واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


پاکستان کی معاشی تاریخ 1947ءتا 2011

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-08-11, 08:40 AM   #1
پاکستان کی معاشی تاریخ 1947ءتا 2011
زبیرافتحار زبیرافتحار آف لائن ہے 26-08-11, 08:40 AM

سلیم شہاب

پاکستان کی معاشی تاریخ کا آغاز انگریزوں سے برصغیر کی آزادی کے بعد قیام پاکستان سے ہوتا ہے۔ اس وقت پاکستان کی معیشت نیم صنعتی تھی جو کہ زیادہ تر ٹیکسٹائل، زراعت اور خوراک کی پیداوار پر بنیاد کرتی تھی۔ شروع سے ہی پاکستان کی معیشت میں دریائے سندھ کا اہم کردار ہے۔ آزادی کے بعد پاکستان میں تربیت یافتہ کارکنوں، اداروں اور وسائل کی شدید کمی تھی جبکہ معاشی ترقی کے لیے ان تمام اشیا کا کردار مسلمہ ہے۔ ایسے حالات میں معاشی ترقی تو دور کی بات اپنے وجود کو برقرار رکھنا ہی کارہائے نمایاں تھا۔ خاص طور پر اس وقت جبکہ ملک کی سرحدیں بھی خطرات سے دوچار ہوں۔ تاہم حیرت انگیز طور پر اگلے 20 سالوں میں ملک نے خوب معاشی ترقی کی یہاں تک کہ پاکستان 1960ءکے عشرے میں معاشی ترقی کے اعتبار سے کئی ممالک بشمول جنوبی کوریا کے لیے رول ماڈل تھا۔

آزادی کے بعد بھارت کے ساتھ تجارت کا خاتمہ، امپورٹ پر کنٹرول حکومت کی ترجیحات میں شامل تھیں۔ حکومت نے صنعت کے فروغ کے لیے کئی اقدامات اُٹھائے۔ ملک میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی گئی اور حکومت نے خود بھی مینوفیکچرنگ پلانٹ لگانے پر توجہ مرکوز کی۔ مینوفیکچرنگ پلانٹ کافی نفع بخش رہے اور اس میں پرائیویٹ افراد نے دل کھول کر پیسہ لگایا اور منافع کمانے پر اپنا منافع بھی دوبارہ مینوفیکچرنگ میں ہی لگا دیا۔ آب پاشی پر بھاری سرمایہ کاری کے علاوہ حکومت نے زراعت پر کوئی خاص توجہ نہ دی۔ یہی وجہ ہے کہ زراعت کی پیداوار 1950ءکے عشرے میں غیر متاثر کن رہی۔

1950ءکا تمام عشرہ اور 1960ءکے عشرے کے ابتدائی سالوں میں کسانوں اور فیکٹری ورکرز پر کام کا خوب دباؤ رہا جبکہ ان کی آمدنی قلیل ہی رہی۔ ملک کی معیشت بلکہ صنعت کا بڑا حصہ چند افراد کے ہاتھوں میں سمٹ گیا اور انہوں نے ملک کی معاشی ترقی کے ثمرات عوام تک نہ آنے دیے۔ ملک کے ابتدائی سالوں میں مہاجر کاروباری حضرات نے بہت تھوڑے سے سرمایہ سے اپنے کاروبار کا آغاز کیا اور جلد ہی وہ منافع میں کھیلنے لگے۔ ان کا سرمایہ کاری اور صنعت کاری میں نمایاں کردار تھا۔ اگرچہ 1947ءسے 1952ءتک قومی پیداوار (GDP) کی شرح ترقی محض 3 فیصد تھی۔ تاہم کوریا کی جنگ کے دوران پوری دنیا میں مختلف صنعتی اشیا کی طلب میں اضافہ ہوا۔ پاکستان کی حکومت نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا اوراپنی شرح نمو 3 فیصد سے 9.4 فیصد تک بڑھائی۔ کوریا کی جنگ کے بعددنیا میں کساد بازاری کا ماحول بنا مگر اس وقت پاکستان دنیا بھر میں جُوٹ کا واحد ایکسپورٹر تھا اور اس کی معیشت پر کساد بازاری کے اثرات معمولی رہے۔ 1958ءتک پاکستان کی شرح پیداوار تین فیصد ہی رہی مگر 1960ءکے عشرے میںملکی معیشت نے بہترین کارکردگی دکھائی۔ ایوب خان کی صنعتی ترقی کی پالیسی کی بنا پر 1960ءکے عشرے میں اوسط شرح نمو 6.2 فیصد رہی۔ مینوفیکچرنگ کا شعبہ ایوب خان کے ابتدائی پانچ سالوں میں 1960-62)ئ( میں تیز رفتاری سے ترقی کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ایک سال تو ترقی کی رفتار 16.9 فیصد بھی رہی۔ تاہم 1965ءکی جنگ کے بعد شرح نمو 3 فیصد تک گر گئی مگر اس کے بعد وہ بڑھتے بڑھتے 1970ءتک 9.8 فیصد ہو گئی۔ 1971ءمیں ملک کا آدھا حصہ علیحدہ ہوا تو ملک کی معاشی ترقی پر کاری ضرب پڑی کیونکہ مشرقی پاکستان میں جوٹ کی پیداوار بہت زیادہ تھی۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جب ملک کی بڑی صنعتوں کو قومیانے (Nationalization) کی پالیسی اپنائی تو صنعتکاروں نے ملک میں سرمایہ کاری سے منہ موڑ لیا۔ یہی وجہ ہے کہ 1972ءمیں قومی پیداوار محض1.2 فیصد رہ گئی۔ اس کے بعد بھٹو حکومت نے پاکستانی روپے کی قیمت 131 فیصد گرا دی جس کی بنا پر پاکستان کی ایکسپورٹ 153 فیصد بڑھ گئی۔ بھٹو حکومت نے مختلف اصلاحات کیں اور نئے پروجیکٹس بنائے جن کی بنا پر 1974ءمیں پاکستان کی شرح قومی ترقی ایک بار پھر 7.5 فیصد تک پہنچ گئی۔ 1975ءبھٹو حکومت کی جانب سے نیشنلائزیشن کے عروج کا سال تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس سال پرائیویٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری محض 15 فیصد رہی۔ بھٹو حکومت کے آخری سالوں میں سیلاب اور دیگر وجوہات کی بنا پر کپاس کی فصل شدید متاثر ہوئی۔ 1976ءمیں ملک میں بدترین سیلاب آیا جس کی وجہ سے ملک میں فصل کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا اور 1974ءسے 1977ءکے عرصہ میں قومی پیداوار کی شرح ترقی محض 3.6 فیصد تھی۔ صدر ضیاالحق نے آ کر ملک میں پرائیویٹ سیکٹر کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ ملک میں از سر نو سرمایہ کاری پر غور کریں تاہم نجکاری کا عمل بتدریج رہا۔

افغانستان کی جنگ کی بنا پر امریکہ نے پاکستان کی مدد مانگی اور پاکستان پر غیر ملکی امداد کے دروازے کھل گئے۔ اس چیز نے عام آدمی کی آمدنی میں خاصا اضافہ کیا اور ملک میں خدمات (Services) اور اشیا (Goods) کی طلب میں اضافہ ہوا۔ غیر ملکی امداد کی وجہ سے ضیا حکومت صنعتی شعبہ میں سرمایہ کاری کرنے کے بھی قابل ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی 1980-88ءکے درمیان شرح ترقی 6.5 فیصد رہی۔ یہ شرح ترقی چین کوریا اور ہانگ کانگ سے زیادہ تھی۔ 1988-99ءکے درمیان ملک میں سیاسی عدم استحکام رہا۔ کرپشن، نسلی فسادات اور بدانتظامی کا دور دورہ رہا۔ یہی وجہ ہے کہ شرح ترقی محض 3.8 فیصد رہی کیونکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد کو ایک بار پھر ٹھیس پہنچی تھی۔ 1990ءکے عشرہ میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے Structural Adjustment Programme کا ملکی ترقی پر گہرا اثر رہا۔ دونوں عالمی اداروں کے پاکستان کو دیے گئے قرضے شرح ترقی اور ملکی معاشی پالیسیوں سے براہ راست منسلک تھے۔ پاکستان نے اپنا پہلا رسمی طور پر قرضہ ان اداروں سے 1988ءمیں لیا۔ آئی ایم ایف کے پروگرام کا بنیادی نقطہ پاکستان کا بجٹ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کم کرنا تھا اور ان اہداف کے حصول کے لیے پاکستان کو سرکاری اخراجات میں کمی اور ٹیکس کا دائرہ بڑھانا تھا۔ 1992-93ءمیں آئی ایم ایف نے پاکستان پر دفاعی اخراجات کم کرنے، زرعی ٹیکس لگانے اور ٹیکس جمع کرنے کے طریقوں کو بہتر بنانے پر زور دیا۔ نہ ہی یہ اصلاحات ملکی معیشت میں مکمل طور پر نافذ ہو سکیں اور نہ ہی IMF کے پروگرام کے کوئی خاطر خواہ نتائج نکل سکے۔

1998ءمیں پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو ملک کو عالمی معاشی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی ملکوں نے پاکستان سے امپورٹ کرنا بند کر دیا جس کے نتیجے میں ملکی پیداوار بھی متاثر ہوئی۔ جنرل مشرف کے دور میں معیشت 6.3 فیصد سالانہ کے حساب سے بڑھی۔ جب پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا تو امریکہ نے پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد دی۔ چنانچہ بڑے ترقیاتی منصوبے بنائے گئے۔ سات کمپنیوں کو ملک میں سیلولر فون نیٹ ورک چلانے کی اجازت بھاری قیمت پر دی۔ کئی ملکی اداروں کی نجکاری کی گئی۔بعد میں ان اداروں نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ٹیکس کی کولیکشن میں 18 فیصد اضافہ ہوا۔ ایکسپورٹ 18.3 فیصد جبکہ امپورٹ 8.9 فیصد بڑھیں تاہم 2008ءمیں کوئی بڑی صنعت نہیں لگائی گئی اور اس سے ملک کی معیشت بُری طرح متاثر ہوئی۔ اس کی بڑی وجوہات ملک میں دہشت گردی، کرپشن، بدانتظامی اور عالمی کساد بازاری ہیں۔

اگرچہ گزشتہ 64 سال میں پاکستان کی معیشت نے کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں اور غلط فیصلے کر کے ملکی معیشت کو نقصان بھی پہنچایا گیا ہے تاہم انگریز شاعر جان ملٹن کی زبان میں ہم نے سب کچھ نہیں کھویا (All is not lost) ہے۔ ابھی کھونے اور پانے کے لیے بہت کچھ باقی ہے۔ اب یہ مستقبل کے معیشت دانوں پر ہے کہ وہ ملکی معیشت کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ بہرحال پاکستان کی معیشت کو صنعتی بنانے کا جو سلسلہ قیام پاکستان سے شروع ہوا تھا وہ آج تک مکمل نہیں ہوا ہے۔ پاکستان آج بھی نیم صنعتی ملک ہے اور قوت خرید کے لحاظ سے پاکستان دنیا کی 27 ویں بڑی معیشت ہے۔ پاکستان کی بڑی صنعتوں میں ٹیکسٹائل، کیمیکل، سپورٹس وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستانی معیشت کے بڑے مسائل تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، افراط زر، غربت، عدم تعلیم، دہشت گردی، کرپشن اور بدانتظامی ہیں۔ اس وقت پاکستان خام قومی پیداوار (GDP) کے لحاظ سے دنیا کی 48 ویں بڑی معیشت ہے اوراس کا حجم 167 ارب ڈالر ہے۔ پاکستان معیشت کے حجم کے اعتبار سے جنوبی ایشیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔ پاکستان کی خام قومی پیداوار اگر قوت خرید کے اعتبار سے ماپی جائے تو اس کا حجم 475.4 ارب ڈالر لگایا جاتا ہے جبکہ اس کی فی کس سالانہ آمدنی 2942 ڈالر ہے۔ جبکہ ملک میں غربت کی شرح 23 سے 28 فیصدکے درمیان ہے۔ 2007ءسے ملکی حالات اور معیشت مسلسل زوال پذیر ہے ۔ افسوس کی بات ہے کہ چار سال ہونے کو آئے ہیں ملکی معیشت کی بہتری کے لیے صحیح اقدامات ابھی تک نہ کیے گئے ہیں۔ افراطِ زر کو ہی لے لیجیے 2006ءمیں اس کی شرح 7.9 فیصد تھی وہ اب بڑھ کر 25 فیصد کے لگ بھگ ہو گئی ہے۔ افراط زر ملکی معیشت کے لیے نہایت مہلک شے ہے اوراس کا تعلق چیزوں اور خدمات کی قیمتیں بڑھنے سے ہے۔ بہت لازم ہے کہ ملکی معیشت اور ملکی حالات کو ٹھیک کیا جائے۔ معاشی ترقی، غربت میں کمی، معاشرتی تحفظ اور کمزور طبقات کی بہتری پر انحصار کرتی ہے۔ انفراسٹرکچر بھی اہمیت رکھتا ہے۔ افراط زر اور بے روزگاری کے درمیان ایک حسین توازن نہ قائم کیا جائے تو یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ متصادم رہتے ہیں جیسے اگر بے روزگاری کم ہو جائے تو افراط زر بڑھ جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاشی اور سیاسی عدم استحکام بڑھتا جا رہا ہے۔ ہم سرمایہ کاروں کا ملکی معیشت پر اعتماد بحال کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ نئی سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث ہماری ایکسپورٹ کے لیے بیرون ملک طلب کم ہو رہی ہے۔ حکومت کو ان معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
__________________
تم قاتل نہیں ہو پیشہ ور گدھے!

 
زبیرافتحار's Avatar
زبیرافتحار
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مراسلات: 611
شکریہ: 130
384 مراسلہ میں 965 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 172
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زبیرافتحار کا شکریہ ادا کیا
shafresha (26-08-11), بلال الراعی (27-08-11)
جواب

Tags
فراز, کوریا, کوشش, کنٹرول, پاکستان, پاکستانی, وزیر, چین, مکمل, مسائل, آج, آدمی, امریکہ, بہترین, جلد, حضرات, خلاف, خان, دل, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, غور, غلط, صحیح, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ماہنامہ پاکستان کی آواز اپریل 2011 سحر خاص آفرز اور اعلانات 6 19-04-11 11:14 AM
ناول 1947ء کے بعد خرم شہزاد خرم ناول 2 11-11-10 06:44 AM
ورلڈ کپ 2011 ء: ،پاکستان میزبانی کے حق سے دستبردار تفسیر حیدر کرکٹ 0 28-08-09 04:30 PM
ہمیں 1947ء کا پاکستان چاہئے Real_Light 14اگست 12 18-08-09 11:15 PM
ورلڈ کپ 2011 پاکستان سے منتقل تفسیر حیدر کرکٹ 2 18-04-09 07:50 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:49 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger