|
نپولین بوناپارٹ سے معمر قزافی تک

23-08-11, 02:15 PM
جدید دنیا میں شاہی حکومتوں اور آمریتوں کے خلاف انقلابات کا آغاز امریکی انقلاب (1776ئ) سے ہوا اور اس کے بعد انقلاب فرانس (جولائی 1789ئ) برپا ہوا جس میں عوام کے ہجوم نے شاہ لوئی شانز دہم (سولہویں لوئی) کا تختہ الٹ دیا۔ اس عوامی انقلاب پر ہمسایہ سلطنتوں کو تشویش ہوئی اور اپریل 1792ءمیں آسٹریا اور پروشیا (جرمنی) کے شاہ پسندوں نے فرانس پر حملہ کر دیا۔ اگلے سال برطانیہ بھی فرانس کے خلاف اس جنگ میں کود پڑا۔ اس دوران میں ستمبر 1792ءمیں فرانسیسی جمہوریہ (ری پبلک) کے قیام کا اعلان ہوا۔ جنوری 1793ءمیں لوئی شانز دہم اور اکتوبر میں ملکہ میری انتوائنت کے سرقلم کر دیئے گئے۔ یہ وہی شہرئہ آفاق ملکہ تھی جس نے محل کے باہر نعرے لگاتے بھوکے عوام کے بارے میں کہا تھا: ”اگر انہیں روٹی نہیں ملتی تو کیک کھا لیں۔“ ستمبر 1793ءتا اکتوبر 1795ءکنونشن کی اصلاحات کا دور تھا جس میں استعماری غلامی کا خاتمہ کر دیا گیا۔ پھر دہشت گردی کا دور چلا جس میں دسیوں ہزاروں مخالفینِ انقلاب اور مجرموں کے گلوٹین سے سرقلم کئے گئے۔ دریں اثناءفوجی فتوحات نے نپولین بونا پارٹ کی شہرت بامِ عروج پر پہنچا دی جو نومبر 1799ءکی سازش میں فرسٹ قونصل (آمر) بن گیا۔ اس دوان میں 1798ءمیں فرانسیسی فوج نے پوٹ پائس ششم (روم) کو گرفتار کر لیا اور نپولین نے مصر پر حملہ کیا۔
1803ءمیں نپولین نے کینیڈا کی سرحد سے لے کر خلیج میکسیکو تک کا وسیع علاقہ امریکا کے ہاتھ بیچ دیا۔ یہ بیع نامہ لوئیسیانا پرچیز کہلاتا ہے۔ اس خریداری سے امریکا کا رقبہ دوگنا ہو گیا اور نپولین کو یورپی مہمات کے لئے ایک کروڑ ساڑھے بارہ لاکھ ڈالر کی رقم مل گئی۔ 1804ءمیں نپولین نے شہنشاہ ہونے کا اعلان کر دیا۔ 1805-06ءکی فتوحات سے بیشتر یورپ نپولین کے تسلط میں آ گیا، تاہم جنگ ٹریفلگر (1805ئ) میں برطانوی ایڈمرل نیلسن نے فرانس کو شکست دی۔ اسی طرح نپولین کی روسی مہم (1812ئ) بری طرح ناکام رہی۔ 1814ءمیں اتحادیوں سے شکست کھا کر نپولین کو جزیرہ ایلیا میں قید ہونا پڑا، تاہم وہ فرار ہو کر ایک بار پھر شہنشاہ فرانس بن بیٹھا مگر 100دن کی حکمرانی کے بعد برطانوی اور جرمن فوجوں نے اسے واٹرلو (بلجیم) میں شکست دی اور اب کے اسے جنوبی بحراوقیانوس میں برطانوی جزیرے سینٹ ہیلینا میں قید کر دیا گیا جہاں 1821ءمیں اس نے وفات پائی۔ نپولین کی جنگوں میں 4لاکھ فرانسیسی فوجی مارے گئے۔ کانگرس آف وی آنا نے فرانس میں بوربن خاندان کی بادشاہت بحال کر دی۔ 1830ءکے انقلاب فرانس میں شاہ لوئی فلپ برسرِاقتدار آ گیا۔ اسی برس بلجیم نے ہالینڈ سے آزادی حاصل کر لی۔ 1848ءکے انقلابات میں فرانس، روم اور وینس میں جمہوریائیں قائم ہوئیں۔ اس وقت برطانیہ میں ملکہ وکٹوریہ (1837ءتا 1801ئ) حکمران تھی جس نے 1877ءمیں قیصرئہ ہند کا لقب اختیار کر لیا۔ اسے جمہوری چارٹر کے حامیوں سے خطرہ تھا، چنانچہ اس نے اپنے محصور بھتیجے شاہ بلجیم کو لکھا: ”ہو سکتا ہے کسی روز ہمیں بستروں میں ہلاک کر دیا جائے۔“ تاہم خیریت گزری اور برطانوی آئینی بادشاہت بدستور قائم ہے۔ اسی صدی میں برطانیہ، سلطنت عثمانیہ، امریکا اور برازیل میں غلامی ممنوع قرار پائی۔ 1852-70ءمیں فرانس میں شہنشاہ نپولین سوم حکمران رہا، حتیٰ کہ 1871ءمیں تیسری ری پبلک وجود میں آئی۔
بیسویں صدی میں پرتگال (1910ئ) اور چین (1911ئ) میں جمہوری انقلاب برپا ہوئے۔ پھر روس (1917ئ) اور چین (1949ئ) میں کمیونسٹ انقلاب اور سپین (1936ئ) میں فوجی انقلاب آئے۔ اس کے بعد مصر (1952ئ)، عراق (1958ئ)، شام و عراق (1963ئ)، سوڈان (1964ئ)، نائیجیریا (1966ئ)، لیبیا (1969ئ)، یونان (1974ئ)، ایتھوپیا اور پرتگال (1974ئ)، افغانستان (1973ئ، 1978ئ)، روس (1991ئ)، مشرقی یورپ (1989-90ئ)، مالدیپ، ایران (1979ئ) یوگنڈا (1967ئ، 1971ئ، 1979ئ)، عراق (1968ئ)، چلی (1973ئ) اور افغانستان (1992ئ، 1996ئ) میں انقلابات رونما ہوئے اور بادشاہتوں، جمہوری حکومتوں یا آمریتوں کے تختے الٹے گئے۔ نیز سپین میں بادشاہت بحال ہوئی (1975ئ)۔ اس دوران میں سوویت روس کے ٹینکوں نے ہنگری (1956ئ) چیکوسلاویکیا (1968ئ) اور افغانستان (1979ئ) میں کمیونسٹ انقلاب پلانٹ کئے۔
رواں سال میں جنوری میں تیونس اور فروری میں مصر میں کامیاب عوامی انقلاب آئے، پھر لیبیا، شام اور یمن میں عوامی تحریکیں اٹھ کھڑی ہوئیں۔ شام کا بشار الاسد جس نے علوی (نُصیری) فرقے کی آمریت قائم کر رکھی ہے، ہزاروں سنی مسلمانوں کو اب تک شہید کر چکا ہے، خصوصاً درعا، حمص، حماہ، ادلب، حلب، زیرالزور اور دمشق میں بہت خونریزی کی گئی ہے۔ ادھر یمن کا علی عبداللہ صالح 3جون کو قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہونے کے باوجود اقتدار سے چمٹا ہوا ہے۔
جہاں تک لیبیا کا تعلق ہے، فروری کی عوامی بغاوت کے نتیجے میں یہ ملک عملاً دو حصوں میں بٹ چکا ہے۔ مشرقی لیبیا (بن غازی، درنہ، طبرق، اجدابیہ وغیرہ) پر باغیوں کا کنٹرول ہے جہاں فوجی دستے بھی ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ مغربی لیبیا (دارالحکومت طرابلس، سرت، السدرہ، زوارہ وغیرہ) قذافی کی وفادار فوجوں کے قبضے میں ہے اور طرفین میں خونریز جنگ جاری ہے۔ اوپر سے امریکی و اتحادی طیارے مارچ سے لیبیا پر بمباری کر رہے ہیں جس میں شہری ہلاکتیں بھی ہو رہی ہیں۔ 1969ءمیں جب قذافی نے شاہ ادریس کا تختہ الٹا تھا، وہ ترکی میں زیرعلاج تھے۔ اس وقت لیبیا 3ملین بیرل تیل پیدا کرتا تھا جس کی مغربی کمپنیاں سب سے کم قیمت لگاتی تھیں۔ قذافی نے پہلی دہائی میں تیل کی صنعت قومی ملکیت میں لے لی۔ تیل کی قیمت بڑھا دی اور سماجی فلاح کے منصوبوں میں سرمایہ لگایا۔ نیز اپنے قبیلہ قذاذفہ کو خوب نوازا۔ اس دوران میں اس نے سوڈانی آمر جعفر نمیری کے خلاف کمونسٹ انقلاب ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور وہ برطانوی طیارہ جس میں کمونسٹ لیڈر سوڈان جا رہے تھے، لیبیا میں اتار کر سوڈانی باغی نمیری کے حوالے کر دیئے جہاں انہیں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ دوسری دہائی (1978-88ئ) میں تقریباً 200فرمیں قومی ملکیت میں لے لی گئیں۔ میدان جفارہ میں زمین کی تقسیم نو عمل میں آئی اور سنٹرل بنک نے اکاﺅنٹس کی حد مقرر کر دی۔ اس دوران میں اس نے قوم کے لئے ایک گرین بُک اور سائنس فکشن پر مبنی کہانیاں لکھیں۔ اس نے اطالوی شہری ملک سے نکال دیئے جو اطالوی استعماری دور (1911-52ئ) میں یہاں آ بسے تھے۔ 1993ءمیں قذافی پر قاتلانہ حملہ ہوا تو اس نے القاعدہ کی مذمت شروع کر دی۔
نائن الیون کے بعد قذافی نے یوٹرن لیا اور امریکا کو اجازت دی کہ لیبیا کی ایٹمی تنصیبات اٹھا لے جائے۔ اس کے صاحبزادے سیف الاسلام نے کہا کہ لیبیا بش کی دہشت گردی کی جنگ کی حمایت کرتا ہے، حتیٰ کہ قذافی کی ویب سائٹ میں کہا گیا: ”دہشت گردی صرف امریکا کے لئے باعث تشویش نہیں، پوری دنیا کو اس پر تشویش ہے۔ امریکا اکیلا اس کے خلاف نہیں لڑ سکتا۔“ مئی 2009ءمیں ابن شیخ اللیبی کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت نے قذافی کو پریشان کر دیا جنہیں پاکستان نے امریکا کے حوالے کر دیا تھا اور وہ گوانتانامو میں امریکی تشدد کی تاب نہ لا کر شہید ہو گئے تھے۔
اس سے پہلے فلسطینیوں کی حمایت کرنے پر امریکا نے 1986ءمیں لیبیا پر پابندیاں لگائیں اور قذافی کے محل پر بمباری کی تھی جس میں اس کی پندرہ ماہ کی بیٹی حنا شہید ہو گئی تھی۔ 1992ءمیں امریکا نے لیبیا پر عالمی پابندیاں لگوا دیں جو 1999ءمیں اس وقت اٹھیں جب لیبیا نے دو ملزم مقدمہ چلانے کے لئے ہالینڈ کے حوالے کر دیئے جن پر 1988ءمیں امریکی مسافر بردار طیارہ لاکربی (سکاٹ لینڈ) کی فضا میں دھماکے سے اڑانے کا الزام تھا۔ نیز اس فضائی حادثے میں ہلاک شدگان کے ورثاءکو قذافی نے ایک کروڑ ڈالر فی کس ادا کئے، چنانچہ 270افراد کے لئے 2.7ارب ڈالر دینے پڑے۔ جنوری 2001ءمیں دو ملزموں میں سے انٹیلی جنس آفیسر عبدالباسط المجرہی کو سزا سنائی گئی اور وہ برطانیہ میں قید کاٹ رہا تھا مگر اس دوران میں تیل کے سودوں کے لئے ٹونی بلیئر (برطانیہ)، سرکوزی (فرانس) اور برلسکونی لیبیا پر مہربان ہو چکے تھے، چنانچہ بلیئر، سرکوزی، برلسکونی اور امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کو طرابلس کے دورے پڑے اور پھر کینسر میں مبتلا المجرہی کو انسانی بنیادوں پر لیبیا روانہ کر دیا گیا جہاں قذافی نے ہیرو کی طرح اس کا استقبال کیا۔ اطالوی وزیراعظم سلویو برلسکونی نے لیبیا پر اطالوی استعمار اور 1931ءمیں اس کے مجاہد آزادی عمر المختار کو شہید کرنے پر معافی مانگی اور 2008ءمیں عمر المختار کے بیٹے کو 5ارب ڈالر ادا کئے۔ برلسکونی کے بقول اس نے یہ اس لئے کیا کہ اٹلی کو ”کم غیر قانونی تارکینِ وطن اور زیادہ تیل ملے“ یاد رہے قذافی کے مخالفین خود کو ”عمر المختار کے بیٹے“ کہتے ہیں۔
اب قذافی پر آمائش آن پڑی ہے، عوام اس کی 42برس طویل آمریت سے نجات چاہتے ہیں مگر قذافی نے عوامی خواہشات پر سرتسلیم خم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ لیبیا میں عملاً خانہ جنگی ہو رہی ہے۔ قذافی کی فضائیہ مظاہرین پر بمباری کر رہی ہے۔ اس نے بن غازی کا تیل بند کر دیا تھا تاکہ باغی طرابلس پر یلغار نہ کر سکیں۔ دو پائلٹوں نے بمباری کے بجائے اپنے طیارے مالٹا کے جزیرے میں لے جا اتارے۔ بیداری کی تحریک عوامی حقوق کے بجائے مفادات کی جنگ بن چکی ہے جس سے مغرب کے اچکے فائدہ اٹھائیں گے۔
بشکریہ ،، ہفت روزہ جرار
والسلام ،، علی اوڈ راجپوت
ali oadrajput
___
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)
|
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|