واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


واشنگٹن کے ناخداﺅ! یہ کیا کر رہے ہو؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-07-11, 06:40 PM   #1
واشنگٹن کے ناخداﺅ! یہ کیا کر رہے ہو؟
saad-oad saad-oad آف لائن ہے 03-07-11, 06:40 PM

اے امریکیو ،،،فاین تذھبون،،،،، یہ تم کہاں جا رہے ہو؟ تمہارے آباﺅ واجداد نے تو ریاستہائے متحدہ امریکہ کی بنیاد رکھتے وقت انسانی آزادیوں اور حریت کے نعرے لگائے تھے مگر تم جارج واشنگٹن اور تھامس جیفرسن کے اقوال و افعال سے روگردانی کر کے دوسروں کو غلام بنانے کی جس راہ پر گامزن ہو، یہ سراسر ہلاکت اور بربادی کا راستہ ہے۔
تم کب تک روئے زمین پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑتے رہو گے؟ کب تک بدترین دہشت گردی پھیلا کر دہشت گردی ختم کرنے کے ابلیسی نعرے لگاتے رہو گے؟ تمہارے ایک صدر ابراہام لنکن نے غلامی کے خاتمے کے لئے اپنی زندگی خطرے میں ڈالی تھی اور پھر ایک دہشت گرد امریکی نے اس کی جان لے لی تھی لیکن تم نے ابراہام لنکن کی پیروی کے بجائے اس کے دہشت گرد قاتل کی روش اپنا لی ہے۔ تم نے گزشتہ ایک صدی میں کروڑوں انسانوں کا خون بہایا ہے اور درندگی اور بہیمیت کے ایسے ایسے مظاہرے کئے ہیںکہ تاریخ انسانی کے بڑے بڑے خونخوار تمہارے آگے پانی بھرتے نظر آتے ہیں۔ تم خونخواری میں ایٹیلا، چنگیز خاں اور ہلاکو خاں کو مات دے چکے ہو۔
امریکیو! ذرا سوچو تو، تم جس نبی کے پیروکار ہونے کا دعویٰ کرتے ہو، اس کا قول خود تمہاری کتابوں میں درج ہے کہ اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا گال بھی اس کے آگے کر دو۔ تمہارا یہ گمان ہے کہ یہودیوں نے رومی گورنر پونتس پیلاطس سے حکم صادر کروا کے مسیح علیہ السلام کو صلیب (سولی) پر چڑھا دیا تھا۔ اب تم نے اس نبی محترم علیہ السلام کے نام پر دنیا بھر میںظالمانہ صلیبی جنگ شروع کر رکھی ہے جو کہ دنیا کے لئے امن اور سلامتی اور نجات کی نوید لائے تھے۔ قرونِ وسطیٰ میں تمہارے جو آباﺅاجداد دو سو برس صلیبی جنگوں کے جنون میں مبتلا رہے وہ تو تمہارے مفکرین کے بقول قرون مظلمہ (Dark Ages) کی پیداوار تھے۔ وہ نئے نئے عیسائی بنے تھے اور ان کے جاہل اور متعصب پادریوں نے ان کے وحشیانہ اوصاف کی اصلاح کئے بغیر انہیں عالم اسلام کے خلاف صلیبی جنگوں میں دھکیل دیا تھا لیکن تم تو متمدن اور مہذب ہونے کا دعویٰ کرتے ہو، پھر بھی گاڈفرے، ریجنالڈ، رچرڈ اور لوئی ہفتم سے بھی بڑھ کر درندگی کا مظاہرہ کر رہے ہو (گاڈفرے کے صلیبیوں نے 1099ءمیں بیت المقدس پر قبضہ کر کے 70 ہزار مسلمان صرف مسجد اقصیٰ میں شہید کر دیئے تھے جو وہاں پناہ گزین تھے۔ ریجنالڈ مسلمان حجاج کے قافلے لوٹتا اور انہیں شہید کر دیتا تھا۔ رچرڈ شاہ انگلستان نے عکا کے 2600 مسلمان قیدی انتہائی درندگی سے موت کے گھاٹ اتار دیئے تھے کہ ان کا فدیہ بروقت نہیں پہنچا تھا۔ شاہ فرانس لوئی ہفتم میدان جنگ میں فوت ہونے والے ملک الصالح ایوبی کی دلیر ملکہ شجرة الدر سے مصر میں شکست کھا کر گرفتار ہوا اور بھاری فدیہ دے کر رہا ہوا تھا مگر برسوں بعد پھر تیونس میں خونریزی کرتے ہوئے اسے وبائی موت نے آ لیا تھا)
امریکیو! تم تمام انسانی قدریں پامال کئے دیتے ہو۔ تم نے اپنے فوجیوں کو جن میں اکثر ولدالزنا ہیں، دنیا میں ہر کہیں قتل عام کا لائسنس دے رکھا ہے۔ تم نے دوہرے معیار اپنا رکھے ہیں۔ تم لاہور میں تین مسلمانوں کے قاتلوں اور دہشت گردوں ریمنڈ ڈیوس اور ایک اورنامعلوم امریکی گرگے (ڈرائیور) کو پاکستانی قانون سے دھن اور دھونس کے ذریعے چھڑا لے جاتے ہو لیکن بے گناہ دھان پان پاکستانی خاتون ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ان کے اغواکار اور ظالم امریکی فوجیوں کی جھوٹی گواہی پر 86 سال کی سزا دے ڈالتے ہو، حالانکہ پوری پاکستانی قوم تین سال سے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے مگر تمہاری سنگدلی اور تعصب نے ان کی رہائی کی تمام راہیں بند کر رکھی ہیں۔ ادھر تمہاری نام نہاد سپر طاقت کے صدر اوباما اور وزیر خارجہ ہلیری نے صریحاً جھوٹ بولتے ہوئے ریمنڈ ڈیوس کو سفارتکار قرار دے ڈالا مگر پھر اس خونخوار دہشت گرد کی دیت کے عوض رہائی نے امریکی جھوٹ کا پول کھول دیا۔
اے جمہوریت اور مساوات کے جعلی علم بردارو! تم نے عدم مساوات، ناانصافی اور ظلم سے دنیا کو بھر دیا ہے۔ تمہارے ایک صدر ٹرومین نے جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم پھینک کر ڈیڑھ دو لاکھ انسان آناً فاناً ہلاک کر دیئے پھر تم نے کوریا اور ویت نام کی لاحاصل جنگوں میں پندرہ بیس لاکھ انسانوں کا خون بہایا جن میں ایک لاکھ سے زائد امریکی فوجی بھی تھے۔ اور تمہارے اس ٹرومین نے انسانیت پر جو سب سے بڑا ظلم کیا وہ ارض فلسطین میں اسرائیل کی ناجائز ریاست کا قیام ہے۔ ٹرومین نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک پر دباﺅ ڈال کر تقسیم فلسطین کی ظالمانہ قرارداد منظور کروائی اور عالم اسلام کے وسط میں خونریزی اور فساد کا ایسا بیج بو دیا جو اگ کر اب تن آور درخت بن چکا ہے۔ اسرائیلی یہودیوں نے درندوں کا روپ دھار رکھا ہے۔ انہوں نے لاکھوں فلسطینی مسلمانوں کو شہید کیا ہے اور مزید لاکھوں کو ان کے گھر بار اور زمینوں سے جبراً بیدخل کر کے کیمپوں میں پناہ گزیں ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ آئے دن یہودی درندے ٹینکوں، بمبار طیاروں اور بل ڈوزروں سے مسلمان عورتوں، بچوں، مردوں اور بوڑھوں کا خون بہاتے اور ان کے مکانات اور بستیوں کو مسمار کرتے رہتے ہیں اور ان کے ان وحشیانہ مظالم کی تم، اے امریکیو، پوری پوری حمایت کرتے ہو۔ فلسطین میں بسنے والی ایک پوری مسلمان قوم کی تباہی و بربادی میں تم برابر کے شریک ہو۔ تم نے اسرائیل کو ایٹمی طاقت بنا دیا ہے تاکہ وہ عربوں کو دھمکا کر اپنا ناجائز وجود اور توسیع پسندی کی پالیسی برقرار رکھ سکے لیکن کسی مسلمان ملک کا ایٹمی طاقت بننا تمہارے لئے سوہان روح ہے کیونکہ ایسی صورت میں عالم اسلام کے خلاف تمہاری نئی صلیبی جنگ کی کامیابی مخدوش ہو جاتی ہے۔ تمہارے صدر بش مسلم کش نے صلیبی جنگ کا نعرہ لگا کر ہی افغانستان پر حملہ کیا تھا اور ڈیڑھ سال بعد اس کا دائرہ عراق تک پھیلا دیا۔
امریکیو! کبھی سوچو تو، تم نے دو عالمی جنگوں میں کروڑوں انسانوں کی ہلاکت کے بعد دنیا میں امن اور آشتی کو فروغ دینے کے لئے پہلے جمعیت اقوام (League of Nations) بنوائی اور پھر اقوام متحدہ (UNO) کی بنا ڈالی۔ مقصد یہ تھا کہ کوئی ملک اب طاقت کے بل بوتے پر کمزور ممالک پر چڑھائی نہ کرے، جیسے ستمبر 1939ءمیں جرمنی اور روس نے پولینڈ پرچڑھائی کر کے اسے باہم تقسیم کر لیا تھا اور ان کی اس جارحیت کے نتیجے میں دوسری جنگ عظیم چھڑی تھی۔ لیکن اب وہ اقوام متحدہ یہود و نصاریٰ کی لونڈی بن کے رہ گئی ہے۔ اسی اقوام متحدہ نے افغانستان پر جارحانہ مغربی حملے کی منظوری دی۔ اسی نے عراق پر ظالمانہ امریکی قبضے کے بعد اسے جائز قرار دے ڈالا۔ اسی اقوام متحدہ میں اس برس 17 فروری کو فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر روکنے کی قرارداد پیش ہوئی جو امریکہ نے ویٹو کر کے اسرائیل نوازی کا بھرپور مظاہرہ کیا جبکہ اسی اقوام متحدہ نے ایک ماہ بعد لیبیا پر فضائی حملوں کی منظوری دے دی۔ یہ نام نہاد اقوام متحدہ مشرقی تیمور کے چھ لاکھ عیسائیوں کو آناً فاناً انڈونیشیا سے الگ آزاد ملک دلوا دیتی ہے اور جنوبی سوڈان کے عیسائیوں کے لئے سوڈان کی تقسیم کا فوری اہتمام کرتی ہے مگر 64 سال سے حصولِ آزادی کے لئے کوشاں ڈیڑھ کروڑ کشمیری مسلمانوں کا نوحہ سن کر اندھی بہری بن جاتی ہے کیونکہ مسلمانوں کے معاملے میں یہود، ہنود، نصاریٰ سب ایک ہیں۔
اے نادان نصارائے امریکہ! تمہارے اس مسلم دشمن رویے اور دنیا بھر میں مسلمانوں پر روا رکھی جانے والی تمہاری اور یہود و ہنود کی خونریز زیادتیوں کے باعث مسلمانوں میں اسامہ بن لادن شہید، ایمن الظواہری، خالد شیخ محمد، ابو فرج لیبی اور الیاس کشمیری شہید جیسے مجاہد اٹھے ہیں۔ تم جھوٹے پروپیگنڈے کے بل پر اپنے خیال میں ”دہشت گرد“ اسامہ بن لادن کو شہید کر کے مسلمانوں کے ذہن نہیں بدل سکتے۔ ان کی عظیم اکثریت شیخ اسامہ کو شہید سمجھتی ہے اور سمجھتی رہے گی۔ تمہارے ہی پروردہ حسنی مبارک نے افغانستان پر حملے سے پہلے انتباہ کیا تھا کہ ”اگر ایک اسامہ کو مارو گے تو 100 نئے اسامہ جنم لیں گے“ لیکن اس وقت تمہارے احمق صدر بش ، ”تیلی“ ڈک چینی اور بوڑھے کھوسٹ رمز فیلڈ کی کھوپڑیوں میں بارھویں صدی کے شاہ رچرڈ کی ناکام صلیبی جنگ کو اکیسویں صدی میں کامیاب بنانے کا خناس سمایا ہوا تھا۔ تمہاری یہ صلیبی جنگ بری طرح ناکام ہو چکی ہے جس کا غصہ تم پاکستانیوں پر وحشیانہ ڈرون حملے کر کے نکال رہے ہو۔ تم اب طالبان سے مفاہمت کی راہیں ڈھونڈتے ہو مگر اس کا کھلا اعتراف کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔ ”گارڈین“ میں جولین گلوور کے مضمون کا عنوان ہے: ”افغان جنگ ہاری جا چکی“۔ وہ تمہارے جلد ”سابق“ ہونے والے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کی ریٹائرمنٹ سپیچ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”گیٹس نے افغانستان میں شکست کا اعتراف نہیں کیا، البتہ ایک لاکھ مزید فوجی بھیجنے کے منصوبے کا ذکر کیا جسے بروئے کار لانا امریکی اور برطانوی فوجوں کے لئے سیدھے دوزخ میں جا پڑنے کے مترادف ہے لیکن انہوں نے نیٹو کے مستقبل کا جو مرثیہ پڑھا اور یورپی ممالک جوان کے بقول امریکی جنگ میں لڑے بغیر امریکی تحفظ چاہتے ہیں، ان پر جو تنقید کی وہ دراصل افغان جنگ میںناکامی کا اعتراف ہے“۔ خرابی بسیار کے بعد گیٹس نے 19 جون کو یہ کہہ کر اعتراف شکست کیا ہے کہ ”امریکہ اور طالبان میں ابتدائی رابطے شروع ہو چکے ہیں“۔
ان ساری باتوں کے لئے اصل مخاطب وائٹ ہاﺅس اور پینٹاگان کے ارباب اقتدار ہیں جن کے سر چڑھ کے صہیونی یہودیوں کا جادو بول رہا ہے۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ انہوں نے دنیا بھر کے دو اڑھائی کروڑ یہودیوں کے لئے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو اپنا دشمن بنانے کی جو پالیسی اپنا رکھی ہے اس تباہ کن پالیسی نے ان کی معیشت کا دیوالا نکال دیا ہے اور یہ صلیبی جنگ ان کے لئے سامان موت بن رہی ہے۔ وہ اپنی قوم اور انسانیت کی سلامتی کے لئے خونریزی سے جتنا جلد باز آ جائیں اتنا ہی بہتر ہے۔



بشکریہ۔۔۔ ہفت روزہ جرار
والسلام ۔۔۔۔۔ سعد اوڈراجپوت
saad oadrajput

saad-oad
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2011
مقام: کراچی
عمر: 24
مراسلات: 15
شکریہ: 1
9 مراسلہ میں 36 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 84
Reply With Quote
جواب

Tags
کتابوں, گمان, پاکستانی, واشنگٹن, وزیر, نظر, موت, مسجد, ایٹم بم, اقوام متحدہ, انتباہ, امریکہ, اسلام, جلد, جاہل, حکم, خون, خلاف, روزہ, راستہ, زندگی, سال, طالبان, عالم, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
شادی کس کی مرضی سے ہو؟ خرم شہزاد خرم گپ شپ 73 02-02-11 06:16 PM
سال کا آخری دن: ہمارا طرز عمل کیا ہو؟ راجہ اکرام اپکے کالم 3 31-12-09 03:08 PM
زندگی سے ڈرتے ہو؟ چیتا چالباز شاعروں کی بیٹھک 4 29-12-08 12:25 AM
کیا ہوا سب کو؟ حسن مغل گپ شپ 33 11-12-08 04:44 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:31 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger