واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


مچھلی کے جائے کو کون تیرنا سیکھائے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-03-10, 07:33 PM   #1
مچھلی کے جائے کو کون تیرنا سیکھائے
بزم خیال بزم خیال آف لائن ہے 24-03-10, 07:33 PM

تحریر : محمودالحق

کسی بھی اچھی عادت کو اپنانے کے لئے یاد دہانی کا عمل بار بار دہرایا جائے۔ تو مکمل اختیار کرنے میں بھی ایک عرصہ درکار ہوتا ہے ۔کیونکہ اس میں فائدہ و نقصان کے اسباب کو پہلے مد نظر رکھا جاتا ہے ۔تا وقتکہ اس میں خوف و جزا کا عنصر بھی نہ شامل کر دیا جائے ۔مثال کے طور پر کسی گھر میں بڑے نماز و روزہ کے پابند ہوں ۔ تو بچے صرف سال ہا سال دیکھنے سے راغب نہیں ہوتے ۔ بلکہ انہیں باربار یاد دہانی کروائی جاتی ہے ۔اور بعض اوقات سزا و جزا کا مفہوم تفصیل سے سمجھایا جاتا ہے ۔یہی نہیں کسی بھی اچھی بات کو ذہن نشین کرانا مقصود ہو تو بار بار تلقین کی جاتی ہے ۔چاہے وہ سچ بولنا ہو ۔ایمانداری سے تولنا ہو ۔یا رشتوں کو محبت کی ڈوری سے کھولنا ہو ۔ہر کام کو پہلے بتایا پھر سمجھایا آخر میں ڈرایا جاتا ہے ۔تب جا کر وہ بات ذہن میں جگہ بنا پاتی ہے ۔
انسانی سوچ میں یہی رویہ جوسمجھنے سمجھانے میں ہی زندگی کا ایک حصہ خرچ کر دیتا ہے بہت اہمیت کا حامل ہے ۔اور اس کے مقابلے میں اگر کسی گھر میں باپ جوا شراب کارسیا ہو تو بیٹے کو کرنے کے لئے یاددہانی کی ضرورت ہی نہیں ۔نہ ہی سال ہا سال کے انتظار کی اذیت ۔ بچوں میں فوری قبولیت کا عنصر ایسے غالب آتا ہے کہ کہنے والے کہہ دیتے ہیں ۔ کہ مچھلی کے جائے کو کون تیرنا سیکھائے ۔ کیونکہ تیرنا اس کی فطرت میں ہے ۔
مگر انسانی سوچ کا سمندر ایسے بھاری پانی پر بہاتا ہے ۔ کہ ہر بری صحبت میں اختیار کی جانے والی عادت خود ہی تیراکی سیکھ لیتی ہے ۔مگر اس کے مقابل اچھائی غوطے پہ غوطہ کھاتی سیکھنے سیکھانے میں عمر کا ایک حصہ کھا جاتی ہے ۔اب اسی ایک بات کو لے لیں ۔کہ گھڑی کی سوئیاں ہر سال ایک گھنٹہ آگے پیچھے کرنے کا عمل کئی بار دہرانے کے بعد بھی قبولیت عام حاصل نہیں کر پایا ۔ جو آنکھوں سے دیکھائی نہ دے ایسے فائدے کو تسلیم کرنا بھی ایک کام رکھتا ہے ۔حالانکہ غور طلب بات یہ ہے ۔ کہ جن ملکوں میں یہ سسٹم رائج ہے یعنی سوئیاں ایک گھنٹہ آگے پیچھے کرنے کا ۔ وہاں بجلی کبھی نہیں جاتی ۔ مگر پھر بھی وہ دن کی روشنی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کو فوقیت دیتے ہیں ۔اس کے مقابلے میں وہ ملک جہاں بجلی 12 سے 18 گھنٹے بند رہتی ہے ۔ وہ سال میں دو بار اس بحث میں الجھے رہتے ہیں کہ گھنٹہ کے آگے پیچھے کرنے سے زندگی کے تسلسل میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر دوکانیں اور مارکیٹیں بجلی کی بچت کے لئے جلد بند کرنے کا کہا جائے ۔ تو جلوس نکل آتے ہیں ۔ کاروبار میں نفع و نقصان کا تخمینہ لگایا جاتا ہے ۔ اور اگر دیر تک کھولنے کی اجازت فراہم کی جائے تو لٹنے والے اور لوٹنے والے دونوں ہی خوش رہتے ہیں ۔
بنیادی طور پر اگر دیکھا جائے تو جو بھی عمل اجتماعیت کو فروغ دینے کے متعلق ہو ۔وہ پزیرائی حاصل نہیں کر پاتا ۔ اور جو انفرادیت میں فروغ پائے وہ سند قبولیت جلد پاتا ہے ۔ اگر غور کیا جائے تو ایک ہی فرق معلوم ہوتا ہےکہ جن قوموں میں اجتماعیت کا فقدان ہو جائے وہ انفرادی زندگی کے قبول اصول پر معاشرتی اقدار قائم کرتی ہیں ۔ پھر وہاں قیادت بھی انہی میں سے ابھرتی ہے ۔ جو انفرادی حیثیت میں بحیثیت قوم کے فرض منصبی سے عہدہ براء نہیں ہو پاتے ۔



نوٹ : یہ مضمون لکھنے کی تحریک پاک نیٹ پر سوئیوں کے گھنٹہ آگے پیچھے کرنے سے متعلق تین دھاگوں سے ہوئی ۔
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا

 
بزم خیال's Avatar
بزم خیال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 214
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-03-10), فیصل ناصر (24-03-10), پاکستانی (24-03-10), نورالدین (24-03-10), منتظمین (24-03-10), ام طلحہ (25-03-10), راجہ اکرام (25-03-10), عبداللہ حیدر (24-03-10)
پرانا 24-03-10, 07:56 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
shafresha (24-03-10), بزم خیال (26-03-10), راجہ اکرام (25-03-10)
پرانا 25-03-10, 10:40 AM   #3
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,659
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت بہترین تحریر محمود بھائی!!
کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے میں واقعی سیاست میں آجاؤں۔ شاید کچھ تو ٹھیک کر پاؤں۔کیا ھل ہے ان مسائل کا، سمجھ سے بالاتر ہے۔الامان الحفیظ
__________________
یا اللہ!! تمام دنیا سے قوم یہود کو اپنی ناپاک سوچ سمیت نیست و نابود کر دے۔ اس قوم کا نام و نشان ہی مٹا دے۔ آمین ثم آمین
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
بزم خیال (26-03-10), راجہ اکرام (25-03-10)
پرانا 25-03-10, 07:26 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہترین محمود بھائی
بہت اچھی نشاندہی کی ہے آپ نے اس رویے کی کہ کس طرح اجتماعیت کے بجائے انفرادیت کی سوچ پروان چڑھ چکی ہے ، اور ہر اس فیصلے کو رد کر دیا جاتا ہے جو اجتماعیت کے مفاد میں ہو۔

اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (26-03-10)
پرانا 26-03-10, 07:57 PM   #5
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ام طلحہ مراسلہ دیکھیں
بہت بہترین تحریر محمود بھائی!!
کبھی کبھی میرا دل چاہتا ہے میں واقعی سیاست میں آجاؤں۔ شاید کچھ تو ٹھیک کر پاؤں۔کیا ھل ہے ان مسائل کا، سمجھ سے بالاتر ہے۔الامان الحفیظ
شکریہ ام طلحہ بہن !!!
ہر درد دل رکھنے والا ایسی ہی سوچ رکھتا ہے مگر ٹھیک کرنے کی نیت سے اگر آپ سیاست میں آنا چاہیں تو ٹھیک کر دئیے جاتے ہیں ۔ با اصول سیاستدان کی اولاد اسے چھوڑ جاتی ہے ۔ کبھی موقع ملا تو تفصیل سے اس پر لکھوں گا کہ سیاسی پارٹی کا صدر وزیر اعظم ہو اور اسی پارٹی کا فنانس سیکرٹری اپنے ایم اے اکنامکس پاس بھائی کی درخواست جیب سے نہ نکال پائے کہ لوگ کیا سوچیں گے ذاتی مفاد لے رہا ہے ۔ اور اپنی ذاتی زندگی کی کمائی میں صرف 99 سالہ لیز کا مکان چھوڑے ۔ تو ایسے شخص کو آج کیا کہا جاتا ہے۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-03-10, 08:07 PM   #6
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
بہترین محمود بھائی
بہت اچھی نشاندہی کی ہے آپ نے اس رویے کی کہ کس طرح اجتماعیت کے بجائے انفرادیت کی سوچ پروان چڑھ چکی ہے ، اور ہر اس فیصلے کو رد کر دیا جاتا ہے جو اجتماعیت کے مفاد میں ہو۔

اللہ کرے زور قلم اور زیادہ
بہت شکریہ راجہ اکرام بھائی
ہمارے چاروں طرف خانگی مسائل سے لیکر معاشرتی و سیاسی مسائل تک ایسی ہی سوچ گھیرا ڈالے ہوئے ہے ۔ ایک نظر تو ڈالیں نیٹ کی دنیا میں ۔ ہمارے جیسوں کی کیا درگت بنتی ہے ۔
چند روز ہوئے ایسے ہی پاک نیٹ پہ جائزہ لے رہا تھا ۔ 2200 سے کچھ زیادہ پاکستانی ایک ہی وقت میں آن لائن تھے ۔ یقین مانیں ڈھونڈنے پر 2100 سے زیادہ گپ شپ کے فورم میں پائے گئے ۔ غیر سنجیدگی یا تفریع طبع ۔ وقت گزاری رہ گئی ہے ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, فوری, فرض, گھر, پاک, نماز, نظر, مکمل, محبت, معلوم, بچوں, تحریر, جوا, جلد, خوش, روزہ, زندگی, سال, طلب, عنصر, عادت, عرصہ, غور, غالب, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تیری یادوں سے کیا نہیں سیکھا سیپ شاعری اور مصوری 2 12-01-11 10:53 PM
بجلی کا بحران سابقہ حکومت کے ناکافی اقدامات کا نتیجہ ہے،سلیم سیف اللہ عبدالقدوس خبریں 0 17-04-08 09:16 AM
آرٹ کو پروفیشن کے طور پر اختیار کیا جا سکتا ہے، سیماب ارضم عبدالقدوس خبریں 0 23-11-07 09:50 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:15 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger