واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ناکامیوں کی طرف لے جانیوالی کامیابیاں!,,,,,عطاالحق قاسمی…روزن دیوار سے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-01-08, 09:24 AM   #1
ناکامیوں کی طرف لے جانیوالی کامیابیاں!,,,,,عطاالحق قاسمی…روزن دیوار سے
خرم شہزاد خرم خرم شہزاد خرم آف لائن ہے 05-01-08, 09:24 AM

ناکامیوں کی طرف لے جانیوالی کامیابیاں!,,,,,عطاالحق قاسمی…روزن دیوار سے



ارشد میرا دوست تھا، پھر وہ میرا استاد بن گیا اور استاد ہونے کی وجہ سے میری نظروں میں اس کا درجہ والد جیسا ہوگیا اور پھر میں نے ایک ہونہار شاگرد بلکہ سعادت مند اولاد کی طرح اس کی ہر بات کو اپنے لئے حکم جاننا شروع کردیا۔ ارشد کے دوست سے استاد بننے کا مرحلہ چند منٹوں میں طے ہوا تھا، میں نے ایک دن اسے کہا ”میں ایک معمولی وکیل ہوں، ترقی کرنا چاہتاہوں، کیاکروں؟“ اس نے جواب دیا ”ترقی کرنا کونسا مشکل کام ہے میری شاگردی اختیار کرو، دنوں میں ترقی کی منزلیں طے کرنے لگو گے“۔ چنانچہ میں اس کا شاگردبن گیا۔ میں ایک دن اس کے سامنے دوزانو موٴدب بیٹھا تھا، میں نے عاجزی سے گڑگڑاتے ہوئے کہا”یا استاد، گھر میں افلاس نے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، کیاکروں؟“ اس نے پوچھا ”کیا تمہارے پاس کوئی کلائنٹ نہیں ہے؟“ میں نے جواب دیا ایک نہیں کتنے ہی ہیں مگر میں ان کا کیس نہیں لیتا“ اس نے حیرت سے پوچھا، وہ کیوں؟ میں نے اسے بتایا کہ یہ سب بے ایمان لوگ ہیں، کسی نے کسی کے پلاٹ پر قبضہ کیا ہواہے، کوئی قاتل ہے، کوئی کسی کی بہن کو اغواکرکے بردہ فروشوں کے ہاتھ بیچ چکا ہے اور کوئی جعلی ادویات تیار کرنے کے الزام میں اندر ہے“ ارشد نے کہا ”تو پھر کیا ہوا تم نے قانون کی کتابوں میں سے ان کی رہائی کے راستے نکالنے ہیں، یہ تمہارا پیشہ ہے اورتمہیں اپنے پیشے کے ساتھ آنیسٹ (honest) ہونا چاہئے“ میں نے عرض کیا استاد محترم، پیشے کے ساتھ دیانت دکھاتے دکھاتے میں خدا کی نظروں میں بددیانت ہو جاؤں گا! اس نے پوچھا تم جو خدا کے حقوق ہیں ادا کرتے ہو؟میں نے کہا ”ہاں الحمدللہ پانچ وقت نماز پڑھتا ہوں، تیس روزے رکھتا ہوں، زکوٰة بھی ادا کیا کرتا تھا مگر اب استطاعت نہیں، حج اور عمرہ بھی کیا ہوا ہے“ یہ سن کر ارشد بہت خوش ہوا اور بولا ”تو پریشانی کس بات کی ہے؟ اسلام میں دین اور دنیا کوئی الگ الگ چیزیں نہیں ہیں، دین داری تم میں ہے، صرف دنیاداری کی کمی ہے یہ کمی دورکرو، تمہارے سارے دکھ دور ہو جائیں گے“۔ ارشد کی یہ بات میرے دل کو لگی، میں نے سوچا وکالت میرا پیشہ اور نماز میرا فرض ہے چنانچہ مجھے اپنی یہ دونوں ذمہ داریاں بیک وقت نبھانا چاہئیں۔ لہٰذا میں نے ڈاکوؤں، قاتلوں، لٹیروں، ذخیرہ اندوزوں، قبضہ مافیا اور دوسرے جرائم پیشہ لوگوں کے کیس لینا شروع کئے، اہلیت مجھے ورثے میں ملی تھی، میرے والد بھی ایک بلند پایہ وکیل تھے مگر وہ زندگی بھر وہی غلطی کرتے رہے جو میں ارشد کی شاگردی میں آنے سے پہلے کرتا تھا یعنی وہ سمجھتے تھے کہ حقوق اللہ کی ادائیگی میں کمی بیشی تو اللہ تعالیٰ معاف کرسکتے ہیں مگر حقوق العباد میں ہیر پھیر وہ کبھی معاف نہیں کرتے چنانچہ کوئی جرائم پیشہ شخص اگر محض نماز روزے کو نجات کا راستہ سمجھتاہے تو وہ دین کو بدنام کرتا ہے اور یوں اس سوچ کی وجہ سے والد کے مالی حالات میری طرح ہمیشہ دگرگوں ہی رہے۔ بہرحال والد کے انجام سے عبرت پکڑتے ہوئے میں دین کی اس غلط توجیح سے باز آچکا تھا چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے مجھ پر ہن برسنا شروع ہوگیااور اس کے ساتھ ساتھ میری پیشہ ورانہ مہارت کی بھی دھومیں مچ گئیں۔ میں نے اس دوران کمیشن پر بھی کیس لینا شروع کردیئے میرا رابطہ کچھ ججوں سے ہوگیا تھا وہ کیس کا فیصلہ میرے کلائنٹ کے حق میں کرتے اور میں ان کا حق خدمت ادا کرتا۔ تاہم کچھ ہی عرصے بعد میں نے محسوس کیاکہ میں جو کبھی چاق و چوبند ہوتا تھا اور میری صحت پر یار لوگ رشک کیا کرتے تھے۔ ہر وقت خود کوتھکا تھکا سا محسوس کرنے لگا، اس سے پہلے میں رات کو بستر پر لیٹتے ہی سوجاتا تھا اب مجھے گھنٹوں نیند نہیں آتی تھی اور میں بستر پر کروٹیں لیتا رہتا تھا۔ میں نے اپنے استاد ارشد سے رابطہ کیا اور اسے یہ سب کچھ بتایا، استاد میرے والد کے کردار سے واقف تھا چنانچہ اس نے کہا ”دراصل تمہاری تربیت غلط ہوئی ہے جس کی وجہ سے تمہارے ضمیر پر بوجھ ہے تم میرے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہو انشاء اللہ ایک دن تمہارا ضمیر بھی تمہاری نئی سوچ کا عادی ہو جائے گا اور پھر وہ تمہارے لئے مسئلہ نہیں بنے گا“۔ استاد کی اس بات سے مجھے کافی حوصلہ ہواچنانچہ میں پوری دلجمعی کے ساتھ دونوں ہاتھوں سے دولت سمیٹتا رہا۔ اس دوران میری مہارت کی شہرت حکومتی حلقوں تک بھی جا پہنچی تھی چنانچہ وہ دن میری زندگی کا یادگار دن تھا جب مجھے اطلاع ملی کہ مجھے جج بنا دیا گیا ہے اب دولت کے ساتھ ججی کا اعزاز بھی میرے ساتھ تھا میں نے اس اعزاز کو بھی استاد کے مشورے کے مطابق اپنی مزید ترقی کیلئے استعمال کرنا شروع کیا۔ استاد نے مجھے نصیحت کی تھی کہ اگر کسی کیس میں حکومت کا کوئی انٹرسٹ ہو تو اس کا فیصلہ سنانے سے پہلے اٹارنی جنرل سے مشورہ ضرور کرلیا کرنا چنانچہ میں نے اس مشورے کو بھی پلے باندھا اور اس پر عمل کرنے کے عوض کتنے ہی نئے پلاٹ اور کتنی ہی نئی جائیدادیں میری ملکیت بنتی چلی گئیں۔ پھر ایک دن یوں ہواکہ ججوں کو پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کیلئے کہا گیا انکار کی صورت میں ججی ہاتھ سے جاتی تھی میں نے عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد استخارہ کیا تو خواب میں اشارہ دیا کہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے میں تمہاری بہتری ہے مجھے ہلکا سا شک ہے کہ خواب میں جو بزرگ مجھے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے کے لئے کہہ رہے تھے ان کی شکل استاد ارشد سے ملتی تھی۔ بہرحال میں نے اللہ کا نام لے کر حلف اٹھا لیا جس پر میری وکیل برادری نے میرا ناطقہ بند کردیا۔ خلق خدا مجھے ملامت کرنے لگی۔ محفلوں میں لوگ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتے تھے اور یوں میں نے محسوس کیا کہ میں شاید لوگوں کی نظروں سے گر گیا ہوں۔ ترقی کی یہ منازل طے کرنے کے دوران میں بے خوابی کے علاوہ بلڈپریشر، ہارٹ ٹربل اور شوگر کا مریض بھی بن چکا تھا۔مجھے اپنا سارا دنیاوی جاہ و جلال بے معنی سا لگنے لگا تھا اس ترقی سے پہلے میرے والد محترم مجھے تقریباً روزانہ خواب میں نظر آتے تھے وہ بہت خوش و خرم دکھائی دیا کرتے تھے، مگر پھر وہ نظر آنا بند ہوگئے بہت عرصے بعد ایک مرتبہ دکھائی دیئے مگر ان کاچہرہ بے رونق تھا۔ پہلے وہ مجھے دیکھ کر اپنے گلے لگایا کرتے تھے مگر اس روز وہ میرے قریب سے میری طرف دیکھے بغیر گزر گئے۔ میں اس روزسارا دن بے چین رہا میں نے استاد ارشدسے رابطہ کیا اور اپنے احوال سے آگاہ کرنے کے بعد پوچھا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے؟“ میں نے محسوس کیا کہ اس بار استاد ارشد کا رویہ میرے ساتھ مشفقانہ نہیں ہے اس نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا ”میں نے تمہیں اپنی شاگردی میں لے کر غلطی کی، جس شخص کی گھریلو تربیت ہی غلط ہوئی ہو پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں رزق حلال کی اذان دی گئی اور دیانت اور امانت کی مثالیں اپنے عمل سے بھی دی ہوں، وہ اگر اپنے اباؤ اجداد کے رستے سے ہٹ کر کوئی دوسرا رستہ اختیار بھی کرے گاتو اس کے نتیجے میں حاصل ہونے والی ترقی اسے کہیں ہضم نہیں ہوگی۔ دیانت اور بددیانتی اکثر و بیشتر موروثی ہوتی ہیں میں نے تمہیں اپنی شاگردی میں لے کر غلطی کی۔ تمہارا ضمیر ابھی تک تمہارا پیچھا کر رہا ہے تم اس افلاس افروز ضمیر کو اپنا استاد بناؤ، میں تمہیںآ ج سے آزاد کرتا ہوں! افسوس مجھے ناکامیوں کی طرف لے جانے والی یہ کامیابیاں راس نہیں آئیں! آخر میں برادرم منصور آفاق کی ایک مختصر نظم۔ قتل گاہ سے ایک منظر وہ کہیں درد کے سائے وہ کہیں موت کے گیت وہ کہیں زخم بکف قریہ جاناں کا ضمیر وہ افق میں گری امید کی ٹوٹی ہوئی شاخ وہ ابھرآئی ہے دھرتی پہ کوئی سرخ لکیر وہ اٹھیں سندھ کے دریا سے لہو کی موجیں وہ کراچی میں سمندر کی نکلتی ہوئی آنکھ وہ جلا دیس بدر موجہٴ راوی کا چراغ وہ بغاوت بھری لاہور کی جلتی ہوئی آنکھ وہ وفا پیشہ پہاڑوں پہ سلگتا الزام کروٹیں لیتی ہوئی سوچ کی کالی آندھی اک نئے دور کی تمہید کا عرفان لئے آنکھ اب دیکھتی ہے دیکھنے والی آندھی

 
خرم شہزاد خرم's Avatar
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 320
Reply With Quote
خرم شہزاد خرم کا شکریہ ادا کیا گیا
Zullu230 (05-01-08)
پرانا 05-01-08, 09:36 AM   #2
Senior Member

 
Zullu230's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 4,146
کمائي: 58,225
شکریہ: 3,271
1,521 مراسلہ میں 3,405 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: ناکامیوں کی طرف لے جانیوالی کامیابیاں!,,,,,عطاالحق قاسمی…روزن دیوار سے

اچھی شیئرنگ ہے فوٹو بھائی! جاری رکھیں اور مزید کوشش کریں۔

Last edited by Zullu230; 05-01-08 at 09:39 AM.
Zullu230 آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, کتابوں, کراچی, وفا, لوگ, چین, نیند, نماز, موت, ایمان, اللہ, الزام, اسلام, استاد, جواب, حکم, خوش, خدا, خرم, دوست, رات, راستہ, زندگی, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
یورپی منڈیوں تک رسائی کاموقع ضائع نہ ہونے دیجئے (روزنامہ جنگ کا اداریہ) جاویداسد خبریں 10 19-09-10 11:29 AM
پرویز مشرف اور اداکارہ میرا ....روزن دیوارسے… عطاالحق قاسمی ام طلحہ اپکے کالم 11 04-10-09 12:03 AM
”آئیفا ایوارڈزکاؤنٹ ڈاؤن“ اور ”آئیفا ایوارڈزویک اینڈ ود اسٹارز“آج جیو سے پ عبدالقدوس خبریں 0 22-06-08 08:51 PM
آغاز کی بجائے اختتام سے شروع ہونے والا کالم!,,,, روزن دیوار سے …عطاء الحق قاسمی خرم شہزاد خرم خبریں 0 29-10-07 10:21 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:21 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger