واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


نیست ممکن جز بہ قرآن زیستن

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-04-11, 12:24 AM   #1
نیست ممکن جز بہ قرآن زیستن
عبدالہادی احمد عبدالہادی احمد آف لائن ہے 29-04-11, 12:24 AM

نیست ممکن جُز بہ قرآں زِیستن
عبدالہادی احمد
مسلمان قوم کی بے بسی اور رسوائی آج حد سے گزر گئی ہے۔ کھلی آنکھوں سے قرآن پاک کی توہین کے بدترین مظاہردیکھ رہے ہیں اور چپ ہیں، دنیا بھر میں شانِ رسالت ؐمیں بدترین گستاخیاں ہوئیں جو ہم نے برداشت کر لیں، قوم کی عافیہ جیسی بیٹی پر ہر قسم کا ظلم بھی ہماری غیرت کے لیے تازیانہ نہ بن سکا، دن رات ڈرون حملوں سے شہریوں کا قتل عام ہورہاہے، سرحدوں کی پامالی ہوتی ہے، یہ سب کچھ ٹھنڈے پیٹوں جھیل لیا گیا۔ پرویز مشرف اور زرداری وگیلانی جیسے حکمران ناموس رسالتؐ کی توہین پرخاموش رہے کہ امریکہ ناراض نہ ہو جائے، مگر امریکا کی اسلام دشمنی کی جنگ میں سو جان سے شریک ہوکر اسے اپنی جنگ ثابت کرتے رہے کہ اسی سے ان کے لیے اقتدارکی راہ ہموارہوتی ہے۔ اللہ کے دین کی حرمت پامال ہوپروا نہیں، لیکن ذات پر چوٹ پڑے تو تڑپ اٹھتے ہیں۔ لال مسجد میں طلبہ وطالبات پر قیامت ڈھانے کے بعد ان کے سینکڑوں زندہ درگور ورثاء قبائلی علاقے میں دربدر کر دیے گئے، وہاں بم باری سے گھر، مسجدیں، مدرسے ڈھا دئیے اورہزاروں نوجوان جیلوں میں ٹھونس دئیے گئے۔ قرآن کے خون آلود اوراق اور حدیث کی کتب میں کٹی انگلیاں، ٹوٹی چوڑیاں اور بکھرے مسلے دوپٹے دیکھ کربھی دلوں میں ارتعاش کی ایک لہر بھی نہ اٹھی؟ ایک سسکی ایک آہ نہ نکلی؟ جبین شکن آلود تک نہ ہوئی؟پاکستان کے عوام آئے دن سنتے ہیں کہ آج ڈرون حملوں میں اتنے دہشت گرد مارے گئے،دہشت گردوں کے اتنے ٹھکانے ملیا میٹ کر دیے گئے۔کبھی آپ نے سوچایہ جو دہشت گرد مرتے ہیں ان کے کوائف جانے جائیں انہیں امریکا ''دہشت گرد'' کہتا ہےمگران کےنام اورکام ہم بھی تو معلوم کریں۔ہم چپ رہتے ہیں ہمارامیڈیا بھی امریکیوں کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے اور ہم بھی خبر سن کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔کاش ہم ان سب حملوں میں شکار ہونے والوں کے بارے میں جان سکتے۔ کیا کیا گنج ہائے گراں مایہ ان حملوں کا نشانہ بنتے ہیں اور بے گناہ و بے خطا۔ اس کی صرف دو جھلکیاں دیکھ لیجیے:
١۔مولانا محمد امین اورکزئی ممتاز عالم دین اور کئی کتابوں کے مصنف تھے۔ قرآن و حدیث پر وقیع تحقیقی کام کرنے والے عالم بے بدل ایسے ہی ایک حملے میں شہیدہوئے۔ ان کے ساتھ مسجد اور دو مدرسے بھی شہید ہوئے۔ ایک مدرسے کے مفتی صاحب کی اہلیہ شدید زخمی ہوئیں۔ دیگر متعدد خواتین اورکئی طلبہ سمیت دو بچے شہیدہوئے۔ خبر میں کہا گیا''دہشت گرد مارے گئے''۔ مسجد مدارس اور ملحقہ گھر سب ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
٢۔ کرفیو سے لاعلم پناہ کی تلاش میں گھرسے نکلنے والے خاندان کے دس افراد لمحے بھر میں شہادت سے ہم کنار ہوئے۔ان میں کوئی مرد نہ تھا۔ نہتی عورتیں اور ننھے بچے جان بچانے کے لیے جا رہے تھے۔ اس خاندان کو ہینڈز اپ کرنے کے لیے کہا جاتا ہے اس کے بعد ٹینک گولے برسا کر سب کو موت کی نیند سلا دیتا ہے۔ مارنے والوں نے لاشیں لے کر خود ہی اجتماعی قبر میں دفنا دیں۔ کہا گیا اس کے ذمے دار اشتہاری مجرم طالبان تھے۔
اس مسلم ہولو کاسٹ پر غور کیجیے اور اپنی فکر کیجیے کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہماری جنت دوزخ تو ہمارے ہی قدموں تلے ہے۔ حدیث کا ایک ٹکڑا ہے: ''اس کا چہرہ کسی ایک دن بھی اللہ کے نام پر سرخ نہ ہوا'' لیکن اللہ کے لیے سرخ نہ ہونے والے چہرے ذاتی منفعت کی خاطرسرخ انگارا ہو جاتے ہیں۔
رسولِ رحمتؐ نے ارشاد فرمایا تھا''میں تم میں وہ چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگراسے مضبوطی سے تھامے رہے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے، اللہ کی کتاب اور اس کے رسول ؐکی سنت ۔'' ہم نے کتاب و سنت کو ہاتھ سے چھوڑنے کے جرم کا ارتکاب کیا، نتیجہ یہ ہے کہ آج پوری امت بالعموم اور پاکستانی قوم بالخصوص اپنے سائے سے بھی لرزاں و ترساں ہے۔ قرآن کا دامن چھوڑ کرپاکستان مضبوط فوج اور ایٹمی قوت ہو کر بھی بے کسی کی تصویر بنا ہوا ہے اورامریکہ پوری طرح اس کی گردن پر سوار ہے۔ جب کہ افغانستان میں مجاہدین نہتے ہونے کے باوجود محض قرآن کے سہارے ٤٢ ممالک کے اتحاد کو شکست دینے کی پوزیشن میں ہیں۔ پاکستان میں بھی اگرمسلمان قرآن وسنت کو تھام لیں تو اس قوت سے متمتع ہو سکتے ہیں جو جابروں اور فرعونوں کے پر غرور سر جھکا دیتی ہے۔ قرآن پر عمل کریں اور سیرت نبی ؐکونمونہ عمل بنا لیں تو....یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں۔
یہ امت غیرت سے اتنی تہی دامن اس لیے ہو گئی کہ اس کے لیڈر(اپوزیشن اور حکمران) اسلام سے بالکل لاتعلق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اسلام دشمن طاقتوں کے منصوبے کے مطابق قوم کو قرآن سے کاٹنے کی شعوری کوششیں کی ہیں۔ وہ قرآن جو ان کو ایک امت بنانے آیا تھا، آج اس سے ہمارے رشتے کا یہ عالم ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وزیر داخلہ زبانی تو درکنار لکھی ہوئی سورئہ الاخلاص بھی نہیں پڑھ سکتا۔ ایسا ان پڑھ شخص وزیرکیسے بن گیا؟ کلام اللہ سے بے بہرہ اور لاعلم کوئی شخص اسلام کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے؟ و ہ شخص جواتنی مختصر سورت سے ناواقف ہے اس کا باقی اسلام کس حال میں ہوگا۔ کوئی مان سکتا ہے ایسے شخص نے کبھی نماز پڑھی ہو گی۔ اس سے پہلے ایک جرنیل وزیر تعلیم نے قرآن کے چالیس سیپارے بتائے۔ کرسمس کیک کاٹنے والے وزیر اعظم نے(نعوذ باللہ) حضرت عیسیٰؑ کو سولی پر لٹکا دیا۔ قبل ازیں ایک رُکن اسمبلی جعلی ڈگری کیس میں عدالت عالیہ میں گئے۔ ان سے پوچھا گیا، تفسیر کون سی پڑھی ہے،تو کہا:''حضرت یوسفؑ کی''۔ زرداری صاحب نے نئے سال کا استقبال ساحل سمندر پر کیا، کیونکہ نجومیوں نے ان کوپہاڑوں سے دور اور سمندر کے نزدیک رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ موت اور تباہی سے بچانے کے لیے کالے بکروں کا صدقہ ہنوز جاری ہے۔ قرآن وحدیث سے کوئی ربط ہوتا تو یہ معلوم ہوتا کہ نجومیوں کے کہنے پر عمل کرنے سے چالیس دن رات کی نماز ضائع ہو جاتی ہے اورحضورؐکا ارشاد ہے، نجومی پر یقین کرنانبی کی لائی ہوئی تعلیم سے کفر ہے۔(ابی داؤد)
امت کی ذلت ونکبت کی وجوہ میں سب سے بڑی وجہ قرآن سے دوری ہے۔ چار مرتبہ برطانیہ کا وزیر اعظم رہنے والے گلیڈسٹون نے ١٨٨٢ء میں برطانوی پارلیمنٹ میں قرآن کا نسخہ لہراتے ہوئے کہا تھا: '' مصر میں مسلمانوں کو کمزور کرنے اور ان پر حکمرانی کے لیے یہ کتاب مسلمانوں سے چھین لینی ہو گی۔ جب تک یہ کتاب ان کے پاس موجود ہے اور مسلمان اس کا احترام اور ابتاع کرتے ہیں برطانیہ کبھی ان پر غلبہ نہ پا سکے گا۔'' اب امریکامسلمانوں کو قرآن اور اسلامی طرز حیات سے دور کرنے کے لیےقرآن ان سے چھین لینا چاہتا ہے،اس مقصد کے لیےتمام عالمی ذرائع ابلاغ بروئے کار لا ئے جا رہے ہیں۔ برطانوی وزیر اعظم کے کہنے پر مصر میں انگریزوں نے ایسی کتب پھیلائیں جن میں یہ خیال عام کیا گیا کہ مصر قرآن اور اسلام کی وجہ سے ترقی نہیں کر پا رہا، ورنہ مصری اسلام کی آمد سے پہلے بہت تہذیب یافتہ تھے۔ تُرکی میں یہی نظریہ کمال اتاترک کے ذریعے رائج اور بزور قوت نافذ کیا گیا۔ انگریز نے شبانہ روز محنت سے اپنے مقبوضہ ممالک میں نیا نظام تعلیم نافذ کیا، اس کے ذریعے قرآن و سنت سے بیگانہ کالے مقامی انگریزتیار کیے انہیں مسلمانوں کے مستقل حکمران بنانے کا انتظام کیا، آج امریکہ غلام سازی کا یہی منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچا رہا ہے۔ پاکستان کے نظام تعلیم، اس کی معاشرتی زندگی اور تمام شعبہ ہائے حیات میں قرآن تلاش کرنے سے بھی نہیں ملتا۔ مسلمان کو اسلام سے بیگانہ کرنے والے اے لیول، او لیول، درآمد شدہ کیمبرج آکسفورڈ کے نصابوں کے حامل نہایت مہنگے سکول ہزاروں کی تعداد میں پھیل رہے ہیں، مگر قرآن کے نام پر بننے والے معیاری سکولوں کا نام ونشان بھی نہیں ملے گا۔ پانی کے نلکوں میں گٹر کی لائنوں سے ملا ہواآلودہ پانی آرہا ہے،بالکل اسی طرح روح کو آلودہ کرنے کے لیے انگریزوں اورامریکیوں کے فکری اور نظری گٹرہر گلی محلے میں ابل رہے ہیں۔حالانکہ اس پاک سرزمین میں فکر و نظر کی تعمیر کے لیے کوثر و تسنیم سے دھلے اور وحی الٰہی سے مستنیر علم کی ضرورت تھی،لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ حکمران طبقہ جو خوداس سے نابلد اور ناخواندہ ہے، قوم کی محرومی کا ازالہ کیسے کرے گا۔افسوس نئی نسل کو قرآن سے بچا کر پالا جا رہا ہے۔
یہ قرآن سے دوری کی سزا ہے کہ امریکا کے کہنے پر ہماری فوج اپنے ہی ملک کو فتح کر رہی ہے،بلوچستان کو علاحدگی کی راہ دکھائی جا رہی ہے،اپنے شہریوں کے قتل کے لیے ڈرون حملے کروا ئے جا رہے ہیں۔ کل ہندوؤں اور سکھوں کی درندگی سے بچنے کے لیے ہجرت کی گئی تھی۔ آج امریکی درندوں اور ان کے کرائے کے فوجیوں سے جان بچانے کے لیے ہجرت جاری ہے۔ کوئی وجہ تو ہو گی سورئہ انفال اور سورئہ توبہ کو ہمارے نصاب سے نکلوانےکی خاطرامریکی سعی نامشکور کی۔ اس و زیر تعلیم کو قرآن کی پروا کیسے ہو سکتی تھی جسے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ قرآن کےچالیس پارے ہوتے ہیں یا تیس۔ جس ملک کا وزیر داخلہ نہیں جانتا کہ سورئہ اخلاص کیا ہے،اسے کیا پتہ سورئہ انفال اور سورئہ توبہ سے امریکا کو کیا تکلیف ہے؟ افسوس آج اسلام کے دشمن ہمارے وزیروں سے زیادہ جانتے ہیں کہ قرآن کی تاثیر کیا ہے۔افغانستان کے مجاہدین جنہوں نے یہ سورتیں پڑھ لیں اور سمجھ لیں وہ تو امریکہ کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں۔
پاکستان کے مسائل کا حل تو یہ ہے کہ قرآن وسنت سے لاتعلق اور عملی طور پر دشمنِ اسلام قیادت کوملک سے باہر نکال دیا جائے۔ ان کے پیچھے قوم امریکا سے خود نمٹ لے گی۔ یہ ساری ایمان فروشیاں اقتدار اور متاع دنیا کی خاطر ہیں۔ پاکستان کا بھلا اس میں ہے کہ یہ سب لوگ جو امریکی ڈالروں کی زبان بول رہے ہیں مستقلاًپاکستان کا پیچھا چھوڑ دیں۔ ایک پارٹی اقتدار میں بیٹھی امریکہ کی بندگی کا حق ادا کر رہی ہے، دوسری غلاموں کی لائن میں لگی کھڑی ہے اور کہہ رہی ہے کہ سرکارہم کو بھی آزمائیں،ہمیں بھی خدمت کا موقع دیں، ہم بھی آپ کے دشمنوں کے اتنے ہی دشمن ہیں۔ اسلام سے ہمارا بھی واجبی سا تعلق ہے۔ کفر کی موت اور مغرب کی فاسد تہذیب کی بربادی ہم بھی نہیں دیکھ سکتے، ہم بھی آپ کے فرنٹ لائن اتحادی ہیں۔ ہم بھی امریکا کے دشمنوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے میں کسی سے پیچھے نہیں رہیں گے۔کب تک یہ امریکی غلام ہم پر مسلط رہیں گے؟
کرائے کے فوجیوں کا تو کیا ماتم کریں، مگر جو مجاہد بن کر بھرتی ہوئے تھے اور جن کے دلوں میں آج بھی شہادت کی تمنا زندہ ہے اور جو بڑے دکھ میں مبتلا ہیں کہ ان کے ساتھ یہ کیا واردات ہوگئی؟ ان کویادہونا چاہیے کہ آپ کو تنہااس قہار و جبار کے دربار میں حاضر ہونا ہے، اس دربار میں جانا ہے جہاں سارے تمغے اور ستارے جھڑ چکے ہوں گے، اس روز اللہ کے حضور اس کے ہر غلام کو لرزاں وترساں حاضری دینی ہو گی۔ کیا جواب ہو گا ان کے پاس جنہوں لال مسجد میں اسلام کے بیٹوں اور بیٹیوں کا بے دریغ لہو بہایا۔ ہزاروں دین دار مسلمانوں کو قبائلی علاقے میں امریکہ کی خاطرشہید کیا اور ڈالر وصول کیے۔ وہ دن لد گئے جب یہ'' پتر ہٹاں تے نئیں وکدے''والی بات سچی تھی،اب تو پوری قوم کی بولی لگ چکی ہے، امریکہ خریدار ہے اور آج سارے پتر ہٹیوں پر بک رہے ہیں۔ ایمان بک رہا ہے، فکرودانش بک رہی ہے، قلم بک رہا ہے، زبان بک رہی ہے؛ حتی کہ اب تو عالم دین کافتویٰ بھی نہایت سستا بک رہا ہے۔
حضورنبی کریم ؐکے ناموس کے تحفظ کے لیے قوم نے جس یک جہتی کا اظہار کیا اس پر بجا طور پر وہ لائق مبارک باد ہے۔ قوم کے ہر طبقے نے ہڑتال، مظاہروں اور ریلیوں میں شرکت سے اپنے حکمرانوں اور دنیائے کفر کو ایک واضح پیغام دیا۔ قوم کا یہ موڈ جانچنے کے بعد ہی قانون ِ رسالت میں ترمیم پر تلے ہوئے حکمران اپنا ارادہ بدلنے پر مجبور ہوئے۔پاکستانی قوم بار بار اسلام سے اپنی وابستگی کا واشگاف اظہار کرتی رہی ہے صرف حکمران طبقہ دین سے وابستگی کے معاملے میں تہی دامن ہے۔ الحمد للہ، آج بھی مسلمان کے بدن سے جان نکالنا آسان اور روح محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) نکال لینامشکل ہے۔ قوم کی ہزار ہا کمزوریوں کے باوجود حضور اقدس ؐسے یہی وابستگی اور وارفتگی ا مید کی کرن بن جاتی ہے۔
دوسری طرف حکمران طبقے کا سب کچھ امریکا ہے۔کل ہی وزیر اعظم نے کہا، امریکا پاکستان کا ساٹھ سالہ پرانا دوست ہے۔یہ ایک گمراہ کن بیان ہے،یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ امریکا پاکستان کا دوست نہیں بدترین دشمن ہے۔ گزشتہ دس برس میں اس نے پاکستان کی حفاظت کرنے والی تین مضبوط فصیلیں گرا دی ہیں۔ پہلی باضابطہ حفاظتی دیوارپاک فوج تھی اوراس کا مضبوط نظریاتی نصب العین تھا۔ ایٹمی پروگرام اس دیوار کو ناقابل تسخیر بناتا تھا۔ امریکا نے اس دیوار کے اندر کئی شگاف ڈال دیے ہیں۔ دوسرا حصارکروڑوں مسلح قبائل کی وہ فی سبیل اللہ بہادر ،غیور اورمحب وطن فوج تھی جس نے نصف صدی تک ہماری شمال مغربی سرحدوں پر ایک روپیہ خرچ کیے بغیر ہمیں تحفظ فراہم کیا۔ تیسرا مضبوط حصار ان جہادی تنظیموں کا تھا جنہوں نے پہلے افغانستان اور پھر کشمیرمیں بے مثال جہاد کیا۔ یہ محبِ وطن اور پاکستان کے لیے کٹ مرنے کا جذبہ رکھنے والی مجاہد تنظیمیں بغیر تنخواہ کے پاکستان کے نظریے اور سلامتی کی محافظ تھیں آج اس ملک میں اپنی بقا کے لیے پریشان ہیں۔ پاکستان کا عظیم نظریہ ملک کی آزادی اور سا لمیت کی ضمانت تھاجسے امریکا نے ابہام کا شکار بنادیا ہے۔سوال یہ کہ ہم میں سے کون ہے جواللہ کے بجائے امریکا کی پر ستش کرنے کے لیے تیار ہو گا۔کوئی پاکستانی ایسا نہیں ہو سکتا۔اب یہ ساری قوم کا فرض ہے کہ وہ امریکی غلامی سے نجات حاصل کرے۔قوم کے اہل ایمان بہادر سپوتوں، علمائے حق، دانش وروں، مخلص صحافیوں اور سیاسی ورکرروں کا فرض ہے کہ سب ایک نکتے'' مرگ بر امریکہ'' اور ''Go America Go '' پر متحد اور متفق ہو جائیں۔آئندہ پرویز مشرف کی طرح امریکا کے سامنے سجدہ ریز ہو نے سے اللہ کی پناہ مانگیں۔ پاکستان کو ایک اسلامی نظریاتی مملکت کے طور پربچانے کا یہ آخری موقع ہے۔ نظریاتی ابہام اورانتشار فکری نے ہمیں طاغوت کے لیے آسان چارہ بنا ڈالا ہے۔ اب صرف قرآن ہمیں جمع کر سکتا ہے اور ہمارے لیے ناقابل تسخیر حصار بن سکتا ہے۔ آئیں قرآن کی طرف۔۔۔آئیں سر بلند ی اور سرفرازی کی طرف۔۔۔۔حکیم الامت نے ایک صدی پہلے جو بات کہی تھی وہ آج بھی سچ ہے اور ہمیشہ سچ رہے گی :
گرتو می خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بہ قرآں زیستن٭
٭اگرتم مسلمان کی زندگی جینا چاہتے ہو، تو قرآن کے بغیر مسلمان بن کر جینا ممکن نہیں۔

Last edited by عبدالہادی احمد; 30-04-11 at 08:29 AM..

عبدالہادی احمد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: 899 ڈھوک پراچہ،سیٹلاءٹ ٹاؤن راولپنڈی
مراسلات: 285
شکریہ: 14
213 مراسلہ میں 859 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 224
Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبدالہادی احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (29-04-11), skjatala (29-04-11), ھارون اعظم (29-04-11), مرزا عامر (03-05-11), احمد بلال (29-04-11), رضی (29-04-11), عبداللہ حیدر (29-04-11)
پرانا 29-04-11, 01:48 AM   #2
Senior Member
 
skjatala's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
کمائي: 32,888
شکریہ: 9,762
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دلِ مردہ دل نہی ہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے مرضِ کُہن کا چارا
جزاک اللہ خیرا
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر
skjatala آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
shafresha (29-04-11), حیدر (29-04-11)
پرانا 29-04-11, 11:59 AM   #3
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
یہ امت غیرت سے اتنی تہی دامن اس لیے ہو گئی کہ اس کے لیڈر(اپوزیشن اور حکمران) اسلام سے بالکل لاتعلق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اسلام دشمن طاقتوں کے منصوبے کے مطابق قوم کو قرآن سے کاٹنے کی شعوری کوششیں کی ہیں۔ وہ قرآن جو ان کو ایک امت بنانے آیا تھا، آج اس سے ہمارے رشتے کا یہ عالم ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا وزیر داخلہ زبانی تو درکنار لکھی ہوئی سورئہ الاخلاص بھی نہیں پڑھ سکتا۔ ایسا ان پڑھ شخص وزیرکیسے بن گیا؟ کلام اللہ سے بے بہرہ اور لاعلم کوئی شخص اسلام کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے؟ و ہ شخص جواتنی مختصر سورت سے ناواقف ہے اس کا باقی اسلام کس حال میں ہوگا۔ کوئی مان سکتا ہے ایسے شخص نے کبھی نماز پڑھی ہو گی۔ اس سے پہلے ایک جرنیل وزیر تعلیم نے قرآن کے چالیس سیپارے بتائے۔ کرسمس کیک کاٹنے والے وزیر اعظم نے(نعوذ باللہ) حضرت عیسیٰؑ کو سولی پر لٹکا دیا۔ قبل ازیں ایک رُکن اسمبلی جعلی ڈگری کیس میں عدالت عالیہ میں گئے۔ ان سے پوچھا گیا، تفسیر کون سی پڑھی ہے،تو کہا:''حضرت یوسفؑ کی''۔ زرداری صاحب نے نئے سال کا استقبال ساحل سمندر پر کیا، کیونکہ نجومیوں نے ان کوپہاڑوں سے دور اور سمندر کے نزدیک رہنے کا مشورہ دیا تھا۔ موت اور تباہی سے بچانے کے لیے کالے بکروں کا صدقہ ہنوز جاری ہے۔ قرآن وحدیث سے کوئی ربط ہوتا تو یہ معلوم ہوتا کہ نجومیوں کے کہنے پر عمل کرنے سے چالیس دن رات کی نماز ضائع ہو جاتی ہے اورحضورؐکا ارشاد ہے، نجومی پر یقین کرنانبی کی لائی ہوئی تعلیم سے کفر ہے۔(ابی داؤد)
گریجویٹ اسمبلی
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (29-04-11), مرزا عامر (03-05-11)
جواب

Tags
پاکستان, یہی, وزیر, قرآن, نہی, نماز, موت, مردہ, معلوم, آج, اللہ, اسے, اسلام, اسلامی, تعلیم, حال, دلِ, رات, رشتے, زندہ, زرداری, شخص, عدالت, صدقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اے اللہ امریکہ و یورپ کو نیست و نابود کردے؟؟؟؟؟ shafresha عمومی بحث 68 17-11-10 12:13 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:30 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger