ایک شخص کی گاڑی بر لب سڑک بند ہو گئی اسنے دائیں بائیں نظر دوڑائی وہاں کچھ نوجوان کھڑے نظر آئے انھیں آواز دے کر بلایا کہ میری گاڑی بند ہو گئی ہے اگر آپ مہربانی فرما ئیں اسے دھکا لگادیں ۔نوجوانوں نے دھکا لگایا مگر گاڑی اپنی جگہ سے ایک فٹ بھی حرکت نہ کر سکی۔گاڑی والا بھائی ذرا زور سی دھکا پھر لگایا مگر نتیجہ صفر ہی رہا۔گاڑی اپنی جگہ سے نہ ہل سکی ۔ایک نوجوان کہنے لگا ٹھرئیے کیا آپ بھی وہ ہی سوچ رہے ہیں جو میں سوچ رہا ہوں۔سارے نوجوان بولے آپ کیا سوچ رہے ہیں۔۔۔؟
وہ کہنے لگا کہ میں سوچ رہا تھا کہ آپ دھکا لگائیں میں صرف گاڑی پر ہاتھ رکھتا ہوں ۔سب نے کہا تقریباََہماری سوچ بھی آپ جیسی ہے ۔اسنے کہا کہ اگریونہی ایک دوسرے پر بوجھ ڈالتے رہے تو تو قیامت تک یہ گاڑی یہیں کھڑی رہے گی آئے اپنی سوچ کو چھوڑیئے اور ایک جذبے کے تحت گاڑی کو دھکا لگائیں جونہی سب نے مل کر دھکا لگایا گاڑی میں حرکت ہوئی اور گاڑی سٹارٹ ہو گئی
انفرادی سوچ کے نتائج کچھ اور ہیں اور اجتماعی سوچ کے ثمرات کچھ اورہیںآج ہمارے اندر اجتماعیت ختم ہو چکی ہے ہم سب انفرادی سوچ و فکرمیں غرق ہیں اسی لئے کنارہ دور نظر آرہا ہے ۔ذرا تاریخ عالم پرنظر دوڑائیے آج ہم مسلمان ہونے کے ناطے کفر کے مظالم کوبرداشت کر رہے ہیں۔اس کی وجہ ء اول یہی ہے کہ ہم میں اتحاد نہیں ہے اجتماعی فکر نہیں ہی۔ہر کوئی صرف اپنے تک سوچتا ہے ہمیں اس منتشر فکرکے لبادے سے نکلنا ہو گا اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرناہوگا۔اپنی سوچ و فکر میں اتحاد پیدا کرنا ہوگا اپنے آپکو بدلناہوگا ۔یہ ہی انقلاب کے بنیادی اصول ہیں جب تک درخت کی جڑیں مضبوط نہ ہوں درخت قائم نہیں رہ سکتا۔
پھل پھول پتیوں پر ہے سب کی نظر نثار
جڑ پر نہیں نظر جسکی ہے یہ سن بہار