واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


مہاجرین سوات کے خلاف ہڑتال۔ ایک المیہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-06-09, 05:11 PM   #1
مہاجرین سوات کے خلاف ہڑتال۔ ایک المیہ
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 15-06-09, 05:11 PM

اکرام الحق
ہر قوم اور علاقے کی کچھ خصوصیات ہوتی ہیں جو اس کی پہچان ہوا کرتی ہیں ۔ تاریخ اسے ان خصوصیات سے یاد رکھتی ہے۔ پاکستان بالعموم اور صوبہ سند ھ بالخصوص دیگر بے شمار خصوصیات کے ساتھ ساتھ مہمان نوازی کی خوبی سے مشہور تھا۔ تقسیم بر صغیر، جہاد افغانستان اور جہاد کشمیر کے وقت اس خطے کی عوام نے مہمانوازی کی وہ درخشاں مثالیں قائم کیں کہ ہجرت مدینہ کے بعد سے تا دم تحریر ایسی مثال کہیں نہیں ملتی۔ شاید یہی خوبی اور ان مہاجرین کی دعاو ¿ں ہی کا نتیجہ ہے جس کے باعث وطن عزیز ہزار ہا سازشوں کے باوجود نہ صرف قائم ہے بلکہ تمام تر کمزوریوں کے باوجود دشمن کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔
مگر وقت اور حالات جہاں اور بہت سی چیزوں کو بدل دیتے ہیں وہیں عادات و اطوار اور رسم و رواج پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہی حال اس خطے کے باسیوں کا بھی ہوا۔ ایک طرف کرپشن، لالچ ، بے ایمانی اور فرقہ واریت جیسی بیماریاں در آئی ہیں تو دوسری طرف اخلاص ، ایثار اور مہمان نوازی جیسی خصوصیات رخصت ہو گئیں۔
ایسی تبدیلیاں اگرچہ انتہائی غیر محسوس انداز میں ہوتی ہیں لیکن کچھ واقعات ایسے رونما ہو جاتے ہیں کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالی ستار العیوب ہے، مہلت دیتا ہے کہ شاید لوٹ آئیں لیکن جب بات حد سے گزر جائے، واپسی کی امید ختم ہو جائے تو حالات پلٹا کھاتے ہیں اور امتحان شروع ہوتا ہے جو سفید اور سیاہ کو الگ کر دیتا ہے۔
یہی کچھ پاکستان میں ہوا۔ جب خوبیاں بتدریج خامیوں میں بدلنے لگیں تو پھر امتحان پیش آیا اور انتہائی سخت امتحان۔۔۔ بیک وقت تیس لاکھ سے زائد افراد اپنے ہی ملک میں مہاجر ہو گئے۔ لیکن بد قسمتی سے ہم اس امتحان میں بری طرح سے ناکام ہو گئے۔اپنے ہی لوگوں کو سہارا دینے سے کنارہ کرنے لگے، مصیبت اور پریشانی کے اس عالم میں ہم نے بے سرو سامان خاندانوں کو قسمت کے سپر د کر دیا۔ اخوت و مروت عنقا ہو گئی۔ مکانوں کے کرائے، اشیاءخو ردو نوش ، اور حمل و نقل کے کرائے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔
ان سب باتوں کو تو کسی حد تک نظر انداز کیا جا سکتا ہے کیوں کہ اپنے ہم جنسوں کی مجبوری سے بھرپور فائدہ اٹھانا انسان کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔
لیکن جو کچھ کراچی اور سند ھ میں ہوا وہ اتنا شرمناک ہے کہ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اگرہم اخلاقی پستی میں اس حد تک گر چکے ہیں کہ ہم اپنے بھائیوں کی مدد نہیں کر سکتے، انہیں سہارا نہیں دے سکتے ، تو کم از کم انہیں اتنا تو آزاد چھوڑ سکتے ہیں کہ خود اپنے لیے کچھ کر سکیں۔ تلاش معاش کے لئے آزاد وطن کے آزاد شہریوں کو اتنی تو آزادی ہو کہ وہ جہاں چاہیں محنت کر کے اپنی اور خاندان کی باعزت روزی روٹی کا انتظام و انصرام کر سکیں۔
ان حالات میں بے گھر ہونے والے خاندانوں کی طرف سے اپنی مدد آپ کے تحت مختلف علاقوں میں جا کر آباد ہونا بجائے خود ایک مستحسن اقدام ہے۔ کیوں کہ مہاجر کیمپوں میں نہ تو اتنے وسائل ہیں اور نہ ہی انتظامات کہ بیک وقت اتنی بڑی تعداد کوسنبھالا دے سکیں۔
حکومت کو چاہیے کہ اس طرح کی خود دار افراد اور خاندانوں کی مشکلات کو حل کرے تاکہ حالت نزع میں پہنچی ہوئی ملکی معیشت اور افلاس زدہ قومی خزانے پر مزید بوجھ نہ پڑے۔
صرف سند ھ یا کراچی ہی نہیں بلکہ ملک بھر کے کسی بھی شہر یا دیہات میں اگر یہ مصیبت کے مارے، جو اپنا آج ہمارے کل پر قربان کر چکے ہیں، آئیں تو انکا بھرپور ساتھ دینا چاہئے۔ اور اس کے اجر کی امید اللہ رب العزت سے کرنی چاہئے۔
اللہ سے دعا ہے وطن عزیز اور اہل وطن کو تمام مشکلات اور آزمائشوں سے نجات دلائے۔ ایک بار پھر وطن عزیز امن و آشتی کا گہوارا ہو۔ آمین

کوئی دکھ نہ ہو کوئی غم نہ ہو
کوئی آنکھ کبھی پر نم نہ ہو
کوئی دل کسی کا توڑے نا
اور ساتھ کسی کا چھوڑے نا
بس پیار کی ندیا پہتی ہو
اور گیت وفا کے کہتی ہو
کاش کے دنیا ایسی ہو
کاش كہ پاکستان ایسا ہو
کاش کہ پاکستان ایسا ہو
__________________
محتاج اصلاح و دعا


 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 241
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (16-06-09), ایس اے نقوی (17-06-09), دین محمد وطن پال (15-06-09), رضی (18-06-09), سحر (20-08-09)
پرانا 15-06-09, 05:23 PM   #2
Senior Member
 
دین محمد وطن پال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 412
کمائي: 7,625
شکریہ: 710
324 مراسلہ میں 785 بارشکریہ ادا کیا گیا
دین محمد وطن پال کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں دین محمد وطن پال کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
کوئی دکھ نہ ہو کوئی غم نہ ہو
کوئی آنکھ کبھی پر نم نہ ہو
کوئی دل کسی کا توڑے نا
اور ساتھ کسی کا چھوڑے نا
بس پیار کی ندیا پہتی ہو
اور گیت وفا کے کہتی ہو
کاش کے دنیا ایسی ہو
کاش كہ پاکستان ایسا ہو
کاش کہ پاکستان ایسا ہو

راجہ اکرم صاحب آپ کا شکریہ کہ ایک اایسی موضوع زیر بحث لانے کی کوشش کی جوکہ پورے پاکستانی قوم کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے
اور دوسری بات رائٹر کی ہے جس میں انہوں نے سوات مہاجرین کے عنوان سے مضمون لکھا اپنے ہی ملک میں کوئی مہاجر نہیں ہوتھا مجھے افسوس ہے کہ ہمارے اپنے لوگ ہی ہمیں مہاجر پکارتے ہیں تو دوسروں سے گلہ کریں
جیسا کہ علامہ اقبال کہتے ہیں

ہمیں تو اپنوں نے لوٹاغیروں میں کہا دم تھا
میری کشتی ڈوبی وہاں جہاں پانی کم تھا


اوراس آخری شعر میں شاعر نے جس انداز غم اور دکھ کا اظہار کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی
دین محمد وطن پال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے دین محمد وطن پال کا شکریہ ادا کیا
ایس اے نقوی (17-06-09), راجہ اکرام (15-06-09)
پرانا 16-06-09, 09:33 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سر ورق پر پیش کریں ۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 17-06-09, 11:28 AM   #4
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماشاءاللہ بہت اچھی تحریر لکھی ہے آپ نے
راجا صاحب بات یہ ہے کہ پاکستان بڑی مشکلوں سے ملا مگر ہمارے باعث حکمرانوں نے اسکی اہمیت نہیں کی جس کا نیتجہ یہ نکلا کہ آج ہم اور ہمارے اپنے
اپنے ہی ملک میں بے آسرا ہیں بے یارو مددگار ہیں اور بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں
اور جہاں تک بات ہی انکی کے انکو ذرئعہ معاش فراہم کیا جائے تو حکمران طبقہ اپنا پیٹ پالے کہ غریب مزدور کا پیٹ پالے
راجا صاحب ہمارے حکمران اگر چاہیں تو بہت جلدی ملکی حالات بہتر ہو سکتے ہیں اور اس میں عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے
مگر افسوس کہ نہ ہمارے حکمران چاہتے ہیں اور نہ ہی ہم
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (17-06-09)
پرانا 17-06-09, 11:45 AM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

انجم شاہ جی حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ۔
حالات یقینا مزید سنگینی کی طرف جا رہے ہیں۔ اور ہمارے ارباب اقتدار سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر ہے۔ عوام کو ہی کچھ کرنا ہے۔ لیکن کب یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔

۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 17-06-09, 12:01 PM   #6
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

راجا صاحب اللہ نے انسان نے عقل و شعور دیا ہوا ہے انسان کو اپنی عقل سے بھی کام لینا چاہیئے
دیکھو بھائی جب ہم ریل کی پٹڑی پر لیٹ جائیں اور کہیں کہ ٹرین ہمارے اوپر سے گزر جائے گی اور ہم بچ جائیں گے اللہ ہم کو بچانے والا ہے
تو بھائی میرے اللہ نے عقل دی اور کہا کہ اپنی عقل کا استعمال کرو
ہم اللہ کےلئے کرتے کیا ہے
گناہوں کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ہر وہ فعل جو منع کی گیا ہے ہم کرتے ہیں
نما پڑھتے ہیں تو صرف پڑھتے ہیں قائم نہیں رکھتے
جبکہ حکم ہے کہ نماز قائم کرو یعنی پڑھو اور اسکو قائم رکھو جو نماز کا مقصد ہے
ہم اشرف المخلوقات ہیں اپنی عقل سے کچھ نہیں کرتے اسی لئے سماج دشمن عناصر ہمارے درپے ہیں شکریہ
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (18-06-09), راجہ اکرام (17-06-09)
پرانا 17-06-09, 07:10 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,276
شکریہ: 0
371 مراسلہ میں 828 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عوام‌خود بھوکی مر رہی ہے۔ وہ مہاجرین کیا خدمت کرے گی؟
arifkarim آف لائن ہے   Reply With Quote
arifkarim کا شکریہ ادا کیا گیا
راجہ اکرام (18-06-09)
پرانا 18-06-09, 08:11 AM   #8
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عارف کریم بھائی
خدمت کے لئے دیگر اشیاء کے مقابلے میں‌ جذبے کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
منتظمین (18-06-09)
جواب

Tags
color, فرقہ واریت, کراچی, پہچان, پاکستان, پاکستانی, وفا, واقعات, لوگ, نظر, آج, اللہ, انسان, امتحان, تلاش, تحریر, حل, خلاف, دل, شعر, عالم, عزیز, غم, صوبہ, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
زندگی انسان کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں۔دم ھوا کی موج ھے رم کے سوا کچھ بھ نہیں ۔گل تبسم کہہ رھا تھا عروج شاعر مشرق علامہ اقبال 9 15-05-11 01:07 PM
سپریم کورٹ کے حکم پر 2 رینٹل پاور کمپنیوں نے 24 گھنٹوں کے اندر سوا 2 ارب روپے بمع سود واپس کردئیے گلاب خان خبریں 0 09-12-10 05:22 AM
بیت اللہ محسود نے خاموشی اختیار کر لی:حکیم اللہ محسود کا دعویٰ حیدر خبریں 6 13-08-09 11:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:15 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger