واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


وزیراعظم کو بھی سب پتہ ہے,,,,قلم کمان …حامد میر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 29-09-08, 07:44 AM   #1
وزیراعظم کو بھی سب پتہ ہے,,,,قلم کمان …حامد میر
تفسیر حیدر تفسیر حیدر آف لائن ہے 29-09-08, 07:44 AM






ہمیں اکثر یہ شکایت رہتی ہے کہ امریکی میڈیا مسلمانوں کے خلاف بالعموم اور پاکستان کے خلاف بالخصوص بے بنیاد پراپیگنڈے میں مصروف رہتا ہے۔ یہ شکایت بے جا نہیں لیکن دیانتدار اور بے خوف قلم کار امریکا میں بھی موجود ہیں جو اپنے ہی ملک کے خفیہ اداروں کے انسانیت دشمن منصوبوں کو ادھیڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ رون سسکنڈ بھی ایک ایسا ہی بے خوف امریکی صحافی ہے جس نے اپنی نئی کتاب ”دی وے آف دی ورلڈ“ میں لکھا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے عراق پر حملے کا جواز پیدا کرنے کیلئے ایک تاریخی جعل سازی کی۔ سی آئی اے نے عراقی انٹیلی جنس کے ایک افسر طاہر جلیل کو خریدا اور اس کی طرف سے ایک جعلی خط تیار کیا گیا جس میں مرحوم عراقی صدر صدام حسین اور القاعدہ کے درمیان مبینہ روابط کا ذکر کیا گیا۔ اس جعلی خط کے بارے میں خاموشی اختیار کرنے کے عوض سی آئی اے نے طاہر جلیل کو کئی لاکھ ڈالر ادا کئے۔ رون سسکنڈ کے اس انکشاف نے پوری سی آئی اے کو ہلا کر رکھ دیا۔ وائٹ ہاؤس نے ایک وضاحت بھی جاری کی لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ رون سسکنڈ نے اپنے ہی ملک کے خفیہ ادارے کو جھوٹا ثابت کر کے ملک دشمنی کا ارتکاب کیا۔ اسی کتاب میں رون سسکنڈ نے ایک اور انکشاف بھی کیا ہے۔
سسکنڈ نے اپنی کتاب کے صفحہ 245 پر افغانستان میں اقوام متحدہ کے سابق نمائندے ٹام کوئننگز کے بارے میں لکھا ہے کہ ایک معمولی واقعے نے اسلامی شریعت کے متعلق ٹام کی سوچ کو بدل دیا۔ ہوا یوں کہ ٹام کے بنگالی ڈرائیور نے ایک دن کابل میں ایک افغان کو کار کے حادثے میں مار ڈالا۔ بنگالی ڈرائیور حادثے کے بعد مرنے والے کے ورثاء کے پاس چلا گیا اور ان سے کہا کہ وہ بھی مسلمان ہے اور مرنے والا بھی مسلمان تھا اس سے غلطی ہوگئی ہے کیا اسے معافی مل سکتی ہے؟ مرنے والے کے باپ نے کہا کہ تم نے جسے مار ڈالا وہ ہمارے خاندان کا واحد سہارا تھا وہ تو چلا گیا لیکن آج سے تم ہمارا سہارا بن جاؤ اور یوں بنگالی ڈرائیور کو معافی مل گئی۔
ٹام کو اس واقعے کا پتہ چلا تو اسے احساس ہوا کہ اسلامی قوانین مظلوم کو فوری انصاف مہیا کرتے ہیں لہٰذا اس جرمن سفارت کار نے اقوام متحدہ کو یہ سمجھانا شروع کیا کہ افغانستان کے لوگوں کو اسلامی قوانین کے صحیح نفاذ سے انصاف فراہم کرنا زیادہ آسان ہوگا۔ آگے چل کر رون سسکنڈ لکھتا ہے کہ ایک دن ٹام کوئنگز کو پاکستان کے قبائلی علاقوں کے عمائدین کا ایک وفد ملنے آیا۔ وفد کے ارکان نے ٹام سے کہا کہ کیا وہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کو افغانستان میں شامل کرانے کے لئے کوئی کردار ادا کر سکتا ہے؟ ٹام نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر ان قبائلی عمائدین سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ سن کر ایک بزرگ بولا کہ وہ لکھ پڑھ نہیں سکتا اور اس کا پوتا بھی لکھ پڑھ نہیں سکتا لیکن اب قبائلی لکھنا پڑھنا سیکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ بھی دنیا کے ساتھ چل سکیں لیکن ان کے علاقوں میں اسکول نہیں۔ رون سسکنڈ نے یہ نہیں لکھا کہ پاکستان کے قبائلی عمائدین کا وفد ٹام کوئننگز کے پاس کیسے اور کس کے ذریعے پہنچا لیکن یہ واقعہ اہل پاکستان کو بہت کچھ سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔ ٹام 2005 سے 2007 کے دوران افغانستان میں اقوام متحدہ کا خصوصی نمائندہ تھا۔ پاکستانی قبائلی عمائدین اسی عرصے میں اسے ملنے کابل گئے ہوں گے اور ظاہر ہے کہ افغان حکومت کی مرضی سے ملے ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کابل میں ایسے پاکستانیوں کی پذیرائی کی جاتی ہے جو پاکستان سے علیحدہ ہونا چاہتے ہیں اگر یہ درست ہے تو پھر افغان حکومت پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ یقیناً افغان حکومت ایسی سرگرمیوں میں بھی مصروف ہے جن کا مقصد پاکستان کے قبائلی عوام کو اپنی حکومت سے بدظن کرنا ہے اور یہ سرگرمیاں امریکیوں کی ناک کے عین نیچے جاری ہیں۔ 2004ء میں قبائلی علاقوں میں فوج بھیجنے کے بعد وہاں ملٹری آپریشن کی بجائے اسکول، اسپتال اور سڑکیں بنائی جاتیں تو شاید آج حالات مختلف ہوتے۔
ہمیں یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ امریکی سی آئی اے عراق میں داخل ہونے کے لئے جھوٹے بہانے تراش سکتی ہے تو پاکستان میں داخل ہونے کے لئے بھی جھوٹے جواز گھڑ سکتی ہے۔ امریکی سی آئی اے صدام حسین کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو ہتھیار فراہم کر سکتی ہے تو قبائلی علاقوں میں پاکستان کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو بھی خفیہ طریقے سے ہتھیار اور ڈالر فراہم کر سکتی ہے۔ ضروری نہیں کہ سی آئی اے پاکستان کو توڑنا چاہتی ہو لیکن یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ سی آئی اے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں انارکی کے نام پر پاکستان میں امریکی فوج کو داخل کرنا چاہتی ہے اور سی آئی اے کا آخری ہدف پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت سے محروم رکھنا سی آئی اے کا پرانا مقصد ہے۔ اس مقصد کے حصول کیلئے سی آئی اے نے 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف مذہبی جماعتوں کو استعمال کیا اور 2008ء میں بھٹو کی پارٹی کو مذہبی عناصر سے لڑا کر اپنے مقصد کا حصول چاہتی ہے۔ یہ امر تسلی بخش ہے کہ اوپر اوپر سے امریکیوں کی ہاں میں ہاں ملانے والی نئی پاکستانی حکومت اندر سے امریکی عزائم کے بارے میں کافی خبردار نظر آتی ہے۔ یہ احساس مجھے گزشتہ دنوں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ایک افطار ڈنر میں غیررسمی گفتگو کے دوران ہوا۔
میں نے وزیراعظم سے پوچھا کہ کیا وہ جانتے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں سرگرم عسکریت پسند ملتان، بہاولپور اور مظفر گڑھ کے آس پاس اپنی پناہ گاہیں بنا رہے ہیں؟ وزیراعظم نے تشویش بھرے انداز میں کہا کہ انہیں معلوم ہے۔ میں نے کہا کہ کل کو آپ پنجاب میں آپریشن کریں گے تو پرسوں وہ کراچی چلے جائیں گے پھر آپ کہاں کہاں آپریشن کریں گے اس لئے بہتر ہے کہ قبائلی ارکان پارلیمینٹ کے ساتھ مل بیٹھ کر امن کا راستہ بھی تلاش کریں۔ جو ہتھیار پھینک دے اسے معاف کر دیں جو ہتھیار نہیں پھینکتا اس کو ضرور پکڑیں۔ وزیراعظم نے جواب میں کہا کہ انہوں نے اس سلسلے میں خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر حمیداللہ جان آفریدی کو اعتماد میں لے لیا ہے اور بہت جلد کچھ امن تجاویز پر پارلیمینٹ میں بحث کی جائیگی۔ اس گفتگو کے دوران وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں انتشار پھیلانے کا اصل نشانہ ہمارا ایٹمی پروگرام ہے لیکن ہم اپنے ایٹمی پروگرام کی ہر قیمت پر حفاظت کریں گے۔ ایٹمی پروگرام کی حفاظت کیلئے امریکا کے ساتھ کھلی جنگ ضروری نہیں۔ ضروری بات یہ ہے کہ ہم خوف سے چھٹکارا پا لیں کیونکہ خوفزدہ قومیں اندر ہی اندر ریت کی دیواروں کی مانند گر جاتی ہیں۔ پاکستان کا حکمران طبقہ بھی عجیب ہے۔ نہ خوف خدا رکھتا ہے نہ روز جزا سے ڈرتا ہے بس امریکی دھمکیوں سے دبکتا ہے۔ ہماری سلامتی اسی میں ہے کہ ہم پاکستان کوبچانے کے لئے متحد ہو جائیں اور امریکا سے ڈرنے کی بجائے صرف اور صرف اپنے ایک خدا سے ڈریں۔

 
تفسیر حیدر's Avatar
تفسیر حیدر
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
شکریہ: 1,293
980 مراسلہ میں 1,851 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 308
Reply With Quote
تفسیر حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 30-09-08, 04:32 PM   #2
Senior Member

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,222
کمائي: 77,430
شکریہ: 9,129
3,023 مراسلہ میں 11,135 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default جواب: وزیراعظم کو بھی سب پتہ ہے,,,,قلم کمان …حامد میر

گویا گُل بھی جانے اور باغ بھی جانے ہے۔
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کراچی, پاکستان, پاکستانی, پسند, وزیراعظم, نظر, معلوم, آپریشن, آج, اقوام متحدہ, اسلامی, تلاش, جواب, جلد, خلاف, خدا, خصوصی, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, راستہ, صحیح, صحافی, صدام, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کبھی عشق ہو تو پتہ چلے محمدعدنان شعر و شاعری 6 04-09-11 02:30 AM
ساحل سے دور جب بھی کوئی خواب دیکھتے خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 2 15-01-11 01:21 PM
مظلوم ڈاڑھی اور ظالم پتلون sahj متفرقات 1 21-03-10 09:04 PM
آپ کتنے ذہین ہیں،ابھی پتہ چل جاتا ہے؟ مشال خان آئیے ذہانت آزمائیے 14 12-03-09 09:39 AM
وزیرخزانہ اونگھتے رہے تفسیر حیدر خبریں 5 06-09-08 03:31 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:35 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger