واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ٹیکنولوجی، انسانی زندگی کا حصہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-04-11, 02:09 AM   #1
ٹیکنولوجی، انسانی زندگی کا حصہ
سید محمد عابد سید محمد عابد آف لائن ہے 03-04-11, 02:09 AM

جدید دور میں ٹیکنولوجی نے ایک خاص مقام حاصل کر لیا ہے، دنیا جیسے جیسے ترقی کرتی جا رہی ہے مشینری کے استعمال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ زندگی کے مختلف شعبہ جات مثلاً زراعت، توانائی، تجارت، سفر اور رابطوں کے لئے ٹیکنولوجی نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ فصلوں کی فی من ایکڑ پیداوار کو بڑھانے کے لئے مختلف اقسام کی ٹیکنولوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ٹیکنولوجی کی بدولت توانائی کی پیداوار کے لئے جدیدنیوکلر اورشمسی توانائی کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔ جدید دور کے انٹرنیٹ نے کاروباری لین دین کو آسان بنا دیا ہے۔ ابتداءمیں انسان جانوروں پرسفرکرتے تھے مگر اب وہی انسان ٹیکنولوجی کے ذریعے جدید گاڑیوں، بسوں، ٹرینوں اور ہوائی جہازوں پر سفر کرتے ہیں۔ ٹیکنولوجی کے ذریعے آپس میں ایک دوسرے سے رابطہ بہت آسان ہو گیا ہے۔ ہم انٹرنیٹ کے ذریعے سے پیغامات کو ایک سیکنڈ میں میلوں دوربھیج سکتے ہیں۔ٹیکنولوجی نے دوریوں اور فاصلوں کوختم کر دیا ہے۔صنعتیں پاکستان میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، پاکستان برآمدات کا 68 فیصد حصہ ٹیکسٹائل کی صنعت سے حاصل کرتا ہے جو کہ برآمدات کا ایک بڑا حصہ ہے۔ ٹیکنولوجی کی بدولت انڈسٹریز کے نتائج میںبہتری آ رہی ہے۔
انسان نے اپنے سفر کا سلسلہ زمین سے شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹیکنولوجی کے ذریعے خلاءمیں پہنچ گیا۔ٹیکنولوجی نے انسان کی زندگی کو آرام دہ بنا دیا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ ٹیکنولوجی انسانی زندگی کا حصہ بن گئی ہے۔ جدید دور میں ٹیکنولوجی نے یونیورسٹیز میں آن لائن تعلیم کا نظام متعارف کرا دیا ہے، اب جو لوگ کاروبار کے ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ آن لائن تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں ورچیول یونیورسٹی آن لائن تعلیم مہیا کر رہی ہے، اس نظام کی بدولت پیپرزکے دوران نقل کوبھی روکا جا سکتا ہے۔
ٹیکنولوجی نے انسان کو وقت کی اہمیت سمجھا دی ہے، متعدد مشینوں کی بدولت صدیاں میں کئے جانے والے کام اب سالوں میںمکمل ہو جاتے ہیں۔ دنیا کے اس جدید دور میںٹیکنولوجی کی بدولت مشکل کاموں کو باآسانی کیا جا سکتا ہے۔
گھر میں رکھی ہوئی گھڑی سے لے کر گاڑی تک تمام اشیاءانسان کی ضرورت بن گئی ہیں، غاروں اورجنگلوں میں رہنے والا انسان آج گھروں میں زندگی بسر کر رہا ہے۔ ان سب باتوں کو سوچتے اورسمجھتے ہوئے چندسوالات ہر ایک کے ذہن میں آتے ہیں،جیسے ٹیکنولوجی نہ ہوتی تورابطوںمیںکتنی دشواری ہوتی؟ بڑی بڑی عمارتوں کو کیسے بنایا جاتا؟ سفر کے دوران کتنی مشکلات پیدا ہوتیں؟ ٹیکنولوجی کے بغیر ادویات پرتحقیق، پودوں کی نئی اقسام اور انسانی علاج میںسخت مشکلات پیش آتیں۔
اکیسویں صدی کی زندگی میں کمپیوٹر کوبہت اہمیت رکھتاہے۔ ہارڈوئیر اورسوفٹ وئیرسسٹم، ڈیجیٹل الیکٹرانکس، کمپائلر ڈیزائن، پروگرامنگ لینگوئجز، آپریشن سسٹمز، نیٹورکس اور گرافک کمپیوٹرٹیکنولوجی کے اہم جز ہیں۔ حساب کتاب، ڈیزائننگ، اردو اور انگلش ٹائپنگ، موبائل، ویب اور دیگرسوفٹ ویئرز نے متعدد معاملات کو آسان بنا دیا ہے، سوفٹ ویئرز کے آنے سے پہلے ان معاملات کوحل کرنے میں بہت مشکلات پیدا ہوتی تھیں۔ ڈیزائننگ کے شعبے سے وابسطہ ڈیزائنرز کو کمپیوٹرٹیکنولوجی کے آنے سے پہلے ڈیزائےنزبنانے میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ ڈیزائننگ سوفٹ ویئرز کے آنے سے پہلے ڈیزائنرز کو ڈیزائن بنانے کے لئے بہت محنت کرنی پڑتی تھی اور گاہک بھی اپنے مطلب کاڈیزائن نہیں بنوا پاتے تھے مگر اب یہ سب کچھ بہت آسان ہو گیا ہے۔
1940ءمیں جب ایلن ٹیورنگ نے کمپیوٹر مشین بنائی تو وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ اس مشین سے لوگ بے شمار کام سرانجام دیں گے۔ انسان نے کمپیوٹرٹیکنولوجی کو ایجاد کر کے اپنے بیشتر مسائل کوحل کر لیا ہے اور زندگی کے ہر شعبے میں کمپیوٹر اہم جُز بن گیا ہے۔پاکستان کی نوجوان نسل کمپیوٹر ٹیکنولوجی پر زیادہ انحصار کرتی ہے، اسی وجہ سے کمپیوٹر کی استعمال میںہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ دس سال کے دوران پاکستان میں کمپیوٹر کی تعداد میں 35 فیصد اضافہ ہواہے جو کہ اگلے دس سالوں میں بڑھ جائے گا۔ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال ساڑھے چار لاکھ کمپیوٹرز کا کاروبارہوتاہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگلے تین سالوں میں یہ ساڑھے چار لاکھ کی تعداد تین سے چار گنا بڑھ جائے گی۔ دور حاضر میں ہم انٹرنیٹ کے ذریعے میلوں دورسمندر پار عزیز و اقارب سے چیٹ یا ای میل کے ذریعے بات کر سکتے ہیں، ویب کیم کے ذریعے بات چیت کے دوران ہم ایک دوسرے کی تصویر کو کمپیوٹر پر دیکھ سکتے ہیں۔ پاکستان کی حکومت کچھ ایسی پالیسیاں اپنا رہی ہے جس سے انفورمیشن ٹیکنولوجی کو پاکستان میں اور زیادہ فروغ حاصل ہو گا۔
سائنسدان انسانوں کی زندگی مزید آسان بنانے کے لئے ایک ایسا کمپیوٹر تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی رفتار سب سے تیز، پروگرامنگ آسان جبکہ بجلی کا ستعمال کم ہو۔ اس کمپیوٹر کا نام ایکسا سکیل کمپیوٹر رکھا گیا ہے اوریہ 2018ءتک تیار ہو جائےگا۔دنیا میں ٹیکنولوجی کے استعمال پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔
دور جدید میں جلد ایک خاص مقام حاصل کرنے والی ٹیکنولوجی موبائل فون ہے ۔دور حاضر کی اس جدیدٹیکنولوجی نے انسانی رابطوں کے سلسلے کو آسان بنا دیا ہے۔ گئے دنوں میں ٹیلیفون کو جیب میںرکھنا ناممکن تھا مگراب موبائل فون کو ہم باآسانی کہیں بھی ساتھ لے کر جا سکتے ہیں۔ ان موبائل فونز کا سائز اتنا چھوٹا اوروزن اتنا کم ہے کہ جیب میں رکھے موبائل فون کا پتہ بھی نہیں چلتا۔ پاکستان میںروزانہ کروڑوں لوگ موبائل فون کا استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان میں موبائل فون صارفین کی تعداد دس ملین سے زائد ہے اور اس تعداد میں ہر سال تین سے چار لاکھ اضافہ ہورہا ہے۔ موبائل فون کی کامیابی کی بڑی وجہ اس کا چھوٹا سائز اور بے شمار استعمال ہے۔ پاکستان ایشیائی ممالک میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کے لحاظ سے پانچویںنمبر پرشمار کیا جاتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں موبائل سروسز فراہم کرنے والی پانچ کمپنیاں کام کر رہی ہیں جنہیں روزانہ کروڑوں روپے کا فائدہ ہوتا ہے۔
ہماری زندگی میں ایجادات کا سلسلہ جاری ہے روزانہ بیسیوں چیزیں ایسی دیکھنے میں آتی ہیں جنہیں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ دنیا کے متعدد ممالک میں ربورٹس کو کام کرنے کے لئے تیار کر لیا گیا ہے۔ ٹیکنولوجی پوری دنیا پرحاوی ہو گئی ہے ،کوئی ایسا ملک کامیابی حاصل نہیں کر سکتا جو ٹیکنولوجی کی دوڑ میں پیچھے ہو۔ سرحدوں کی حفاظت کے لئے جدیدٹیکنولوجی سے تیار کردہ میزائلز کی تیاری ضروری ہے ۔
کامیابی ، خودمختاری اور آزاد رہنے کے لئے ضروری ہے کہ دیگرممالک کی طرح ہمارا ملک بھی ٹیکنولوجی کی دنیا میں اپنا مقام بنا لے کیونکہ مستقبل میں اونچا مقام حاصل کرنے کے لئے ٹیکنولوجی کے شعبے میں ترقی ضروری ہے۔

تحریر: سید محمد عابد

technologytimes.pk

 
سید محمد عابد's Avatar
سید محمد عابد
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مقام: Pakistan
عمر: 24
مراسلات: 188
شکریہ: 159
117 مراسلہ میں 349 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 303
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سید محمد عابد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-04-11), یاسر عمران مرزا (03-04-11), منتظمین (03-04-11), حیدر (03-04-11), رضی (03-04-11), عبداللہ آدم (04-04-11)
پرانا 03-04-11, 03:27 AM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,732
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شئیرنگ کا بہت بہت شکریہ!!!!

تحفہ قبول فرمائیے!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
حیدر (03-04-11), سید محمد عابد (03-04-11)
پرانا 03-04-11, 10:11 AM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
منتظمین کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 03-04-11, 11:25 PM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,387
شکریہ: 52,449
11,148 مراسلہ میں 35,183 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
طکامیابی ، خودمختاری اور آزاد رہنے کے لئے ضروری ہے کہ دیگرممالک کی طرح ہمارا ملک بھی ٹیکنولوجی کی دنیا میں اپنا مقام بنا لے کیونکہ مستقبل میں اونچا مقام حاصل کرنے کے لئے ٹیکنولوجی کے شعبے میں ترقی ضروری ہے۔
سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے لیے موجودہ حکومت اپنی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے تمام وسائل برائے کار لا رہی ہے۔ حکومت اس بات سے آگاہ ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی کیے بغیر قومیں ایک دوسرے سے مسابقت میں بہت پیچھے رہ جاتی ہیں۔ صنعت ہو یا حرفت یا معیشت ہو ، ان تمام میں بہتری تب تک نہیں لائی جا سکتی جب تک ہم سائنس اور ٹیکنالوجی میں ترقی نہیں کرتے۔ حکومت اس بات سے بھی آگاہ ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی امپورٹ نہیں کی جا سکتی۔ ان سے کُلی طور پر فائدہ اُٹھانے کے لیے اُس ملک کی افرادی قوت کی تربیت کی بھی اشد ضرورت ہوتی ہے۔
اسی مقصد کے لیے حکومت نے پاکستان میں موجود ہائر ایجوکیشن کمیشن کے فنڈز میں کٹوتی کر ڈالی ہے تاکہ یہ ادارہ دامے سخنے ورمے جو چند افراد کو سائنس و ٹیکنالوجی میں تربیت فراہم کرنے کی سعی کر رہا تھا اُس میں کامیاب ہو جائے۔ لوگ اچنبھے میں ہیں کہ فنڈز میں کٹوتی کر کے کس طرح تربیت بہتر کی جا سکتی ہے تو ہم عوام الناس کے نوٹس میں یہ بات لانا چاہتے ہیں کہ اللہ نے علم کو بھوک اور تنگی میں رکھا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ سائنس دان جتنا بھوک اور تنگی محسوس کریں گے اتنا ہی انکا علم بہتر ہو گا اور وہ اُتنا ہی پاکستان کی خدمت بہتر کر سکیں گے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (04-04-11), کنعان (03-04-11), سید محمد عابد (03-04-11), عبداللہ آدم (04-04-11)
جواب

Tags
کوشش, کمپیوٹر, کرنی, پاکستان, ویب, لوگ, متعارف, مسائل, آپریشن, آج, آزاد, انگلش, انٹرنیٹ, انسان, اردو, تعلیم, تصویر, جلد, دنیا, رفتار, زندگی, سفر, علاج, عزیز, صارفین


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تھری جی ٹیکنولوجی، ٹیلیکوم سروسز کی جانب قدم زارا عمومی سائنس 5 17-03-11 12:16 PM
لارڈز ٹیسٹ :پاکستان کو تاریخی شکست ، میچ فکسنگ کی تفتیش جاری، ٹیم تقریب انعامات سے باہر جاویداسد خبریں 1 29-08-10 06:22 PM
گھوٹکی، دو آئل ٹینکروں میں تصادم، 2افراد زخمی عبدالقدوس خبریں 0 23-04-08 01:47 PM
جیو ٹی وی کی انتظامیہ کی جانب سے پیمرا آرڈیننس تسلیم کرنے اور انڈر ٹیکنگ پر دستخط کے بعد نشریات بحال کردی جائیں گی، نثار میمن خرم شہزاد خرم خبریں 0 10-12-07 10:44 AM
کرکٹ ٹیموں کی موجودگی، کراچی آنے والی فلائٹ کو لاہور لے جایاگیا عبدالقدوس کرکٹ 0 28-10-07 10:30 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:42 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger