واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


پاکستان میں توانائی کا بحران یا من گھڑت منصوبہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-07-11, 05:39 AM   #1
پاکستان میں توانائی کا بحران یا من گھڑت منصوبہ
زبیرافتحار زبیرافتحار آف لائن ہے 25-07-11, 05:39 AM

پاکستان دنیا کے ایک ایسے حصہ میں واقع ہے جہاں قدرت کی طرف سے دیئے گئے انمول خزانے موجود ہیں۔ پاکستان کوخدا تعالیٰ نے بے شمار تحائف سے نوازا ہے۔ پاکستان کے صوبے اپنی اپنی جگہ اہمیت کے حامل ہیں۔ پنجاب کی زمین بہت زرخیز ہے اسی لئے یہ غذائی پیداوار کے لحاظ سے اہمیت کا حامل ہے جبکہ سندھ قدرتی گیس اور معدنی ذخائرکے لحاظ سے جانا جاتا ہے۔ سندھ میں موجودساحل سیاحوںکواپنی طرف کھنچتا ہے جبکہ سرحداور بلوچستان برف کے پگھلاﺅ،پہاڑ، جنگلات اورقدرتی وسائل کےاعتبار سے اہمیت کے حامل ہیں۔
یہاں پر موجود قدرتی مناظر ایک دلکش منظر پیش کرتے ہیں جو دل کوچھوجاتا ہے، سیاح اپنے ماحول کو بدلنے کے لئے اسی طرف کا رخ کرتے ہیں ۔
بلوچستان میں توانائی کے ذخائر موجود ہیں ان میں گیس، جپسم اورکوئلہ قابل ذکر ہیں۔
کوئلہ پاکستان کے ہر صوبہ میں پایا جاتا ہے، پاکستان کے پاس اتنی مقدار میں کوئلہ موجود ہے کہ اگر اس کا استعمال در ست انداز میں کیا جا ئے تو نہ صرف کوئلہ کی پیداوار میں پاکستان خود کفیل ہوجائے بلکہ اس کو بیرون ممالک بیچ کر اچھا خاصا زرِ مبادلہ بھی کما سکتا ہے۔ پاکستان میں 175بلین ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں جس مین سے۳.۳ بلین ٹن ذخائر دریافت کئے جا چکے ہیں جبکہ ۱۱بلین ٹن ذخائر محفوظ ہیں۔ سندھ کے علاقہ تھر میں کوئلہ اس مقدار میں موجود ہے کہ اس کا استعمال ہماری ساری تکالیف کو دور کر سکتا ہے، موجود گیس اور بجلی کے بحرانوں کو کوئلے کے استعمال سے حل کیا جاسکتا ہے ۔ ایک اندازہ کے مطابق تھر میں 10 ہزار کلومیٹر پر کوئلے کے ذخائر موجود ہیں۔
کوئلے اور گیس کے موجودہ ذخائر سے ملک میں نہ صرف بجلی کی پیداوار کو آنے والے سو سال کے لئے مستحکم کیا جاسکتا ہے بلکہ چار بلین ڈالر کی بچت بھی کی جاسکتی ہے جو کہ تیل کی برآمدات پر خرچ کیے جاتے ہیںِ۔اگر تھر میں موجود کوئلے کو بجلی بنانے کے لئے استعمال کیا جائے تو پاکستان کا بجلی بحران حل کیا جاسکتا ہے ،اس بحران کو حل کرنے کے لئے موجود ذخائر کو استعمال کرنے کے بعد بھی اتنا کوئلہ موجود ہوگا کہ اِس کو بیچ کر زرِ مبادلہ کمایا جاسکے۔
کوئلے کے ذخائر کے صرف ۲فیصد استعمال سے بجلی کی2000 میگا واٹ پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے اور وہ بھی چالیس سال تک کی طویل مدت تک بغیر کسی لوڈ شیڈنگ کے، اس رپورٹ کے بعد اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کل ذخائر سے کتنی تواناحاصل کی جاسکتی ہے۔
گزشتہ دور کے ایک سروے کے مطابق کوئلے کے ذخائر سے جو بجلی پیدا کی جائے گی وہ ۶۷.۵پاکستانی روپے فی یونٹ ہوگی جبکہ اسکے علاوہ بجلی کے پیداواری منصوبوں سے حاصل ہونے والی بجلی ۲۷. ۹روپے فی یونٹ ہے او ر یہ آنے والے دنوں میں اور زیادہ مہنگی ہوجائے گی ۔ اس پیداوار کے حصول کے لیے صرف 420 بلین پاکستانی روپے درکار ہیں جبکہ دوسری جانب پاکستان میں1220 بلین روپے صرف ٹیکس کی مد میں سالانہ وصول کیے جاتے ہیں۔
ماہرین کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں کھربوںمعکب فٹ گیس کے ایسے ذخائر موجود ہیں جنہیں زمین سے نکالنے کی کوشش ہی نہیں کی گئی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ جس علاقے میں گیس کے یہ قیمتی ذخائر پائے جاتے ہیں اس کے دو تہائی حصے حکومت کے بجائے قبائل یا شدت پسندوں کی عملداری میں ہیں۔
2006میں پاکستان نے 300 ملین بیرل ذخائر دریافت کیے، 1980 میں بڑے پیمانے پر ہائیڈرو کاربن کے ذخائر پاکستان کے جنوبی حصہ سے دریافت ہوئے۔ ۹۹۹۱کے مطابق پاکستان70 مقامات پر تیل کی دریافت کا کام شروع ہو چکا تھا۔ 2008 کی انرجی سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2007میں قدرتی گیس کے 85.5 ٹریلین کیوبک میٹر ذخائر ثابت کیے۔ جس میں بڑے پیمانے پر ذخائر سوئی اور ماڑی شامل ہیں، یہ علاقہ سندھ اور بلوچستان میں واقع ہیں۔
آنے والوں دنوں میں ایران اور پاکستان کے درمیان گیس لائن کا کام شروع ہوجائے گا جس کے بعد گیس کی پیداوار اور زیادہ ہوجائے گی یاد رہے کہ ایران اور پاکستان کے مابین گیس کے معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں۔
پاکستان نے حال ہی میں زور دیا ہے کہ بجلی کے بحران سے نمٹنے کے لئے اس کے متبادل توانائی کا استعمال کیا جائے اسی لئے کچھ دنوں پہلے فرانس کے تعاون سے گیس ٹربائن بجلی گھر منگوایا گیا ہے۔ اس بجلی گھر پر 773ملین ڈالر لاگت آئی ہے اور اس سے 550 میگاواٹ بجلی حاصل کی جاسکے گی ۔ کے ای ایس سی کو اس سال تین بجلی گھر ملنے ہیں جس میں سے یہ پہلا بجلی گھر ہے اس کے بعد دو اور بجلی گھر کراچی بھیجے جائیں گے۔
پاکستان کو ضرورت ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک کے رحم کرم پر رہنے کی بجائے اپنی ضروریات کو پورا کرنا خود سیکھ لے۔ ملک میں موجود کوئلہ اور گیس ہماری ضروریات کو پورا کرسکتے ہیں۔
گیس اگرچہ ان حالات میں کمی کی طرف جا رہی ہے مگر پھر بھی اس کا استعمال ہوسکتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ کوئلے پر زور زیادہ ہوگا۔ پاکستان جیسے ملک جہاں گیس کے اتنے بھرے ذخائر موجود ہوں وہاں گیس کے بحران کا سوچنا تھوڑا عجیب لگتا ہے۔
ڈاکٹر ثمر مبارک نے کہا کہ دنیا میں اس وقت 41 عشاریہ چھ ایک فیصد بجلی کوئلے سے پیدا ہوتی ہے۔ بھارت کوئلے سے 64 فیصد بجلی پیدا کر رہا ہے جبکہ پاکستان صرف دو عشاریہ دو فیصد بجلی کوئلے سے تیار کر رہا ہے۔ ہمارے پاس دنیا میں کوئلے کا ساتواں بڑا ذخیرہ موجود ہے اور ہم اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بجلی کے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔ جاری.....................

Last edited by زبیرافتحار; 25-07-11 at 05:46 AM..

 
زبیرافتحار's Avatar
زبیرافتحار
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 611
شکریہ: 130
384 مراسلہ میں 965 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 230
Reply With Quote
10 قاری/قارئین نے زبیرافتحار کا شکریہ ادا کیا
فاروق سرورخان (25-07-11), یاسر عمران مرزا (25-07-11), ننھا بچہ (25-07-11), محمد عاصم (25-07-11), مرزا عامر (25-07-11), wajee (25-07-11), احمد نذیر (26-07-11), احمد بلال (25-07-11), شمشاد احمد (25-07-11), عبدالقدوس (25-07-11)
پرانا 25-07-11, 09:27 AM   #2
Senior Member
 
زبیرافتحار's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 611
کمائي: 11,084
شکریہ: 130
384 مراسلہ میں 965 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

توانائی کا بحران،ہم صرف سورج، پانی پر ہی انحصار کیوں کر رہے ہیں؟
ہم اب بھی دنیا کے مہنگے ترین سولر سسٹم کی طرف توجہ دے رہے ہیں جس کیلئے ہمیں مغرب کا ہی مرہونِ منت ہونا پڑے گا
اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا توانائی کے بحران میں مبتلا ہے اور ہر ملک اپنے ذرائع اور ضروریات کو دیکھتے ہوئے توانائی کے بحران سے نمٹنے کے کوششوں میں مصروفِ عمل ہے اور پاکستان کے ارباب اختیار اور سائنسدان بھی اس بحران سے نبرد آزما ہونے کی کوششوں میں مصروفِ عمل ہیں مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم صرف ایک رْخ پر کام کررہے ہیں اور یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کررہے کہ ہم اس توانائی کے بحران سے کیسے نمٹیں ہماری زیادہ تر کوشش یہ ہے کہ شمسی توانائی سے استفادہ کیسے کریں، یا رینٹل پاور پلانٹ لے کر وقتی طور پر بحران پر قا بو پالیں۔ اس سے قطع نظر کہ اس کے اثرات عام زندگی پر کیا پڑتے ہیں یا اس کے اخراجات کہاں تک جاتے ہیں ہم اپنے ملک کے ذرائع کو دیکھتے ہوئے کام کرنے کی طرف توجہ نہیں دے رہے اور یہی ہماری سب سے بڑی غلطی ہے ہم بجلی بھی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی ختم کرنا چاہتے ہیں مگر اس کے لئے کوئی مربوط لائحہ عمل اختیار نہیں کررہے بلکہ مہنگے ترین ذرائع پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ۔ہمارا پانی عرصہ درازسے سمندر میں گر کر ضائع ہورہا ہے مگر ہم ڈیم نہ بنا سکے اور اب ہم دنیا کے مہنگے ترین سولر سسٹم کی طرف توجہ دے رہے ہیں جس کے لئے ہمیں مغرب کا ہی مرہونِ منت ہونا پڑے گا مگر اس سے پھر بھی مسئلہ حل نہ ہوگا اس کے برعکس اگر ہم تھوڑی سی توجہ دوسرے ذرائع کی طرف دیں تو یقینی طور پر اس کے مثبت نتائج برآمد ہونا شروع ہوجائیں گے۔
کوڑاکرکٹ، توانائی کے حصول کا ذریعہ
refuse.jpg
پاکستان گزشتہ کئی سال سے توانائی کے بحران میں مبتلا ہے، ہر شخص اسی سوچ میں گم ہے کہ توانائی کے بحران کو کیسے ختم کیا جائے۔ کہیں سولر پینل کا استعمال کیا جا رہا ہے تو کہیں بائیو گیس سے بجلی بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ مگر حکومت ہے جو کہیں بھی سنجیدگی اختیار کرتی نظر ہی نہیں آرہی ہے۔ بجلی کے بحران کو ختم کرنے اور لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لئے حکومت کی طرف سے نئے پروجیکٹس تو شروع کئے گئے ہیں مگر ان کی مدت بہت لمبی ہے، فوری طور پر لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے لئے کوئی خاص انتظامات نہیں کئے جا رہے ہیں۔

دنیا میں متعدد ممالک کوڑے کے ذریعے بجلی اور گیس حاصل کر رہے ہیں، ان میں جاپان، چین، امریکہ، برطانیہ، اسپین، ترکی، نیروبی، سویڈن، یونان اور بھارت کے علاوہ دیگر ممالک شامل ہیں۔ جاپان، بھارت اور چین نے کوڑے سے توانائی حاسل کرنے کے متعدد منصوبوں پر کام شروع کر رکھا ہے۔ دنیا کے دیگر ممالک کوڑے کی اہمیت سے واقف ہیں اور اس سے توانائی حاصل کر رہے ہیں پھر ہم کیوں اس اہم چیز پر توجہ نہیں دیتے؟ ہم ملک میں روزآنہ اکھٹا ہونے والے ہزاروں ٹن کوڑے سے بجلی پیدا کر سکتے ہیں ، یوں بجلی کی کافی ضروریات بھی پوری ہو جائیں گی اور ماحول بھی صاف ستھرا ہو جائے گا۔

ہمارے ملک میں فی گھرآنہ روزآنہ اوسطً تین کلو جبکہ ملک میں کل تقریبا پچپن ہزار ٹن کوڑا پیدا ہوتا ہے جس سے ایک لاکھ میگاواٹ سے زائدبجلی اور پنتالیس لاکھ کے قریب ایتھنول فیول کی پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ ایک ٹن کوڑے سے دو میگاواٹ بجلی اورتراسی لیٹر ایتھنول فیول پیدا ہوتا ہے۔ کوڑے سے بجلی اور ایندھن حاصل کرنے کی بدولت پاکستان نو لاکھ ڈالر کی بچت کر سکتا ہے جو وہ خام تیل کی درآمد پر خرچ کرتاہے۔ ہمارا پڑوسی ممالک بھارت کوڑے سے سترہ عشاریہ چھ میگاواٹ بجلی حاصل کر رہا ہے۔

پلانٹ میں کوڑے کو جلاکر اس کے درجہ حرارت سے ٹربائن چلائی جاتی ہے جس سے بجلی کی پیداوار حاصل کی جاتی ہے۔ اس طریقہ کار کو کمبائنڈ سائیکل کہا جاتا ہے۔کمبائنڈ سائیکل پلانٹس کے ذریعے ساٹھ فیصد تک تھرمل صلاحیت حاصل کی جاسکتی ہے۔ لیکن پاکستان میں نجی پاور پلانٹ، جو عموماً سنگل سائیکل ہیں، صرف تینتیں فیصد تھرمل صلاحیت حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان کے چوبیس نجی پاور پلانٹس میں سے صرف سات پاور پلانٹس کمبائنڈ سائیکل ٹیکنولوجی کے تحت کام کررہے ہیں۔ پاکستان میں کام کرنے والے پاور پلانٹس میں سے ایک تہائی سے بھی کم مقدار میں کمبائنڈ سائیکل ٹیکنولوجی کو بہترین صلاحیت کے ساتھ استعمال کررہے ہیں۔

پاکستان میں توانائی کی کل پیداوار کا ستر فیصد گیس یا تیل کی دہری مقدار سے پیدا کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں بجلی روز بروز مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ بجلی کے حصول کے لئے تیل اور گیس کا متبادل استعمال کرنے کی بدولت بجلی کے نرخوں اور رسد دونوں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ملک میں کل بجلی کی پیداوار انیس ہزار چار سو پچاس میگاواٹ حاصل ہو رہی ہے جس میں سے تینتیس فیصد ہائیڈرو، پینسٹھ فیصد تھرمل اور دو فیصد نیوکلیئر ہے۔

حال ہی میں پنجاب حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ توانائی کی قلت کو پورا کرنے کے لئے سیمنٹ انڈسٹری میں کوڑے کو بطور ایندھن استعمال کیا جائے۔ اس طرح سیمنٹ فیکٹریوں کے منافع میں بھی اضافہ ہوگا اور توانائی کی قلت میں بھی کمی ہو گی۔ اس سلسلے میں لاہور ویسٹ کمپنی نے سیمنٹ کمپنیوں سے رابطے شروع کر دئےے ہیں اگر معاہدہ ہو گیا تو چالیس فیصد کوڑا ان کمپنیوں کو فروخت کر دیا جائے گا۔ ماحول کو صاف ستھرا رکھنے اور بجلی کی طلب کو پورا کرنے کے لئے یہ اہم اقدام ہے۔ یہی اقدام اگر حکومتی سطح پر کیا جائے تو بجلی کی قلت ختم کی جا سکتی ہے۔

اگر پاکستان کے ہر علاقے میں کوڑے سے توانائی حاصل کرنے کا پلانٹ لگا دیا جائے توہر علاقے کے بجلی کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ کراچی میں سات ہزار پانچ سو ٹن کوڑا روزانہ پیدا ہوتا ہے جو کہ کراچی کی بجلی کی ضروریات کو پورا کرنے میں کافی مدد کر سکتا ہے۔ کوریا پاکستان میں فارما سوٹیکل انڈسٹری ، فوڈ پروسیسنگ اور کوڑے سے توانائی کے حصول کے شعبوں میں دلچسپی رکھتا ہے اور اس حوالے سے جلد ہی کام شروع کرنا چاہتا ہے۔ ایسی متعدد کمپنیاں پاکستان میںکوڑے سے توانائی کے حصول کے لئے سرمایہ کاری کی خواہش رکھتی ہیں مگر یہ ہماری حکومت پرہے کہ وہ کب اس معاملے میں سنجیدگی اختیار کرتی ہے۔ جاری..........................
زبیرافتحار آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے زبیرافتحار کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (25-07-11), wajee (25-07-11), احمد نذیر (26-07-11), شمشاد احمد (25-07-11)
پرانا 26-07-11, 09:44 AM   #3
Senior Member
 
زبیرافتحار's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 611
کمائي: 11,084
شکریہ: 130
384 مراسلہ میں 965 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گھریلو کچرے سے گیس بنانا ممکن
گیس کا یہ پلانٹ گھر کی چھت پر لگایا جا سکتا ہے۔Name:  090904101201_bio_gas_226_01.jpg
Views: 51
Size:  10.0 KB
بجلی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے جہاں حکومتِ پاکستان کرائے کے بجلی گھروں جیسے ہنگامی مگر مہنگے منصوبوں پر کام کر رہی ہے وہیں ملک کے ایک پسماندہ حصے کے ایک انجینیئر اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے بجلی اورگیس اپنے گھر میں ہی مفت پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
Name:  090904100929_bio_gas_226_2.jpg
Views: 52
Size:  9.5 KB
شفقت مصطفیٰ جنوبی پنجاب کے شہر جھنگ میں متبادل ذریعۂ توانائی سے بجلی بنانے والے ایک پلانٹ میں آپریشن مینیجر ہیں۔ بحران کی وجہ سے بجلی کی آنکھ مچولی، بڑھتے ہوئے نرخوں اور گیس کے بِلوں سے تنگ آ کر شفقت نے اپنی مدد آپ کے تحت خود بجلی اور گیس پیدا کرنے کی کوششیں شروع کیں جس میں وہ کامیاب بھی ہو گئے ہیں۔
انہوں نے بائیو گیس کے ذریعے ناصرف اپنے گھر کا چولہا جلایا ہے بلکہ اسی بائیوگیس پر گیس سے چلنے والا جنریٹر استعمال کرتے ہوئے بجلی بھی پیدا کی ہے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک مِنی بائیو گیس پلانٹ تیار کر کے اپنے گھر کی چھت پر نصب کر لیا ہے۔
بائیو گیس، نامیاتی مرکبات سے آکسیجن کی غیر موجودگی میں پیدا ہونے والی گیس ہے جو استعمال میں معدنی گیس کی خصوصیات رکھتی ہے۔ بائیو گیس نیا آئیڈیا نہیں ہے اور کئی دہائیوں سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں زیرِ استعمال ہے۔ وقت کے ساتھ باقی دنیا میں بائیو گیس کی پیداوار کو فوقیت ملی ہے اور اس کے طریقوں میں بھی جدت آئی ہے لیکن پاکستان میں محض اس کے راویتی طریقۂ پیداوار پر ہی توجہ دی گئی۔
پاکستان کونسل فار ری نیو ایبل انرجی ٹیکنالوجی نے متبادل ذرائع توانائی کے فروغ کے لیے ملک بھر میں تین ہزار سے زائد بائیو گیس کے روایتی پلانٹ تقسیم کیے ہیں جو گھریلو سطح پر گیس کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ لیکن اس سرکاری مہم میں گیس پیدا کرنے کے لیے گائے بھینسوں کا گوبر استعمال ہوتا ہے۔ کونسل کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر پرویز اختر بتاتے ہیں کہ سرکاری بائیو گیس پلانٹ کے حصول کے لیے صارف کے گھر میں چار یا پانچ بھینسوں کا ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ یہ طریقہ دیہاتی علاقوں میں ہی قابلِ عمل ثابت ہوتا ہے۔
دو کلوکچر سےپانچ آدمیوں کا کھانا تیار کیا جا سکتا ہے۔شفقت مصطفیٰ نے اپنا منی بائیو گیس پلانٹ بھارت میں زیرِ استعمال ماڈل پر تیار کیا ہے جس سے شہری علاقوں میں گیس کا متبادل اور مفت حصول ممکن ہو سکتا ہے۔ اس کے لیے مویشیوں یا ان کے فضلے کو جمع کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ یہ گندگی یا بدبو پھیلانے کی بجائے ماحول کی پاکیزگی میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

تین حصوں پر مشتمل یہ پلانٹ پاکستان میں زیرِاستعمال پانی گرم کرنے والے گیزر کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ دو تہی ڈرم کے وسطی حصے میں ایک ہی دفعہ تھوڑی سے مقدار میں گوبر ڈال کر بیکٹریا کی نشوونما شروع کر دی جاتی ہے جس کے بعد اس پلانٹ میں گھر کا کچرا اور کسی بھی قسم کا نامیاتی فضلہ ڈالنا پڑتا ہے تاکہ گیس کی ترسیل جاری رہے۔ ڈرم کے بیرونی حصے میں گیس ذخیرہ ہوتی ہے جسے گھر میں گیس کی ترسیل کے عمومی نظام سے جوڑ دیا گیا ہے۔ منی بائیو گیس پلانٹ کا تیسرا حصہ ایک سولر پینل ہے جو شمسی توانائی کے ذریعے پلانٹ کو مطلوبہ درجۂ حرارت فراہم کرتا ہے۔

اس پلانٹ کو تیار کرنے میں شفقت مصطفیٰ کے پچیس ہزار روپے خرچ ہوئے ہیں۔ دو کلو گرام کچرے سے دو میٹر کیوبک گیس پیدا ہوتی ہے جس سے پانچ لوگوں کا کھانا با آسانی تیار کیا جا سکتا ہے۔ شفقت آجکل اپنے پلانٹ کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ دو کیوبک میٹر گیس کی صلاحیت والے منی بائیو گیس پلانٹ کے ساتھ جنریٹر کی مدد سے چار کلو واٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔
پاکستان کونسل فار ری نیو ایبل انرجی ٹیکنالوجی کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر پرویز اختر کا کہنا ہے کہ ملک کے نہری نظام کو علاقائی سطح پر چھوٹے چھوٹے پن بجلی گھر بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے بقول صوبہ پنجاب میں علاقائی سطح پر زرعی فضلات اور فصلوں کو استعمال کر کے بائیو ایندھن حاصل کیا جا سکتا ہے جس سے بجلی اور گیس کی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔
زبیرافتحار آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زبیرافتحار کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (26-07-11), حیدر (26-07-11)
جواب

Tags
ہے۔, کوشش, کلومیٹر, کراچی, گھر, پاکستان, وقت, موجودہ, مسائل, مطابق, ایران, انمول, انداز, بے, حال, دنیا, دریافت, سال, شروع, علاقہ, علاقے, عجیب, صوبہ, صوبے, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ترکمانستان افغانستان پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ امریکی کمپنی آئی او سی کو دینے کی منظوری دے دی گئی: پاکستانی خبریں 2 23-02-12 06:09 PM
پاکستان فرانس میں سیکورٹی،تجارت اوراقتصادی تعاون کے معاہدوں پر دستخط ذوالفقار علی خبریں 0 06-05-11 11:40 AM
جمہوریت کے استحکام کیلئے پاکستان کی بھر پور مدد کر رہے ہیں،رچرڈ بائوچر کا پاکستانی ٹی وی کو انٹرویو ابن جلال خبریں 0 11-10-08 11:03 PM
بھارتی وزیر بغیر ویزا اور سفری دستاویز کے پاکستان میں گھس آیا شیخ ہمدان سیاست 1 19-01-08 08:45 PM
السلام علیکم پاکستان۔۔۔۔۔ میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے Zullu230 تعارف 9 21-07-07 10:59 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:48 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger