واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ناروے کا صلیبی دہشت گرد

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-08-11, 05:31 PM   #1
ناروے کا صلیبی دہشت گرد
ALI-OAD ALI-OAD آف لائن ہے 02-08-11, 05:31 PM

بھورے بالوں والا دراز قد پولیس کی وردی میں ملبوس 25-30 سالہ شخص جس کے دل میں اسلام دشمنی اور نفرت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے یہ کوئی اور نہیں عیسائی انتہا پسند اور صلیبی دہشت گرد آندرے بیرنگ بریوک ہے۔
یہ انٹر نیٹ پر آن لائن فورمز میں حصہ لیتا جہاں وہ شدید قوم پرستانہ خیالات کا اظہار کرتا اور دیگر مذاہب پر تنقید کرتا۔ ناروے کے شہر اوسلو میں پیدا ہونے والے اس دہشت گرد نے اوسلو سکول آف مینجمنٹ سے تعلیم حاصل کی۔ بعد میں اوسلو کو چھوڑ کر زرعی کمپنی قائم کی جہاں وہ سبزیاں، تربوز وغیرہ کاشت کرتا تھا۔ زرعی فارم کے مالک ہونے کی حیثیت سے وہ بڑے پیمانے پر مصنوعی کھاد حاصل کر سکتا تھا جسے اس نے بم بنانے میں استعمال کیا۔
انٹر نیٹ پر فیس بک اور ٹوئٹر پراپنے خیالات کا اظہار کرتا اور روزمرہ کے اپنے کام اور مقاصد بھی تحریر کرتا۔ لیکن اس کے ان دہشت گردانہ اقدامات کا کوئی نوٹس نہ لیا گیا کیونکہ وہ مسلمان نہیں تھا اور ساری دنیا کے نزدیک دہشت گرد تو صرف مسلمان ہوتے ہیں، چاہے وہ جتنے بھی امن پسند کیوں نہ ہوں۔
اس دہشت گرد نے مئی 2002ءکو یورپ کے ”نائٹ ٹیمپلز“ میں شمولیت اختیار کی۔ ”نائٹ ٹیمپلز“ یورپ میں ایسی تحریک ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بنائی گئی ہے تاکہ اسلامائزیشن کا مقابلہ کیا جا سکے۔
جی ہاں! یورپ میں بھی انتہا پسند تنظیمیں موجود ہیں، جن پر پابندی نہیں لگتی کیونکہ وہ اسلام کے خلاف ہیں اور عیسائیت کے نام پر عمل پیرا ہیں جبکہ ہمارے ملک میں فلاحی تنظیموں، مدرسوں اور علماءپر امریکی و بھارتی دباﺅ پر پابندی لگا دی جاتی ہیں۔
اسی صلیبی دہشت گرد نے اس تنظیم میں شامل ہونے کے بعد طریقہءواردات سوچا، اپنی صحت کو بہتر بنایا حسب ضرورت اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد حاصل کیا۔ اپنے آپ کو تاجر اور بزنس مین ظاہر کرتے ہوئے ایک کان کنی کی کمپنی کھولی اور زرعی فارم بھی بنایا اور اس کی آڑ میں بارود اور دھماکہ خیز مواد تیار کیا۔
پھر اس نے ایک بلٹ پروٹ جیکٹ حاصل کی اور رائفل اور گلاک پسٹل حاصل کر کے ایک صندوق کے اندر سارا اسلحہ رکھا اور ایک جنگل میں چھپانے میں کامیاب ہو گیا۔
اب اگلا مرحلہ بم تیار کرنے کا تھا۔ اس کے لئے اس نے انٹرنیٹ پر ہی ایک کمپنی کو کیمیکل کا آرڈر دیا۔ اس کے ساتھ ہی مزید پانچ، چھ، چیزوں کا آرڈر بھی دیا جو بم بنانے میں استعمال ہونی تھیں۔ اس دوران وہ پکڑے جانے کے خوف میں بھی مبتلا رہا اور اس کے اپنے ہی بیان کے مطابق وہ جب فارغ ہوتا تو وہ اپنے پٹھوں کو مضبوط بناتا، سخت تربیت کرتا تاکہ وہ اعصابی طور پر بھی مضبوط ہو سکے اور اپنے دل کو سکون دینے کے لئے شراب نوشی بھی کرتا، مگر سکون کہاں حاصل ہوتا۔
اصلی سکون تو اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے مجاہد کو نصیب ہوتا ہے جو ظالموں کے ظلم کے خلاف جہاد کرتے ہوئے ان ظالموں کی چوکیوں کے نیچے بھی سکون سے اپنی نیند پوری کر لیتے ہیں۔
اس دہشت گرد آندرے بیرنگ اوراس کی تنظیم کا مقصد وہاں کی برسراقتدار پارٹی کے کارکنوں اور وزیراعظم جینز سٹولن برگ کو نشانہ بنانا تھا کیونکہ وہ ناروے میں بسنے والے مسلمانوں کو ان کا حق اور آزادی دینے کے قائل ہیں۔ اس برسراقتدار پارٹی کے موسم گرما میں ہونے والے کیمپ میں نوجوان کارکنان شامل تھے اور وزیراعظم کا خطاب بھی ہونا تھا۔
آندرے بیرنگ نے پہلے اوسلو میں بم دھماکہ کیا جس سے وزیراعظم کے دفاتر اور قریبی عمارتوں کی کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔
اس کے بعد اس نے اس جلسے میں شرکت کرنے والے نوجوانوں پر اندھا دھند فائرنگ کی اور اس واقعے میں تقریباً 98 ہلاکتیں ہوئیں۔ چھ سو لوگوں کے اس جلسے میں بھگدڑ مچ گئی کئی لوگوں نے بیت الخلاءمیں چھپ کر جان بچائی اور کئی نے سمندر میں چھلانگ لگا دی اور یہ اس قدر سخت دل اور بے رحم دہشت گرد تھا کہ اس نے اپنی رائفل اور پسٹل سے پانی میں ہی ان لوگوں پر گولیاں برسائیں اور کچھ لوگوں کو گھیرے میں لے کر گولیوں سے چھلنی کر دیا۔
تمام مغربی ٹی وی چینلز اور صہیونی میڈیا نے بغیر تصدیق کئے پروپیگنڈا شروع کر دیا کہ مسلمان دہشت گرد نے دھماکے کر دیئے جبکہ بعد میں پتا چلا کہ یہ ایک صلیبی دہشت گرد ہے۔ اس دہشت گرد اور اسلام مخالف تنظیم ”نائٹ ٹیمپلز“ کا مقصد حکومت کو اپنے مقاصد کی طرف متوجہ کرنا ہے تاکہ وہاں کے حکمران مسلمانوں کے خلاف سخت اقدامات کریں۔ مسلمانوں کا وہاں امن سے رہنا ان کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ ان بم دھماکوں اور فائرنگ سے ہلاک ہونے والے 90 لوگ اس تنظیم کی طرف سے ایک وارننگ ہے۔ آگے چل کر یہ مسلمانوں کو بھی نشانہ بنائیں گے۔ ایسی دہشت گرد تنظیم اقوام متحدہ کو نظر کیوں نہیں آتی....؟ اس پر پابندی کیوں نہیں لگائی گئی....؟ امن پسند ہونے کے دعویدار اب کیوں چپ ہیں....؟
مسلمان ممالک کو اس پر پُرزور احتجاج کرنا چاہئے تاکہ اس طرح کی دہشت گرد تنظیموں پر پابندی لگائی جائے جو کہ یورپ، امریکہ اور بھارت میں اپنے مذموم مقاصد پر عمل کر رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو متحد اور اتفاق سے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین



بشکریہ ،، ہفت روزہ جرار
والسلام ،، علی اوڈ راجپوت
ali oadrajput
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 138
Reply With Quote
ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (02-08-11)
جواب

Tags
فورمز, فارم, پولیس, پسند, وزیراعظم, نفرت, نیند, ناروے, نظر, مقابلہ, اقوام متحدہ, اللہ, انٹرنیٹ, امریکہ, احتجاج, اسلام, تعلیم, خلاف, دھماکہ, دل, روزہ, شہر, شخص, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:21 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger