واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


نظریات کا تسلط

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 20-07-07, 12:32 AM   #1
نظریات کا تسلط
عادل سہیل عادل سہیل آف لائن ہے 20-07-07, 12:32 AM

بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلامُ علیٰ مِن اَتبعَ الھُدیٰ و رحمۃُ اللَّہ و برکاتہُ
سلامتی ہو اُس پر جو (اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ) ھدایت پر عمل کرتا ہے ، اور اللہ کی رحمت اور برکت ہو
ہم مسلمانوں میں بے شمار ایسے نظریات داخل کیئے گئے اور کیئے جاتے ہیں جو غیر اِسلامی ہوتے ہیں اور اُن میں سے کئی تو اِسلام دشمنی والے ہوتے ہیں ، جو مسلمان بھی اِن میں سے کِسی نظریہ کا شکار ہوتا ہے ، اگر اُسی پر عمل کرتے کرتے مر جائے تو اُس کی آخرت تباہ ہوتی ہے ، اور جیتے جی بھی وہ ایک اچھے مسلمان کی حیثیت سے جانا پہچانا نہیں جاتا ، بس برائے نام مسلمان ہوتا ہے ، لیکن اُس کا یہ برائے نام مسلمان ہونا بھی اسلام کے دشمنوں کو برداشت نہیں ہوتا لہذا نئے سے نئے ازم اور فلسفے مسلمانوں میں داخل کر کے اُن کو اُن کے دِین سے دور کیا جاتا ہے ،
‌اور اسی دوری کی وجہ سے ہمیں اپنے ملک اور معاشرے میں وہ برائیوں اور قتل و غارت گری کا بازار گرما گرما نظر آ رہا ہے ، مسلمان اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کو قتل کر رہا ہے اورخود کو بھی مار رہا ہے اور ہر کوئی اپنی اپنی جگہ پر شہادت پکی کیے ہوئے ہے ، جب کہ رسول اللہ ؤ نے تو فرمایا ہے ( مسلمان کی جان مال عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے ) صحیح البخاری ، اور فرمایا ہے ( قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں ) لیکن ہم لوگ اپنے اپنے فلسفے کی وجہ سے جنتی ہیں ، انا للہ و انا الیہ راجعون،
انہی نظریات میں سے ایک ،دِینی اور دنیاوی معاملات کی تفریق ہے ، اِسی لیے ہم دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں کہ ''' یہ تو دینی معاملہ نہیں ہے ''' ، ''' ارے صاحب ہر بات یا کام میں تو مذہب داخل نہیں کیا جا سکتا ''' و غیرہ وغیرہ ،
جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان کی زندگی کا کوئی بھی معاملہ دِین سے خارج نہیں ہوتا ، اور کِسی بھی معاملے سے دِین کو خارج نہیں کیا جا سکتا ، بشرطیکہ مسلمان ہو ، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ( قُلْ انَّ صَلاَ تِی وَنُسُکِی وَمَحیَایَ وَمَمَاتِی لِلّہِ رَبِّ الْعَالَمِین O لاَ شَرِیکَ لَہُ وَبِذَلِکَ اُمِرتُ وَاَنَا اَوَّلُ المُسلِمِین ) ( ( اے رسول ) فرمائیے شک میری نماز ، میرا قُربانی کرنا ، میری زندگی ، میری موت سب کچھ اللہ ، تمام جہانوں کے پالنے والے کے لیئے ہے O اور مجھے اِسی کا حُکم دِیا گیا ہے اور میں ( یہ بات )قُبُول کر کے (خود کو اللہ کے) حوالے کرنے والوں میں سب سے پہلا ہوں ) سورت الانعام/ آیات١٦٢،١٦٣
بات صرف نماز روزے قربانی تک کی نہیں بلکہ ساری کی ساری زندگی اور بلکہ موت بھی اللہ کے لیئے ہے ، یعنی مسلمان کی زندگی میں سے کوئی بھی چیز کام ہو یا بات یا عقیدہ و نظریہ کوئی بھی چیز اللہ کے حکموں سے خارج نہیں ، بشرطیکہ مسلمان ہو ، اور اِسی لیئے اِسلام کو '''دِین ''' کہا گیا ہے ، '''مذہب''' نہیں ، ''' مسلک ''' نہیں ، جی ہاں ، یہ بھی ہم غیر عرب مسلمانوں میں پائی جانے والی خوفناک غلطیوں میں سے ایک ہے کہ ہم نے عربی کے اُن اِلفاظ کو جو اسلامی اصطلاح (IslamicTermnology ) میں ایک خاص مفہوم رکھتے ہیں ، محض عربی زبان کے لفظ کا لغوی معنیٰ ( literal meaning) نہیں ہیں ایسے الفاظ کو بھی ہم نے اپنے معنی اور مفہوم دے رکھے ہیں ، اِن میں سے ایک لفظ ''' مذہب ''' بھی ہے ، جِسے ہم ''' دِین ''' کے معنی میں استعمال کرتے ہیں ،جبکہ ''' دِین ''' اللہ کی طرف سے دیا گیا ایک مکمل ضابطہِ حیات ہے ، زندگی گذارنے کا مکمل ڈھنگ اور سلیقہ ، اور ''' مذہب ''' ایک یا کچھ معاملات میںکِسی انسان کی عقل و فہم کے مطابق بنائے گئے طریقے یا مسائل کے حل وغیرہ کا نام ہے ،
اِس بات کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے ( انا اَوْلَی الناس بِعِیسَی بن مَریَمَ فی الْاُولَی وَالآخِرَۃِ ) قالوا کَیفَ یا رَسُولَ اللَّہِ قال( الْاَنبِیَاء ُ اِخوَۃٌ من عَلَّاتٍ وَاُمَّہَاتُہُم شَتَّی وَدِینُہُم وَاحِدٌ فَلَیسَ بَینَنَا نَبِیٌّ) ( دُنیا اور آخرت میں میرا حق لوگوں پر مریم کے بیٹے عیسی (علیہ السلام) سے زیادہ ہے ) ::: صحابہ نے پوچھا ، اے اللہ رسول وہ کیسے ؟ ::: فرمایا ( تمام نبی ایک باپ کی نسل ہونے کی وجہ سے بھائی ہیں اور اُن کی مائیں بہت سی ہیں ، اور سب نبیوں کا ''' دِین ''' ایک ہی ہے ، میرے اور عیسی ( علیہ السلام) کے درمیان اور کوئی نبی نہیں) متفقٌ علیہ ، یعنی امام البخاری اور امام مسلم نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ایک ہی صحابی (ابو ہریرہ رضی اللہ عنہُ ) سے روایت کیا اور حدیث کا متن بھی ایک ہی ہے ۔
اِس حدیث میں تمام نبیوں کے دِین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی قرار دِیا ہے ، جبکہ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تمام انبیاء پر زندگی کے معاملات نمٹانے کے لیے جو احکام نازل کیئے گئے وہ کافی مختلف رہے ہیں ، اور یہ اِس بات کی دلیل ہے بُنیادی طور پر ''' دِین ''' عقیدہ ہے ، اور اُس عقیدے کی روشنی اور قیدمیں رہتے ہوئے اپنی زندگی کے ہر معاملے کو نمٹانے اور ہر کام کرنے کا ضابطہ ہے ، اگر دنیاوی کاموں کو ''' دِین ''' سے الگ رکھا جانا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سُنّتِ مُبارک کے مطابق بات کو واضح فرمادیتے کہ ''' تمام نبیوں کا دِین تو ایک ہے لیکن اُن کے مذہب الگ الگ ہیں '''جس طرح ایک باپ کی نسل لیکن مائیں مختلف ہونے کی وضاحت فرمائی ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ وہ ہر بات کو مکمل وضاحت سے بیان فرماتے اور یہ ذمہ داری اللہ کی طرف سے اُنہیں دی گئی تھی اور اللہ کی حفاظت میں اللہ کی مدد سے وہ اپنی ذمہ داری مکمل ترین اور بہترین طور پر پوری فرما گئے ،
ابو ذر الغِفاری رضی اللہ عنہُ نے کہا ::: ''' ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس حال میں چھوڑا ہے کہ ہوا میں پر ہلاتے ہوئے کِسی پرندے کے پر ہلانے میں جو عِلم ہے وہ بھی ہمیں بتا دِیا ، اور پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ( مَا بَقِي َشِيءٌ یُقَرِّبُ مِن الجَنَّۃِ وَ یُبَاعِدُ مِن النَّارِ ، اِلَّا و قَد بُیَّنَ لَکُم ) ( کوئی ایسی چیز جو تم لوگوں کو جنّت کے قریب کرنے والی ہو اور دوزخ سے دور کرنے والی ہو نہیں بچی ، سوائے اِس کے وہ تم لوگوں پر واضح کر دی گئی ہے ) یہ حدیث اِمام الطبرانی نے اپنی '' معجم الکبیر '' میں روایت کی اور شیخ علی بن حسن نے ''' عِلم اصول البدع '' میں کہا کہ اِس کی سند صحیح ہے ۔
میرے اِس مضمون کا موضوع تکمیل دِین نہیں ، اِس موضوع پر ''' آئیے اپنے عقیدے کا جائزہ لیں ''' کے زیر عنوان سوال و جواب کے سلسلے کی شکل میں تفصیلات موجود ہیں ، اور مختصر طور پر یہ سوال جواب ایک بڑے چارٹ کی شکل میں بھی زیرِتیاری ہیں ، اِس مضمون کے موضوع کی طرف واپس آتے ہوئے کہتا ہوں ، پس ، ''' دِین ''' ایک ہی تھا (اِنَّ الدِّینَ عِندَ اللّہِ الاِسلاَمُ ) (بے شک اللہ کے ہاں دِین ( تو صِرف ) اِسلام ہے )آل عمران / آیت ١٩ ،
اور ہے ، اور وہی رہے گا ، کیونکہ نازل کرنے والے نے اُسے مکمل کر دِیا اور اِس تکمیل کے بعد وہ اُس میں کوئی تبدیلی کرنے والا نہیں( الیَومَ اَ کمَلت ُ لکُم دِینَکُم و اَتمَمت ُ علِیکُم نِعمَتِی و رَضِیت ُ لکُم الاِسلامَ دِیناً ) ( آج میں نے تم لوگوں کےلئیے تمہارا دِین مکمل کر دِیا اور تُم لوگوں پر اپنی نعمت تمام کر دی اور اِس بات پر راضی ہو گیا کہ اِسلام تمہارا دِین ہو ) سورت المائدہ/ آ یت ٣
اِنشاء اللہ تعالیٰ سننے اور پڑھنے والوں پر یہ بات واضح ہو چکی ہوگی کہ ''' دِین ''' ایک ہی تھا ، ہے اور رہے گا ،
''' مسلک ''' اور ''' مذہب ''' ہم معنی و مفہوم الفاظ ہیں ، ہر مسلمان کا ''' دِین ''' اِسلام ہی ہے ، ''' مذہب ''' یا ''' مسلک ''' مختلف کئے جا چکے ہیں ، اور مذاہب کے اختلاف سے بڑی مصیبت یہ ٹوٹی ہے کہ ''' مذہب ''' کو دِین سمجھ کر قران و سنت کی حجت تمام کیے بغیر،ایک دوسرے کو کافرو مشرک قرار دِیا جاتا ہے، ایک دوسرے سے قطع تعلقی کے فتوے جاری ہوتے ہیں ، بلکہ ایک دوسرے کے جان مال او رعِزت کو حلال کر لیا جاتا ہے ، اور جِن کو مذہب سے کچھ لگاؤ ہو وہ اپنی اپنی زندگیوں کو گذارنے کے ڈھب او راطوار اپنے اپنے مذہب کے مطابق اختیار کرتے ہیں ، لیکن اکثریت زندگی کے معاملات کو دینی اور دنیاوی تقسیم کے نظریے کا شکار ہو کر الگ الگ کرتی ہے اور اُس میں بھی اپنی اپنی عقل اور سوچ کے مطابق معاملات کو دینی اور دنیاوی قرار دیا جاتا ہے ،
اور اِس تقسیم میں بند ہونے کی وجہ سے نصیحت اور حلال و حرام کی بات کو صرف ''' دینی مسائل یا معاملات ''' کے خانوں میں بند کر دِیا جاتا اور افسوس کہ ہم مسلمانوں کی اکثریت اپنے بہت سے معاملات کو دنیاوی سمجھ کر اُن ''' دینی مسائل یا معاملات ''' کے خانوں کے قریب سے بھی نہیں گذرتی ، جب کہ کوئی بھی بات جو قُران اور صحیح سُنّت کی دلیل کے ساتھ بیان کی جاتی ہے ہر مسلمان کی چرا لی گئی ہوئی میراث ہے لہذا جِسے جہاں یہ ملے اُسے ہر ایسی جگہ پر اُسے نشر کرنا چاہیئے جہاںسے زیادہ سے زیادہ مسلمانوں تک وہ بات پہنچے ، اور نیک نیتی کے ساتھ ایسا کرنا چاہیئے ، کہیں ذاتی غرض یا کِسی خاص ''' مذہب و مسلک ''' کی ترویج کے لیئے نہیں ، اللہ کی رضا کے لیئے ، اپنے مسلمان بھائی بہنوں کی ہدایت کے لیئے ، یہ اِیمان کی تکمیل کے لیئے ضروری ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ( لا یُؤمِنُ احدُکُم حَتیٰ یُحِبَّ لِاَخِیہِ۔۔ او قال ۔۔ لِجَارِہِ ما یُحِبُ لِنَفسِہِ ) ( تم سے کوئی اُس وقت تک (پورا) ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے ( مسلمان) بھائی کے لیئے ۔۔ یا فرمایا ۔۔ اپنے (مسلمان )پڑوسی کے لیے وہ ہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ) صحیح مسلم /حدیث ٤٥ ٨کتاب الاِیمان / باب ١٧ ،
کم علمی کی وجہ سے غلط نظریات او ر فلسفے وغیرہ کا شکار ہونے والے کچھ لوگ جو گناہ اور بے حیائی والے کام یا چیزیںلیے پسند کرتے ہیں دوسرے مسلمانوں کو بھی اُن میں مبتلا کرنا پسند کرتے ہیں اور اس حدیث کو بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں ، ایسے لوگوں کے لیے یہ دوسری روایت بھی حاضر ہے جو کہ پہلی روایت کو مزید وضاحت سے بیان کرتی ہے ( والَّذِی نفس مُحمد بِیدہِ لا یُؤمِنُ احدُکُم حَتیٰ یُحِبَّ لِاَخِیہِ مِن الخَیرِ ) ( اللہ کی قسم جِس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے تم سے کوئی اُس وقت تک (پورا) ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے ( مسلمان) بھائی کے لیئے خیر میں سے وہ ہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے ) سنن الترمذی ، امام الالبانی نے حدیث کو صحیح قرار دِیا ۔
مجھے یقین ہے کہ آپ میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہوگا جو اپنے لیے اور اپنے مسلمان بھائی بہنوں کے لیے یہ پسند نہ کرتا ہو کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے دِن کی صحیح سمجھ عطاء فرمائے اور اُس پر عمل کرتے ہوئے ہی ہمارا خاتمہ اِیمان پر فرمائے ،
آئیے اِس کوشش میں سب ایک دوسرے کا ساتھ دیں اور اللہ کے دِین کو اُس دِین کو جو اللہ نے تمام مخلوق کے اوپر سے اپنے عرش پر سے اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا ، نہ کہ دِین کے نام پر خود ساختہ ''' مذاہب ''' اورسنائے اور لکھے جانے ولے ''' قصے کہانیوں ''' والےدِین کو ، ،
اپنی بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِس ارشاد مبارک پر روکتا ہوں ( مَن دَلَّ علی خَیرٍ فَلَہُ مِثلُ اجرِ فَاعِلِہِ) ( جو کِسی خیر (نیکی)کا راستہ دکھائے گا اُسے اُس خیر پر عمل کرنے والے کے برابر ثواب ملے گا ) صحیح مسلم ، حدیث١٨٩٣ ۔
طلبگارِ دُعا ، عادِل سہیل ظفر ۔19/July/2007
adilsuhail@gawb.com


__________________
اب نہ ہو گا کہیں کوئی نزول کتاب ::: بند کر دیا رب العالمین نے یہ باب
ہے جو بھی صحیح سنت رسالت مآب ::: بے شک ہے وحیء رب الارباب

عادل سہیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 445
Reply With Quote
پرانا 22-07-07, 09:39 PM   #2
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 39
کمائي: 295
شکریہ: 5
14 مراسلہ میں 26 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: نظریات کا تسلط

اسلام علیکم

عادل بھائی۔

آپ نے بہت اچھے طریقے سے دین اور مذہب کی درمیان فرق کو سمجھانے کی کوشش کی یقین کریں اس سے میرے جیسے بہت سے ناخواندہ لوگوں کے علم میں اضافہ ہو گا۔ آج ہم جیسے مفاد پرستوں نے دین اور مذہب کے درمیان جو تصادم پیداکر کے اپنے آپ کو تبائی کے دہانے پر لے گئے ہین اس چیز کو ختم کر کے دین اسلام کی حقیقی روح کو متعارف کروانا ہوگا۔ لیکن بوجہ کم علمی میرے دل و دماغ میں کچھ سوالوں نے جنم لیا ہے برائے کرم آپ کی توجہ کا طلب گار ہوں۔

لیکن کیا مذہب سے کسی نظریے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے یا کسی نظریے کو مذہب سے اخذکیا جا سکتا ہے؟

اگر کسی نظریے کی بنیاد مذہب پر ہو تو کیا وہ نظریہ اسلامی ہو گا؟

نظریہ پاکستان کا اخذ کس سے ہوا۔ دین سے یا مذہب سے؟

آپ کے جوابات کا انتضار رہے گا۔

شکریہ۔
بلال عباسی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-07-07, 11:51 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2007
عمر: 48
مراسلات: 4,389
کمائي: 88,852
شکریہ: 2,077
3,584 مراسلہ میں 12,688 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: نظریات کا تسلط:: بلال بھائی کے لیے جواب


السلام علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ، محترم بھائی بلال عباسی صاحب،
الحمد للہ ، آپ کو دِین اور ''' مذہب ''' کا فرق سمجھ آیا ، آپ کے سوالات کے جواب کی طرف آنے سے پہلے ایک اور بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ''' مذہب ''' کو دو قِسموں میں جانا جاتا ہے ، (١) فی الفقہ یعنی ، فقہی مذہب (٢) فی العقیدہ یعنی عقیدے میں مذہب ، پہلی قِسم کی بنیاد پر کِسی قسم کا نظریہ اخذ نہیں کیا جا سکتا ، بلکہ دوسری
قِسم کی بنیاد پر نظریات اخذ کیے جاتے ہیں اور وہی نظریات پہلی قِسم پر بھی اثر انداز نظر آتے ہیں ، اور زندگی کے ہر اُس معاملے پر اثر پذیر ہوتے ہیں جِس سے وہ متعلق ہوں ، اور کوئی بھی نظریہ جب تقویت پاتا ہے اور اُس کو حامل اُس میں کوئی شک نہیں رکھتا تو وہ اُس کا ''' عقیدہ ''' بن جاتا ہے ،
اب ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ''' مذہب ''' فقہ میں ہو یا عقیدہ میں ، اُس سے ماخوذ عمل یا نظریہ کِس حد تک اور کب درست ہو سکتا ہے ، اگر تو وہ بات یا عمل جو کِسی بھی ''' مذہب ''' میں مروج ہو ، لیکن قُران اور صحیح ، ثابت شدہ سنّت ، اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی سمجھ کے مطابق ہو تو ہر مسلمان کو وہ قُبُول کرنا ہی چاہیے ، قطع نظر اِس کے
کہ وہ اُس ''' مذہب یا مکتبِ فِکر ''' سے آ رہا ہے جس کا وہ پیرو کار ہے یا کِسی اور طرف سے ، اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر کِسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے آئے ہوئے واضح اور سچے دالائل میں سے کِسی دلیل کے بغیر ، کِسی کے بارے میں صِرف حُسنِ ظن کی وجہ سے بات یا عمل کو اپنا لے ، پس کوئی بھی کام یا سوچ کِسی خاص ''' مذہب ''' جِس میں اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی مخالفت ہو ، کی نشر و اشاعت یا ترویج یا نصرت کےلیے کیا جائے تو ظاہر ہے شرعاً وہ کام درست نہیں ہے ۔
بھائی ، آپ کا تیسرا سوال جِس طرح سے میری سمجھ میں آیا ہے ، اُسکا جواب کافی تفصیلی ہو سکتا ہے لیکن چونکہ اِس بات کا مکمل احتمال ہے کہ جو میں نے سمجھا وہ آپ کا سوال نہ ہو ، اگر آپ اپنے اُس سوال کو مزید وضاحت سے سامنے لائیں تو اِنشاء اللہ زیادہ بہتر ہو گا ،''' نظریہ پاکستان ''' کی بنیاد ، جیسا کہ ہمیں تاریخ کی کتابوں اور جِن لوگوں نے پاکستان کے حصول کے لیے اپنی جانیں ، مال اور عِزتیں قُربان کییں، اُنکے باتوں کے پیش نظر ، یہی سمجھ آتی ہے کہ ''' ہندوستانی مسلمانوں میں کچھ ایک ایسا آزاد خطہ زمین حاصل کرنا چاہتے تھے جِس پر وہ اللہ کے قانون کا نفاذ کر کے مکمل اسلامی زندگی بسر کر سکیں ''' اور جو قربانیاں دی گئیں وہ ''' پاکستان کا مطلب کیا ، لا اِلہَ اِلَّا اللہ ''' کے لیے دی گئیں ، ایک ''' اسلامی ریاست ''' کےلیے دی گئیں ، نہ کہ ایک ''' مسلم ریاست ''' کے لیے ، یہ الگ بات ہے کہاللہ نے حکومت کی بھاگ دوڑ ''' مسلم ریاست ''' والوں کو دی اور وہ بے چارے ایک دِن کے لیے بھی عملی طور ''' مسلم ریاست ''' کا اظہار نہ کر پائے اُس کی حکمت وہ ہی جانتا ہے، اور اب حال یہ ہے کہ ''' مسلم ریاست ''' والی بات بھی خواب پارینہ بنتی
جا رہی ، اللہ المستعان ، اِرادہ ہے کہ اِنشاء اللہ اگست کے آغاز میںاِس موضوع سے متعلق ایک مضمون اِرسال کروں ۔
اگر آپ کے ذہن میں کوئی ایسی بات ہو جس سے تاریخ کی کوئی غلطی ظاہر ہوتی ہو ، تو مجھے ضرور آگاہ فرمائیے ، اگرکوئی ایسی بات ہو جو آپ عام طور پر ظاہر نہ کرنا چاہتے ہوں تو میری ذاتی برقی ڈاک پر اِرسال فرما دیجیئے ، مل کر کِسی اچھی بات کا عِلم حاصل کرسکیں تو اِنشاء اللہ سب کے لیے خیر کا سبب بن سکتا ہے ،
اختصار کو پیش نظر رکھتے ہوئے، اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرامین نقل کر رہا ہوں، ایک قانون اور کسوٹی کے طو رپر انہیں
اِستعمال کیجئے ، اِنشاء اللہ تعالیٰ اور بھی کئی سوالات کے جواب اِس میں ملتے ہی جائیں گے
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ( قُل اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ مِّثلُکُم یُوحَی اِلَیَّ اَنَّمَا اِلَہُکُم اِلَہٌ وَاحِدٌ فَمَن کَانَ یَرجُو لِقَاء رَبِّہِ فَلیَعمَل عَمَلاً صَالِحاً وَلَا یُشرِک بِعِبَادَۃِ رَبِّہِ اَحَداً) ( (اے محمد ) کہہ دیجیے بے شک میں تو (جسمانی طور پر ) تُم ( لوگوں ) جیسا ہی ایک انسان ہوں (مگر مجھے اللہ کی طرف سے ) وحی کی جاتی ہے کہ بلا شک تُم سب کا (حقیقی اور سچا معبود) تو ( صِرف )ایک (اللہ ہی ) ہے ، لہذا جو اپنے رب (اللہ) سے ملنے کا یقین رکھتا ہے وہ صالح (نیک ) عمل کرے اور اپنے رب کی عِبادت میںکِسی کو شریک نہ کرے ) سورت الکہف کی آخری آیت
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ( انما الْاَعمَالُ بِالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِکُلِّ امرِءٍ ما نَوَی فَمَن کانت ہِجرَتُہُ الی دُنیَا یُصِیبُہَا او الی امرَاَۃٍ یَنکِحُہَا فَہِجْرَتُہُ الی ما ہَاجَرَ الیہ ) ( بے شک عملوں کا (آخرت میں ) انجام نیّتوں کے مطابق ہوگا ، اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جِس کی اُس نے نیّت کی ، لہذا جِس کی ہجرت دُنیا (کی کوئی چیز ) حاصل کرنے کے لیے ہے ، یا کِسی عورت کی طرف ہے کہ اُس سے نکاح کرے ، تو اُسکی ہجرت اُسی کی طرف ہے جِسکی طرف اُس نے ہجرت کی ) صحیح البخاری کی پہلی حدیث اللہ کا یہ فرمان ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا ارشاد واضح کرتے ہیں کہ جو کام اللہ کی رضا کی عِلاوہ کِسی بھی اور نیّت سے کیا جائے گا وہ اللہ کے ہاں مقبول نہیں ، مردود ہے ، اور کرنے والا اپنی نیّت کے مطابق اپنے عمل کی سزا یا جزا پائے گا ،
صحیح بخاری کی ہی دوسری روایت میں ہے ( الْاَعمَالُ بِالنِّیَّۃِ وَلِکُلِّ امرِءٍ ما نَوَی فَمَن کانت ہِجرَتُہُ الی اللَّہِ وَرَسُولِہِ فَہِجرَتُہُ الی اللَّہِ وَرَسُولِہِ وَمَن کانت ہِجرَتُہُ لدُنیَا یُصِیبُہَا او امرَاَۃٍ یَتَزَوَّجُہَا فَہِجرَتُہُ الی ما ہَاجَرَ الیہِ ) ( تمام تر عمل نیّت کے مطابق ہیں اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جِس کی اُس نے نیّت کی (یعنی اُن کا آخرت میں نتیجہ اُس نیّت کے مطابق ہی ہو گا جِس کی بنا پر وہ عمل کیا گیا ، اور اِس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے مثال دے کر واضح فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا ) پس جِس کی ہجرت اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) کی طرف ہے ، تو اُس کی ہجرت اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) کی طرف (ہی) ہے اور جِس کی ہجرت دُنیا (کی کوئی چیز ) حاصل کرنے کے لیے ہے ، یا کِسی عورت کی طرف ہے کہ اُس سے شادی کرے ، تو اُس کی ہجرت اُسی کی طرف ہے جِس کی طرف اُس نے ہجرت کی ) اِس حدیث مبارک کے پہلے حصے کو اکثر لوگ اپنے غلط کاموں اور بدعات کو درست ثابت کرنے کے لیے دلیل بناتے ہیں ،جبکہ مکمل حدیث اُن کے لیے نہیں بلکہ اُن پر حجت ہے ، اور جب قران و سنّت کو اپنی اپنی عقل اور مختلف فلسفوں اور عِلمِ کلام اور عِلمِ لغت وغیر ہ کے مطابق سمجھا جایا تو پھر اِسی قِسم کے ''' مذہب ''' ظاہر ہوتے ہیں ، یہ بات پھر کبھی اِنشاء اللہ تعالیٰ ،
تو ، بلال بھائی ، اللہ سبحانہ ُ و تعالیٰ کا یہ فرمان ، اور اللہ کی طرف سے وحی کیا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا فرمان ، ہر عمل ، قلبی ہو یا بدنی کے لیے ایک کسوٹی ہے ، اللہ تعالیٰ آپ کو اِس کی مکمل سمجھ عطاء فرمائے ، میں وقتاً فوقتاً کچھ مضامین اور مراسلے ''' مذاہب اور انسانی زندگی ''' والے حصے میں ارسال کرتا رہتا ہوں ، کچھ وقت نکال کر اُنہیں پڑھ لیا کیجیے ، اِنشاء اللہ تعالیٰ فائدہ مند رہے گا۔
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ، طلبگارِ دُعا ، آپ کا بھائی ، عادِل سُہیل ظفر ۔ ٢٠٠٧/٧/٢٧۔


عادل سہیل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-07-07, 10:45 AM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: نظریات کا تسلط

عادل صاحب ماشاء اللہ اپ نے بہت اچھے طریقے سے وضاحت کر دی ہے۔ اللہ اپکو جزائے خیر دے۔

والسلام
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 28-07-07, 06:21 PM   #5
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 39
کمائي: 295
شکریہ: 5
14 مراسلہ میں 26 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جواب: نظریات کا تسلط

اسلام علیکم۔

عادل بھائی۔

آپ نے بہت اچھے طریقے سے میرے سوالات کا جواب دے کر سمجھانے کی کوشش کی کسی کافی حد تک شکوک و شہبات دور ہوگئے ہیں اور جو باقی ہیں انشاء اللہ وہ بھی دور ہو جائیں گے۔ اللہ آپ کے علم میں بہت اضافہ کرے۔

آمین
بلال عباسی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 02-08-07, 06:33 AM   #6
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,337
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: نظریات کا تسلط

جناب
عبدالقدوس آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پاکستان, پسند, قران, لوگ, نماز, مکمل, میراث, موت, متعارف, مسائل, آج, ایمان, اللہ, انسان, اسلام, اسلامی, بہترین, جواب, حدیث, حسن, راستہ, سوال جواب, عقل, صحابہ, صحابی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تسلسُل shafresha باغی کی شاعری 3 09-02-12 08:43 PM
غلطی تسلیم کرلے اخترحسین ایس ایم ایس 1 18-10-09 04:59 PM
جہاد کا نا قا بلِ تسِخیر سامان sahj جہاد 0 16-10-09 05:42 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:25 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger