|
پاکستانی معیشت کے بارے میں گمراہ کن رجائیت پسندی

19-02-11, 06:05 AM
ڈاکٹر اشفاق حسن خان
ملک کی سیاسی قیادت اور اس کے اقتصادی ماہرین ملک کی مالی حالت کے بارے میں بڑے اعتماد کا اظہار کررہے ہیں کہ پاکستان کی بیرونی توازن ادائیگی کی شرح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ ملک کی برآمدات اور ترسیل زر میں اضافہ، کرنٹ اکاﺅنٹ بیلنس میں سرپلس اور بڑھتے ہوئے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اس سلسلے میں نمایاں عوامل کا کردار ادا کررہے ہیں لیکن اس آرٹیکل کے توسط سے میں سیاسی قیادت خصوصاً معاشی ٹیم کو بیرونی توازن ادائیگی کے بارے میں غیر ضروری طور پر گمراہ کن رجائیت پسندی کے حوالے سے برتنے کا مشورہ دوں گا۔ علاوہ ازیں کم درآمدات کی نسبت بہتر برآمدات اور ترسیل زر میں غیر معمولی اضافے سے پاکستان کے کرنٹ اکاﺅنٹ بیلنس کی صورتحال فی الحال بہتر ہوچکی ہے لیکن اس سے کسی خوش فہمی میں مبتلا ہوجانا نہایت خطرناک ثابت ہوگا۔ بیرونی شعبے میں عارضی بہتری ہماری سیاسی پالیسیوں کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ بیرونی عوامل اور قرض پر لی گئی رقم ہے۔ موجودہ مالی سال کے پہلے نصف (جولائی سے دسمبر) میں ملک کی برآمدات میں 19.4 فیصد کا متاثر کن اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اس اضافے کو اس تناظر میں دیکھنا چاہئے کہ گزشتہ برس برآمدات میں 7.7 فیصد کی کمی واقع ہوئی تھی۔ دوم برآمدات میں یہ متاثر کن اضافہ قیمتوں کے منطقی اثرات کا نتیجہ ہے۔ مزید برآں کپاس پیدا کرنے والے ممالک میں اس کی پیداوار میں کمی کی وجہ سے کپاس کی قیمت اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ تعداد کے حساب سے ٹیکسٹائل کی متعدد اشیاءکی برآمدات میں نمایاں کمی کے باوجود پاکستان کو کپاس کی قیمت میں اس اضافے سے بے پناہ فائدہ ہوا ہے۔ گزشتہ دو برسوں سے بین الاقوامی سطح پر چاول کی قیمت میں بے مثال اضافے اور ملکی سطح پر قیمتوں میں رعایت کے باعث اس میں نمایاں بڑھوتری کی وجہ سے برآمدات میں چاول ایک اہم حیثیت رکھتے ہیں۔ دریں اثناءچاول کی بین الاقوامی قیمتیں اپنی معیادی سطح پر واپس آرہی ہیں جبکہ دوسری جانب چاول کی مقامی پیداوار میں کمی واقع ہورہی ہے جس سے برآمدات کے سرپلس میں بھی کمی آئی ہے۔ مقدار کے لحاظ سے چاول کی برآمدات میں جولائی سے دسمبر اور دسمبر 2010ءکے دوران بالترتیب 14.6 اور 34 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔
جہاں تک ترسیل زر کا تعلق ہے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے موجودہ مالی سال کے پہلے نصف کے دوران 5.3 بلین امریکی ڈالر کی ترسیل زر کی جو گزشتہ برس سے تقریباً 17 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ تین برسوں میں گرتی ہوئی عالمی معیشت کے باوجود ترسیل زر کے اضافے کے پیچھے کون سی قوت کارفرما ہے؟ امریکہ کی معیشت تاحال کشمکش کا شکار ہے جبکہ یورپین قرضے کے بحران کی وجہ سے یورپ میں شامل معیشتیں مندی کا شکار ہیں۔ مزید برآں تیل کی قیمتوں میں کمی نے تیل سے مالا مال ممالک کے اقتصادی کاموں کو متاثر کیا ہے اور دبئی کی معیشت تاحال قرضے کے بحران سے مکمل طور پر نہیں نکل سکی ہے جبکہ 87 فیصد ترسیل زر تیل کی دولت سے مالا مال ممالک امریکہ اور برطانیہ سے حاصل ہورہی ہے۔ میرے خیال میں ترسیل زر میں اس طرح کے غیر معمولی اضافے کی کوئی اقتصادی بنیاد نہیں ہے تو پھر ترسیل زر کے بہاﺅ کے پیچھے کون سی طاقت کارفرما ہے؟ اس کی ایک ہی وجہ ذہن میں آتی ہے لیکن اسے معلومات کے ذریعے ثابت کرنا مشکل ہے کہ یہ ترسیل زر کرپشن کے ذریعے لوٹی گئی دولت کا اُلٹا بہاﺅ ہے۔ کرپشن کی یہ رقم کہاں جاتی ہے؟ کیا بدعنوان لوگ اس لوٹی ہوئی رقم کو اپنے قالینوں کے نیچے یا پھر کمرشل بنکوں میں چھپاتے ہیں۔ ظاہر ہے نہیں.... یہ تسلیم کرنا مشکل ہے کہ یہ رقومات ہنڈی کے ذریعے اپنی پسندیدہ منزل مقصود پر باہر پہنچ جاتی ہے اور پھر وہاں سے ترسیل زر کی صورت میں یہ بہاﺅ اندر آتا ہے اور قانوناً ناجائز صورت اختیار کرلیتا ہے اور یہ رقم ٹیکس سے بھی مبرا ہوجاتی ہے۔ بہرحال یہ بات میں اسٹیٹ بنک آف پاکستان کے ماہرین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اس مسئلے پر غور و خوض کریں۔پاکستان کے کرنٹ اکاﺅنٹ میں مالی سال کے پہلے نصف حصے میں 26 ملین امریکی ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترسیل زر میں ہونے والا یہ غیر معمولی اضافہ اور خدمات کی وصولی میں نمایاں اضافے نے یعنی 743 ملین امریکی ڈالر جو ہمیں کولیشن سپورٹ فنڈ کی صورت میں امریکہ سے بطور تلافی موصول ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 17 بلین امریکی ڈالر سے تجاوز کرگئے ہیں جو پانچ سے چھ ماہ تک کیلئے درآمدات کو سرمایہ فراہم کرنے کیلئے کافی ہیں لیکن اسے جھوٹی تشنی کے علاوہ اور کچھ نہیں کہنا چاہئے کیونکہ زیادہ تر ذخائر آئی ایم ایف سے بھاری معاوضے پر قرض لئے گئے ہیں۔ 17 بلین امریکی ڈالر کے ذخائر میں سے8.7 بلین امریکی ڈالر کی رقم آئی ایم ایف سے لی گئی ہے اس کے ساتھ ہی عالمی سطح پر غذا اور تیل کی قیمتوں کے بڑھنے کی وجہ سے پاکستان کی برآمدات کے گوشواروں میں اضافے کے امکانات بھی ہیں اس صورتحال میں غیر ملکی زرمبادلہ دباﺅ میں آسکتا ہے اور آئی ایم ایف کے پروگرام میں تعطل کے ساتھ یہ راستہ بہت خطرناک ہوگا۔ علاوہ ازیں کرنٹ اکاﺅنٹ میں سرپلس ناقابل برداشت حد تک خسارے سے دوچار ہوسکتا ہے جس کی وجہ کپاس کی قیمتوں کا معمول کی سطح پر واپس آنا، عالمی سطح پر خوراک اور تیل کی قیمتوں کا بلند ہونا اور بجٹ میں مزید انحطاط ہوسکتی ہے۔ پاکستان کو محصولات اور اخراجات کے مابین فرق کو کم کرنے پر توجہ دینی چاہئے۔ سیاسی جماعتوں کا حکومتی ٹیم کے ساتھ مختلف نکاتی ایجنڈوں پر مذاکرات سے قومی وقت ضائع ہورہا ہے۔ معیشت کو بچانے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔ مضبوط معیشت کے بغیر یہاں کوئی سیاست نہیں ہوگی۔
ہمارا صرف ایک ایجنڈا ہونا چاہئے کہ معیشت کو کیسے محفوظ رکھا جائے۔ ہمارے سیاستدانوں کو ٹیکس اصلاحات جس میں آر جی ایس ٹی کا نفاذ، زرعی آمدنی کو ٹیکس میں شامل کرنا، این ایف سی ایوارڈ کے تحفظ کیلئے صوبائی حکومتوں پر ناگزیر پابندیاں عائد کرنے کے عزم جیسے معاملات پر آپس میں متفق ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ انہیں تیل کی قیمتوں پر باقاعدہ میکنزم، واپڈا اور پیپکو میں اصلاحات لاکر پاور سیکٹر کی سبسڈی مسئلے کا حل اور غیر تسلی بخش کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی پبلک سیکٹر انٹرپرائز کی مکمل طور پر نجکاری یا پھر ان کی تشکیل نو جیسے معاملات پر بھی تعاون کی ضرورت ہے۔ بہرحال ایک بار معیشت بحالی کے راستے پر آجائے تو غیر معاشی مسائل کو بھی حل کیا جاسکتا ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,463
شکریہ: 1,529
2,954 مراسلہ میں 8,195 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|