واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کربلا کے میدان میں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-12-11, 09:09 PM   #1
نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کربلا کے میدان میں
ملک زوالفقار ملک زوالفقار آف لائن ہے 05-12-11, 09:09 PM

اَلْخَلَافَة فِیْ اُمَّتِیْ ثَلَاثُوْنَ سَنَةً ثُمَّ مَلکَ بَعْدَ ذَلِکَ.

(بہیقی، السنن الکبریٰ، 5 : 47، رقم : 1855)

’’میری امت میں خلافت تیس برس تک رہے گی پھر اس کے بعد ملوکیت ہوگی۔‘‘

چنانچہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق خلافت تیس برس رہی۔ یہ زمانہ عہد خلافت راشدہ کہلاتا ہے۔ عہد خلافتِ راشدہ کے دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اعلان خلافت کے ساتھ ہی ملک شام میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی آزاد حکومت قائم کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ تسلیم نہ کیا۔ اس پر امت مسلمہ متفق رہی ہے کہ خلافت بہرطور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا حق تھا۔ آپ ہی خلیفہ برحق اور خلیفہ راشد تھے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے جداگانہ اعلان حکومت کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی کشمکش کا آغاز ہوگیا جس کے نتیجے میں جنگ جمل اور جنگ صفین جیسے چھوٹے بڑے معرکے ہوئے۔

حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس پیش گوئی کے مطابق سن 60 ہجری میں قبیلہ قریش کی شاخ بنو امیہ کا اوباش نوجوان یزید بن معاویہ تخت نشین ہوا اور 61 ہجری کے ابتدائی دس دنوں میں سانحہ کربلا پیش آیا۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد یزید تخت نشین ہوا۔ اس کے لئے سب سے اہم اور بڑا مسئلہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی بیعت کا تھا کیونکہ ان حضرات نے یزید کی ولی عہدی قبول نہ کی تھی اس سلسلے میں یزید نے مدینہ کے گورنر ولید بن عقبہ کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر بھیجی اور ساتھ ہی یہ حکم نامہ بھیجا کہ

’’حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے میرے حق میں بیعت لو اور جب تک وہ میری بیعت نہ کریں انہیں ہرگز مت چھوڑو۔

(تاریخ، الطبری 113) ولید بن عقبہ رحمدل اور خاندان نبوت کی تعظیم و توقیر کرنے والا شخص تھا۔ اس نے اس حکم کی تعمیل پر گھبراہٹ محسوس کی اور اپنے نائب مروان کو صورت حال سے آگاہ کیا۔ مروان سنگدل اور سخت انسان تھا۔ اس نے کہا میرے خیال میں تم ان حضرات کو اسی وقت بلا بھیجو اور انہیں بیعت کرنے کیلئے کہو اگر وہ بیعت کرلیں تو ٹھیک ہے ورنہ انکار کی صورت میں تینوں کا سر قلم کر دو۔

(ابن اثیر، 4 - 15، البدایہ والنھایہ، 8 : 1417)

سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اپنی حفاظت کا سامان کر کے ولید کے پاس پہنچے۔ اس نے آپ رضی اللہ عنہ کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر سنائی اور پھر یزید کی بیعت کیلئے کہا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تعزیت کے بعد فرمایا : ’’میرے جیسا بندہ اس طرح چھپ کر بیعت نہیں کرسکتا، اور نہ ہی میرے لیے اس طرح چھپ کر بیعت کرنا مناسب ہے اگر آپ باہر نکل کر عام لوگوں کے ساتھ ہمیں بھی بیعت کی دعوت دیں تو یہ الگ بات ہے‘‘۔

ولید جو کہ ناپسند آدمی تھا اس نے کہا اچھا! آپ تشریف لے جائیں، اس پر مروان نے ولید سے کہا اگر اس وقت تم نے ان کو جانے دیا اور بیعت نہ لی تو تم کبھی بھی ان پر قابو نہ پاسکوگے تاوقتیکہ بہت سے لوگ قتل ہوجائیں ان کو قید کرلو، اگر یہ بیعت کرلیں تو ٹھیک ہے ورنہ ان کا سر قلم کر دو۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ یہ سن کر اٹھ کھڑے ہو گئے اور فرمایا : ’’ابن الزرقا! تو مجھے قتل کرے گا؟ خدا کی قسم تو جھوٹا اور کمینہ ہے‘‘۔ یہ کہہ کر آپ گھر تشریف لے آئے۔

(ابن اثیر، 4 : 15 - 16)

بعد ازاں اہل کوفہ نے باہم مشاورت سے امام عالی مقام رضی اللہ عنہ کو کوفہ آنے کی دعوت دی۔ اہل کوفہ کے خطوط اور وفود کے بعد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کو حالات سے آگاہی کے لئے کوفہ بھیجا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی بے پناہ عقیدت و محبت کو دیکھتے ہوئے امام عالی مقام کو لکھ بھیجا کہ آپ رضی اللہ عنہ تشریف لے آئیں، یہاں ہزاروں افراد آپ کی طرف سے میرے ہاتھ پر بیعت کر چکے ہیں۔

چنانچہ امام عالی مقام رضی اللہ عنہ نے کوفہ جانے کا عزم صمیم کر لیا۔ آپ رضی اللہ عنہ مکہ معظمہ سے 8 ذی الحجہ کو کوفہ کیلئے روانہ ہوئے۔ راستے میں صفاح کے مقام پر عرب کے مشہور شاعر فرذدق سے آپ رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہوئی۔ وہ کوفہ سے آ رہا تھا۔ فرذدق نے آپ رضی اللہ عنہ کو سلام عرض کیا اور دعا دیتے ہوئے کہا : اللہ تعالیٰ آپ کی مراد پوری کرے اور آپ کو وہ چیز عطا فرمائے جس کے آپ طلبگار ہیں۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تمہارے پیچھے لوگوں کا کیا حال ہے۔ اس نے کہا :

’’لوگوں کے دل تو آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہیں مگر ان کی تلواریں بنی امیہ کے ساتھ ہیں۔‘‘

فرزدق سے ملاقات کے بعد قافلہ حسینی رضی اللہ عنہ کوفے کے حالات سے بے خبر کوفہ کی جانب رواں دواں تھا۔ راستے میں ہر چراہ گاہ سے جس پر قافلے کا گزر ہوتا کچھ لوگ ہمراہ ہوجاتے۔ جب قافلہ حسینیہ رضی اللہ عنہ ’’ثعلمیہ‘‘ کے مقام پر پہنچا تو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو حضرت مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ اور ہانی بن عروہ کی شہادت کی خبر ملی۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنا سفر جاری رکھا اور جب آپ رضی اللہ عنہ ’’کوہ ذی حشم‘‘ کے مقام پر پہنچے تو حُر بن یزید جو کہ حکومت یزید کی طرف سے آپ رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرنے کیلئے بھیجا گیا تھا ایک ہزار مسلح سواروں کے ساتھ پہنچ گیا اور آپ رضی اللہ عنہ کے مقابل آ کر کھڑا ہو گیا اور ابن زیاد کا حکم دیا کہ آپ کو لے کر اس کے پاس پہنچوں۔

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں اور اہل و عیال کے ہمراہ 2 محرم الحرام 61 ہجری بروز جمعرات اپنے ساتھیوں اور اہل و عیال سمیت خیمہ زن ہوگئے۔ حر نے آپ کے مقابل خیمے نصب کر لئے۔ حر کے دل میں اگرچہ اہل بیت نبوت کی عظمت تھی یہاں تک کہ اس نے اپنی نمازیں بھی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پیچھے ہی ادا کیں تھیں مگر وہ ابن زیاد کے حکم سے مجبور تھا۔

جس مقام پر حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں اور اہل و عیال کے ہمراہ خیمہ زن ہوئے اس دشت و بیابان کی اداس و مغموم فضا کو دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اس مقام کا نام کہاں ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اس جگہ کو ’’کربلا‘‘ کہتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بس یہیں خیمے لگا لو، یہی ہمارے سفر کی آخری منزل ہے۔

سرزمین کربلا پہنچتے ہی حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وہ فرامین یاد آ رہے تھے جو انہوں نے بچپن میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنے تھے کہ میرا بیٹا، میرا حسین سرزمین طف (کربلا) میں شہید کر دیا جائے گا۔ اس لئے جب آپ کو علم ہوا کہ یہی سرزمین کربلا ہے تو آپ نے حتمی فیصلہ دیتے ہوئے اسی مقام پر ٹھہرنے کا ارادہ فرمایا۔ اس طرح قافلہ حسینی رضی اللہ عنہ غریب الوطنی کے عالم میں کربلا کے میدان میں خیمہ زن ہوا۔ دوسری طرف یزیدی حکومت ان نفوس قدسیہ پر قیامت برپا کرنے کی بھرپور تیاریوں میں مصروف تھی چنانچہ 3 محرم الحرام کو عمر بن سعد چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ مقابلہ کے لئے کوفہ سے کربلا پہنچا۔

عمر بن سعد نے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے پاس قاصد بھیجا کہ آپ کیوں تشریف لائے ہیں؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’ اہل کوفہ نے مجھے لکھا تھا کہ ان کے پاس آؤں۔ اب اگر وہ مجھ سے بیزار ہیں تو میں واپس مکہ چلا جاتا ہوں‘‘۔ جب ابن سعد کو یہ جواب ملا تو اس نے کہا کہ میری یہ تمنا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کسی طرح مجھے حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف جنگ سے بچا لے چنانچہ اس نے ابن زیاد کو یہ بات لکھ بھیجی کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اہل کوفہ کی ان سے بیزاری پر واپس مکہ جانا چاہتے ہیں لیکن ابن زیاد نے جواب دیا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں پر پانی بند کر دو اور حسین رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ خود اور ان کے ساتھی یزید بن معاویہ کی بیعت کر لیں۔ جب وہ بیعت کر لیں گے تو ہم سوچیں گے کہ اب کیا کرنا چاہئے؟ اس پر عمر بن حجاج کی قیادت میں ابن سعد کے آدمیوں نے سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے قافلے پر پانی بند کر دیا۔

9 محرم الحرام 61ھ کو ابن سعد کا دستہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے خیموں کی طرف آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے ذریعے ان سے آنے کا ارادہ معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ امیر ابن زیاد کا حکم ہے کہ تم اس کی اطاعت قبول کر لو ورنہ ہم تمہارے ساتھ جنگ کریں گے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو کہا : ’’ان لوگوں سے کہو کہ ہمیں ایک رات کی مہلت دے دیں تاکہ اس آخری رات ہم اچھی طرح نماز پڑھ لیں، دعا مانگ لیں اور توبہ استغفار کر لیں۔ اﷲ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھے نماز، تلاوت اور دعا و استغفار سے بڑا قلبی تعلق ہے۔‘‘

(البدایہ والنہایہ، 8 / 175)

ابن سعد کے دستہ نے یہ بات مان لی اور قافلہ حسینی رضی اللہ عنہ نے رات اﷲ تعالیٰ کی عبادت اور مناجات میں بسر کی۔
رفقاء سے سیدنا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا خطاب

ابن سعد کے دستے واپس لوٹنے کے بعد حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے رفقاء کو جمع کیا۔ اﷲ تعالیٰ کی حمد و ثناء اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے اصحاب سے نہایت فصیح و بلیغ خطاب فرمایا کہ

’’میں کسی کے ساتھیوں کو اپنے ساتھیوں سے زیادہ وفادار اور بہتر نہیں سمجھتا اور نہ کسی کے اہل بیت کو اپنے اہل بیت سے زیادہ نیکوکار اور صلہ رحمی کرنے والا دیکھتا ہوں۔ اﷲ تعالیٰ تم سب کو میری طرف سے جزائے خیر عطا کرے گا۔ اگر تم میں سے کوئی جانا چاہتا ہے تو رات کی تاریکی میں چلا جائے۔ بے شک یہ لوگ میرے ہی قتل کے طالب ہیں جب مجھے قتل کریں گے تو پھر کسی اور کی ان کو طلب نہیں ہو گی مگر آپ رضی اللہ عنہ کے اصحاب اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے عرض گزار ہوئے ’’اے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ پر اپنی جانیں قربان کر دیں گے، ہم اپنی گردنوں، پیشانیوں، ہاتھوں اور جسموں سے آپ رضی اللہ عنہ کا دفاع کریں گے۔ جب ہم قتل ہو جائیں گے تو سمجھیں گے کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے۔‘‘

(البدایہ والنہایہ، 8 / 176 - 177)

آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں اور اہل بیت رضی اللہ عنہم کے جذبات سن کر انہیں اجازت مرحمت فرمائی اور پھر آپ رضی اللہ عنہ کے اصحاب نے آپ رضی اللہ عنہ کی معیت میں رات بھر نوافل ادا کئے اور بارگاہِ ایزدی میں عاجزی و انکساری کے ساتھ مغفرت کی دعائیں مانگیں۔

(البدایہ والنہایہ، 8 / 177)، (ابن اثیر، 4 / 59)

10 محرم الحرام 61 ھ کا خونی آفتاب اپنی پوری خون آشامیوں کے ساتھ طلوع ہوا حسینی فوج کے 72 سپہ سالاروں نے یزیدی فوج کا ڈٹ کے مقابلہ کیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یزیدی فوج میدان چھوڑ کر بھاگ جائے گی۔ اس طرح مٹھی بھر جانثارانِ حسین رضی اللہ عنہ پروانہ وار شمع امامت پر قربان ہونے لگے۔ اس وقت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت سیدنا زین العابدین رضی اللہ عنہ علیل تھے۔ علالت کے باوجود اپنے والد گرامی سے اجازت طلب کی مگر آپ رضی اللہ عنہ نے سمجھایا کہ ایک تو آپ رضی اللہ عنہ علیل ہیں اور دوسرے آپ رضی اللہ عنہ کا زندہ رہنا ضروری ہے کیونکہ خانوادئہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہر چراغ گل ہو چکا ہے، ہر پھول مرجھا چکا ہے، اب میری نسل میں فقط تو ہی باقی رہ گیا، مجھے تو شہید ہونا ہی ہے اگر تو بھی شہید ہو گیا تو میرے نانا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل کیسے چلے گی۔ تجھے اپنے نانا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسل کی بقاء کے لئے زندہ رہنا ہے‘‘ پھر آپ کو کچھ نصیحتیں کیں اور یوں فرزند صاحب ذوالفقار حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ حضرت امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کو چھوڑ کر خود میدان کربلا میں اترے۔ مقابلے میں آپ رضی اللہ عنہ دیر تک یزیدیوں کو واصل جہنم کرتے رہے۔ پورے یزیدی لشکر میں کہرام مچ گیا۔ حیدر کرار کا یہ فرزند جس طرف تلوار لے کر نکلتا یزیدی لشکر خوفزدہ بھیڑوں کی طرح آگے بھاگنے لگتا۔

اسی معرکہ کے دوران آپ رضی اللہ عنہ کو بہت پیاس لگی، آپ رضی اللہ عنہ نے پانی کے لئے دریائے فرات کا رخ کیا مگر دشمن سخت مزاحمت کرنے لگا، اچانک ایک تیر آپ رضی اللہ عنہ کے چہرہ مبارک پر لگا اور آپ رضی اللہ عنہ کا چہرہ مبارک زخمی ہو گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تیر کھینچ کر نکالا پھر ہاتھ چہرے کی طرف اٹھائے تو دونوں چلو خون سے بھر گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا خون آسمان کی طرف اچھال دیا اور اﷲ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا : ’’الٰہی میرا شکوہ تجھی سے ہے، دیکھ تیرے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے کے ساتھ کیا برتاؤ ہو رہا ہے۔‘‘

(الطبری، 6 / 33)

حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ دن کا طویل حصہ میدان کربلا میں تنہا دشمن کا مقابلہ کرتے رہے اور دشمنوں میں سے ہر کوئی آپ رضی اللہ عنہ کے قتل کو دوسرے شخص پر ٹالتا رہا کیونکہ حسین رضی اللہ عنہ کا قتل کوئی بھی اپنے ذمہ نہ لینا چاہتا تھا۔ آخر شمر بن ذی الجوشن نے کہا : ’’تمہارا برا ہو کیا انتظار کر رہے ہو؟ کام تمام کیوں نہیں کرتے؟ آپ رضی اللہ عنہ ہر طرف سے نرغہ ہوا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا : کیا میرے قتل پر ایک دوسرے کو ابھارتے ہو؟ واﷲ! میرے بعد کسی بندے کے قتل پر اﷲ تعالیٰ اتنا ناخوش نہیں ہو گا جتنا میرے قتل پر۔

(ابن اثیر، 4 / 7

شمر لعین کے اکسانے پر یزیدی لشکر آپ رضی اللہ عنہ پر ٹوٹ پڑا، زرعہ بن شریک تمیمی نے آگے بڑھ کر آپ رضی اللہ عنہ کے بائیں کندھے پر تلوار ماری جس سے آپ رضی اللہ عنہ لڑکھڑا گئے۔ اس پر سب حملہ آور پیچھے ہٹے پھر سنان بن ابی عمرو بن انس نخفی نے آگے بڑھ کر آپ رضی اللہ عنہ کو نیزہ مارا جس سے آپ رضی اللہ عنہ گر پڑے۔ سنان نے سواری سے اتر کر آپ رضی اللہ عنہ کا سر تن سے جدا کر کے خونی یزید کے حوالے کر دیا۔

(البدایہ والنہایہ، 8 / 18

یوں نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، جگر گوشۂ بتول سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا کے میدان میں جانثاری کی ایک نئی تاریخ رقم کر کے قربانی کی ایک لازوال مثال قائم کر دی اور رہتی دنیا تک یہ پیغام دے دیا کہ باطل کے خلاف حق کی سربلندی کے لئے اگر سر تن سے جدا بھی ہوتا ہے تو پرواہ نہ کی جائے اور قربانی سے دریغ نہ کیا جائے۔

Last edited by ملک زوالفقار; 06-12-11 at 12:07 AM..

ملک زوالفقار
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 45
شکریہ: 179
24 مراسلہ میں 64 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 516
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ملک زوالفقار کا شکریہ ادا کیا
گلز (08-12-11), مفتی (07-12-11), مرزا عامر (07-12-11), رضی (06-12-11), سحر (11-12-11)
پرانا 05-12-11, 10:40 PM   #2
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

چلو حسینؓ کی تقلید بھی کرے کوئی
کہ صرف سوگ منانے سے کچھ نہیں ہوگا
اٹھو کہ ہم بھی جھکا دیں کسی یزید کا سر
لہو کے اشک بہانے سے کچھ نہیں ہوگا۔۔!!
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
گلز (08-12-11), مرزا عامر (07-12-11), حیدر Rehan (08-12-11), حسن قادری (07-12-11), رضی (06-12-11)
پرانا 05-12-11, 10:58 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 266
کمائي: 5,514
شکریہ: 189
211 مراسلہ میں 501 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
’’میری امت میں خلافت تیس برس تک رہے گی پھر اس کے بعد ملوکیت ہوگی۔‘‘
کیا آج تک ملوکیت جاری ہے ؟ جبکہ سعودی عرب میں اسلامی قوانین ہیں تو کیا صرف سعودی عرب میں بھی ملوکیت ہے یا اس کے علاوہ صرف دوسرے ممالک میں ملوکیت ہے ؟




کربلا کے شہیدوں کو سلام
اجمل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-12-11, 06:12 AM   #4
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,536
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس پوسٹ میں بہت سے حقائق پر پردہ ڈالا گیا ہے۔ اور بہت سے حقائق کی شکل مسخ کردی گئی ہے ۔ میری نظر میں یہ ایک متنازعہ پوسٹ ہے ۔
__________________

عشق قاتل سے بھی مقتول سے ہمدردی بھی ،یہ بتا کس سے محبت کی جزا مانگے گا؟
سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی، حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا؟
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-12-11, 10:57 AM   #5
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,602
کمائي: 172,511
شکریہ: 8,802
5,784 مراسلہ میں 21,390 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رضی مراسلہ دیکھیں
اس پوسٹ میں بہت سے حقائق پر پردہ ڈالا گیا ہے۔ اور بہت سے حقائق کی شکل مسخ کردی گئی ہے ۔ میری نظر میں یہ ایک متنازعہ پوسٹ ہے ۔
رضی آپ کو یہ کہاں محسوس ہوا ۔
مجھے تو یہ پوسٹ باقی شعیہ قصوں کے مقا بلے ذیادہ بہتر طریقے سے بیان کردہ لگی ۔
ویسے اصل واقعہ کیا ہوا وہ تو اللہ کو ہی معلوم ہے ۔
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے   Reply With Quote
سحر کا شکریہ ادا کیا گیا
رضی (06-12-11)
پرانا 06-12-11, 01:09 PM   #6
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jul 2011
مقام: sialkot
عمر: 23
مراسلات: 55
کمائي: 1,422
شکریہ: 67
44 مراسلہ میں 119 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : رضی مراسلہ دیکھیں
اس پوسٹ میں بہت سے حقائق پر پردہ ڈالا گیا ہے۔ اور بہت سے حقائق کی شکل مسخ کردی گئی ہے ۔ میری نظر میں یہ ایک متنازعہ پوسٹ ہے ۔
رضی بھائی اس پوسٹ میں جن چیزوں پر پردہ ڈالا گیا ہے۔آپ اس حقائق سے پردہ اٹھائیں تاکہ سب لوگ مستفید ہو سکیں۔
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
سائل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سائل کا شکریہ ادا کیا
ملک زوالفقار (07-12-11), حیدر Rehan (08-12-11), رضی (06-12-11)
پرانا 06-12-11, 01:12 PM   #7
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,975
کمائي: 48,850
شکریہ: 7,286
5,956 مراسلہ میں 15,117 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سائل مراسلہ دیکھیں
رضی بھائی اس پوسٹ میں جن چیزوں پر پردہ ڈالا گیا ہے۔آپ اس حقائق سے پردہ اٹھائیں تاکہ سب لوگ مستفید ہو سکیں۔
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
یہاں بولنے کی اجازت نہیں ہے بھائی۔۔
محمدخلیل آن لائن ہے   Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
مفتی (07-12-11)
پرانا 06-12-11, 01:27 PM   #8
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,536
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سحر مراسلہ دیکھیں
رضی آپ کو یہ کہاں محسوس ہوا ۔
مجھے تو یہ پوسٹ باقی شعیہ قصوں کے مقا بلے ذیادہ بہتر طریقے سے بیان کردہ لگی ۔
ویسے اصل واقعہ کیا ہوا وہ تو اللہ کو ہی معلوم ہے ۔
آپکی بات بھی درست ہے صرف پہلا پیرا مجھے حقیقت سے قریب تر نہیں لگتا
کربلا کا تاریخی پس منظر
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-12-11, 03:24 PM   #9
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,182
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : ملک زوالفقار مراسلہ دیکھیں
اَلْخَلَافَة فِیْ اُمَّتِیْ ثَلَاثُوْنَ سَنَةً ثُمَّ مَلکَ بَعْدَ ذَلِکَ.

(بہیقی، السنن الکبریٰ، 5 : 47، رقم : 1855)

’’میری امت میں خلافت تیس برس تک رہے گی پھر اس کے بعد ملوکیت ہوگی۔‘‘

چنانچہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیش گوئی کے مطابق خلافت تیس برس رہی۔ یہ زمانہ عہد خلافت راشدہ کہلاتا ہے۔ عہد خلافتِ راشدہ کے دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اعلان خلافت کے ساتھ ہی ملک شام میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی آزاد حکومت قائم کی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ تسلیم نہ کیا۔ اس پر امت مسلمہ متفق رہی ہے کہ خلافت بہرطور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا حق تھا۔ آپ ہی خلیفہ برحق اور خلیفہ راشد تھے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے جداگانہ اعلان حکومت کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کی کشمکش کا آغاز ہوگیا جس کے نتیجے میں جنگ جمل اور جنگ صفین جیسے چھوٹے بڑے معرکے ہوئے۔
اس پیرا گراف میں کون ایسی بات ہے جو حقیقت کے قریب نہیں۔ مجھے انتہائی افسوس ہے کہ یہاں ایک حدیث مبارکہ اس کے ثبوت میں درج کی گئی ہے اور آپ اسے حقیقت ہونے پر شک کر رہے ہیں!!!!!
برائے مہربانی حدیث کے معاملے میں رائے زنی کرتے ہوئے محتاط رہیں!
اس موضوع پر خلافت و ملوکیت میں‌مولانا مودودی تفصیلا بحث کی ہے آپ وہاں سے مطالعہ کر سکتے ہیں ۔
شعبان نظامی آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-12-11, 03:33 PM   #10
Senior Member
مقبول
 
تاریخ شمولیت: Nov 2011
مراسلات: 165
کمائي: 3,182
شکریہ: 439
139 مراسلہ میں 370 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اجمل مراسلہ دیکھیں
کیا آج تک ملوکیت جاری ہے ؟ جبکہ سعودی عرب میں اسلامی قوانین ہیں تو کیا صرف سعودی عرب میں بھی ملوکیت ہے یا اس کے علاوہ صرف دوسرے ممالک میں ملوکیت ہے ؟




کربلا کے شہیدوں کو سلام
رہی بات سعودی عرب کی تو وہاں پر جو خلافت رائج ہے اس کا حال پاکستان کی جمہوریت سے بھی بد تر ہے۔
محترم! وہاں پر بادشاہت ہے آپ خلافت کی بات کر رہے ہیں۔
خلافت کے قائم ہونے کے لیے کیا شرائط در کار ہیں؟ آپ اس کی وضاحت فرما دیں اور پھر وہی شرائط عرب کے سعود پر فٹ کر کے دکھائیں تو میں آپ کو مان جائوں۔
شعبان نظامی آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے شعبان نظامی کا شکریہ ادا کیا
ملک اظہر (07-12-11), مرزا عامر (07-12-11), حیدر Rehan (08-12-11), سحر (06-12-11)
پرانا 07-12-11, 01:22 AM   #11
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 45
کمائي: 853
شکریہ: 179
24 مراسلہ میں 64 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

[QUOTE=رضی;482091]آپکی بات بھی درست ہے صرف پہلا پیرا مجھے حقیقت سے قریب تر نہیں لگتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام تھے۔ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ خلافت کا زمانہ تیس سال کا ہوگا ۔ اس کے بعد وہ خلافت بادشاہت میں بدل جائے گی حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کرنے کے بعد راوی سے یا عام لوگوں کو خطاب کر کے کہا کہ حساب کر کے دیکھو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو تیس سال کی مدت بیان فرمائی ہے وہ اس طرح ہوتی ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ دو سال۔، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ دس سال، حضرت عثمان کی خلافت کا زمانہ بارہ سال اور حضرت علی کی خلافت کا زمانہ چھ سال(رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ)۔ (احمد، ترمذی، ابو داؤد)
حدیث کے راوی حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ نے تیس سال کا جو حساب بیان کیا ہے وہ تخمینا ہے اور اس بات پر مبنی ہے کہ انہوں نے کسور کو بیان نہیں کیا، چنانچہ صحیح روایات اور مستند تاریخی کتابوں میں خلافت راشدہ کی تیس سالہ مدت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ دو سال چار ماہ، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ دس سال چھ ماہ، حضرت عثمان غنی کی خلافت کا زمانہ چند روز کم بارہ سال اور حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ چار سال نو ماہ رہا ہے۔ اس طرح چاروں خلفاء کی مجموع مدت خلافت انتیس سال سات ماہ ہوتی ہے اور پانچ مہینے جو باقی رہے وہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی خلافت کا زمانہ ہے، پس حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ بھی خلفاء راشدین میں سے ہوئے حضرت حسن کی مصالحت پر تیس سال کا عرصہ مکمل ہوتا ہےرضی اللہ عنہم

آنحضرت صل اللہ علیہ وسلم کی اس پیشین گوئی کے مطابق خلافت کی جگہ ملوکیت کا دور آگیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ صحابیِ رسول تھے ۔ ان کی بادشاہت کو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی مصالحت کے بعد صحابہ نے عمومی طور پر قبول کیا تاہم جب انھوں نے اپنی ملوکیت کو موروثی بنانا چاہا تو صحابہ نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ تمام معروف صحابہ تو مزاحمت پر ڈٹے رہے جبکہ دیگر صحابہ نے اتمامِ حجت کے بعد خاموشی اختیار فرمالی مگر اس فیصلے پر صاد نہیں کیا۔ یزید کو حکمران تسلیم کرنے سے انکار کرنے والوں کی فہرست میں صحابہ کی بڑی تعداد کے نام آتے ہیں۔ انصار و مہاجرین کی اکثریت نے یزید کی حکمرانی پر نکیر کی۔ ان میں حضرت عبد اللہ بن زبیر، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت حسین بن علی حضرت عبد الرحمان بن ابی بکر، حضرت احنف بن قیس اور حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہم کے اسماے گرامی خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
ملک زوالفقار آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے ملک زوالفقار کا شکریہ ادا کیا
مفتی (07-12-11), ملک اظہر (07-12-11), سحر (07-12-11), شعبان نظامی (11-12-11)
پرانا 07-12-11, 01:28 AM   #12
Senior Member
 
مفتی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مراسلات: 540
کمائي: 7,067
شکریہ: 489
308 مراسلہ میں 689 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : اجمل مراسلہ دیکھیں
کیا آج تک ملوکیت جاری ہے ؟ جبکہ سعودی عرب میں اسلامی قوانین ہیں تو کیا صرف سعودی عرب میں بھی ملوکیت ہے یا اس کے علاوہ صرف دوسرے ممالک میں ملوکیت ہے ؟




کربلا کے شہیدوں کو سلام
بھولےبھیا
آپ کو کس نے کہہ دیا کہ سعودیہ میں سب اسلامی قوانین ہیں ؟
مفتی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے مفتی کا شکریہ ادا کیا
ملک اظہر (07-12-11), حیدر Rehan (08-12-11)
پرانا 07-12-11, 06:19 PM   #13
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,130
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

چلو حسینؓ کی تقلید بھی کرے کوئی
کہ صرف سوگ منانے سے کچھ نہیں ہوگا
اٹھو کہ ہم بھی جھکا دیں کسی یزید کا سر
لہو کے اشک بہانے سے کچھ نہیں ہوگا۔۔!!
__________________بہت زبردست جناب،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،
حسن قادری آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (07-12-11), حیدر Rehan (08-12-11)
پرانا 07-12-11, 08:16 PM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,466
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت خوب جی
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-12-11, 09:06 PM   #15
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Sep 2011
مراسلات: 257
کمائي: 5,573
شکریہ: 443
124 مراسلہ میں 510 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گرچہ ہے تابدار ابھی گیسوئے دجلہ وفرات

Last edited by ملک اظہر; 08-12-11 at 07:49 PM.
ملک اظہر آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فرض, کربلا, پھول, قید, مکہ, مقابلہ, محبت, معلوم, آدمی, اہل بیت, اللہ, انسان, امیر, امام زین العابدین, بچپن, جواب, حکم, حال, حضرات, خبر, خدا, دعا, زمانہ, سفر, عبادت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سیرت رسول صلٰی اللہ علیہ والہ وسلم ”کچھ انوکھے پہلو“ رضی تعلیم و تربیت 0 11-09-11 08:18 AM
::: سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم (7) ::: عادل سہیل پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 0 03-09-08 04:00 AM
::: سیرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (6) ::: عادل سہیل پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 0 29-08-08 11:58 PM
::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت (5) ::: عادل سہیل پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 0 29-08-08 11:46 PM
تاریخِ سیرت میں ’’سیرۃ الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ کا امتیازی مقام محمدعدنان پیارے نبی کی حیات طیبہ(ص) 6 03-10-07 11:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:26 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger