|
پاور ٹیکس,,,فاروقیصر…پتلی تماشہ

19-12-07, 08:14 AM
پاور ٹیکس,,,فاروقیصر…پتلی تماشہ
جب سے بجلی کے بل میں اضافے کی خبر سے سرگم کی ”بلبلاہٹ“ میں اضافہ ہوا ہے تب سے اسے پاوکے اصل مطلب کا اندازہ ہوا ہے۔اکثر سنا کرتے تھے کہ فلاں سیاستدان یا لیڈربڑا”پاور فُل“ ہے اور ”پاور“ کا استعمال خوب جانتا ہے، ہم اپنی کمزور عقلی سے پاور کا مطلب طاقت ہی سمجھتے رہے جبکہ کچھ عرصہ پہلے ہماری فوج نے جب پاور فُل لوگوں کی پاور کاٹنی شروع کی تو ہمیں پتہ چلا کہ پاور کا اصل مطلب بغیر میٹر کے پاور استعمال کرنا ہوتا ہے۔ فوج چونکہ ہمیشہ سے پاور پہ کڑی نظر رکھتی چلی آرہی ہے لہذا اسے پاورفُل لوگوں کی اصل پاور معلوم کرنے میں زیادہ پاورنہیں لگی۔موجودہ حکومت کو بھی پاور پہ قابو پانے کے بعدیہ لگ پتہ گیا کہ اس سے پہلے ملک میں بڑے بڑے پاور فل لوگوں نے نہ صرف پاور پہ ناجائز قبضہ کر رکھا تھا بلکہ وہ پاورکا ناجائزفائدہ بھی اُٹھاتے چلے آرہے تھے۔ ہمارے جیسے اکثر پس ماندہ ملکوں میں پاور کا حصول ایک ایسا مسئلہ ہے جو ہمیشہ پاور سے ہی حل کیاجاتا ہے۔ یہ بھی سنا تھا کہ پاور (بجلی) کے بغیر آجکل کوئی چیز نہیں چلتی، اب پتہ چلا کہ حکومتیں بھی پاورسے ہی چلتی ہیں۔ جس طرح ہر بڑے مقصد کے حصول کیلئے قربانی دینی پڑتی ہے اسی طرح ہر پاور کا بل بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔ہمارے ہاں بھی عامیانہ طبقہ پاور کا ماہانہ بل ادا کرتا ہے جب کہ شاہانہ طبقے کو پاور استعمال کرنے کیلئے ”بل کُل“ ادا نہیں کرنا پڑتا۔بقول سرگم، بل چاہے واپڈا کا ہو یا امریکہ کا اس پہ عوام کو شک ہی رہتا ہے۔ واپڈا کا بل تسلیم نہ کرو تو بجلی کٹ جاتی ہے، امریکہ کا بل تسلیم نہ کرو تو امداد گھٹ جاتی ہے۔ واپڈا اور امریکہ بلوں میں اتنا فرق ضرور ہے کہ واپڈا کا غلط بل عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا جبکہ امریکہ کا بل (کلنٹن) غلط ہو تو اسے کسی بھی عدالت میں پیش کر کے اس سے پوچھ گچھ کی جاسکتی ہے۔ امریکہ میں” بل“ زیادہ سے زیادہ آٹھ سال عوام پہ بلا مقابلہ حکومت کرتا ہے جبکہ ہمارے واپڈا کا بل ساری عمر عوام پہ بڑھ چڑھ کے حکومت کرتا ہے اور جس کاخمیازہ عوام کو ساری عمر ”بل مقابلہ“ اداکرنا پڑتا ہے۔ماسی مصیبتے کا کہنا ہے کہ ہمارے عوام بل ادا کرنے میں اتنے سعادت مند ثابت ہوئے ہیں کہ اگر حکومت ”جتنے بچے اتنے بل “کا قا نون نافذ کر دے تو منصوبہ بندی والوں کا محکمہ فاقہ بندی پہ مجبور ہو جائیگا۔ جبکہ انکل سرگم کو یقین ہے کہ ہماری ثابت قدم قوم ہر بچے پہ لگنے والا بل توبرداشت کر لے گی مگرکم بچے کبھی برداشت نہیں کرے گی بلکہ حکومت کی مخالف سیاسی جماعتیں تو دوسے زیادہ بچوں پہ لگنے والا سرچارج تک ادا کرنے پہ آمادہ ہو جایئنگی تاکہ حکومت کی یہ پالیسی بھی کامیاب نہ ہو۔ واٹر بل، بجلی کا بل، گیس اور ٹیلیفون کے ساتھ ساتھ پراپرٹی اورپیٹرول کے بلوں میں اضافے سے امید تھی کہ لوگ پانی صرف زندہ رہنے کیلئے استعمال کرینگے، سڑکوں پہ گاڑیوں کی تعداد کم ہو جائیگی، عوام کے چولھے ٹھنڈے پڑ جایئنگے، مگر روز مرہ کی زندگی پہ کسی قسم کا ”بل واسطہ“ کچھ اثر نہ پڑنے سے حکومت یہ سوچنے پہ مجبور ہو رہی ہے کہ اب کس چیز پہ ٹیکس لگا کر اسکا بل عوام پہ دے مارے؟ انکل سرگم نے حکومت کو نئے ٹیکس نئے بل بنانے کے چند منفرد طورطریقے بتائے ہیں جو ابھی حکومت کی نظر سے بچتے پھرتے ہیں۔ شادی ٹیکس:ہمارے ہاں ہر غریب با شندہ اس بات پہ بھی کامل یقین رکھتا ہے کہ شادی ہی اسکے لئے واحد عیاشی ہے کہ جسے miss کرنا نہیں بنتا۔اسکے علاوہ چونکہ شادی سے رزق میں اضا فہ ہوتا ہے چنانچہ وہ جہیز کو ”رزق حلال“ سمجھ کرشادی کرنا اپنا مذہبی فریضہ اور معاشی وسیلہ سمجھتا ہے۔غریب بندے کی اس ”شادیانہ کمزوری“ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے حکومت ایک شادی پہ دو ہزار اور ایک سے زائدشادیوں پہ دس ہزار روپے فی شادی ماہانہ ٹیکس، اور فی طلاق پہ ایک لاکھ جرمانہ ٹیکس عائد کر دے توسرکاری خزانہ عوام کے صبر کی طرح راتوں رات لبریز ہو سکتا ہے۔ اولاد ٹیکس: بقول سرگم ، ہمارے ہاں ہر غریب بندہ بچوں سے اتنی محبت کرتا ہے کہ انکے لئے وہ شادی کرنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ چنا نچہ حکومت اگر اس ”بچگانہ“ موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے ایک ہزار روپیہ فی لڑکا ، اور پانچ سو روپے فی لڑکی ما ہانہ ٹیکس لگا دے تو اس سے حکومت کی آمدنی میں آبادی کی طرح بے حساب اضافہ ہو سکتاہے۔ اس زمرے میں تین سے زائد بچوں پہ سرچارج لگنے سے غریب کو بچوں سے اتنی نفرت ہوجائیگی کہ وہ ہر سال جون میں پیدا ہونے والے سرکاری بجٹ کی نفرت کو بھول جائے گا۔ سنجیدہ ٹیکس:ہمارے ہاں آجکل کوئی ہنس رہا ہو تو لوگوں کو شک ہو جاتا ہے کہ ہنسے والا یا تو کوئی فارنر ہے یا پھراپنے دیس کا کوئی دیوانہ۔ حکومت نے عوام کی بڑھتی ہوئی اس سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے ٹی وی پہ پرائیویٹ ڈرامہ پروڈکشن کمپنیوں کو اپنے پروگراموں کے ذریعے عوام کو ہنسانے کے لئے وقت بھی فروخت کیا مگر ٹی وی پہ چلنے والے مزاحیہ پروگرام دیکھ کر جب لوگ اور زیادہ سنجیدہ ہوگئے تو حکومت نے سینما اور تھیٹر میں فحش کلمات اور ”مجرا مانا“ حرکات کی اجازت دی تاکہ لوگوں کی کم ازکم مصنوعی ہنسی ہی لوٹ آئے مگر اس عمل سے جب صرف محدود رد عمل ہوا تو اُس نے گھر گھر ”خوشیاں“ (جسے چند منچلے فحاشیاں بھی کہتے ہیں) پہنچانے کے لئے ”کیبل“ کا سہارا لیا۔ کیبل نے تواگلے پچھلے سارے ٹیبل ہی الٹ دیئے ۔ اب جس گھر میں کیبل ہوتی ہے اس گھر میں سے ہنسی کی بجائے ثقافت اور شرافت کے ماتم کی صدائیں گونجتی ہیں۔ انکل سرگم کا حکومت کو مشورہ ہے کہ وہ عوام کو ہنسانے کی بجائے عوام کی اس سنجیدگی سے پورا فائدہ اُٹھائے اور ہر سنجیدہ رہنے والے پہ ٹیکس عائد کردے تاکہ عوام کو ٹیکس سے بچنے کے لئے خوامخواہ قہقہے لگانے پڑیں۔ عوام کو یوں ہنستا دیکھ کر ایک تو ان پہ مزید ٹیکس لگانے کا جواز پیدا ہوگااور دوسرا یہ کہ ساری دنیامیں ہماری زندہ دلی کی دھوم مچ جائے گی۔ جلسہ جلوس ٹیکس: آجکل چونکہ الیکشن کا سیزن لگا ہوا ہے جس میں سیاستدانوں کا پرانا مال بھی ہاتھوں ہاتھ بک رہا ہے لہذا حکومت کو سیاسی جلسہ جلوس پہ ٹیکس لگانے کا سنہری موقع میسر ہے۔ اگر حکومت ہر سیاسی جلسے پہ دس لاکھ اور ہر جلوس پہ پندرہ لاکھ روپے ٹیکس عائد کر دے تو اگلی حکومت کے کھانے کیلئے خزانہ بھرا جاسکتا ہے۔ جلسہ جلوس پہ ٹیکس لگانے سے نہ صرف وکیلوں کی ہڑتال پہ قابو پایا جاسکے گا بلکہ اس ٹیکس سے جلسوں میں کچلے اور جلوسوں میں مارے جانے والوں کو سرکاری معاوضہ دینے میں سرکار کو پلے سے کچھ بھی خرچ نہیں کرناپڑے گا۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|