واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


پروانے شمع سے جلتے ہیں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-03-11, 01:52 PM   #1
پروانے شمع سے جلتے ہیں
بزم خیال بزم خیال آف لائن ہے 26-03-11, 01:52 PM

میری تحاریر پر بعض اوقات یہ اعتراض سامنے آتاہے کہ مشکل مفہوم کے ساتھ پیچیدہ طرز تحریر اختیار کرتا ہوں ۔ جسے پڑھنے پر بعض اوقات ایسے جوابات سے بھی نوازا جاتا ہے " پیچ در پیچ اتنی پیچیدہ تحریر واللہ بندہ سمجھنے کے چکر میں پیچاں پیچ ہوجائے " ۔ اگراس کے ساتھ نصیحت بھی ہو تو مشورہ مفت دل بے رحم سے کم نہیں ہوتا ۔ اسی لئے اپنی تمام مصروفیات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ایک بار پھر لکھنے پر کمر بستہ ہوں ۔ اب اگر شکوہ نہ جائے تو ہمیں ضرور توبہ کرنی چاہئے قاری کو پڑھنے سے اور مجھے ایسی سوچ رکھنے پر ۔
کیونکہ میرے سیاسی عزائم نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ نا عاقبت اندیشی سیاست میں کسی کام کی نہیں ۔ سیاستدان ہمارے کسی کام کے نہیں ۔ اب اگر ذوالفقار علی بھٹو بحیثیت سیاستدان یا وزیراعظم مجھے پسند ہے تو اس کی خاص وجہ یہ کہ زندگی میں ایک بار بغیر امتحان دئیے ساتویں سےآٹھویں جماعت میں پہنچ گئے تھے ۔کیونکہ نو ستارے مل کر الیکشن میں اپنے انتخابی نشان ہل جو کہ کسان کی محنت اور قوت کی غمازی ہے کے بل پر بھی ملک میں جمہوریت کی کھڑی فصل کو نہ بچا سکے ۔ اور بھٹو اپنی جان کو ۔
حکمرانی جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلی گئی اور اپوزیشن نئی حکومت کے پیچھے کے دروازے پر ۔ دونوں کو آخر کیا ملا ۔ ایک کو موت تو دوسری اپنی موت آپ مر گئی ۔ کیونکہ وہ آج بھی صرف ایک اپوزیشن کا ہی کردار نبھانے میں ماہر سمجھی جاتی ہے ۔جسے عوامی اعتبار حاصل کبھی نہیں ہوا ۔ لیکن امید بھی ختم نہیں ہوئی ۔علامہ اقبال کے اس شعر پر ابھی تک کامل یقین رکھتے ہیں کہ زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی ۔
مٹی زرخیز ہو بھی تو کیا ۔ہل چلانے والے ہی انجان اور نا تجربہ کار ہوں ۔ بنا محنت کے ہی فصل کاٹنے کے لئے بیتابی مہماناں کو جاناں تصور بنا کر رکھتے ہوں تو ایک کیا صدیاں تو تین بھی نا کافی ہوں گی ۔ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ہو ۔ تو پھر ہاتھی میرا ساتھی نہیں ہوتا ۔
ان میں سے ہی بعض تو ایسے قد کاٹھ رکھنے والے قائد تھے ۔ کہ دل جلے پھبتی کستے کہ پوری پارٹی ایک ہی تانگہ پر پوری بیٹھ سکتی ہے ۔ اب بھلا تانگہ پر بیٹھ کر ایوان تجارت تک جانے کا راستہ نہیں رہا تو ایوان صدارت تک تو کجا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے ۔ اسلام آباد میں کئی بار اس راستے سے گزر کر قیاس کیا کہ کیسے یہاں تک پہنچنا آسان ہو سکتا ہے ۔ لیکن جہاں سے گزرنا میرا تھا وہاں سے تو روزانہ ہزاروں لوگوں کا گزرنا رہتا ہے ۔پھر ایک خیال دل میں آیا کہ جسے ہم اندر جانے کا راستہ سمجھتے ہیں دراصل وہ باہر آنے کا راستہ ہے ۔ اندر جانے کے لئے کسی دروازے کی نہیں ایک گہری سرنگ کی ضرورت ہوتی ہے ۔ نکلتی کہاں سے ہے کسی کو معلوم نہیں ۔ جاتی کہاں ہے سب ہی جانتے ہیں ۔
حیدرآباد میں کوئلہ کی کانوں میں جو سرنگیں مجھے دکھائی گئی تھیں ۔ وہ تو ایک ہی کنویں سے چاروں اطراف پھیل جاتی تھیں اور کوئلہ نکال نکال کر اس کنویں سے باہر لایا جاتا اور ضرورت مندوں تک پہنچا بھی دیا جاتا ۔ لیکن یہ فارمولہ ہر جگہ اپلائی نہیں ہوتا ۔ضرورت مند تو وہ بھی بہت تھے جن کے گھروں پر سویت یونین نے یلغار کی تھی ۔ اور وہ خیمہ بستیوں میں پناہ لئے بارڈر کے اس طرف خیموں میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے ۔ اور ان کے لئے بھیجا گیا ہالینڈ کا اعلی گھی ان کے ہاتھوں سے صرف پانچ سو میل دور شہروں میں دوکانوں کے باہر ڈھیر کی صورت سستے داموں بیچنے کے لئے موجود تھا ۔ ایسا ولائتی گھی دیہات میں گھروں میں نکالے جانے والے دیسی گھی کو بھی پیچھے چھوڑ گیا ۔ کالج یونیورسٹیز میں مجاہد عام دیکھے جا سکتے تھے ۔ نوجوانوں میں کمانڈو جیکٹ کا شوق دیدنی تھا ۔ بعض نے تحقیق پر پتہ چلایا کہ لنڈے بازار سے دو سو پاکستانی روپے میں امریکن کمانڈو جیکٹ دستیاب ہے ۔ مقصد کتنا بھی عظیم کیوں نہ ہو جب نیت میں کھوٹ ہو وہ مراد بر نہیں آتی ۔
صرف جیکٹ یا یونیفارم پہن لینے سے ہر ڈیوٹی پوری نہیں ہوتی اور نہ کوئی ڈگری ہاتھ لگتی ہے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب نکاح کا کاغذ بیوی کے ساتھ رکھنا ضروری تھا ۔ ڈیوٹی ادا کرنے والے نانی تک یاد کروا دیتے تھے ۔ کیونکہ شوہر و بیوی کو اپنا نکاح سچ ثابت کرنے کے لئے الگ الگ عزیز رشتہ داروں کے نام بتانے پر جان چھوٹنے کا سرٹیفیکیٹ جاری ہوتا ۔
وقت ا ور حالات کبھی یکساں نہیں رہتے ۔ ترجیحات بدلتی رہتی ہیں ۔ منہ سونگھنے سے بھی کئی دفعات نافذالعمل ہوجاتی تھیں ۔بعد کا ایک وقت وہ بھی گزرا جب سونگھنا ایک اچھا فعل نہیں مانا جاتا تھا ۔ کیونکہ یہ آزادی حق کلام سے ہاتھ دھونے کے مترادف سمجھا جاتا تھا ۔ کیونکہ صرف بات کرنے سے ذہنی فتور کےپکڑے جانے کا اندیشہ تھا ۔
لیکن جن کے بات کہنے سے پوری قوم کی نمائندہ اسمبلی گھر وں کو روانہ ہو گئی ۔ انہیں صرف اتنی تنقید کا سامنا رہا کہ جو منہ سے بادام نہیں توڑ سکتے انہوں نے اسی منہ سے اسمبلی توڑ دی ۔ لیکن ذہنی فتور پکڑنے کا کسی کو خیال کبھی نہیں آیا ۔خیال تو ان سیاسی بازیگروں کو بھی نہیں آیا جب مینار پاکستان پر جلسہ غیر منتخب حکمرانوں کا ہو بسیں بھر بھر سرکاری ملازم لائیں جائیں ۔ اور جھنڈے اُٹھائے ان کے پارٹی ورکر اپنے اپنے قائدین کے وزیراعظم ہونے کا خود ہی ڈھنڈورا پیٹتے رہیں ۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ جو پٹتے ہیں وہ قائدین کی صفوں میں شامل نہیں ہو سکتے ۔ کیونکہ قائد وہ ہوتا ہے جو پٹوا سکے نہ کہ خود پٹتا پھرے ۔ تاریخ شاہد ہے صرف ہماری کہ جن کے سر پھٹے وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے"روز ہوتا ہے ایک نیا تماشا میری نظروں کے سامنے " دیکھتے رہے ۔
مصر تیونس میں سر تو ضرور پھٹے جانیں بھی گنوائی گئیں مگر آنکھیں پوری کھل چکی ہیں ۔ اب لیبیا اور اس کے بعد شام میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے حکمران "روز ہوتا ہے ایک نیا تماشا میری نظروں کے سامنے " دیکھ رہے ہیں ۔ امیدیں تو کچھ مہربانوں کو یہاں بھی ہیں ۔ عوام نے کئی بار نئی امید سے کبھی ایک کبھی دوسرے کو کندھوں پر بھٹا کر سر کا تاج بنایا ۔ مگر وہ تاج ور نہ بن سکے ۔ محتاج ہی رہے امداد کے ، سہارے کے ۔
جو حکمران خود محتاج ہوں ۔عوام سے ووٹوں کی بھیک مانگ کر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے کے اہل ہوئے ہوں ۔ ایسے اخلاقی طور پر مرے ہوئے دوبارہ مرنے کی اہلیت نہیں رکھتے ۔
جن کے پاس انقلاب کے ارادے ہیں ۔ ان کے پاس عوام نہیں ۔ جن کے پاس عوام ہیں انہیں سوچنے کی فرصت نہیں ۔سالہا سال وہ جلا وطنی کے دور میں تنہا سوچ سوچ کر اب کسی نئی سوچ کے متحمل نہیں ہو سکتے ۔
گھر کی مرغی دال برابر کی مثال تو سن رکھی ہے ۔ مگر ملک میں لیڈر بھی مرغ برابر ہی رہتا ہے ۔ جو وقت بے وقت ہڑتال ، ریلی کی بانگ دیتا رہتا ہے ۔
قوم کی ہمدردی کی عرق ریزی وہ کامیابی سے کرتے ہیں جو جلا وطن ہوں چاہے خود ساختہ ہی کیوں نہ ہوں ۔ اس بات پر یقین کرنے کے علاوہ کیا چارہ ہے ۔ اگر نہیں تو خود ہی دیکھ لیں تین بڑی حکمران پارٹیاں تینوں کے رہنما جلا وطن ہیں یا رہ چکے ہیں ۔
لیڈرجلا وطن ہوتے ہیں توحکمران بنتے ہیں ۔
عوام وطن کو جلا بخشتے ہیں ۔تو جلادوں کے ہاتھوں پٹتے ہیں ۔جیسے پروانے شمع سے جلتے ہیں ۔
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا

 
بزم خیال's Avatar
بزم خیال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 489
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
saraah (27-03-11), فیصل ناصر (26-03-11), مرزا عامر (19-05-11), عبدالرحمن سید (26-03-11)
پرانا 26-03-11, 01:59 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,850
کمائي: 277,992
شکریہ: 1,151
6,263 مراسلہ میں 14,131 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلامُ علیکم

عُمدہ تحریرہے محترم بھائی

سرورق کیلئے اپلائی کریں۔ شُکریہ
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
بزم خیال (27-03-11), عبدالرحمن سید (26-03-11)
پرانا 26-03-11, 03:29 PM   #3
Senior Member
 
عبدالرحمن سید's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مقام: Jeddah, Saudi Arabia
عمر: 61
مراسلات: 361
کمائي: 8,575
شکریہ: 432
242 مراسلہ میں 741 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالرحمن سید کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالرحمن سید کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بہت خوب تحریر ہے، جواب نہیں آپ کا محمود بھائی،!!!!
عبدالرحمن سید آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالرحمن سید کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (27-03-11)
پرانا 26-03-11, 09:12 PM   #4
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھے محمود بھائی
خوب حقائق بیان کئے ہیں
لیڈرجلا وطن ہوتے ہیں توحکمران بنتے ہیں ۔
عوام وطن کو جلا بخشتے ہیں ۔تو جلادوں کے ہاتھوں پٹتے ہیں
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (27-03-11)
پرانا 27-03-11, 02:39 AM   #5
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : زارا مراسلہ دیکھیں
السلامُ علیکم

عُمدہ تحریرہے محترم بھائی

سرورق کیلئے اپلائی کریں۔ شُکریہ
و علیکم السلام

بہت شکریہ زارا بہن آپ کا ۔ سرورق کے لئے پیش کئے دیتے ہیں ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-03-11, 02:43 AM   #6
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عبدالرحمن سید مراسلہ دیکھیں
بہت خوب تحریر ہے، جواب نہیں آپ کا محمود بھائی،!!!!
السلام و علیکم
بہت شکریہ سید بھائی آپ بھائیوں کی ہلہ شیری سے بات اب تک بنی ہوئی ہے ۔ حاضری کی خوش نصیبی جو آپ کو حاصل ہے اس کا تو جواب نہیں ۔ جب دعا کے لئے ہاتھ اُٹھائیں اس غریب بھائی کو بھی یاد رکھئے گا ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-03-11, 03:07 AM   #7
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
بہت اچھے محمود بھائی
خوب حقائق بیان کئے ہیں
لیڈرجلا وطن ہوتے ہیں توحکمران بنتے ہیں ۔
عوام وطن کو جلا بخشتے ہیں ۔تو جلادوں کے ہاتھوں پٹتے ہیں
شکریہ !
فیصل بھائی حقائق تلخ بھی ہوتے ہیں ۔ جس سے تلخی بھی پیدا ہو جاتی ہے ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-03-11, 12:26 PM   #8
Senior Member
 
saraah's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: pakistan
مراسلات: 431
کمائي: 5,442
شکریہ: 630
273 مراسلہ میں 547 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
میری تحاریر پر بعض اوقات یہ اعتراض سامنے آتاہے کہ مشکل مفہوم کے ساتھ پیچیدہ طرز تحریر اختیار کرتا ہوں ۔ جسے پڑھنے پر بعض اوقات ایسے جوابات سے بھی نوازا جاتا ہے " پیچ در پیچ اتنی پیچیدہ تحریر واللہ بندہ سمجھنے کے چکر میں پیچاں پیچ ہوجائے "
کچھ میرے جیسوں کے نزدیک یہ خوبی ہوا کرتی ہے سو آپ اپنا کام جاری رکھیں خدا کرے زور قلم اور زیادہ
saraah آف لائن ہے   Reply With Quote
saraah کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (04-04-11)
پرانا 28-03-11, 04:53 PM   #9
ناظم اعلی


 
محمدعدنان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
کمائي: 5,560,014,174
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدعدنان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ماشاءاللہ محمود بھائی بہت زبردست تحریر ہے
محمدعدنان آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدعدنان کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (04-04-11)
پرانا 29-03-11, 06:46 PM   #10
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,387
شکریہ: 52,449
11,148 مراسلہ میں 35,183 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
جن کے پاس انقلاب کے ارادے ہیں ۔ ان کے پاس عوام نہیں
معلوم نہیں ایسا کیوں ہے۔ مشہور معروف قصے میں تھا کہ عوام نے بادشاہ سے استدعا کی تھی کہ پُل پر جُوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھا دو ۔۔۔کیونکہ وقت کا زیاں ہوتا ہے۔ لیکن ہماری قوم تو اُس سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔ ہمارے قوم اپنے معبودوں کی طرف سے جُوتے مارے جانے اور تذلیل کئیے جانے پر دیوانہ وار جھوم اُٹھتی ہے۔ فرحاں و شاداں ہو جاتی ہے۔

مجھے شک ہے کہ گھُن کے ساتھ گہیوں کے پسنے کا وقت قریب پہنچتا جا رہا ہے۔ کوئی کسی طور گھُن کو کیسے سمجھائے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
saraah (31-03-11), بزم خیال (04-04-11)
پرانا 19-05-11, 01:45 PM   #11
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : saraah مراسلہ دیکھیں
کچھ میرے جیسوں کے نزدیک یہ خوبی ہوا کرتی ہے سو آپ اپنا کام جاری رکھیں خدا کرے زور قلم اور زیادہ
شکریہ
کچھ آپ جیسوں کی وجہ سے ہی ابھی تک قلم کا زور چل رہا ہے خوش رہیں ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
بزم خیال کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (19-05-11)
پرانا 19-05-11, 01:52 PM   #12
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
معلوم نہیں ایسا کیوں ہے۔ مشہور معروف قصے میں تھا کہ عوام نے بادشاہ سے استدعا کی تھی کہ پُل پر جُوتے مارنے والوں کی تعداد بڑھا دو ۔۔۔کیونکہ وقت کا زیاں ہوتا ہے۔ لیکن ہماری قوم تو اُس سے بھی دو ہاتھ آگے ہے۔ ہمارے قوم اپنے معبودوں کی طرف سے جُوتے مارے جانے اور تذلیل کئیے جانے پر دیوانہ وار جھوم اُٹھتی ہے۔ فرحاں و شاداں ہو جاتی ہے۔

مجھے شک ہے کہ گھُن کے ساتھ گہیوں کے پسنے کا وقت قریب پہنچتا جا رہا ہے۔ کوئی کسی طور گھُن کو کیسے سمجھائے۔
آپ کے تبصرے زبردست ہوتے ہیں ۔ باتوں سے خوب ردھم بنتا ہے ۔
شک کی بجائے آپ یقین کر لیں کہ گھن کو تو پہلے سے سمجھ ہےاب گہیوں خوشی خوشی پسنے پر رضا مند ہے تو ایسی صورت میں قاضی کیا کرے ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (19-05-11), حیدر (19-05-11)
پرانا 19-05-11, 03:36 PM   #13
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,387
شکریہ: 52,449
11,148 مراسلہ میں 35,183 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمودالحق مراسلہ دیکھیں
شکریہ
کچھ آپ جیسوں کی وجہ سے ہی ابھی تک قلم کا زور چل رہا ہے خوش رہیں ۔
محمود بھائی ۔ بچ کر۔ آگے اُچھلو ہے
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
حیدر کا شکریہ ادا کیا گیا
بزم خیال (20-05-11)
پرانا 20-05-11, 08:36 PM   #14
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
محمود بھائی ۔ بچ کر۔ آگے اُچھلو ہے
ہاہاہاہاہاہا اچھل کود کے دن یاد آ گئے ۔ اب تو اُ چھلو کا دور ہے ۔
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 07-07-11, 09:02 PM   #15
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,872
کمائي: 560,375
شکریہ: 25,518
10,398 مراسلہ میں 38,457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

خوبصورت تحریر ہے مبارک باد قبول فرمائیں
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
بزم خیال (13-07-11), خالد حسین (15-07-11)
جواب

Tags
کمر, کالج, پاکستانی, پسند, وزیراعظم, مفت, موت, ممکن, معلوم, آج, امتحان, اسلام, تاج, جیل, دل, ذوالفقار, ذوالفقار علی بھٹو, راستہ, زندگی, زمانہ, سیاست, ستارے, علی, صدارت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:51 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger