واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


وحدت الوجود ۔ اختلافی یا غلط نقطہ نظر؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 07-10-09, 11:29 AM   #1
وحدت الوجود ۔ اختلافی یا غلط نقطہ نظر؟
گوہر گوہر آف لائن ہے 07-10-09, 11:29 AM

تحریر و تحقیق: محمد الطاف گوہر
mrgohar@yahoo.com
اس مضمون کو لکھنا اس لئیے ضروری ہو گیا کہ میرا ایک مضمون " اسلام ا ور جدت پسندی| " پڑھنے کے بعد کچھ لوگ اس نظریہ کیطرف غیر ارادی طور پر متوجہ ہو جاتے ہیں اور انکا اس طرف جانا بھی ایک قدرتی امر ہے کیونکہ ایک نقطہ نظر موجود ہے البتہ اب اس کی وضاحت ضروری ہو گئی ہے کہ میری تحقیق اور اس بارے میں کیا خیال ہے ۔
کیونکہ اسلام اور جدت پسندی ایک علیحدہ مضمون ہے لہذا وہاں اس مکمل موضوع کا بیان کرنا ممکن نہیں تھا ۔ بہرحال میرا نقطہ نظر اور تحقیق آپکی خدمت میں حاضر ہے ۔ اگر آپ اس میں اختلاف کرتے ہیں تو جواب ضرور دیجئے گا مگر دلائل کے ساتھ اور وہ بھی قرآن و حدیث سے۔۔۔۔۔

وحدت الوجود صوفیاء کے مابین ایک متنازعہ مسلہ رہا ہے۔ اور اس نظریہ کو بہت ہی فلسفیانہ انداز میں پیش کیا جا تا ہے جب کہ قرآن سنت کی روشنی میں اس بارے میں کوئی دلیل دیکھنے میں نہیں آئی -
* اگر یہ نظریہ اسلامی ہے تو قرآن و حدیث سے دلیل پیش کریں ؟
* اگر غیر اسلامی ہے تو اس کو اسلام میں شامل کیوں کیا گیا ہے؟
برصغیر میں اسلام کی آمد کے بعد بہت سی بدعات نے اسلام جیسے صاف ستھرے مذہب میں فلسفیانہ رنگ بھر دیا اور مقامی تہذیب اور نظریات نے ایک Potential Barrier قائم کیا جو کہ ابھی تک قائم ہے ۔ شخصی کمالات اور فلسفیانہ نظریات نے تصوف کے دروازے سے مذہب اسلام میں جو بدعات (Impurities)کا سلسلہ شروع کیا اس کے ثمرات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔ بلکہ یہاں تو تصوف کو پیش کرنے کے اسلوب بھی مختلف ہیں ۔ حالانکہ تصوف جس کی اساس تزکیہ ء نفس ہے اس کو بھی مقامی رنگ دے دیا گیا۔ حتکہ آج بھی اس خطہ میں Similarities between Hinduism & Islam کے مناظر ے کیے جا رہے ہیں، کیا اسلام کی کسی جغرافیائی تقسیم کی ضرورت ہے ؟ کیا عرب کا اسلام پاک و ہند کی جغرافیائی تناظر میں اب موئثر نہیں رہا جو یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے؟ حالانکہ جب مکہ فتح ہوا تھا اس وقت مشرکین مکہ اور مسلمانوں میں یہ مشترک Similarities باتوں کو تلاش کرنے کی بجائے بتوں کو پاش پاش کیا گیا ۔لہذا ان سب کی کیا ضرورت ہے؟

قرآن مجید میں تو روحوں اور اللہ کے مابین مکالمہ موجود ہے جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مکالمہ دو (Two ) درمیان ہوتا ہے نہ کہ اپنے ساتھ یعنی خالق اور مخلوق کا فرق یہاں موجود ہے۔”اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے ان کی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا(یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا تمہارا پروردگار نہیں ہوں۔ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ہم گواہ ہیں۔ یہ قرار اس لئے کرایا تھا کہ قیامت کے دن (کہیں یوں نہ)کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی “۔ (سورہ الاعراف ۱۷۲)۔

* سوال یہ ہے کہ خالق اور مخلوق کو ایک ثابت کرنے والے(نعوذ باللہ )اس فلسفے کا کیا مقصد ہے؟

خالق تو حیّ و قیوم ہے اور تمام مخلوق کی حاجتیں پوری کرنے والا ہے اور مخلوق محتاج اور فانی۔ البتہ ان انفاس (لوگوں ) کے بارے میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں جو اپنے نفس کی تربیت کر کے امارہ سے مطمئنہ تک چلے جاتے ہیں اور اپنے ربّ کو راضی کر کہ اس کے دوست بن جاتے ہیں اور ان کے درجات کا قرآن و حدیث میں تذکرہ ہے ۔مگر اللہ کے یہ بندے، بندگی کے اعلیٰ درجہ پر فائض ہوتے ہیں۔ جیسا کہ سورة الکہف (آیت 60 تا 86) میں کس شان سے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کا تذکرہ کیا ہے جسے اللہ نے اپنا فضل اور علم بخشا ہے۔ (آیت 79 تا 86) دیکھیں کس طرح سے میں سے ہم اور ہم سے اللہ تعالیٰ کا تعلق بیان کیا گیا ہے (میں نے چاہا، ہم نے چاہا اور تیرے اللہ نے چاہا) حالانکہ اِس واقعہ میں جو بیان کیا گیا ہے سارے کے سارے واقعات ایک بندہ کے ہاتھ سے سرزد ہو رہے ہیں مگر اِن کی توجیہہ میں ”میں“ سے اللہ تک کی رسائی کا پتہ ملتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے تھا۔ اِس واقعہ میں شریعت اور طریقت کا شاندار امتزاج بیان کیا گیا ہے اور ایک بندے کی ”میں“ کا اللہ سے تعلق اور درجہ بیان کیا گیا ہے۔ بندگی کے اس درجے پہ رہتے ہوئے بھی خالق اور مخلوق فرق قائم ہے۔جیسا کہ ”وہاں انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت دی تھی اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا“(الکھف۴۶)

اگر اس فلسفہ کے بغیر گزارہ نہیں تو بہتر ہے کے اس مثال کو سمجھا جائے ۔ اگر کرہ ارض پہ جب سورج نکلتا ہے تو تمام جزئیات ارض روشن ہو جاتے ہیں اور اپنے وجود کا احساس پاتے ہیں مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ سورج یا اس کی روشنی ان جزئیات میں حلول کر گئی ہے۔ بلکہ سورج کی روشنی میں اس تمام جزئیات ارض نے اپنے ہونے کا احساس پایا- ”ہر ذرہ ہے شہید کبریائی “
اس موضوع پر میں نے ایک واضع نقطہ نظر اور تحقیقی تحریر آپکی خد مت میں پیش کر دی ہے اور اس فورم پر آپکو دعوت ہے کہ اگر کہیں اس سے بہتر توجیہ موجود ہو تو ضرور شیئر کریں تاکہ مذید وضاحت ہو جائے ۔
شکریہ
محمد الطاف گوہر

Last edited by گوہر; 07-10-09 at 01:25 PM..

 
گوہر's Avatar
گوہر
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: لاہور-پاکستان
مراسلات: 470
شکریہ: 347
380 مراسلہ میں 1,213 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 953
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے گوہر کا شکریہ ادا کیا
abrarhussain_73 (21-04-11), rabab (02-02-11), shafresha (02-02-11), فاروق سرورخان (07-10-09), محمد عاصم (12-02-11), مرزا عامر (02-02-11), ام حازم (05-02-11), ارشد کمبوہ (02-02-11), عبداللہ آدم (02-02-11), عبداللہ حیدر (07-10-09)
پرانا 07-10-09, 02:58 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گوہر بھائی اچھی تحریر ہے

وحدت الوجود کا عقیدہ اگرچہ مسلم صوفیاء کے توسط سے اسلامی تعلیمات کا حصہ سمجھا جات ہے، حالانکہ اسکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔
لیکن اسے بر صغیر میں مسلمانو کی آمد کے ساتھ مشروط کرنا تاریخی اعتبار سے درست نہیں۔ کیوں کہ اس عقیدے کے مختلف مظاہر بر صغیر میں مسلمانوں کی آمد سے کئی سال قبل بھی یہ تصور کئی صوفیاء کرام کے ہاں ملتا ہے۔ حلول اور وحدت الوجود کے اسی تصور کے مظاہر ’’انا الحق‘‘ اور ’’ما فی جبتی الا اللہ‘‘ کی صورت میں کئی صدیاں قبل تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اس لئے اسے بر صغیر میں مسلمانوں کی آمد کے ساتھ مشروط کرنا میرے خیال سے درست نہیں۔

مسلمانوں میں‌ یہ تصور کیسے آئے، قدیم فسلفے کا اس میں کیا کردار رہا ہے؟ اس حوالے سے کبھی وقت ملا تو انشاء اللہ تفصیل سے عرض کرنے کی کوشش کروں گا۔

بہر حال اسلام میں اس طرح‌کے کسی تصور کی گنجائش میری ناقص علم اور ناقص مطالعے میں کہیں نہیں۔
باقی اہل علم کی جانب سے اس مسئلے پر تفصیلی گفتگو کا انتظار رہے گا
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
rabab (02-02-11), shafresha (02-02-11), فاروق سرورخان (08-10-09), گوہر (07-10-09), محمد عاصم (02-02-11), مرزا عامر (02-02-11), مسلم بھائی (05-02-11), ام حازم (05-02-11), رضی (07-02-11), عبداللہ آدم (02-02-11), عبداللہ حیدر (07-10-09)
پرانا 08-10-09, 02:33 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,597
کمائي: 31,031
شکریہ: 7,102
2,933 مراسلہ میں 8,707 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

درج ذیل بحث مذہب سے ہٹ‌ کر ہے۔ یہ بحث میرے ایمان کا حصہ نہیں‌ ہے۔

میری سمجھ کے مطابق وحدت الوجود ایک غیر اسلامی نظریہ ہے، جس میں بہت سے سقم یعنی ڈیفیکٹ ہیں۔

نظریہ وحدت الوجود کے معانی ہیں کہ کائنات میں‌موجود ہر چیز ایک عظیم وجود کا حصہ ہے یعنی خدا کا الگ سے کوئی وجود نہیں ہے۔

گویا ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ درج ذیل دو نظریات ایک دوسرے کی ضد ہیں۔

1۔ اس کائنات کا کوئی خدا ہے

یا پھر

2۔ یہ کائنات بذات خود ایک عظیم وحدت الوجود ہے یعنی خود خدا ہے۔

آپ دیکھ رہے ہیں کہ نظریہ نمبر 2 ، اسلام کے نظریہ کے خلاف ہے کہ اسلام میں‌ خدا سب عالم کا خدا ہے نہ کہ ہم خدا کی خدائی کا حصہ ہے۔ ہم اس کو اللہ کہتے ہیں۔

آئیے دیکھتے ہیں‌کہ نظریہ نمبر دو درست ہے یا نہیں۔
نظریہ نمبر دو اس وجہ سے وجود میں آیا کہ اگر کوئی خدا نہیں ہے تو پھر یہ سب کہاں سے وجود میں آیا، فلسفی اور مفکر اس عالمی حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ عقل کا وجود ہے۔ تو پھر عقل کہاں‌سے آئی۔

اس سوال کو جواب مفکرین نے یہ نکالا کہ عقل اس مادے میں ہے جو بنیادی طور پر کائنات میں‌ پھیلا ہوا ہے۔ کہ آج یہ مادہ جس سے کائنات بنی ہے ایک عظیم وجود کا حصہ ہے یعنی خود خدا ہے ( یہاں‌ مراد اللہ کی ذات پاک نہیں)۔

مفکرین نے اس سے نظریہ ارتقاء کو جنم دیا اور کہا کہ موجودہ عقل مند انسان کا جسمانی اور ذہنی ارتقاء ہوا اور یہ سب کچھ ایک واحد خلیہ یا سیل سے آیا۔ جی؟

پھر یہ خلیہ کہاں‌ سے آیا؟
تو اس کا مفکرین نے جواب دیا کہ یہ خلیہ مادے سے بنا۔ یہی وہ مادہ ہے جس سے کائنات بنی۔

اب سوال یہ پیدا ہوا کہ یہ مادہ کہاں سے آیا؟
تو اس کا جواب مفکرین نے یہ دیا کہ یہ مادہ جناب "بگ بینگ"‌ سے آیا۔ بہت خوب۔ جب بگ بینگ کو پڑھا جائے تو یہاں‌ یہ پایا جاتا ہے

کہ کسی وجہ سے جب کائنات میں‌کچھ بھی نہیں‌ تھا ایک عظیم دھماکہ ہوا۔ اس دھماکہ سے دو اشیاء نکلیں

1۔ توانائی جس سے مادہ بنا
2۔ کشش ثقل کہ جو اینٹی میٹر ہے کہ اس مادہ کو اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔

کہ اگر تمام مادہ کو کشش ثقل کھینچ لے تو پھر اس جگہ کشش ثقل اتنی زیادہ ہوگی کہ کائنات کے تمام مادہ کو یہ کھینچ کر صفر کے سائز کا کردے گی اور اس بلیک ہول میں کشش ثقل لا متناہی ہوگی۔

بہت ہی خوب۔ اس قسم کے نظریات کو لوگوں نے ریاضی سے ثابت کیا اور طرح طرح کے ایوارڈز اور انعامات حاصل کئے۔

جم جانتے ہیں کہ نیوٹن کے اصول کے مطابق، کوئی رکی ہوئی چیز حرکت میں‌ نہیں‌ آسکتی جب تک اس پر کوئی بیرونی قوت اثر انداز نہ ہو۔

تو ایک سوال پھر بھی باقی رہا کہ جناب یہ بگ بینگ کس طرح‌ ہوا۔ اس کے لئے بہت سے نظریات پیش کئے گئے، جن میں سے کچھ فلسفیانہ اور کچھ ریاضی پر مشتمل ہیں کہ کسی طرح اس "کچھ نہیں "‌ ہر نور یعنی روشنی یعنی فوٹانز کی بارش ہوئی اور صاحب " بگ بینگ " ہوگیا۔

یہ بیرونی روشنی کہاں‌ سے آئی۔ ابھی تو کائنات خالی تھی ، کوئی مادہ نہ تھا، کوئی توانائی نہ تھی ، کوئی کشش ثقل نہ تھی ۔

یہاں‌ پہنچ کر جناب یہ سارا نظریہ وحدت الوجود رک جاتا ہے ۔ اور سوال کرتا ہے کہ وہ بیرونی قوت کیا تھی جو اس "بگ بینگ " یا عظیم دھماکہ کا سبب بنی۔

یہاں‌ سائنسدان اور مفکرین مصر ہیں کہ جناب خدا نہیں ہے۔ یہ تمام کائنائی مادہ ایک بہت ہی بڑے وجود کا حصہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ سوال سوال ہی رہ جاتا کہ ایک امی انسان جناب رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے سامنے یہ پیش کیا کہ وہ ذات جس نے "بگ بینگ" کیا وہ خدا کی ذات تھی ۔ جس نے وہ تمام اصول وضع کئے جو کہ مادہ کو ایک کائیناتی اصول نظام سے چلانے کے لئے ، مادہ کو پھلنے اور پھولنے کے لئے ضروری ہیں۔ اور پھر یہ بتایا کہ انسان کہاں‌ سے آیا۔


" بگ بینگ " اللہ تعالی نے کیا؟
یہ دعوی سب سے پہلے اللہ تعالی ہی نے کیا اور انسانوں کو اس نظریہ سے روشناس کرایا کہ ایک بگ بینگ ہوا تھا۔

19:15 مَا كَانَ لِلَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
یہ اللہ کی شان نہیں کہ وہ (کسی کو اپنا) بیٹا بنائے، وہ (اس سے) پاک ہے، جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو اسے صرف یہی حکم دیتا ہے: ”ہوجا“ بس وہ ہوجاتا ہے

2:117 بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْراً فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
وہی آسمانوں اور زمین کو وجود میں لانے والا ہے، اور جب کسی چیز (کی تخلیق) کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو پھر اس کو صرف یہی فرماتا ہے کہ "تو ہو جا" پس وہ "ہوجاتی ہے"

16:40 إِنَّمَا قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَن نَّقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ
ہمارا فرمان تو کسی چیز کے لئے صرف اِسی قدر ہوتا ہے کہ جب ہم اُس (کو وجود میں لانے) کا ارادہ کرتے ہیں تو ہم اُسے فرماتے ہیں: ”ہو جا“ پس وہ ہو جاتی ہے

وہی رب ہے جو اس سب کچھ کو سمیٹ دے گا
6:73 وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ قَوْلُهُ الْحَقُّ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
اور وہی (اﷲ) ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق (پر مبنی تدبیر) کے ساتھ پیدا فرمایا ہے اور جس دن وہ فرمائے گا: ہوجا، تو وہ (روزِ محشر بپا) ہو جائے گا۔ اس کا فرمان حق ہے، اور اس دن اسی کی بادشاہی ہوگی جب (اسرافیل کے ذریعے صور میں پھونک ماری جائے گے، (وہی) ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے، اور وہی بڑا حکمت والا خبردار ہے


مفکرین کہ یہ بھی نظریہ ہے کہ ایک دن کائنات سمٹنا شروع ہوجائے گی کہ سمٹ‌کر اس کا حجم صرف اور صرف صفر رہ جائے گا۔ اس نکتے پر کشش ثقل لامتناہی ہوگی۔

دیکھئے اللہ تعالی کا فرمان کہ وہ سمیٹ دیں گے
39:67 وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالْأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ
اور انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کا حق تھا اور وہ قیامت کے دن سب زمینوں کو سمیٹ دے گا اور اس کی قدرت سے سب آسمان لپیٹ دیے جائیں گے اور ان کے شرک سے پاک اور برتر ہے،

تو بھائی اس عظیم فلسفی، اس عظیم مفکر کی بات مان لینے میں کیا برائی ہے جسے دنیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآر دیتی ہے۔

والسلام
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

Last edited by فاروق سرورخان; 09-10-09 at 09:18 AM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (02-02-11), rabab (02-02-11), shafresha (08-10-09), گوہر (08-10-09), منتظمین (02-02-11), محمد عاصم (02-02-11), مرزا عامر (02-02-11), مسلم بھائی (05-02-11), ام حازم (05-02-11), راجہ اکرام (08-10-09), عبداللہ آدم (02-02-11)
پرانا 02-02-11, 05:53 AM   #4
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,070
شکریہ: 4,380
1,825 مراسلہ میں 6,817 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسلام علیکم !
آج نیٹ گردی کرتے ہوئے اچانک سے پاک نیٹ کا یہ دھاگا سامنے آگیا تو ہمیں بھی اسی موضوع پر اپنا ایک مرتبہ کردہ قدیم مقالہ یاد آگیا سو احباب کہ دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے ۔ ۔ ۔
فلسفہ وحدۃ الوجود

۔۔۔۔۔وحدۃ الوجود کی حقیقت کو سمجھنے سے پہلے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ کسی بھی تصور یا نظریہ کے بارے میں حقیقی مؤقف جاننے کے لیے دو طریقے ہوتے ہیں ایک یہ کہ مذکورہ نظریہ کو ماننے والوں کی اس کے بارے میں کیا رائے ہے یا کیا تعبیرات اور تشریحات و توضیحات ہیں اور دوسرا یہ کہ اس نظریہ پر مخالفین کی کیا رائے ہے اور وہ کیا الزام تراشی کرتے ہیں؟ اس کی مثال میں عموما یوں دیا کرتا ہوں کہ اسلام دشمن اکثر اسلام کو دہشت اور بربریت کا مذہب قرار دیتے ہیں (اورایسا وہ ہمارے اندر ہی موجود بعض کج فہم عناصر کی وجہ سے کرتے ہیں ) جبکہ مسلمان مسلسل اپنی صفائیاں پیش کرتے نہیں تھکتے ۔ ہر بالغ نظر اور عقلمند شخص جب صحیح نتیجے تک پہنچنے کے لیے غیر جانبداری سے حقائق کا تجزیہ کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اسلام دشمن منفی پروپگینڈہ کرنے والے عناصر کی باتوں پر کان دھرنے کی بجائے صحیح اسلامی تعلیمات سے سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اصل اسلامی ماخذات کا مطالعہ کرئے ۔ کیونکہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص افغانستان میں موجود کسی نام نہاد جہادی تنظیم کے کارکنوں سے ملنے کے بعد ان ہی کے خیالات کو اصل اسلامی تعلیمات کی روح قرار دے ۔جب بھی ہم کسی مکتبہ فکر کے نظریات کا جائزہ لیتے ہیں تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اس مکتبہ فکر مسلمہ پیشواؤں کے مستند بیانات کو سامنے رکھیں لیکن بدقسمتی سے بریلوی مکتبہ فکر کے ساتھ عام طور پر یہ زیادتی کی جاتی ہے کہ عموما صاحب مزار کی مرقد پر ہونے والی تمام خرافات کو بریلوی مسلک کے اکابرین کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے (حالانکہ حقیقت میں اس مسلک کے اکابرین نے سختی سے اس قسم کی تمام بدعات کی تردید کی ہے)اور ایسا کرنا کسی بھی مکتبہ فکر کے ساتھ ظلم ہے ۔
خیر اتنی لمبی تمہید باندھنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم پہلے بھی واضح کرچکے ہیں کہ مسئلہ وحدۃ الوجود بڑا ہی دقیق اور فلسفیانہ بحث کا متقاضی ہے اور ہمارا علم ہر گز اتنا نہیں ہے کہ ہم اس مسئلہ کی وضاحت یہاں مکمل طور پر پیش کرسکیں مگر ہرچند ہم اپنی سی کوشش ضرور کریں گے کہ اس مسئلہ کی غلط توضیحات پیش کرکے جس طریقے سے حقیقی تصوف سے لوگوں کے ذھنوں کو پرانگندہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ہم اپنے ناقص علم پر مبنی توضیحات کے زریعے لوگوں کے زہنوں پر پڑھنے والی اس گرد کا کسی نہ کسی حد تک ازالہ کرسکیں ۔باقی ہمیں اپنی علمی بے بضاعتی کا حقیقی ادراک ہے لہذا ہم علماء کرام ہی کی کتب کو سامنے رکھتے ہوئے ان سب ی اس مسئلہ پر گفتگو کو اپنے الفاظ میں پیش کرنے کی کوشش کریں گے ۔


وحدۃ الوجود( ماخوذ از جمال السنہ از جہانگیر)


اللہ پاک کی زات پر ایمان رکھنا تمام انبیاء کی بنیادی تعلیمات کا جز رہا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کا مرکزی موضوع بھی یہی تھا جب اسلامی سلطنت نے عجمی خطوں کو اپنے زیر نگیں کیا تو وہاں کے سابقہ افکار و نظریات نو مسلم معاشروں پر اثر انداز ہوئے جس کے نتیجے میں نت نئے فرقوں نے جنم لینا شروع کیا اور یوں پھر اسلامی تعلیمات کی نت نئی تعبریات اور تشریحات پیش کی جانے لگیں اوراس میں سب سے زیادہ ہاتھ یونانی فلسفہ کا تھا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلامی مفکرین نے ان نت نئی تعبریات کا جواب دینے کے لیے ایک باقاعدہ فن ایجاد کیا جس کا نام علم الکلام رکھا گیا ۔اس فن میں بطور خاص الٰہیات اور عمومی طور پر تمام اسلامی عقائد کے بارے میں جزوی نکات کو فلسفہ اور عقل و منطق کی بنیادوں پر موضوع بحث بنایا گیا تاکہ یونانی فلسفہ و فکر کے حاملین لوگوں کے تمام قسم کے شکوک وشبہات کا عقلی دلائل اور خود اسلامی فلسفہ کی روح قلع قمع کیا جاسکےآج بھی اگر آپ علم الکلام کی مستند کتابوں کا مطالعہ کریں تو اس میں آپکو بہت سے ایسے زیلی مباحث ملین گے کہ جو ہماری اور آپکی سمجھ کے اوپر سے گذر جائیں گے
(جیسے علم الکلام کی امھات کتب شرح مواقف، شرح مقاصد ،شرح عقائد مع خیالی وغیرہ) اسی طرح اگر آپ علم فقہ کی کسی کتاب کا مطالعہ کریں تو اس میں بھی آپ کو بہت سے ایسے ذیلی مباحث ملیں گے جو کہ صراحت کے ساتھ قرآن سنت میں مذکور نہ ہونگے اسی طرح علم حدیث اور علم اصول حدیث کے بارے میں بھی بہت سے ایسے ذیلی مباحث ہیں جو کہ بعد کے زمانوں میں ضبط تحریر میں لائے گئے اور انکا ابتدائی دو صدیوں میں کوئی وجود نہیں ملتا ۔
دوسری صدی ہجری کے آغاز میں ہی فلسفہ اسلامی علوم وفنون میں شامل ہوچکا تھا اور اس کا موضوع بحث کیا تھا ؟ اور کن صدیوں میں یہ کون سے مراحل سے گزرتا رہا یہ ایک طویل بحث ہے لیکن سردست ہمارا موضوع سخن چھٹی صدی ہجری کے مشہور صوفی اور فلسفی شیخ اکبر ابن عربی کا پیش کردہ فلسفہ وحدۃ الوجود ہے کیونکہ آجکل اکثر جہلاء اس فلسفے کے حقیقی فہم کا ادراک نہ ہونے کے باعث اپنی کج فہمی سے اسی وحدۃ الوجود کی آڑ میں نفس تصوف پر زبان طعن دراز کرتے ہیں ۔
برصغیر پاک و ہند میں چار بڑے مکاتب فکر موجود ہیں دیو بند ، بریلوی ، اہل حدیث اور شیعہ ان میں سے دیو بند اور بریلوی ابن عربی کو کامل صوفی اور عارف تسلیم کرتے ہیں دیوبند کے مشھور عالم دین علامہ اشرف علی تھانوی صاحب نے ابن عربی کی حمایت میں دو مستقل کتابیں بھی تصنیف کی ہیں (جنکا نام سردست ہمارے ذہن سے اتر گیا ہے)جبکہ صرف اہل حدیث یعنی غیر مقلدین فرقے سے تعلق رکھنے والے حضرات ابن عربی کے بارے میں مختلف شکوک و شبہات پیش کرتے رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور ان کے علاوہ بعض جدت پسند مفکرین جیسے امین اصلاحی اور ان جیسے دیگر نے بھی تصوف اور ابن عربی دونوں کو مورود الزام ٹھرایا ہے ۔یہ وہ مہربان ہیں جو کہ خود کو توحید کا ٹھیکدار سمجھتے ہیں اور انکے فہموں میں توحید بس وہی ہے جو انکو اور انکی جماعت کے بڑوں کی سمجھ میں آئی ہے۔
انیسویں صدی کے ممتاز محقق، علم منطق و حکمت کے امام علامہ فضل حق خیر آبادی نے نظریہ وحدۃ الوجود کے اثبات میں ایک مختصر رسالہ تصنیف کیا
(یاد رہے کہ مشھور شاعر مرزا غالب کو بھی علامہ سے خصوصی شغف تھا)جو کہ اپنی مثال آپ ہے ان سے پہلے ہندوستان کی غیر متنازعہ شخصیت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی علیہ رحمہ نے بھی اپنی کتابوں میں شیخ اکبر ابن عربی کی توصیف کی ہے اور ان سے بھی پہلے حضرت مجدد الف ثانی علیہ رحمہ
(کہ جن سے علامہ اقبال کو خصوصی انس تھا اقبال کے بیٹے جاوید اقبال اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ میرے والد میری پیدائش سے پہلے سرہند گئے اور حضرت مجدد کے مزار پر فاتحہ خوانی کے بعد دعا کی کہ اگر اللہ پاک نے مجھے فرزند عطا کیا تو اس کو ساتھ لیکر آپ کی بارگاہ میں حاضری دوں گا اور جب پھر میں پیدا ہوا اور میری عمر گیارہ برس ہوئی تو ابا جان مجھے شیخ مجدد کے مزار پر حاضری کے لیے لے گئے ) نے بھی ابن عربی کو مقبولان بارگاہ الٰہی میں سے قرار دیا ہے ۔ لیکن سلفی کہلانے والے حضرات ہمارے یہ مہربان لاشعوری طور پر یہی سمجھتے ہیں کہ توحید کے بارے میں حرف آخر وہی ہے جو کہ یہ سمجھتے ہیں ۔اور ہمارے برصغیر میں پائے جانے والے اس طبقے کی علم کم مائگی کا یہ عالم ہے کہ سابقہ پچاس یا سو برس کے دوران لکھی جانے والی اردو کتابوں پر اعتماد کرکے یہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے توحید کا علم حاصل کرلیا اور مزے کی بات یہ ہے کہ انھوں نے جن مصنفین کی تحریرات پر اعتماد کرتے ہوئے توحید کا علم حاصل کیا اگر آپ کبھی انکے شخصی احوال کا جائزہ لیں تو یہ حقیقت آپ پر منکشف ہوگی کہ انھوں نے بھی کبھی تحقیق کی زحمت گوارہ نہیں کی بلکہ اپنے ہی بڑوں کے خیالات کو الفاظ کی تقدیم و تاخیر کے ساتھ نقل کردیا ہے ۔
شیخ اکبر وحدۃ الوجود سے کیا معنٰی و مفھوم لیتے ہیں اس کا ایک عکس تو ہم اپنی پچھلی رپلائی میں پیش کر چکے ہیں رہ گیا یہ تصور کہ شیخ کے نزدیک اس تصور کے کیا کیا خدوخال ہیں اور اسکا حقیقی معنی و مفھوم شیخ کے نزدیک کیا ہے تو اس کا حقیق ادراک کرنے سے ہم قاصر ہیں کیونکہ ہمارا مبلغ علمی اتنا زیادہ نہیں ہے مگر تاہم ایک تیسرے درجے کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے ہم اس نظریہ کے امکانی پہلوؤں کا جائزہ پیش کرسکتے ہیں ۔
اور وہ یہ ہے ہے کہ اللہ پاک نے کائنات کو پیدا کیا اور یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس کائنات کو کہاں پیدا کیا گیا ؟ اس کی ایک امکانی صورت بالفرض محال یہ ہوسکتی ہے کہ اللہ پاک کا وجود (نعوذ باللہ ) محدود تھا کہ جس کہ پرے کچھ خلاء موجود تھا اور وہاں اس کائنات کو پیدا کیا گیا ۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے؟یقینی طور پر نہیں کیونکہ محدود ہونا مخلوق کی خصوصیت ہے اور اللہ کی زات اس سے پاک ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب آپ کائنات کو محدود قرار دیتے ہیں اور اللہ پاک اور کائنات دونوں کو مستقل طور پر موجود مانتے ہیں تو تو اس کا بالواسطہ مطلب یہ ہوگا کہ ایک مقام ایسا ہے کہ جہاں آکر کائنات ختم ہوجاتی ہے اور وہاں سے پھر اللہ پاک کا وجود شروع ہوجاتا ہے (معاذاللہ)۔
دوسرا امکان بالفرض محال یہ ہے کہ‌آپ اس کائنات کو ایک دائرہ فرض کرلیں پھر سوال یہ پیدا ہوگا کہ کیا اس کے چاروں طرف اللہ پاک موجود ہے یعنی اس کا وجود ہے اگر آپ کا جواب اثبات میں ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ خود اللہ پاک کے وجود کے اندر ایک خلاء موجود ہے (نعوذباللہ)
اور اس خلاء کے ہی اندر کائنات کو پیدا کردیا گیا جس طرح ہمارے وجود میں بہت سے خلاء ہیں اور ان میں پیدا ہونے والی ممکنہ شئے ہمارے ہی وجود کا حصہ ہوگی کیونکہ وہ ہمارے وجود کے حصے یعنی ایک خلاء میں پیدا ہوئی اور وہ خلاء ہمارے وجود کے اندر ہونے کی وجہ سے ہمارے ہی وجود کا ایک حصہ قرار پایا بالکل اسی طرح ممکنہ خلاء اللہ پاک کا وجودی حصہ قرار پایا اور اس میں پیدا ہونے والی کائنات اس خلاء کا اللہ پاک کے وجود کا حصہ ہونے کی وجہ سے خود زات باری تعالٰی کا وجودی حصہ قرار پائی(نعوذباللہ من ذالک)۔
اوپر بیان کی جانے والی دونوں امکانی صورتیں کیا کسی بھی طریقہ سے اسلام کے نظرہہ توحید سے مطابقت رکھتی ہیں ؟ آپ کا جواب یقینا نہ میں ہوگا تو پھر کائنات اور خدا دونوں کے وجود کی امکانی صورت کیا پیش کی جاسکتی ہے؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے کہ جس کہ جواب میں شیخ اکبر نے نظریہ وحدۃ الوجود پیش کیا کیونکہ انھوں نے اپنی عقل اور مشاہدے کے زریعے باآسانی یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ خدا اور کائنات دونوں کو بیک وقت مستقل طور پر موجود تسلیم کرنا ممکن نہیں ہے ۔ اس لیے ہمین یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ درحقیقت موجود صرف اللہ پاک کی ذات ہے اور اس کے علاوہ سب کچھ معدوم ہے اور اسی معدوم میں وجود عدم ایک دوسرے کے ساتھ نسبت کے اعتبار سے موجود و معدوم ہیں وگرنہ حقیقت یعنی زات باری کے اعتبار سے یہ دونوں ہی معدوم ہیں اور رہیں معدوم رہیں گے ۔
اللہ پاک کی عظمت توحید کی شان کے اظہار کے لیے ابن عربی نے جو نظریہ پیش کیا اسکی روشنی میں اسلامی نظریہ توحید پر کسی قسم کا کوئی اشکال حقیقت میں وارد ہی نہیں ہوتا ۔
ہم یہ حقیقت بھی تسلیم کرتے ہیں کہ نظریہ وحدۃ الوجود کی بعض لوگوں نے غلط تعبیر پیش کی ہے اور اس کی آڑ میں حلال و حرام کی تمیز ختم کرنے کی کوشش کی گئی اور وحدت ادیان کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی گئی جس کے نتیجے میں بہت سی خرابیوں نے جنم لیا لیکن کیا ان سب اسباب کی وجہ سے وحدۃ الوجود یا نفس تصوف کو ہی مسترد کردیا جائے گا؟عام فہم سی بات ہے کہ اگر کوئی شخص کسی صحیح بات کی غلط تعبیر پیش کرتا ہے تو اس تعبیر کا انکار کیا جائے نہ کہ اس کے نتیجے میں صحیح بات کو رد کیا جائے گا۔
یہاں ایک اور حقیقت کی طرف بھی آپ لوگوں کی توجہ مبذول کروانا بھی نہایت ضروری سمجھتا ہوں کہ مسئلہ وحدۃ الوجود کے دو پہلو ہیں ایک اس کا عقلی اور فلسفیانہ پہلو ہے کہ جس کے اعتبار سے اس کے بنیادی نکات کی نشاندہی ہم نے کردی اور دوسرا اسکا روحانی اور کشفی پہلو ہے اور ابن عربی اور شیخ مجدد الف ثانی کا اس مسئلہ میں جو اختلاف وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہود کے نام سے مشھور ہے اس کا تعلق اس کے روحانی اور کشفی پہلو سے ہے نہ کہ اس کہ فلسفیانہ پہلو سے بلکہ اس کے فلسفیانہ پہلو پر دونوں شیخ متفق ہیں ۔
اور کشفی پہلو پر اختلاف کی بنیاد یہ ہے کہ جب کوئی سالک ریاضت اور مجاہدے کی بنیاد پر سلوک کی منازل طے کرنا شروع کرتا ہے تو تب وہ ایک خاص مقام پر پہنچ کر ہر شئے میں اللہ پاک انوار و تجلیات کو دیکھتا ہے تو تب سالک کو اللہ پاک کی زات کے علاوہ اور کچھ دکھائی نہیں دیتا سوال یہ ہے کہ کیا یہ کیفیت راہ سلوک کا اختتام ہے ؟شیخ اکبر یعنی ابن عربی کے نزدیک سلوک کی انتہاء یہی ہے جبکہ حضرت مجدد کے نزدیک اس کیفیت کے آگے ایک اور کیفیت بھی ہے کہ جہاں پہنچ کر سالک کو اللہ پاک کی زات اور کائنات دونوں علیحدہ علیحدہ محسوس ہوتے ہیں ۔ لہذا تصوف میں ذات باری تعالیٰ کے اعتبار سے (ظاہرا) دو مختلف موقف سامنے آئے ایک وحدۃ الوجود کہ اس وجود حقیقی کے علاوہ کسی چیز کا وجود نہیں ہے ۔ دوسرا وحدۃ الشھود کہ تمام موجودات اپنی جگہ پر قائم اور موجود ہیں مگر وجود حقیقی نے ان پر ایسا پردہ ڈال دیا ہے کہ وہ معدوم نظر آتے ہیں یا جس طرح ستارے آفتاب کے طلوع ہونے کے بعد اس کے نور کے سامنے ماند پڑجاتے ہیں۔ سو مجدد الف ثانیعلیہ رحمہ نے ان میں سے دوسرا نظریہ اختیار کیا اور دلائل دیتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ وحدۃ الوجود راہ سلوک کی ایک منزل ہے اس شخص کو مشاہدہ نظر آتا ہے کہ وجود حقیقی کے علاوہ کسی چیز کا وجود نہیں لیکن اگر توفیق الٰہی شامل حال اور شریعت رہنما ہو تو سالک کی ہمت بلند ہوتی ہے تو وحدۃ الشھود کی منزل تک رسائی ہو جاتی ہے۔
ہم ان دونوں نظریات کی اس حقیقت سے واقف نہیں کیونکہ یہ حقیقت ان دونوں نطریات میں مکمل طور پر کشف اور شھود کا مسئلہ ہے ۔ لیکن ہم اتنا ضرور جانتے ہیں کہ صوفیاء کی اکثریت کی تائید اس مسئلہ مین شیخ اکبر کو حاصل ہے ۔
اب اس موڑ پر ہم یہ مناسب سمجھتے ہیں کہ مختصر طور پر نطریہ حلول کی بھی وضاحت کردیں کیونکہ اس نظریہ کو بھی تروڑ مروڑ کر صوفیائ پر غلط طریقے سے چسپاں کیا جاتا ہے ۔

اتحاد کی تعریف


اتحاد کا مطلب یہ ہے کہ مستقل وجود الگ سے موجود ہوں اور پھر یوں دونوں آپس میں باہم مل جائیں کہ ایک ہی وجود کی شکل اختیار کر جائیں اگر چہ دونوں کا مستقل وجود اپنی جگہ قائم رہے ۔اس طرح کی بہت سی مثالیں ہم اپنے معاشرہ میں دیکھتے ہیں جیسے مختلف سیاسی پارٹیوں کا اپنا اپنا انفرادی وجود برقرار رکھ کر ایک دوسرے سے اتحاد کرنا ۔

حلول کی تعریف


حلول کا مطلب یہ ہے کہ ایک چیز دوسری چیز کے اندر اس طرح داخل ہوجائے کہ پھر اس کے اپنے وجود کو دوسری سے الگ کرنا ممکن نہ رہے جیسے پانی میں نمک اور چینی دونوں کا باہم ملکر پانی بن جانا اللہ پاک کے لیے اتحاد اور حلول دونوں عقیدے رکھنا جائز نہیں کیونکہ ہم پہلے ہی وضاحت کرچکے کہ اللہ پاک کمیت اور کیفیت سے پاک ذات ہے جسم کا کوئی بھی عارضہ اسے لاحق ہی نہیں کیونکہ جسم کے لیے شرط ہے لمبائی چوڑائی ، گہرائی ، اونچائی اور ان تمام حوالوں سے اسکی ایک مخصوص حد ہوتی ہے جب کہ اللہ پاک تمام حدود سے پاک و منزہ ہے ۔اسی طرح اتحاد یا حلول اس وقت پایا جائے گا جب ایک جسم کے اجزاء کے اندر خلاء موجود ہو تو اور دوسرا جسم اس خلاء میں سما کر اس پہلے جسم کا حصہ بن جائے ۔اور ایسا ہونا ممکن الوجود کی خصوصیات میں سے ہے جب کہ اللہ پاک ممکن الوجود نہیں بلکہ واجب الوجود ہے ۔
اللہ پاک کی ذات سے حلول و اتحاد کی نفی سے اہل ظاہر کے ان نظریات کی تردید ہوتی ہے جو کہ یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ اللہ پاک عرش کے عین اوپر ہے اور ہر رات آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے لہذا اس اعتبار سے پہلے اس کے وجود کا اتصال عرش کے وجود کے ساتھ مانا گیا اور بعد میں آسمان دنیا کے وجود کے ساتھ یاد رکھیں کہ خود کو صوفی یا پھر اہل توحید کہلانے والے جاہل کی طرح خود عرش بھی اللہ ہی کی مخلوق ہے اور جس طرح اللہ پاک کی زات کا اتصال (یعنی اتحاد یا پھر حلول) کسی بھی جاہل صوفی یا اہل توحید کے کی زات کے ساتھ ناممکن ہے اسی طرح عرش اور آسمان دنیا کے ساتھ اللہ پاک کی زات کا اتحاد یا اتصال اتنا ہی ناممکن ہے کیونکہ بنیادی نقطعہ یہ ہے کہ واجب الوجود کو ممکن الوجود جو کہ حادث ہوتا ہے کی کسی بھی خصوصیت کے ساتھ متصل نہیں کیا جاسکتا ۔
لہذا اسی لیے تمام امت اس قسم کی آیات کہ جن میں بظاہر اللہ پاک کے جسم ہونے کا امکان نظر آتا ہے میں تاویل کی قائل ہے اور قرآن وسنت میں بیان ہونے والی اس قسم کی تمام نشانیاں متشابہات کی قبیل سے ہیں کہ جن میں تاویل واجب ہے اور وہ تاویل اللہ ہی جانتا ہے ہمارے لیے بس اتنا ہی کافی ہے کہ ہم اسے اللہ کی شان کہ لائق کہہ کر حقیقت حال کو اللہ ہی پر چھوڑدیں اور آخر میں ہم دارالعلوم دیوبند کہ فتوٰی پر جو کہ انتہائی مختصر طور پر وحدۃ الوجود کی وضاحت میں ہے پر اپنی بات کا اختتام کریں گے ۔ ۔ والسلام

جب دارالافتاء دیوبند سے اسی مسئلہ کی وضاحت کی بابت سوال کیا گیا تو ارشاد ہوا کہ ۔ ۔
وحدة الوجود صوفیہ کی اصطلاح ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وجود کامل ہے اور اس کے بالمقابل تمام ممکنات کا وجود اتنا ناقص ہے کہ کالعدم ہے، عام محاورہ میں کامل کے مقابلہ میں ناقص کو معدوم سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسے کسی بڑے علامہ کے مقابلہ میں تعلیم یافتہ کو یا کسی مشہور پہلوان کے مقابلہ میں معمولی شخص کو کہا جاتا ہے کہ یہ تو اس کے سامنے کچھ بھی نہیں، حالانکہ اس کی ذات اور صفات موجود ہیں، مگر کامل کے مقابلہ میں انھیں معدوم قرار دیا جاتا ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کے وجودِ کامل کے مقابلہ میں تمام مخلوق کے وجود کو حضراتِ صوفیہ معدوم قرار دیتے ہیں، تقریر بالا سے معلوم ہوا کہ وحدة الوجود کے یہ معنی نہیں کہ سب ممکنات کا وجود اللہ تعالیٰ کے وجود سے متحد ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وجود کامل صرف واحد ہے بقیہ موجودات کالعدم ہیں جیسے کہ کوئی بادشاہ کے دربار میں درخواست پیش کرے بادشاہ اسے چھوٹے حکام کی طرف رجوع کا مشورہ دے اور یہ جواب میں کہے کہ حضور آپ ہی سب کچھ ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ سب حکام آپ سے متحد ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ کے سامنے سب حکام کالعدم ہیں۔
بشکریہ :- آنلائن فتاوٰی دارالعلوم دیو بند
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا

Last edited by آبی ٹوکول; 02-02-11 at 06:14 AM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
rabab (02-02-11), saraah (02-02-11), کنعان (02-02-11), مرزا عامر (02-02-11)
پرانا 02-02-11, 11:56 AM   #5
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
مکرمی عابد بھائی
آپ کے اس مقالے کو میں نے بالتفصیل پڑھا لیکن اچھی کوشش ہے
لیکن آپ نے جو تیسری اور ’’جائز‘‘ صورت نقل کی ہے کہ
اقتباس:
اوپر بیان کی جانے والی دونوں امکانی صورتیں کیا کسی بھی طریقہ سے اسلام کے نظرہہ توحید سے مطابقت رکھتی ہیں ؟ آپ کا جواب یقینا نہ میں ہوگا تو پھر کائنات اور خدا دونوں کے وجود کی امکانی صورت کیا پیش کی جاسکتی ہے؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے کہ جس کہ جواب میں شیخ اکبر نے نظریہ وحدۃ الوجود پیش کیا کیونکہ انھوں نے اپنی عقل اور مشاہدے کے زریعے باآسانی یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ خدا اور کائنات دونوں کو بیک وقت مستقل طور پر موجود تسلیم کرنا ممکن نہیں ہے ۔ اس لیے ہمین یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ درحقیقت موجود صرف اللہ پاک کی ذات ہے اور اس کے علاوہ سب کچھ معدوم ہے اور اسی معدوم میں وجود عدم ایک دوسرے کے ساتھ نسبت کے اعتبار سے موجود و معدوم ہیں وگرنہ حقیقت یعنی زات باری کے اعتبار سے یہ دونوں ہی معدوم ہیں اور رہیں معدوم رہیں گے ۔
اس سے اس نظریے کو سمجھنا شاید مزید مشکل ہو گیا ہے۔
نیز اگر بات اتنی سی ہوتی تو شیخ ابن تیمیہ سے لے کر آج تک علماء امت اس فکر کی مخالفت نہ کرتے۔
بطور خاص ابن عربی کا یہ شعر

الرب حق والعبد حق = يا ليت شعري من المكلف
إن قلت عبد فذاك ميت = أو قلت رب أنى يكلف؟
اس میں جس انداز سے خالق اور مخلوق کے فرق کو ختم کر کے نظریہ وحدت کو بیان کیا گیا اور اس پر طرہ یہ کہ ’’من المکلف‘‘ کہہ کر رہی سہی کسر بھی نکال دی ہے ۔۔ اس کو اسلامی تعلیمات میں کس نظر سے دیکھیں گے؟
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (02-02-11), مرزا عامر (02-02-11), مسلم بھائی (05-02-11), آبی ٹوکول (02-02-11), ام حازم (05-02-11), ارشد کمبوہ (02-02-11), عبداللہ آدم (02-02-11)
پرانا 02-02-11, 12:59 PM   #6
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,898
شکریہ: 23,988
4,983 مراسلہ میں 14,693 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

فصوص لحکم سے کچھ موتی نذر قارئین ہیں...............فیصلہ خود فرما لیں::

فص ہودیہ میں ہے:

فمن رأی الحق منه فيه بعينه فذلك العارف، ومن رأی الحق منه فيه بعين نفسه فذلك غير العارف، ومن لم ير الحق منه ولا فيه وانتظر ان يراه بعين نفسه فهو الجاهل المحجوب.(فصوص الحکم ١١٣)
''پس جس نے حق کو، حق سے، حق میں، چشم حق سے دیکھا، وہی عارف ہے۔ اور جس نے حق کو حق سے، حق میں دیکھا، مگر بچشم خود دیکھا، وہ عارف نہیں ہے۔ اور جس نے حق کو نہ حق سے دیکھا اور نہ حق میں اور اِس انتظار میں رہا کہ وہ اِسے بچشم خود ہی دیکھے گا ٩ تو وہ مشاہدہ حق سے محروم محض جاہل ہے۔''
وہ لکھتے ہیں:

فلم يبق الا الحق لم يبق کائن
فما ثم موصول و ما ثم بائن ١٠

''وجود ایک ہی حقیقت ہے، اِس لیے ذات باری کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ چنانچہ نہ کوئی ملاہوا ہے نہ کوئی جدا ہے، یہاں ایک ہی ذات ہے جو عین وجود ہے۔''

فص ادریسیہ میں ہے:

فالامر الخالق المخلوق، والامر المخلوق الخالق، کل ذلك من عين واحدة، لا بل هو العين الواحدة، وهو العيون الکثيرة.(فصوص الحکم ٧٨)
''اگرچہ مخلوق، بظاہر خالق سے الگ ہے، لیکن باعتبار حقیقت خالق ہی مخلوق اور مخلوق ہی خالق ہے۔ یہ سب ایک ہی حقیقت سے ہیں۔ نہیں، بلکہ وہی حقیقت واحدہ اور وہی اِن سب حقائق میں نمایاں ہے۔'' ١١


اب عابد بھائی نے اس عقیدے کو اون کر ہی لیا ہے تو میرا سوال باعموم سب فصوص مذکورہ اور بالخصوص آخری ""فص"" کے بارے میں ہے کہ::

اس میں اور حلول میں کیا فرق ہے؟؟
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (02-02-11), مرزا عامر (02-02-11), مسلم بھائی (05-02-11), ام حازم (05-02-11), ارشد کمبوہ (02-02-11), راجہ اکرام (02-02-11), عبداللہ حیدر (02-02-11)
پرانا 02-02-11, 02:11 PM   #7
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اللہ پاک کی ذات سے حلول و اتحاد کی نفی سے اہل ظاہر کے ان نظریات کی تردید ہوتی ہے جو کہ یہ نظریہ رکھتے ہیں کہ اللہ پاک عرش کے عین اوپر ہے اور ہر رات آسمان دنیا پر نزول کرتا ہے لہذا اس اعتبار سے پہلے اس کے وجود کا اتصال عرش کے وجود کے ساتھ مانا گیا اور بعد میں آسمان دنیا کے وجود کے ساتھ یاد رکھیں کہ خود کو صوفی یا پھر اہل توحید کہلانے والے جاہل کی طرح خود عرش بھی اللہ ہی کی مخلوق ہے اور جس طرح اللہ پاک کی زات کا اتصال (یعنی اتحاد یا پھر حلول) کسی بھی جاہل صوفی یا اہل توحید کے کی زات کے ساتھ ناممکن ہے اسی طرح عرش اور آسمان دنیا کے ساتھ اللہ پاک کی زات کا اتحاد یا اتصال اتنا ہی ناممکن ہے کیونکہ بنیادی نقطعہ یہ ہے کہ واجب الوجود کو ممکن الوجود جو کہ حادث ہوتا ہے کی کسی بھی خصوصیت کے ساتھ متصل نہیں کیا جاسکتا ۔
حدیث مبارکہ کی روشنی میں یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالی آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نزول کو آپ اتحاد اور اتصال کیسے کہہ دیا آپ نے؟ اس سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ نزول اور اتصال کے بنیادی فرق سمجھنے میں شائد آپ سے کچھ خطا ہو گئی ہے۔
کم از کم میرے خیال میں یہ مثال یہاں کسی طور فٹ نہیں آتی ۔۔۔

ایک بات اور کہ اس پورے ’’مقالے‘‘ میں وحدت الوجود کو بیان کرنے سے زیادہ فریق مخالف کے جہل کا بیان زیادہ واضح ہو رہا ہے۔
نوٹ: یہ میری رائے ہے اختلاف ممکن ہے
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (02-02-11), مرزا عامر (02-02-11), مسلم بھائی (05-02-11), آبی ٹوکول (02-02-11), عبداللہ آدم (02-02-11), عبداللہ حیدر (02-02-11)
پرانا 02-02-11, 04:58 PM   #8
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,583
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اس مسئلے پر سید توصیف الرحمٰن صاحب کی تقریر بھی سنی جائے بہت مدلل تقریر ہے۔







__________________

یا اللہ پوری اُمتِ محمد علیہ السلام کو قرآن و سنت پر جمع کر دے آمین
http://muslim-islamicpoint.blogspot.com
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
skjatala (20-04-11), مرزا عامر (02-02-11), مسلم بھائی (05-02-11), عبداللہ آدم (02-02-11)
پرانا 02-02-11, 07:04 PM   #9
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,070
شکریہ: 4,380
1,825 مراسلہ میں 6,817 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
مکرمی عابد بھائی
آپ کے اس مقالے کو میں نے بالتفصیل پڑھا لیکن اچھی کوشش ہے
لیکن آپ نے جو تیسری اور ’’جائز‘‘ صورت نقل کی ہے کہ

اس سے اس نظریے کو سمجھنا شاید مزید مشکل ہو گیا ہے۔
نیز اگر بات اتنی سی ہوتی تو شیخ ابن تیمیہ سے لے کر آج تک علماء امت اس فکر کی مخالفت نہ کرتے۔
وعلیکم السلام راجہ بھائی!
بہت شکریہ تحریر کو پسند کرنے کا اور اپنی رائے دینے کا جہاں تک آپ کے کیے گئے اعتراض کی بات ہے تو عرض ہے کہ سب سے پہلے یہ واضح کردوں کہ ہمارا مرتب کردہ مندرجہ بالا مقالہ کافی عرصہ پہلے کا ہے اور یہ مجرد فلسفہ وحدۃ الوجود کہ بیان میں نہیں تھا بلکہ اصل موضوع بحث تصوف تھا جب ہم فریق مخالف پر قرآن و سنت سے تصوف کہ جواز پر حجت قائم کرچکے تو پھر فریق مخالف نے ہمیشہ کہ حربے کی طرح کبھی ادھر سے اُدھر اور کبھی اُدھر سے ادھر مختلف فیہ اختلافی تصورات تصوف کی ڈالوں پر پھدکنا شروع کردیا اور انہی میں سے ایک ڈال وحدۃ الوجود و شہود کی تھی سو اس پر ہم نے مختصرا وضاحت پیش کی ۔۔۔
آپ اگر ہمارے مرتب کردہ مقالہ کا سرسری سا بھی مطالعہ کریں تو آپ پر یہ حقیقت روشن ہوجائے گی کہ یہ اصلا فلسفہ وحدۃ الوجود کی وضاحت پر نہیں بلکہ تصوف کے تتمہ کہ بطور مسئلہ وحدۃ الوجود کی عامیانہ ورژن کی وضاحت و نفی میں ہے نیز آپ پر یہ بھی روشن ہوگا کہ ہمارا خود مبلغ علمی اس مسئلہ میں قریبا نہ ہونے کی برابر ہے بس اسی لیے اس مسئلہ کی جو وضاحت علماء حق نے بیان کی ہے یا جس تعبیر کو اپنایا ہے ہم نے بھی اسی پر اپنے اعتماد کا اظہار اپنی تمام تر علمی بے بضاعتی کو سامنے رکھتے ہوئے کیا مگر تاہم پھر بھی ہم کوشش کریں گے کہ آپ احباب کہ سوالات کا جواب ہم دے سکیں لیکن اگر آپ احباب کہ تشفی نہ ہوئی تو ہمیں برائے مہربانی اس مسئلہ میں علمی اعتبار سے معذور جانیے گا ۔۔
رہ گیا آپ کا یہ کہنا کہ اگر بات اتنی سی ہوتی تو شیخ ابن تیمیہ سے لیکر آج تک علمائے امت اس فکر کی مخالفت نہ کرتے تو اس کا الزامی جواب تو یہ ہے میرے بھائی کہ امت مسلمہ میں وہ کونسی ایسی فکر ہے سوائے چند معدودے کہ جسکی مخالفت امت کہ جمہور سے صادر نہ ہوئی ہو خود ابن تیمیہ کی فکر کی بھی جمہور امت نے مخالفت کی ہے اور ابن تیمیہ وہ پہلے شخص ہیں کہ جنھوں نے مسئلہ وحدۃ الوجود پر تنقید میں شدت سے کام لیکر شیخ اکبر کو نہ جانے کیا کیا کہہ دیا ہے خیر کہنا یہ چاہتا ہوں کہ دلائل کہ میدان میں یہ کوئی محل استدلال نہیں کہ فلاں فکر کی مخالفت کی گئی ہے نیز حقیقت حال کو اگر دیکھا جائے تو امت مسلمہ کی اکثریت اور جمہور نے مسئلہ وحدۃ الوجود کو بطور فکر کہ اپنایا ہے لیکن یہ مسئلہ چونکہ نہایت دقیق و فسلفیانہ ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کہ خالصتا فلسفیانہ ہے لہذا یہی وجہ ہے کہ عوام تو عوام اکثر اہل علم کو اس میں ٹھوکر لگی ہے آپ اقبال کو ہی اگر پڑھیں تو ابتداء وہ اس فکر کہ مخالف تھے مگر بعد میں اسی فکر کے قائل ہوگئے تھے یہی وجہ ہے کہ اقبال جیسا فلسفی بھی اس مسئلہ کی تفہیم میں حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب رحمہ اللہ سے مراجعت بصورت مراسلت کرتا ہے جب اقبال کو ایک بار یورپ میں کہیں شیخ اکبر پر لیکچر دینا ہوتا ہے تو وہ شیخ کہ فلسفہ وحدۃ الوجود کی تفہیم کے لیے حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب سے خط لکھ کر امداد مانگتے ہیں اور اگر آپ اقبال کا فلسفہ خودی کا بنظر غائر مطالعہ کریں تو اقبال کا فسلفہ خودی اپنے تمام تر انفرادیت کہ باوجود منتج وحدۃ الوجود پر ہی ہوتا ہے باقی ایک بار پھر عرض ہے کہ ہم گاہے گاہے اس مسئلہ میں آپ احباب کی تسلی و تشفی کا سامان کرتے رہیں گے تب تک کے لیے پلیززز دھیرج رکھیئے والسلام

Last edited by آبی ٹوکول; 02-02-11 at 07:09 PM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
saraah (02-02-11), مرزا عامر (02-02-11), ام حازم (05-02-11)
پرانا 02-02-11, 07:18 PM   #10
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,070
شکریہ: 4,380
1,825 مراسلہ میں 6,817 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اس مسئلے پر سید توصیف الرحمٰن صاحب کی تقریر بھی سنی جائے بہت مدلل تقریر ہے۔
عرض فقط اس قدر ہے کہ کسی بھی تصور یا نظریہ پر اپنے حاشیہ آرائی فرما کر اس کو رد کرنا عین جہالت ہے جبکہ موضوع خود اس قدر دقیق ہوکے بڑے بڑوں نے اس میں ٹھوکر کھائی ہوتو پھر ایسے میں توصیف رحمان جیسے شیوخ کو کون پوچھے ان کے لیے تو بس اتنا ہی ہے کہ جب انہی شیخ توصیف صاحب نے مسئلہ وحدۃ الوجود پر ڈاکٹر اسرار صاحب پر تنقید کی تو انکے یعنی ڈاکٹر صاحب کہ ایک حامی نے یوٹیوب پر توصیف رحمان کی جہالت کا پردہ بصورت ڈاکٹر اسرار صاحب کہ وحدۃ الوجود کی حمایت و وضاحت میں لیکچرز کو اپلوڈ کرکے کیا اور موصوف نے جو القابات توصیف صاحب کو دیئے ان سے ہم کو ہرگز کچھ لینا دینا نہیں لیکچرز کا ربط درج زیل ہے ۔ ۔

نیز آپ سے گذارش ہے کہ آپ توصیف رحمان کی تقلید کو چھوڑیئے اور خود اپنی تحقیق اس مسئلہ میں عوام پر روشن کیجئے اگر کرسکتے ہیں تو وگرنہ اس بحث سے دور رہیے کیونکہ مجھے جہالت کہ پلندوں کہ جواب کا نہ توکوئی شوق ہے اور نہ غرض ۔۔۔والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
saraah (02-02-11), مرزا عامر (02-02-11), ام حازم (05-02-11)
پرانا 02-02-11, 08:50 PM   #11
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آبی بھائی
یہ تو ہوا جواب الزامی
لیکن نیچے جو اشعار ذکر کئے گئے ہیں ابن عربی کے اور وہ عبارات جو ہمارے مرید خاص عبد اللہ آدم بھائی نے ذکر کی ہیں ان کا بھی کچھ مداوا ہو جائے ۔۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (03-02-11), مرزا عامر (02-02-11), آبی ٹوکول (02-02-11), ام حازم (05-02-11), عبداللہ آدم (03-02-11)
پرانا 02-02-11, 10:26 PM   #12
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
کمائي: 52,070
شکریہ: 4,380
1,825 مراسلہ میں 6,817 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
آبی بھائی
یہ تو ہوا جواب الزامی
لیکن نیچے جو اشعار ذکر کئے گئے ہیں ابن عربی کے اور وہ عبارات جو ہمارے مرید خاص عبد اللہ آدم بھائی نے ذکر کی ہیں ان کا بھی کچھ مداوا ہو جائے ۔۔
بجا فرمایا راجہ بھائی آپ نے مگر عرض فقط اتنی ہی ہے کہ میرے پیارے عبداللہ آدم بھائی تو اکثر و بیشتر مجھ ناچیز کی اردو تحاریر میں "دقیقیت " کی شکایت کرتے یا شکایات کرنے والوں کہ ساتھ نظر آتے ہیں تو پھر بھلا بتلایئے کہ وہ ابن عربی کی مشھور زمانہ عربی تصنیف فصوص الحکم کو کیونکر سمجھ سکتے ہیں ؟؟؟
حالانکہ اس کو سمجھنے میں تو بڑے بڑے عربی دانوں اور فلسفیوں نے بھی ٹھوکر کھائی ہے لیکن پھر بھی اگر عبداللہ بھائی کی ذاتی تحقیق فلسفہ وحدۃ الوجود کہ خلاف ہے تو ان سے عرض ہے کہ وہ پہلے یہ بتلائیں کہ ان کے نزدیک فلسفہ وحدۃ الوجود کی کیا تعریف متعین ہے نیز جو تعریف ان کے نزدیک متعین ہے اسے انھوں نے کس معتبر صوفی سے بطور تعریف کہ اخذ کیا ہے تو پھر ہی کوئی بات بنے گی نیز جو اشعار و عبارات انھوں نے نقل کی ہیں وہ اگر انکی ذاتی فہم و تحقیق کی وجہ سے ان پر گراں گزر رہی ہیں تو انکی وضاحت فرمائیں کہ کہاں وہ عبارات و اشعار اسلام کہ کس عقیدہ کو منہدم کررہی ہیں اور اگر انھوں نے کسی اور کی تحقیق کو نقل کیا ہے تو بھی اس کا حوالہ دیں ۔ ۔ ۔ والسلام

Last edited by آبی ٹوکول; 03-02-11 at 12:33 AM.
آبی ٹوکول آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (02-02-11), ام حازم (05-02-11), عبداللہ آدم (03-02-11)
پرانا 03-02-11, 04:13 PM   #13
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,027
کمائي: 99,898
شکریہ: 23,988
4,983 مراسلہ میں 14,693 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم::

جناب عابد بھائی! آپ کی تحریر کی ابتدا سے انتہا تک بہت سے متفرق نکات نکال کر ان پر بحث کا دروازہ کھولا جا سکتا ہے لیکن میں نے یہ کوشش کی کہ جب آپ نے ایک فلسفہ کی حمایت کی ہے اور اس کے ایک معتبر ترین شیخ کو بطور مثال پیش کیاہے....میں نے اور پیر ساب نے محض انہی شیخ کی چند صریح عبارات کی شریعت اسلامیہ کی رو سے وضاحت چاہی ہے.

آپ فرما دیں تو احسان ہو گا،کیونکہ اپ ہی نے انہیں پیش کیا ہے تو اب آپ ہی دفاع بھی کرنے کا فرض نبھائیں!!!

رہی یہ بات کہ میرے نزدیک یہ فلسفہ یا ہے تو میرے محدود ترین علم کے مظابق یہ نظریہ قرآن و حدیث اور صحابہ و تابعین میں کہیں نہیں پایا جاتا اور بعد مں اسلام میں شامل کیا گیا اور اسلام کے تصور توحید کے سخت خلاف ہے!!!
اب یہ ہے کیا؟؟؟ وہ انہی جیسی عبارات سے بالکل صاف ہو جاتا ہے کہ اللہ اور بندے کے درمیان یکتائی قائم کرنا ہی وحدۃ الوجود کہلاتا ہے جیسا کہ اس نام سے ہی ظاہر ہے..........بلکہ جیسا کہ بے شمار صوفیاء سے منقول ہے جس میں سے ایک مثال اوپر پیش کی ہے اور اس کی توضیح؟ تعبیر؟ یا اثبات؟ نفی؟ کا منتظر ہوں.

والسلام
عبداللہ آدم آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (03-02-11), مرزا عامر (04-02-11), مسلم بھائی (05-02-11), راجہ اکرام (03-02-11)
پرانا 03-02-11, 05:39 PM   #14
Senior Member
 
محمد عاصم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: گجرات
مراسلات: 1,679
کمائي: 52,583
شکریہ: 5,148
1,533 مراسلہ میں 5,930 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمد عاصم کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
نیز آپ سے گذارش ہے کہ آپ توصیف رحمان کی تقلید کو چھوڑیئے اور خود اپنی تحقیق اس مسئلہ میں عوام پر روشن کیجئے اگر کرسکتے ہیں تو وگرنہ اس بحث سے دور رہیے کیونکہ مجھے جہالت کہ پلندوں کہ جواب کا نہ توکوئی شوق ہے اور نہ غرض ۔
تقلید تم لوگ کرتے ہو میں کسی کی بھی نہیں کرتا ہاں جو بھی قرآن اور صحیح حدیث کی دلیل کے ساتھ بات کرئے تو اس کی بات کو مان لیتا ہوں۔
دیکھو آبی تم پہلے بھی ایسی ہی بدتمیزی سے بات کرتے تھے تو میں نے بھی تم کو منہہ لگانا چھوڑ دیا تھا لگتا ہے تم ابھی بھی اپنی کمینی حرکتوں سے باز نہیں آئے ہو۔
جس شخص میں اتنی بھی سمجھ نہ ہو کہ بات کس لہجہ و انداز میں کرنی ہے اُس کو دین کا نام لینا بھی چھوڑ دینا چاہیے اور میری تحقیق کیا ہے وہ بھی اگر وقت ملا بتاؤں گا ان شاءاللہ اور وہ تحقیق اس کفریہ عقیدے کی جڑیں کاٹ دی گی ان شاءاللہ۔
محمد عاصم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمد عاصم کا شکریہ ادا کیا
skjatala (20-04-11), مرزا عامر (06-02-11), مسلم بھائی (05-02-11)
پرانا 03-02-11, 08:18 PM   #15
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
آپ اقبال کو ہی اگر پڑھیں تو ابتداء وہ اس فکر کہ مخالف تھے مگر بعد میں اسی فکر کے قائل ہوگئے تھے
عابد بھائی
یہ دعوی بہت ہی مضبوط دلیل کا متقاضی ہے
شکریہ
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (03-02-11), ام حازم (05-02-11)
جواب

Tags
color, پاک, واقعات, قرآن, لوگ, مکہ, مکمل, ممکن, مجید, آج, اللہ, اسلام, اسلامی, اعلیٰ, بندگی, تلاش, تحریر, جواب, حدیث, خبر, دوست, شاندار, غلط, صوفیاء, صاف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:32 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger