واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


مولانا فضل الرحمٰن کا جلسہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-01-12, 08:42 PM   #1
مولانا فضل الرحمٰن کا جلسہ
سیفی خان سیفی خان آف لائن ہے 30-01-12, 08:42 PM


مولانا فضل الرحمن نے جلسہ کیا اور کس دھڑلّے کا کیا۔ ایسا جلسہ کہ لوگ گنگ ہوکر رہ گئے۔ جلسہ کے دوران اور بعد میں بھی میرے فون پر درجنوں ایس ایم ایس آئے کہ تم لوگ منافقت کیوں کرتے ہو؟ یہیں اسی جگہ، اسی باغ قائد میں کچھ ہی دن پہلے ایک سیاسی جماعت کا جلسہ ہوا تھا تو تم میڈیا والوں کا انگ انگ رقص کررہا تھا۔ تم لوگ گھنٹوں پہلے خالی کرسیوں پر ہی کیمرے گاڑ کر بیٹھ گئے تھے۔ تم نے سات سات گھنٹے کی بے تکان نشریات دیں۔ گانے، ترانے، انٹرویوز، تقریریں، تبصرے، جائزے اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔ ایک نوجوان کے فون میں خاصی تلخی تھی۔ بولا۔ ”خدا کو حاضر ناظر جان کر بتائیں کہ یہ جلسہ عمران خان کے جلسے

سے دوگنا نہیں؟ اگر ہے تو تم لوگوں کو سانپ کیوں سونگھ گیا ہے؟ اُس وقت تو کئی گھنٹوں کے لئے آپ لوگ اُن کی تقریریں مزے لے لے کر سناتے رہے جنہیں کوئی جانتا بھی نہیں اور آج تم نے مولانا فضل الرحمن کی تقریر بھی ٹوٹے ٹوٹے کرکے سنائی۔ یہ کون ساانصاف ہے؟
دعوے کرتے ہو میڈیا آزاد ہے۔ میڈیا غیر جانبدار ہے۔ کیا یہی ہے تمہاری آزادی اور غیر جانبداری…“۔
جب سے تحریک انصاف کے طفلانِِ انقلاب، گستاخ کالم نگاروں کو راہ راست پر لانے کی اصلاحی مہم پر ہیں، میں ٹیلی فون سننے میں خاصی احتیاط کرتا ہوں۔ اکثر تو کسی اور کو تھمائے رکھتا ہوں۔ بے شناخت کالیں تو نطر انداز کردیتا ہوں لیکن پھر بھی کسی نہ کسی کی گرفت میں آہی جاتا ہوں۔ ایس ایم ایس کا پھاٹک بہرحال کھلا رہتا ہے۔ سو میں مولانا کے پرستار کی جلی کٹی سنتا رہا۔ اب میں اُسے کیسے سمجھاتا کہ مولانا فضل الرحمن اور عمران خان میں کیا فرق ہے؟ اُسے کس طرح باور کراتا کہ موسیقی‘ رنگ ونیرنگ، نسل نو کی پرکاری و طرح داری، رنگین پرچموں کی بہار، عزم انقلاب سے تمتماتے چہروں کے حسن جہاں تاب اور نغمہ و نور کی حاشیہ آرائی میں سجی تقریروں کا جادو کس طرح سرچڑھ کے بولتا ہے۔ اور اگر چار سو سفید پوشاکوں والی ایک مخلوق حد نظر تک پھیلی ہو، اُس مخلوق کے سرپر پگڑیاں اور چہروں پر داڑھیاں ہوں، تھر تھراتے بدن ہوں نہ موسیقی کی تانوں پہ جھومتے نوجوان، جھنڈے بھی محض سفید کالی پٹیوں سے آراستہ ہوں اور جلسہ گاہ میں بے ہنگم اچھل پھاند کا مظاہرہ ہو نہ دلوں میں ہلچل پیدا کردینے والے نعروں کا خروش تو پھر کئی کئی گھنٹے کے لئے کیمرے کن منظروں پہ مرکوز ہیں؟ مولانا نے تقریر سے پہلے بہت خوبصورت تلاوت کی جو دل کے تار ہلارہی تھی۔ اُن کی تقریر بھی بے حد جامع، مربوط اور منضبط تھی… لیکن ہم میڈیا والوں کی ترجیحات ذرا دوسری ہوتی ہیں۔
دلیلیں اور تاویلیں اپنی جگہ،لیکن ذرائع ابلاغ، بالخصوص الیکٹرانک میڈیا کے لئے ایک بے حد سنجیدہ سوال پیدا ہوگیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ اپنی ساکھ اوراپنا اعتبار قائم کرنے کے لئے ایسا اعتدال و توازن کیسے قائم رکھے کہ کم از کم بڑی اور قابل ذکر جماعتوں کو یہ شکایت پیدا نہ ہوکہ اُن سے غیر مساوی سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ ایک جلسے کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے جیسے زمین کے سارے طبق لرز اٹھے ہوں اور ہفت افلاک میں ارتعاش پیدا ہوگیا ہو اور چند دن بعد اُسی مقام پر، پہلے سے کہیں اور اس سے بھی کئی گنا بڑے جلسے کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جاتا ہے جیسے معمول کی کوئی بے آب ورنگ سی مشق تھی جو تمام ہوگئی۔ جلسے یا تقریروں کے مفاہیم اور دیگر پہلوؤں کا جائزہ ٹاک شوز میں لیا جاسکتا ہے جہاں منفی اور مثبت دونوں طرح کی آراء آسکتی ہیں لیکن ”رپورٹنگ“ کی حد تک ایک عمومی معیار یا ضابطہٴ اخلاق تیار کرنا ہوگا تا کہ میڈیا کا بھرم قائم رہے اور وہ کسی خاص جماعت یا گروہ کا ترجمان بن کر نہ رہ جائے۔
جب سے جلسوں کی سیاست شروع ہوئی ہے، اس نوع کی شکایتیں عام ہیں۔ بعض شکایات میں خاصا وزن بھی ہے۔ اکتوبر میں مسلم لیگ (ن) کی ریلی اور تحریک انصاف کے جلسے سے محض دو چار دن قبل اسلامی جمعیت طلبہ نے نوجوانوں کی ایک بڑی ریلی کا اہتمام کیا تھا۔ میں نے ایک دو ٹی وی چینلز پر چند لمحوں کے لئے اس کی جھلک دیکھی۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ وہ گزشتہ کئی برسوں میں نوجوانوں کی سب سے بڑی ریلی تھی۔ میڈیا(الیکٹرانک اور پرنٹ دونوں) نے اُسے بُری طرح نظر انداز کیا۔ استحکام پاکستان جلسے، عظیم الشان اجتماعات تھے جنہیں مطلوبہ وقعت نہ دی گئی۔ پشاور میں جماعت اسلامی کا جلسہ، کم از کم عمران خان کے جلسہ لاہور کا ہم پلہ تھا۔ میڈیا نے اس پر اچٹتی سی نگاہ ڈالی اور آگے بڑھ گیا۔ سکھر میں ایم کیو ایم کا جلسہ بھی گھوٹکی میں شاہ محمود قریشی کے جلسے سے کم نہ تھا۔ گو جرانوالہ میں مسلم لیگ (ن) کا جلسہ، شہر کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ بتایا جاتا ہے، لیکن آیا اور گزرگیا۔ کئی اور بڑے بڑے اجتماعات بھی ہوئے ہیں جو اس وقت مجھے یاد نہیں آرہے لیکن اُنہیں اتنی پذیرائی نہ ملی جتنی کے وہ حقدار تھے۔ ان میں اے این پی کا ایک حالیہ اجتماع بھی شمار کیا جاسکتا ہے۔
انتخابات،ا سی سال کے آخر میں ہوں، یا اگلے سال کے اوائل میں، انتخابی مہم شروع ہوچکی ہے۔ ہمارے ہاں عوامی اجتماعات، انتخابی مہم کا سب سے اہم جزو ہوتے ہیں۔ عمران خان کے جلسہ لاہور کی کوریج کے بعد میڈیا نے ایک خاص معیار قائم کردیا ہے۔ اس ”معیار“ میں پیشہ وارانہ تقاضوں سے کہیں زیادہ بعض میڈیا گروپس کا اپنا جنون اور والہانہ پن بھی شامل ہوگیا۔ اب دوسری بڑی جماعتیں بھی یہی توقع کرنے لگی ہیں۔ اس توقع کو بے جا نہیں کہا جاسکتا۔پہلے جلسے دیکھے جاتے تھے، اب دکھائے جاتے ہیں۔ جلسہ گاہ میں موجود لوگ تو اپنے اندازے لگاتے رہتے ہیں لیکن کئی کوس دور اپنے گھروں میں بیٹھے لوگ وہی کچھ دیکھتے ہیں جو دکھایا جاتا ہے۔ کیمرہ چاہے تو کسی کونے میں پڑی چار چھ کرسیوں سے دل بہلاتا رہے، چاہے تو مجمعے کو بے کراں سمندر بنا کر پیش کرتا رہے۔ ان تمام عوامل کو پیش نظر رکھتے ہوئے، ابھی سے جلسوں کی کوریج کی ایک
ضابطہ بندی کرلینی چا ہئے تاکہ میڈیا، ایک جانبدار کردار نظر آنے کے بجائے، کم از کم جلسوں کی رپورٹنگ کی حدتک بے لاگ اور معروضی دکھائی دے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یقیناً خود میڈیا کو ہوگا۔ اگر میڈیا نے از خود ایسا نہ کیا تو مجھے ڈر ہے کہ عدلیہ یا الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کرنا پڑیں گی۔ مولانا فضل الرحمن کی تقریر پر پھر کسی وقت بات ہوگی لیکن آج اُنہیں ہدیہٴ تبریک پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔ کچھ دن قبل کسی رپورٹر نے پوچھا تھا۔ ”مولانا کراچی میں کیا آپ عمران خان جتنا جلسہ کرلیں گے“۔

مولانا نے اپنے چہرے پر روایتی معصوم مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے فرمایا تھا۔ ” پتہ نہیں اُس جتنا یا اُس سے بڑا…“۔ انہوں نی یقیناً اُس سے کہیں بڑا جلسہ کردکھایا ہے۔ اور وہ بھی اُن معاون عوامل کے بغیر جو خان صاحب کو حاصل تھے۔ چوہدری شجاعت حسین نے اُنہیں بڑی فراخ قلبی سے مبارک باد دی ہے۔ کاش سید منورحسن اور برادرم لیاقت بلوچ بھی اُسی طرح مولانا کو مبارک باد دینے پہنچ جاتے جس طرح وہ جلسہ لاہور کے بعد آدھی رات کو زمان پارک پہنچ گئے تھے۔

مولانا فضل الرحٰمن کا جلسہ
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/

 
سیفی خان's Avatar
سیفی خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 100
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (30-01-12), ھارون اعظم (30-01-12), بنت حوا (31-01-12), شمشاد احمد (30-01-12)
پرانا 30-01-12, 11:57 PM   #2
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,671
شکریہ: 9,130
3,925 مراسلہ میں 13,137 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سيفي بھائي خوشد آمديد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واقعي مولانا نے تو كمال كي ٹانگيں ہي توڑ دي ہيں۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
بنت حوا (31-01-12), سیفی خان (31-01-12)
پرانا 31-01-12, 06:45 AM   #3
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,441
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
سيفي بھائي خوشد آمديد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واقعي مولانا نے تو كمال كي ٹانگيں ہي توڑ دي ہيں۔۔۔۔
شکریہ شمشاد بھائی ۔ ۔ ۔ اور یہ کمال یا جمال کا نام نہ لیں کیونکہ اس سے پھسوڑی پڑتی ہے ۔ ۔ ۔نو پسوڑی ۔ ۔ ۔

Last edited by سیفی خان; 31-01-12 at 06:49 AM.
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:14 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger