واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


وہ کیا سمجھتے ہیں؟...ناتمام…ہارون الرشید

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-05-11, 03:27 PM   #1
وہ کیا سمجھتے ہیں؟...ناتمام…ہارون الرشید
آبی ٹوکول آبی ٹوکول آن لائن ہے 11-05-11, 03:27 PM

سکتے اور صدمے سے قوم نکل آئے گی اور بتدریج وہ سب کچھ جان لے گی۔ یہ تو ابھی سے آشکار ہے کہ متبادل وزیراعظم نواز شریف سوئے رہے اور حکومت نے قوم کو فریب دینے کی کوشش کی۔ وہ کیا سمجھتے ہیں کب تک لوگ انہیں مہلت دیں گے؟ کب تک؟
اس وقت جب وہ حامد کرزئی اور چدم برم پاکستان کو گالی دے رہے ہیں۔ اس وقت جب صریح دھوکہ دہی کی شرمناک واردات اور پاکستان کے خلاف جارحیت کے بعد‘ امریکی قیادت ہمارے رخموں پر نمک چھڑک رہی ہے‘ خود ہم اپنی افواج کا حوصلہ پست کرنے کے درپے کیوں ہیں؟ اس وقت جب غور وفکر سے ایک مشترکہ لائحہ عمل طے کر نے کی ضرورت سب سے زیادہ ہے‘ نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے لیڈرسوکنوں کی طرح ایک دوسری کے لتے کیوں لے رہے ہیں۔ جیسا کہ جنرل کیانی نے کہا ہے کہ اس وقت جب قوم کو اعتماد میں لینے کی ضرورت تھی‘صدر زرداری کویت‘ اور وزیراعظم پیرس کے دورے پر کیوں گئے؟ وزیراعظم نے ایبٹ آباد میں امریکی جارحیت کو عظیم کامیابی کیوں قرار دیا۔ صدر صاحب نے اسامہ بن لادن کو محترمہ کا قاتل قرار دے کر ‘ امریکیوں سے ذاتی تعلق کا اظہار کرنے اور وفاداری کا یقین دلانے کی کوشش کیوں کی‘ میاں محمد نواز شریف پانچ دن تک یکسر خاموش کیوں رہے۔ محترمہ فردوس اعوان نے یہ اعلان کیوں داغا کہ امریکی کارروائی بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے۔ وزیر داخلہ رحمن ملک نے گڑے مردے تو اکھاڑے ہی مگر اللہ کی شان یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ وہ حب وطن کا درس دیں۔
سبھی نے غلطیاں کی ہیں اور سبھی کو اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔ وہ تو مگر ایکدوسرے کے گریبانوں کے درپے ہیں۔ فقط حالات ہی نہیں بگڑے ہیں‘زبانیں ہی نہیں دہن بھی بگڑے ہیں۔ دوسروں پر طعنہ زن ہونے والے وزیرداخلہ سے مودبانہ سوال یہ ہے کہ کیا وہ اس ٹی وی چینل پر مقدمہ درج کرانے کا اعلان کرنا پسند کریں گے‘ جس نے ان پر برطانیہ میں انٹیلی جنس ادارہ چلانے‘ اپنے فلیٹ پر اسرائیلی وزیراعظم شمعون پیریز کے ساتھ‘ محترمہ کی طویل ملاقات کرانے کا سنگین الزام عائد کیا۔ بحران میں ‘ مصیبت میں ،طوفان میں سب سے زیادہ ضرورت حواس بجا رکھنے کی ہوتی ہے کہ دلدل سے نکلا جاسکے۔ سیاسی رہنما مگر اور دوسروں کے ہیجان کو ہوا دے رہے ہیں۔قومی اسمبلی میں وزیراعظم کا درد سر یہ تھا کہ امریکہ ناراض نہ ہونے پائے اور نہ مسلح افواج‘ عسکری قیادت کی طرف سے اٹھائے جانے والے سوالوں کا انہوں نے جواب نہ دیا مگر اس کی تحسین کرتے رہے۔ اس لئے اور بھی زیادہ کہ نون لیگ اس پر سوال اور اعتراض اٹھارہی ہے۔ پاکستانی عوام کے زخموں پر نمک امریکی لیڈر اور جماعت چھڑک رہی ہے۔ لیکن قصووار انہوں نے پاکستانی اخبار نویسوں کو ٹھہرایا۔ بے شک قیاس آرائیاں ہوئیں اور تکنیکی پہلوؤں سے بے خبر صحافیوں نے فتوے بھی جاری کئے‘ بنیادی طور پر اس کا ذمہ دار پھر کون ہے۔ حکومت نے انہیں اعتماد میں لیا ہوتا۔ وہ تو سیر سپاٹے پر چلی گئی۔ اگر کچھ بتایا تو وردی پوشوں نے بتایا۔ غلطی ان سے بھی بہت بڑی سرزد ہوئی مگر انہوں نے اعتراف کیا؟ وضاحت کی اور صدمے کا شکار نظر آئے مگر سرکار؟ جناب حسین حقانی کو واشنگٹن میں سفیر مقرر کرنے اور امریکی مطالبے پر سی آئی اے کے ایجنٹوں کو بے دریغ ویزے جاری کرنے والی سرکار والا تبار۔
سو باتوں کی ایک بات یہ ہے کہ اعلیٰ سطحی اور قابل اعتبار تحقیقات ہونی چاہئے۔ چیف جسٹس کی نگرانی میں‘ جسٹس بھگوان داس جیسے کسی جج کی قیادت میں‘ عسکری اور انٹیلی جنس ماہرین کی مدد سے۔ اس طرف حکومت کیوں نہیں آتی؟ فوجی قیادت کیوں نہیں آتی؟ محض تاویل کیوں اور اہل صحافت کی بے خبری کا واویلا کیوں؟ وہ کیا دفاعی امور کے ماہر ہوتے ہیں۔ کس کا فرض تھا کہ بنیادی معلومات انہیں مہیا کرے۔ بنیادی فریضہ انہی نے اد کرنے کی کوشش کی ۔ حکومت تو ایبٹ آباد کے واقعہ کو معمولی قرار دے کر بھلادینے کی خواہاں تھی۔ ٹی وی اور اخبارات میں اگر شور نہ مچتا۔ عوام کے مجروح جذبات‘مایوسی اور رنج کی تصویر کشی اگر نہ کی جاتی۔ اس سے بھی زیادہ یہ کہ امریکی اگر دھمکیوں پر نہ اترتے رہتے تو یہ سرکاری لوگ خاموش رہنا اور نظر انداز کرنا ہی پسند کرتے۔
ایک ذراسی شکایت اہل صحافت سے بھی۔ ایک ممتاز اخبار نویس نے رنج کا جس پر غلبہ تھا‘ دوسروں کی موجودگی میں ایک قابل احترام سینئر کمانڈر سے کہا : ” آپ کی بات پر آج میں اعتبار کرنے کے لئے آمادہ نہیں“۔ عام طو رپر غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کرنے والے افسر نے جواب دیا: ” میں یہ کب کہتاہوں کہ آپ مجھ پر اعتبار کریں۔ مگر سن تو لیں“۔ ایک دوسرے افسر نے ایک معروف ٹی وی میزبان سے بار بار کہا کہ وہ انہیں اپنی بات مکمل کرنے کی اجازت کیوں نہیں دیتے۔ شب کی تاریکی میں امریکی ہیلی کاپٹروں کے در آنے کا معاملہ آشکار ہے۔ حادثہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو‘ ماتم کی نہیں ادراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ خفیہ رکھنے کی (STEALTH) ٹیکنالونی کے حامل تھے۔ سراغ لگایا جاہی نہ سکتا تھا۔ ثانیاً مغربی سرحدوں سے اس طرح کی مداخلت کا اندیشہ تھا ہی نہیں۔ اسی لئے جنرل کیانی کا دھیان اس طرف گیا کہ کہیں ایٹمی پروگرام تو ہدف نہیں۔ متعلقہ اداروں کو چنانچہ چوکنا کیا گیا۔ اس سے پہلے وہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ یہ ہیلی کاپٹر ہیں کس کے؟ کسی پاکستانی ادارے ‘ مثلاً رینجرز‘ فضائیہ‘ یا بری فوج کے؟ اس میں تاخیر ہوئی‘ چنانچہ ایف 16طیارے بروقت پرواز نہ کرسکے۔ سبق یہ ہے کہ مغربی سرحدوں پر بھی راڈار اب بیدار رکھنا ہوں گے۔ سب سے اہم نکتہ یہ کہ سی آئی اے نے پاکستان کو دھوکہ دیا۔ مشکوک کال کے بارے میں پہلی خبر آئی ایس آئی نے مہیا کی‘ پھر دوسری اور تیسری بار بھی مگر اسی بنیاد پر سی آئی اے نے سراغ لگایا پیش رفت سے انہیں پاکستان کو آگاہ رکھنا اور مشترکہ کارروائی کرنا چاہئے تھی۔ امریکہ میں صدر اوباما سمیت‘ اعلیٰ ترین عسکری شخصیات کی نگرانی میں منصوبہ بنامگر پاکستان کو تاریکی میں رکھا گیا۔ اس لئے کہ اسے سزا دینا مقصود تھا۔ چوں کہ افغانستان سے امریکی انخلا کی منصوبہ بندی کے ہنگام ‘ وہ ان طالبان کے خلاف کارروائی پر آمادہ نہ تھا‘ جو پاکستان کے دشمن نہیں۔ کیوں کہ بوجوہ اس نے شمالی وزیرستان میں کارروائی سے انکار کردیا تھا۔
اور سب سے ایک بڑی وجہ مزید فوجی دستوں کی عدم دستیابی تھی۔ سب سے زیادہ یہ ہ جنرل پاشا اور جنرل کیانی پاکستان میں امریکہ کی فوجی موجودگی‘ خاص طور پر سی آئی اے کے ایجنٹوں کی تعداد کم کرنے کامطالبہ کررہے تھے۔ کچھ کو واپس بھجوا بھی دیاتھا۔ گم نام کال کے باب میں سی آئی اے پرانحصار کرکے آئی ایس آئی نے ایک عظیم حماقت کا ارتکاب کیا۔ انٹیلی جینس کی ناکامی اتنی بڑی ہے کہ معاف نہیں کی جاسکتی۔ ایسا لگتا ہے کہ اعلیٰ سطح پر خفیہ ایجنسیوں میں تعاون کم ہے۔ اپنا بہت سا وقت اور توانائی وہ صحافیوں اور سیاستدانوں کی نگرانی میں برباد کرتے ہیں۔ آلات تو امریکہ کے مقابلے مین ان کے پاس کمتر ہیں ہی۔ انتہائی المناک یہ کہ امریکی ایجنٹوں کی تعداد خود آئی ایس آئی سے زیادہ ہوگئی۔ ان کے بے کراں مالی وسائل مگر حکومت پاکستان ذمہ دار ہے کہ دھڑا دھڑ ویزے دیئے … اور سال گزشتہ زیادہ تر کیری لوگر بل منصوبوں کی نگرانی کے نام پر نام نہاد ماہرین کے لئے۔ یہ اقتصادی امداد نہیں بلکہ پاکستان میں جاسوسی کا جال پھیلانے کا منصوبہ تھا۔ تحقیقات ہونی چاہئے۔ بار دیگر عرض ہے کہ بڑے پیمانے کی شفاف تحقیقات۔ ایڈجوٹنٹجنرل ضرور کریں مگر عدالتی تحقیق بھی۔ ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہئے اور انہیں سزا ملنی چاہئے۔ افراد ہوں یا اقوام‘ حادثے انہیں تباہ نہیں کرتے۔ برباد وہ ہوتے ہیں سانحوں سے جو سبق نہیں سیکھتے۔
گستاخی معاف‘ وزیراعظم کے خطاب میں کچھ بھی نہ تھا۔ اسپغول کے چھلکے کا ڈھیر۔ چوہدری نثار نے کچھ اہم نکات ضرور اٹھائے‘ مثلاً اقوام متحدہ سے احتجاج کم از کم سیکریٹری جنرل کے نام ایک سرکاری خط ہی کہ امریکہ پر سفارتی دباؤ پیدا ہو۔ بجا انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام کو اعتماد میں نہ لیا۔ میرا ذاتی تاثر مگر یہ ہے کہ وہ اس سے بہت بہتر خطاب کے اہل تھے‘ اگر برہم نہ ہوتے۔ ان کی برہمی نے وزیرداخلہ کو طعنہ زنی کا موقع دیا‘ جس طرح چند ماہ قبل ایم کیو ایم کو۔ احتجاج درکار ہوتا ہے‘ گاہے سخت احتجاج۔ شائستگی مدد گار ہوتی ہے۔ ناراضی نہیں۔
سکتے اور صدمے سے قوم نکل آئے گی اور بتدریج وہ سب کچھ جان لے گی۔ یہ تو ابھی سے آشکار ہے کہ متبادل وزیر اعظم نواز شریف سوئے رہے اور حکومت نے قوم کو فریب دینے کی کوشش کی۔ وہ کیا سمجھتے ہیں‘ کب تک لوگ انہیں مہلت دیں گے؟ کب تک؟۔

ربط
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا

 
آبی ٹوکول's Avatar
آبی ٹوکول
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,339
شکریہ: 4,380
1,825 مراسلہ میں 6,817 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 73
Reply With Quote
جواب

Tags
search, فرض, پاکستان, پاکستانی, پسند, واشنگٹن, وزیراعظم, لوگ, چینل, نواز شریف, نثار, نظر, مکمل, منصوبہ, آج, اقوام متحدہ, اللہ, الزام, امریکہ, احتجاج, اعلیٰ, جواب, زرداری, طالبان, صحافت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا آپ جو کچھ دیکھتے ہیں اسپر یقین کرتے ہیں یا پھر جو یقین رکھتے ہیں اسی کی طرح دیکھتے ہیں؟ ناصحی عمومی سائنس 112 13-05-12 06:57 PM
آپ اپنی میز کہاں رکھتے ہیں؟ Zullu230 گپ شپ 32 05-03-11 03:52 PM
آپ مستقبل میں کیا کر نے کی خواہش رکھتے ہیں؟ ڈاکٹرنور گپ شپ 32 02-07-09 01:17 PM
طالبان کس فرقے سے تعلق رکھتے ہیں؟ چاچا کمال سیاست 28 17-04-09 01:22 AM
آپ کیسا خواب دیکھتے ہیں؟ Zullu230 گپ شپ 30 16-11-08 10:45 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:37 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger