہنچ گئی۔
محترم بھائیو ! جہادبہت عظیم عمل ہے جوباطل نظاموں کو توڑتاہے۔ جہادعلاقائیت اوروطنیت کی بنیادپر کبھی بھی نہیں ہوتا بلکہ یہ عظیم ترمقاصد کے لیے کیاجاتاہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے اندر جوقوتیں اپنے آپ کوبہت بڑا اورطاقتور تصورکرتی ہیں۔ اپنے آپ کو سپرپاورگردانتی ہیں'دنیاپرقبضہ کرنے کی خواہاں ہوتی ہیں' وہ دوسروں کے وسائل اپنے کنٹرول میں کرکے قوموں کو غلام بنانے کے درپے ہیں'ان قوتوںکے خلاف جہادچیلنج بن جاتا ہے۔جہادکایہ وصف قرآن میں واضح طورپر بیان ہوا ہے۔ جہادکی اس خوبی کے بارے میں قرآن وحدیث اورتاریخ میں واضح شواہد موجود ہیں کہ یہ ہمیشہ سپرپاورز کے لیے ایک چیلنج بن کرابھرتاہے۔ پندرہویں صدی کے آغاز سے اب تک اللہ رب العزت نے یہ ساری حقیقتیں بڑی روشن کرکے دکھادی ہیں' بہت تھوڑے عرصے میں روس شکست کھاگیا۔وہ کمزور قومیں جن کو روسی استبداد نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑا ہواتھااوران کویہ جتایاجاتاتھا کہ تم اپنے حقوق کے لیے مغرب کے سامنے درخواستیں پیش کرو' ان کے دروازوں کاطواف کرو اور ان کے سامنے بھیک مانگو' جہاد کے ہاتھوں روسی شکست سے ان کمزور مسلمانوں کے حوصلے مزید بڑھ گئے۔ مسلمانوں کو یہ سبق ملا کہ روس جیسی سپرپاور جہاد سے شکست کھاسکتی ہے تو مسلمان دنیاکی ہر قوت کے خلاف میدان میں کھڑے ہوسکتے ہیں۔یہی وہ عظیم مقصد تھا جس کے نتیجے میں کشمیروفلسطین میں جہادشروع ہوا۔
صومالیہ جوکہ افریقہ کے ملکوں میں بڑی اہم سٹریٹجک پوزیشن کا حامل ملک ہے' آبی راستوں کاکنٹرول جس کے پاس ہے' بین الاقوامی تجارت کے راستے اگرروکناچاہے تووہ بڑی آسانی سے روک سکتاہے' پھر وہاں جہادشروع ہوگیا۔بوسنیا میں' یورپ کاجودل ہے وہاں جہاد جاری ہوگیا۔ یہ بہت مختصر عرصے کاقصہ سنارہاہوں۔پندرہویں صدی کے آغاز سے لے کراب تک دنیامیں بہت بڑی بڑی تبدیلیاں رونماہو چکی ہیں اور غور کرنے پر ہربڑی تبدیلی کے پیچھے آپ کو جہاد نظرآئے گا۔
بالآخر یہ مقابلہ 'یہ معرکہ بہت بڑے میدانوں تک وسیع ہو کر عالمگیر شکل اختیار کرگیا۔جب9/11 کاواقعہ رونماہوا۔ تو امریکہ نے ساری صلیبی قوتوں کوجمع کرکے' اپنے سارے وسائل لے کرافغانستان پرچڑھائی کردی اور بڑے غصے میں'بڑے جذباتی اندازمیں' بڑی گہری پلاننگ کرکے سب اکٹھے ہوکر آگئے۔ پاکستان کے لیے یہ بہت بڑامسئلہ تھا کہ اب یہاں کیا رخ اختیار کیا جائے۔ انہوںنے یہ فیصلہ کیاکہ کسی بڑی طاقت کے سامنے ہم کھڑے نہیں ہوسکتے ۔یہ جتھہ جو ہم سے ٹکرانے آیاہے، اس کے سامنے کھڑا ہونے کی بجائے اس کورستہ دو'ورنہ یہ افغانستان کو بعدمیں پہنچے گا' پاکستان کانقصان پہلے کر جائے گا۔ یہ سوچ کر اس وقت کے حکمرانوں نے راستے دے کر امریکی مطالبات مان لیے اور سٹریٹیجک پارٹنرشپ اختیار کر لی۔ امریکہ نے جو مانگا اسے دے دیا۔ رستے دے دیئے' سمندر دے دیئے' فضائیں دے دیں' اڈے دے دیئے الغرض غیرت و حمیت سمیت سب کچھ دے دیا۔ یوںاس علاقے میں بہت خوفناک جنگ شروع ہوگئی۔
محترم بھائیو! ابھی اس جہاد کو جاری ہوئے دس سال مکمل نہیں ہوئے ہیں، یعنی قوموں کی زندگیوں کے حوالے سے یہ بہت قلیل اور مختصر دورانیہ ہے مگر اسکے باوجود آپ غورکیجیے کہ آج ہم کس جگہ کھڑے ہیں۔ حالات کا تھوڑا سا جائزہ لیجیے کہ امریکہ اپنی ساری قوتوں 'طاقتوں سمیت اپنے تمام خفیہ اداروں اورسازشوں سمیت' غرض جواسکے پاس جدیدٹیکنالوجی ہے لیکرمیدان میں آگیا اورپھر اکیلا امریکہ نہیں آیا' مغرب و یورپ سب آگئے۔ برطانیہ اور پھر فرانس اور جرمنی جو جنگ عظیم دوم میں خود آمنے سامنے تھے۔ اس اسلام مخالف جنگ میں اکٹھے ہوکر آگئے۔ سب نے یکجا اور یکسو ہو کر خون مسلم کی ندیاں بہا دیں کہ آج مقابلہ مسلمانوں سے ہے۔ اس سے خوب واضح ہو جاتا ہے کہ یہ کھلی اسلام اورکفر کی جنگ ہے۔ اگرچہ مغرب خوفناک پروپیگنڈے کر کے اور دہشت گردی کومسئلہ بناکر جنگ کررہاہے۔
ایک طرف حکمرانوں کی پالیسیاں اور مجبوریاں ہیں لیکن دوسری طرف اسلامیان پاکستان کاجہادفی سبیل اللہ میں کردار بھی بڑا عظیم ہے۔ پاکستان کودوسرے مسلم ملکوں پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
اب آپ دیکھیے کہ باوجود اسکے کہ ہمارے سارے وسائل، سمندر اور اڈے بھی انکو دے دیئے گئے انکے تھنک ٹینک برملا کہہ رہے ہیں کہ امریکہ کی افغانستان میں شکست کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ چنانچہ وہ یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ وہ پاکستان کو بہت بڑاسبق سکھائیںگے اور افغانستان سے نکلنے سے پہلے وہ اپنی شکست کاانتقا م پاکستان سے ضرور لیں گے۔
گزشتہ دوسال سے حالات یکسرمختلف ہیں۔اس سے پہلے حالات اور تھے' مگراس وقت کے حالات بالکل مختلف ہیں۔ یہ حالات کا ایک اجمالی خاکہ میں نے آپ کے سامنے رکھاہے کہ 1432 ویں اسلامی سال میں آج ہم کہا ں کھڑے ہیں؟ افغانستان کی جنگ امریکہ ہار رہا ہے۔ واپسی کی تیاریاں کررہاہے اور وہ شکست کا اعتراف کررہے ہیں۔یہود نوازلابی، وہ صلیبی گماشتے جن کویورپ اوروائٹ ہاؤس کی شہ حاصل ہے، یہ سارے اب قرآن کی بے حرمتی کررہے ہیں۔ وہ پاکستان کو سبق سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔وہ پاکستان کی مجبوریوں سے بہت فائدے اٹھارہے ہیں۔ ویزوں کی پابندیاں ختم کی گئی ہیں۔ ریمنڈڈیوس جیسے لوگ پاکستان میں داخل کیے گئے ہیں۔ہر جگہ ان کے مراکزقائم ہیں 'ان کوکھلی چھٹی دے دی گئی ہے کہ جہاں سے چاہیں بندوںکوخریدیں۔ ریٹائرڈ فوجیوں اور سول بیورو کریٹس کو خریدیں، گویا پاکستان میں ان کی خرید و فروخت کی منڈی قائم ہے۔ ایک طرف تو یہ کردار پاکستان کے منافقین کا ہے۔ دوسری طرف ایک بڑا کردار پاکستان کے مجاہدین کا ہے۔ صرف اشارے کرتے ہوئے میں حقائق اور معلومات کوسامنے رکھ کر بات کرتاہوں کہ روس کی تباہی میں بھی اللہ نے اس ملک سے بہت بڑاکام لیا اورامریکی ورلڈ آرڈر کی تباہی میں بھی یہاں کے مخلص بندوں کابہت اہم کردارہے۔ معلومات کی بنیاد پر میں بات کو آگے لے کرچلتاہوں۔ چنانچہ مکمل بصیرت کے ساتھ'محض جذباتی ہوکرنہیں' بلکہ حقائق کو سامنے رکھ کر یہ کہہ رہاہوں کہ لاالٰہ الااللہ کے نام پربننے والا یہ ملک اللہ کے فضل وکرم سے ان شاء اللہ افق عالم پر ضرور چمکے گا اور کچھ دیر بعد دنیاکو بھی وہ بات سمجھ آئے گی جوبات میں اب کر رہا ہوں۔
میرے محترم نوجوان بھائیواور ساتھیو!اسامہ کے بارے میں آج لوگ دل برداشتہ ہیں۔ صدمے کاشکار ہیں 'کوئی شک نہیں ہے یہ فطری چیزہے۔ان چیزوں سے یہ بات نمایاںہوتی ہے کہ ہمارے دفاعی اورفضائی نظام ناکام ہوئے ہیں۔ یہ ہمارے دفاعی سسٹم کا بہت بڑا Failureہے۔ قدرتی طورپر اس سے دل کوشدید صدمہ ہوتاہے اورپھر ایک ایساشخص جو دنیامیں جہادکی علامت تھا، جو دنیا میں انصاف اور غلبۂ اسلام کی لڑائی لڑنے والا شخص تھا، جس کے تذکرے سے کفر کے ایوانوں میں لرزے برپا ہوتے تھے، اس شخص کونشانہ بنایاگیا۔ دشمنان اسلام کو اس تک پہنچنے کاموقع ملا ۔آپ کے اداروں کی بھی اس سے ناکامی عیاں ہوئی ہے۔ یہ سب کچھ اپنی جگہ درست ہے۔ بہر حال میرے عزیزبھائیو! اس سلسلے میں میں یہ بات عرض کرتاچلوں کہ جب معرکے کے میدان گرم ہوتے ہیں تو پھر قربانیوں کے ایسے حالات سے بھی ضرور ہی دوچارہونا پڑتا ہے۔ یہ کوئی نئی چیزنہیں ہے اور نہ یہ کوئی پہلی مرتبہ ایسا ہواہے۔ اسامہ کی شہادت کوئی پہلی شہادت نہیں ہے اورنہ ہی یہ آخری شہادت ہے۔ یہ توسب اسلامی قربانیوں اور معرکوں کا ایک تسلسل ہے' ان میدانوں میں بڑے ہی عظیم انسانوں کو شہادتیں ملی ہیں۔ 22 لاکھ مربع میل پراسلام کی حکمرانی قائم کرنے والے عمربن خطاب tکوبھی اللہ تعالیٰ نے شہادت کی نعمت سے نوازاہے، یہ تو بہت بڑی عبادت اور کیا ہی بلند ترین سعادت ہے۔ اسی لیے تو وہ جب بھی دعافرمایاکرتے تھے توکہتے تھے:
اللھم ارزقنی شہادة فی سبیلک و فی بلد رسولک۔
تب صحابہy ان سے پوچھاکرتے تھے'اے امیر المومنین آپ کیسی بات کرتے ہیں؟کیسی دعاکرتے ہیں؟مدینہ تواس قدرمحفوظ ہے کہ کسی کافر قوت کویہ جرأت نہیں ہے کہ وہ اسلامی دارالحکومت پرچڑھائی کر دے۔ پھر اس کے باوجود آپ اپنے رب سے یہ دعامانگتے ہیں ۔
عمرt فرماتے 'یااللہ ! میرے ساتھی مجھے میدانوں اور غزوات میں تو جانے نہیں دیتے۔ محاذوں پرجانے نہیں دیتے، لہٰذا تو مجھے یہاں اپنے نبیe کے شہر میں ہی شہادت کی موت دے دے۔ سبحان اللہ!
مخلص لوگوں کی دعائیں اللہ تعالیٰ قبول فرماتاہے۔ چنانچہ دعا قبول ہوئی۔ عمربن خطابt کی شہادت مسجدنبوی میں ہوئی اور محراب مسجد میں نماز کی امامت کرواتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کو شہادت کی موت عطافرمائی ۔
تاریخ اسلام کایہ بہت بڑاواقعہ تھا۔وہ شخص کہ جس کے بارے میں کفارلکھتے ہیں، بڑے بڑے صلیبی لکھتے ہیں 'مغرب کے بڑے بڑے رائٹرز کہتے ہیں کہ اگر دنیامیں ایک اورعمرt آجاتا تو روئے زمین پر اسلام کے علاوہ کوئی اوردین باقی نہ بچتا۔ اتنا بڑا انسان 'اتنی بڑی خدمات، اللہ تعالیٰ نے ان کوبھی شہادت کی موت دی ہے۔تویہ کوئی رونے دھونے اور رنج و الم میں ڈوب جانے کا مسئلہ نہیں ہے۔
آج اگر اسامہ کی شہادت ہوئی ہے تو مایوسی کی کیا بات یہاں تو کوئی مجاہد ایسا ہے ہی نہیں جو اپنے رب سے شہادت طلب نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کوشہادت دیتاہے۔ میں تویہ کہتاہوں کہ ان ظالموں نے تورابورا میںسب سے زیادہ زور اُسامہ کوپکڑنے پہ لگایاتھا۔ وہاں کتنے ہی واقعات ایسے ہوئے تھے اور امکان تھا کہ اُن کوشہادت مل جاتی یا وہ پکڑے جاتے یاجوبھی دیگرمعاملہ ہوتا مگر اللہ تعالیٰ نے ہرجگہ ان کی حفاظت فرمائی اور10 سال امریکیو ں اورنیٹوسے جنگ کرنے کااللہ تعالیٰ نے انھیں موقع عطا فرمایا۔
اہل کفراپنی پارلیمنٹوں میں کھڑے ہوکر اعلان کررہے تھے کہ ہمیں افغانستان سے کچھ نہیں ملا۔ ہالبروک مر گیا'جب تک زندہ رہا اپنی قوم کودیکھ دیکھ کر کہتا رہا کہ'' اپنے جوانوں کو افغانستان کے پہاڑوں سے واپس لے آؤ۔ سوائے موت کے افغانستان میں کچھ نہیں۔'' پیٹریاس کہتا رہا ''افغانستان پر کوئی ایسا پہاڑ نہیں ہے جس پرہم امریکی جھنڈالہرا کرکہہ سکیںکہ اس پر ہمارا قبضہ ہے۔ ''
جب یہ باتیں دنیاکوسننے کومل گئیں اور جب انہوں نے اپنی شکست کااعتراف کر لیا تومیرے رب نے شیخ اسامہ کوشہادت دے دی۔ اللہ اکبر! اورمجھے تو اس میں بھی یہ حکمت نظرآرہی ہے کہ پاکستان و امریکہ میں جو اتنی گہری دوستی چل رہی تھی اور دوستی میں ڈرون اڑرہے تھے، مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کی شہادتیں ہی شہادتیں'بارود برس رہاتھا…شیخ کی شہادت کے بعد حالات کا رخ بدل رہاہے۔ امریکہ کہہ رہاہے پاکستانی قابل اعتماد نہیں رہے اور ان سے دوستی ممکن نہیں ہے۔
میرے بھائیو! آگاہ رہیے، شہادتیں نقصان نہیں ہوتیں۔ ہم روتے نہیں ہیں کہ یہ بھائی شہیدہوگیا'جس نے اتنی بڑی قربانی دی ہے۔ جس نے اتنے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں۔ جب ایسے لوگوں کو شہادت ملی ہے تواللہ تعالیٰ نے کوئی کمی نہیں رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ ہی یہ کمیاں پوری کی ہیں تویہ کوئی نقصان نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:
ِنْ یَمْسَسْکُمْ قَرْح فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْح مِثْلُہُ وَتِلْکَ الْأَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللَّہُ الَّذِیْنَ آَمَنُوْا وَیَتَّخِذَ مِنْکُمْ شُہَدَائَ وَاللَّہُ لَا یُحِبُّ الظَّالِمِیْنَo
''اگر تم کو(احدکے دن) زخم لگا تو بے شک ان (کافروں)کو بھی(بدرمیں) ایسا زخم لگ چکاہے اور یہ(فتح و ناکامی) دونوں کو ہم باری باری لوگوں کے درمیان گردش دیتے ہیں اور(یہ کڑاوقت اس لیے آیا کرتا ہے) تاکہ اللہ ان لوگوں کو جو سچے ہیں ظاہرکردے اورتم میں سے بعض کو شہادت کادرجہ دے دے کیا شک ہے اللہ ظالموں کو پسند نہیں فرماتا۔''(سورۂ عمران:140)
اللہ نے احدوالے دن سمجھایاکہآج تم اس بات سے پریشان ہو کہ آج دشمنوں کو یہ موقع مل گیا کہ وہ نبیe کے اتنا قریب پہنچ گئے کہ نبیeکے دفاع پرجو نو صحابہ کرامy کا خصوصی دستہمقرر تھا، ان میں سے سات صحابہy شہید ہو گئے۔ صرف دو صحابہ سعد بن ابی وقاص اورطلحہ بن عبیداللہy دو دل دہلا دینے والا اللہ کے نبیe کے دفاع کے لیے رہ گئے تھے۔ بڑاخوفناک منظرتھا اور دشمن کو موقع مل گیا تھا۔ کیا موقع تھا کہ انہوں نے نبی eپرحملہ کر دیا تھا، چنانچہ نبیe کے دانت مبارک شہیدہو گئے۔ خون کے فوارے پھوٹنے لگے۔ نبیe گرپڑے 'یہ افواہ بھی پھیل گئی کہ محمدe شہید کر دیئے گئے ہیں، مگر یہاں اللہ تعالیٰ نے سمجھایا کہ آج تمہیں بڑی تکلیف ہے کہ نبیe کو اتنے زخم آگئے'70صحابہ کرامy شہید ہو گئے۔ زخمیوں سے میدان بھر گیا تویہ نہ سمجھنا کہ کفارکوسب کچھ حاصل ہوگیا بلکہ فرمایا:
وَتِلْکَ الْأَیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْنَ النَّاسِ۔
(اٰل عمران۔140)
آج قرآن مجید کی زندہ و تابندہ آیت سورة آل عمران کی آیت بالکل اسی طریقے سے ہمیں پکار رہی ہے کہ کیا ہو گیا اگراسامہ شہید ہوگئے ! کچھ بھی تو نقصان نہیں ہوا۔ کیااس شخص کی یہ طلب نہیں تھی 'دعانہیں تھی۔ کیا اللہ تعالیٰ کایہ فرمان نہیں کہ یہ توفیق اللہ کی طرف سے ہے۔ اگر دس سال رب نے انہیں موقع دیاآج میرے رب نے دشمنوں کو موقع دے دیا۔ لہٰذا ہمیں یقین رکھنا چاہئے کہ یہ ساری قوتیں انسانوں کے ہاتھوں میں نہیں ہیں۔
میرے عزیزبھائیو! یہ جو آج مسلمانوں پر کیفیت طاری ہے 'پریشانیاں ہیں'صدمے ہیں'ان سے نکالنے کے لیے میں نے یہ ضمناً بات عرض کی ہے۔ آج اللہ کے فضل وکرم سے 1432ویں سال میں ہم اس منظرکودیکھ رہے ہیں کہ مغربی سرمایہ دارانہ نظام مسلسل کمزور ہورہا ہے۔آج کاکفراپنی موت آپ مررہاہے'ان کے بینک دیوالیہ ہو رہے ہیں۔ اخباری رپورٹ کے مطابق 60 لاکھ امریکی بے روزگار ہو چکے ہیں اوران کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ان حالات میں اوباما بھی اپنی معیشت کوسنبھالا نہیں دے سکے گا۔ان شاء اللہ
حالات اللہ تعالیٰ کے منصوبے کے مطابق ادھر کا رخ کرتے جا رہے ہیں۔ امریکی اللہ کے فضل وکرم سے اس صورت حال کوروک نہیں سکیں گے۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ جنگ ختم کیوں نہیں ہو جاتی۔ امریکی بھاگ کیوں نہیں جاتے؟ ہمارے خطرات ختم کیوں نہیں ہوتے؟ ہم اس انداز سے سوچتے ہیں لیکن اس میں میرے رب کی کیا کیاحکمتیں ہیں ؟ یہ تو وہی بہتر جانتا ہے اور آنے والے وقت میں ہم بھی جان لیں گے۔ ان شاء اللہ
میرے عزیزبھائیو!آپ کوبھی بڑی پریشانیاں آئی ہیں لیکن آپ یقین کریں کہ آپ سے کہیں زیادہ پریشانیاں آپ کے دشمنوں کو آئی ہیںاور مسلسل آ رہی ہیں۔ اسامہ شہیدہوئے لیکن کیاامریکہ اپنی شکست سے بچ جائے گا؟
یہ دو'چار 'دس یا کتنے دن جشن منالیں گے ؟ میں تو صاف کہتاہوں کہ ٹھیک ہے پاکستان کے ادارے ناکام ہوئے ہیں۔انہوں نے پارلیمنٹ میں اپنی ناکامی کااعتراف بھی کیاہے لیکن واللہ!اس وقت ترازومیں رکھ کے دیکھو، میرے نوجوانو! کہ اس واقعہ کو9/11 کے بدلے کے طورپہ پیش کیا جاتا ہے۔
امریکیوں کے بقول امریکہ کے پانچ جہاز اغوا ہوتے ہیں ۔ اغوا سے پہلے پلاننگ کرنے والوں نے 18 ماہ کام کیا۔ تب ان کے اتنے خوفناک نظام کہاں تھے؟ ان کی ایجنسیاں کہاں تھیں؟ ایک لمبی پلاننگ ہوئی ہوگی اور یہ سب ان کے ملک میں ہوا ہو گا۔ذرا سوچیے ! ان کے جہاز کس طریقے سے اغوا ہوئے ہوں گے۔ ان کی ایجنسیاں' ہرکارے کس طرح ناکام ہوئے ہوں گے۔ یہاں تک کہ تین جہاز توانہوں نے صحیح نشانوں پر مار بھی دیئے تھے۔
آج اگروہ کرسکتے ہیں توہمیں بھی بات کرنے کاحق ہے۔ کوئی رکاوٹ نہیں' کوئی کمزوری نہیں ہے۔ ہاں میں یہ سمجھتاہوں اللہ کی طرف سے سزائیں ضرور ملتی ہیں، جو غلطی کرتے ہیں، ان کوسزائیں بھی ملتی ہیں۔ جنہوں نے اس پاکستاں میں غلطیاں کی ہیں ان کوضرور سزائیں ملی ہیں۔نبیeکی زندگی میں غزوات اورجنگیں اس کی دلیل ہیں۔سورۂ آل عمران میں تذکرہ موجود ہے کہ غزوۂ احد میں 50تیراندازوں نے غلطی کی تھی تو اس کاخمیازہ بھی بھگتناپڑاتھا۔ اسی طرح پاکستان میں جنہوں نے غلطیاں کی ہیں، ان کی وجہ سے سزاملی ہے یا مل رہی ہے۔ اس کے باوجود ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مجاہدین کاپلڑاپھربھی بھاری ہے۔
میرے محترم بھائیو!آپ سن رہے ہیں کہ فلوریڈا کے پادری ٹیری جونز نے جوکچھ کیا ہے اوراس کے ساتھ دوسرے پادریوں نے جوخباثتیں کی ہیں اورپھران ظالموں نے جو اعلان کیا ہے کہ امریکیو! تم9/11کی برسی جوچراغاں کرکے مناتے ہو ' برسی اگرمنانی ہے توہرامریکی'ہرصلیبی اپنے گھرمیں قرآن کوجلائے 'قرآن کی بے حرمتی کرے'قرآن کوسزا دے ۔امریکہ میں یہ بات ہو رہی ہے اور پھراسی طریقے سے اللہ کے نبیe کے خاکوں والامسئلہ بھی درپیش ہے۔
یہ اصل میں اس معرکہ کاحصہ ہے جواسلام اورکفر کے درمیان جاری ہوچکاہے۔یہ کم ازکم 9ویں صلیبی جنگ جاری ہے۔ 8صلیبی جنگیں پہلے ہوچکی ہیں اوریہ9ویں صلیبی جنگ ہے جو اس وقت دنیاکے اندرجاری ہے اوران شاء اللہ العزیز جو میں اللہ کے فضل سے اور اپنے مطالعے کی بنیاد پر محسوس کرتا ہوں کہ آنے والے حالات بہت شاندار ہیں۔
کتب احادیث میں نبی کریمeایک خوشخبری دے کرگئے ہیں کہ ایک وقت آئے گا کہ مہدیu جنگ کاآغاز کریں گے 'اس میں حضرت عیسیٰ u آکرشریک ہو جائیں گے، دجال کو قتل کرڈالیں گے'خنزیرکو قتل کر کے عیسائیت کے خاتمے کااعلان کریں گے اور یہودیت کوجڑسے ختم کریں گے۔ اسلام کے علاوہ کوئی دوسرامذہب باقی نہیں رہیگا۔اسکاپورانقشہ نبیeنے بیان فرمایااور اس جنگ سے پہلے نبیe نے روم کے فتح ہونے کی خوشخبری دی ہے۔ ہم تویہ سمجھتے ہیں کہ جوجنگ اس وقت جاری ہے یہ رکنے والی نہیں ہے'یہ جاری رہے گی ۔ ان شاء اللہ
یہ نہ سمجھو کہ امریکہ اب اگرافغانستان اورپاکستان سے چلا گیا تویہ معرکہ ختم ہوجائے گا۔نہیں!یہ معرکہ بہت خوفناک معرکہ ' پوری شدت کے ساتھ ' ا ن شاء اللہ جاری رہے گا اوراس معرکے کے بڑے بڑے حصے جو مکمل طورپر تشکیل پا ہو چکے ہیں، یہ اس کا ایک حصہ ہے۔ ہمیں نظر آ رہا ہے۔
ترکی وہ ملک ہے جومغرب کے سب دروازوں پردستک دینے والاملک ہے۔ تاریخ اسلام میں بہت اہمیت کاحامل ہے ۔ جس نے مغرب کوباربارشکست سے دوچار کیاہے۔ صلیبیوں کوباربارماراہے۔ آج اللہ کے فضل وکرم سے ترکی میں بہت بڑی اسلامی جہادی قوت کھڑی ہوچکی ہے۔ مجاہدین بہت بڑی تعداد میں یہاں تشریف لاتے ہیں اور وہ پوری طرح تیار ہو چکے ہیں اورپھر اس کے بعد الجزائر جس کادروازہ مغرب کے سامنے کھلتاہے اورتیسرا ملک لیبیا یہ بھی مغرب کے سامنے کاملک ہے۔ ان ملکوں میں جواس وقت شورش پائی جاتی ہے۔جوحالات اس وقت بن رہے ہیں 'اس سے اللہ کے فضل وکرم سے یہ صاف طور پر نظر آرہاہے کہ کفر کے باطل نظاموں کی یادگاریں جوان ملکوں میں قائم کردی گئیں تھیں اورجن سیکولرازم کے نظاموں کی بنیاد پرحکومتیں قائم کی گئی تھیں اور نظام چلائے گئے تھے، اب وہ سیکولرازم یہاں سارے ملکوں میں کمزور ہو رہا ہے اور دم توڑ رہا ہے۔
اسلامی قوت، جہادی قوت اللہ کے فضل وکرم سے ان ملکوں میں ابھر رہی ہے۔اگرآپ کبھی تاریخ کامطالعہ کریں تو دیکھیں گے کہ ان ملکوں کا صلیبی جنگوں میں بہت بڑاکردار تھا۔ ان علاقوں کے مسلمانوں اور مجاہدوں کا اللہ کے فضل وکرم سے اب پھر بڑا کردارنظرآ رہاہے۔ سو آنے والے کل میں بہت بڑامعرکہ ہونے والاہے۔ مغرب میں بہت خوفناک جنگ چھڑنے والی ہے اوراللہ کے فضل وکرم سے افغانستان میں صلیبی قوت کمزور پڑ رہی ہے۔ یہ دفاع کرنے میں بھی بہت جلد ان شاء اللہ ناکام ہوجائے گی اورمغرب میں اسلام اللہ کے فضل وکرم سے دوبارہ سے نافذ ہو گا۔
یہ ایک محاذ تھا اور دوسرامحاذ وہ ہے جو غزوہ ہند کاہے اوریہ دوسرا بڑامحاذ ہے جواللہ کے فضل وکرم سے یہاں برپا ہوگا اورمجھے یہ بالکل صاف نظرآرہاہے کہ ان معرکوں کی بنیاد پر روم کی مکمل فتح ہو گی اوردوسری احادیث میں نبی اکرمe نے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے واضح فرمایاکہ یہاں سے جہاد کی بہت بڑی مسلمانوں کی قوت تیارہو گی۔ ان شاء اللہ اس غزوہ ہند کے نتیجے میں، مجھے اللہ کے فضل وکرم سے اس کی خوشخبریاں اس وقت نظرآرہی ہیں۔
میرے محترم بھائیو! یہ ہے وہ اصل معرکہ باقی تو یہ درمیان کی چیزیں ہیں'قرآن کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، اللہ کے نبی e کے خاکے چھپ رہے ہیں اورمغرب کیاکہہ رہاہے' کیا پروپیگنڈے ہو رہے ہیں ۔ ان کامیڈیا اس وقت کیا للکاررہاہے۔ یہ ساری چیزیں بہرحال ان کے ہاتھ میں ہیں۔مسلمانوں میں ایک طرف منافقین کا کردار ہے ۔یہ کردار بھی قرآن مجیدمیں واضح ہے۔ یہ اللہ کے نبیe کے دور سے چل رہاہے۔ اس سے گھبرانے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اوراس کے ساتھ ایک خوفناک کردار وہ بھی ہے کہ جو عمرtکے بعدسیدنا عثمانt کے دورمیں واضح ہو گیا تھا۔ اگرساڑھے بائیس لاکھ مربع میل کاعلاقہ عمرt فتح کرچکے تھے توذرا تاریخ پڑھ کردیکھئے 'عثمانt کے دورخلافت میں یہ علاقہ 66 لاکھ مربع میل تک پہنچ گیا تھا۔ یہ اتنی بڑی فتوحات مسلمانوں کو ملی تھیں لیکن ایک بہت خوفناک صورتحال اس وقت سامنے آئی جب کچھ لوگوں نے آپس کی لڑائیاں'ایک دوسرے پر الزام تراشیاں کرنا اور عثمانt کومطعون کرنا شروع کر دیا تھا اور آپس کی لڑائیاں، اپنوں کے ساتھ شروع کر دی تھیں۔جس کے نتیجے میں عثمانt شہید ہوگئے۔ پھر میں علیt شہید ہو گئے۔ ان لڑائیوں اور باتوں کے نتیجے میں کفارکے خلاف معرکے رک گئے یہ معاملہ قرون اولیٰ میں موجودتھا۔ صحابہ کرامy کے دورِ خلافت میں بھی یہ کردار موجود تھا اور اس میں تکفیری لوگوں نے جہاد کو بہت نقصان پہنچایا۔آپ غور کیجیے کہ یہ کفر کے فتوے لگانا اور مسلمانوں کاآپس میں لڑنا، ''اس نے یہ غلطی کی ہے 'اس کومارو'' اس نے یہ گناہ کیاہے 'اس کومارو'یہ فلاں اس گناہ کی وجہ سے کافرہوگیا' چنانچہ اس کوقتل کرو ' یہ جوفتوے چلے، آپس میں لڑائیاں چلیں تو انھوں نے مسلمانوں کا کتنا نقصان کیا۔ قرونِ اولیٰ میں بھی کیا اور یہی سوچ آج بھی مسلمانوں کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔
بھائیو! میں آپ کو آگاہ کرناچاہتاہوں کہ اللہ کے لیے میرے نوجوانو! ہوشیار ہو جائو ! آپ لوگوں میں خوفناک سازشیں بڑی گہرائی کے ساتھ پھیلائی جارہی ہیں۔ اس وقت بھی عبداللہ بن سبا جیسے یہودیوں نے سچے مسلمانوں کی جمعیت کوپھاڑکے رکھ دیا تھا۔ آج بھی وہی یہودی صلیبی گماشتے ہیں، ان کی خوفناک سازشیں ہیں کہ مسلمانوں کو ظلم کا شکار کیاجاتاہے اور نوجوانوں کوسازشوں کاشکارکیاجارہاہے اور یہ سازشیں اتنی خوفناک ہوتی ہیں کہ دماغ پریشان ہو جاتے ہیں'معاملہ یہاں تک پہنچ جاتاہے کہ ابوبکر صدیق کے بیٹے بھی اس سازش کاشکار ہو جاتے ہیں۔ جس کاباپ نبیe کے بعد امت کوبکھرنے سے بچانے والا تھا لیکن بیٹا سازش کاشکار ہوگیا۔ وہ اس گروہ کے اندرشامل ہوجاتاہے جو دیوارپھلانگ کر حضرت عثمان t کوشہیدکرنے کے لیے آئے تھے اور وہ پہلا شخص جس نے عثمانt کے پاس جاکر داڑھی کوپکڑکرکھینچا، یہ ابوبکرصدیقt کا بیٹاہی تھا۔
عثمانtنے کہا : آج تو جس داڑھی کو کھینچ رہا ہے تیرا باپ تو اس کی بڑی حیاء کرتا تھا چنانچہ یہ سن کر وہ پیچھے ہٹ گیا مگر ایک دوسرے ظالم نے آگے بڑھ کر وار کیا اور عثمانt کو شہیدکردیا۔ میرے عزیزنوجوانو!اگرابوبکرصدیقt کا بیٹا سازش کا شکار ہوکرعثمانt کے قتل کے لیے اس گروہ کے ساتھ شامل ہو جاتاہے توآج بھی بڑے اچھے نوجوان، دین کے متوالے 'اللہ کے دین کے لیے قربانیاں دینے والے اور بڑے اچھے ذہن رکھنے والے نوجوان بھی اس سازش کاشکار ہوسکتے ہیں۔ چنانچہ ان گروہوں سے بچو! یہ بہت خوفناک سازش ہے۔ یاد رکھیے کہ معرکوں اور قربانیوں کے نتائج ایسی ہی خوفناک چیزوں کی وجہ سے لیٹ ہوتے ہیں۔ جو جہاد کافر کے خلاف جاری ہے، ایسے لوگوں کی وجہ سے کمزور پڑ رہا ہے۔ بہرحال اگراللہ کے نبیe کے دورمیں منافقت موجود تھی اورصحابہy کے دور میں یہ تکفیری گروپ موجود تھے اور فتوے لگالگا کر مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے موجود تھے 'اگریہ سازشیں صحابہ کرامy کے دورمیں ہوتی تھیں توآج کے دور میں بھی جہاد میں یہ سب کچھ دیکھنا اور برداشت کرنا پڑے گا۔ یہ نہ سمجھئے گا کہ یہ نہیں ہوگا ' بالکل یہی ہو گا اور انھی حالات میں ہمیں کام کرناہے' دعوت دینی ہے'آگے بڑھناہے 'اصلاح کرنی ہے' امت کو بیدار کرناہے' ذہن سازیاں کرنی ہیں۔ کفرکے خلاف میدان میں امت کومتحد کرنا ہے اور کفرکے خلاف میدان سجاکرکفر کی قوت کوتوڑ کر اپنے دین اسلام کوغالب کرناہے اور یہی ہے اس وقت کرنے کا اصل کام ۔
سو یاد رکھیے! کہ آپ کو سب سننا پڑے گا۔ اللہ کے نبیe کی توہین کے واقعات 'قرآن مجید کی توہین کے واقعات بھی سننے پڑیں گے۔ امام ابن تیمیہa کہتے ہیں کہ صلیبیوں کے ساتھ جوہماری لڑائیاں ہوتی تھیں توہم یہ دیکھتے کہ صلیبی اللہ کے رسول e کو گالیاں دینا شروع کر دیتے، نبیeکی توہین کرناشروع کر دیتے' پھرہمیں یقین ہوجاتا کہ اب جلد نتیجے آ جائیں گے۔ اپنی معروفِ زمانہ کتاب صارم المسلول میں ابن تیمیہa نے یہ واقعات درج فرمائے ہیں۔
سو اگراس وقت صلیبی جنگوں میں اللہ کے نبیe کو نشانہ بنایاگیا توآج بھی بنایاگیا ہے۔ یہ نئی باتیں نہیں ہیں۔ ایسا ہوتا آ رہا ہے اور یہ لوگ مزید بھی ایسا کرتے چلے جائیں گے۔ مجاہدوں کے ساتھ منافقوں کا کردار بھی چلتا ہی رہے گا۔یہ تکفیری گروہ موجودرہیں گے لیکن اس سب کے باوجود اللہ کے فضل وکرم سے جہادبھی جاری رہے گا۔ اب مجھے اور آپ کو دیکھنایہ ہے کہ ہم کس کے ساتھ ہیں؟ میں آج اس جہادکے ساتھ کھڑا ہوں کہ جس جہاد کی زدامریکہ پرپڑرہی ہے، کفر کی حکومتیں جس کی وجہ سے پریشان ہیں ' اسرائیل جس سے خوفزدہ ہے' یامیں کسی دھوکے میں مبتلا ہو کر اشکالات اور شبہات میں مبتلاہوکر اس جہاد سے الگ ہو کر کھڑا ہوں۔ اس پر ہرشخص کوسوچناچاہیے اوراپنے کردار کاتعین کرنا چاہیے۔ تومیں اللہ سے دعاکرتاہوں کہ جوکچھ سنا اور جو نیک جذبات دلوں میں ہیں، اس کے لیے وہ ہمیں اپنا اسلامی کردار اداکرنے کی توفیق دے اور غلبہ اسلام کی بنیادیں فراہم کرنے والی زندگی اورموت عطا کرے۔ آمین !



بشکریہ ہفت روزہ ۔۔۔۔ جرار
والسلام۔۔۔ علی اوڈ
ali oadrajput
____________
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 99
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (10-06-11), فیصل ناصر (10-06-11), ھارون اعظم (10-06-11), احمد نذیر (10-06-11), عروج (10-06-11)
پرانا 10-06-11, 06:19 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اے اللہ ھمیں غلبہ ِ اسلام کی بنیادیں فراھم کرنے والی زندگی اور موت عطاکردے۔ آمین۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
عروج کا شکریہ ادا کیا گیا
dxbgraphics (10-06-11)
جواب

Tags
فروخت, کارنامے, پاکستان, پاکستانی, پسند, واقعات, قرآن, لوگ, نماز, نظر, موت, موجودہ, منافقین, مجید, امریکہ, اغوا, بچوں, داڑھی, دجال, روزہ, سرمایہ دارانہ, عیسیٰ, علی, عبادت, صدمہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ناموس رسالت قانون بدلا گیا تو حکومت نہیں بچے گی: حافظ سعید‘ عبدالرحمن مکی و دیگر ALI-OAD خبریں 3 10-06-11 08:27 PM
عراق کے برعکس لیبیا میں فوجی کارروائی ضروری ہے، سعیدہ وارثی گلاب خان خبریں 0 27-03-11 05:31 AM
ممبئی حملے : شجاع پاشا‘ حافظ سعید کی جنوری میں امریکی عدالت طلبی ALI-OAD خبریں 4 24-12-10 01:13 AM
بھارتی فلموں میں کام ۔۔۔ ہمایوں سعید محمدعدنان فلمی دنیا 0 26-07-09 07:54 AM
’ یہ جہاد نہیں فتنہ ہے‘ حافظ محمد سعید عبداللہ حیدر خبریں 3 28-09-08 12:39 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:13 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger