واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


پریشان کن اقتصادی صورت حال

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-02-11, 04:24 AM   #1
پریشان کن اقتصادی صورت حال
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 24-02-11, 04:24 AM

محمد احمد سبزواری
میں نے جان بوجھ کر ”تشویشناک“ کی اصطلاح سے گریز کیا ہے مگر صورت حال پریشان کن ضرور ہے اور اس کا آغاز جولائی ہی سے شروع ہوگیا تھا۔ جب موجودہ مالی سال کے بجٹ کو نافذ ہونا تھا۔ جیسا کہ سب کو علم ہے وزیر خزانہ نے 3259ارب کا مجموعی بجٹ پیش کیا۔ اخراجات 2574ارب خسارہ 685ارب، صوبوں کو منتقلی1073ارب ، ترقیاتی اخراجات 663ارب ، زراصل اور سود کی واپسی 658ارب اور فیڈرل بیورو آف ریونیو کے توسط سے وصول ہونے والی آمدنی کا تخمینہ 1667ارب تھا۔ اس صورت حال کو اس وقت عملی جامہ پہننا تھا جب مجوزہ سیلز ٹیکس یا مرممہ جنرل سیلز ٹیکس، حصص کے کاروبار سے ہونے والی آمدنی ، محدود زرعی ٹیکس نافذ ہوجاتے۔ پہلاروڑہ تو اس وقت اٹکا جب صوبوں، سیاسی جماعتوں، پیشہ ور افراد نے جنرل سیلز ٹیکس کی مخالفت کی اور طے ہوا کہ اکتوبر تک مرممہ جنرل سیلز ٹیکس اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ اکتوبر کیا فروری آگئی مگر اس کے نفاذ پر تصفیہ نہ ہوسکا۔ حصص ٹیکس کا مسودہ وزارت قانون اور وزارت مالیات کے درمیان گردش کرتا رہا۔ یکم جنوری کو حکومت نے پیٹرولیم کی مصنوعات پر اضافہ کیا، اس پر وہ شوروغوغا ہوا کہ چھ دن بعد یہ اضافہ واپس لینا پڑا اور فروری میں بھی اضافے سے گریز کیا گیا۔ حکومت نے غلہ منڈیوں کے کاروبار پر ٹیکس لگایا تو پندرہ روز تک منڈیاں بند رہیں۔ پتہ نہیں چلا کہ مصالحت کن شرائط پر ہوئی۔ وفاق نے متفقہ قرارداد کے مطابق پانچ وزارتوں کی پہلی قسط صوبوں کو منتقل کی تو صوبوں نے ان کے 4500 ملازمین کو لینے سے انکار کردیا اور مجبوراً وفاق کو انہیں سرپلس پول میں رکھنا پڑا۔
دوسری جانب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے قرضہ جن شرائط کے تحت لیا گیا تھا ان کی پابجائی ممکن نہ ہوسکی اور فنڈ نے آخری دو قسطیں روک لیں۔ ان کا وفد اس ماہ گفت و شنید کے لئے پاکستان آیا مگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے۔ ادھر عالمی بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ نے بھی سرخ جھنڈی دکھا دی کہ اگر فنڈ سے معاملات طے نہ ہوئے تو وہ بھی پاکستان کو قرضے دینے سے گریز کریں گے۔ مزید برآں امریکہ نے بھی پرانے معاہدے کی رقم روک لی ہے۔ حکومت پر کوئی ہن نہیں برستا جب اس کے ٹیکسوں کی آمدنی محدود ہوجائے ، بیرونی قرضوں کا راستہ رک جائے تو اس کو اپنے اخراجات پورا کرنے کے لئے تین ہی صورتیں نظر آتی ہیں کہ اسٹیٹ بینک سے قرضہ لیا جائے یا نوٹ چھاپے جائیں اور مختص کردہ رقوم میں تخفیف کی جائے چنانچہ نیٹ فارم ایسیٹ (NFA) جو پچھلے سال 65ارب روپے تھے اب 125 ارب تک پہنچ گئے ہیں اور نیٹ ایسیٹ (NDA) 371ارب کی مد کو چھورہے ہیں۔ ہر ہفتے دو کروڑ کے نئے نوٹ چھاپے جارہے ہیں۔ ان کی وجہ سے افراط زر کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے چنانچہ جنوری میں افراط زر کی شرح 14.19 فی صد رہی۔ بینک نے اپنی رپورٹ میں افراط زر کو حکومت کے لئے ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔ جس سے غربت اور مہنگائی بڑھ رہی ہے اور یہ کسی وقت حکومت کے لئے سنگین صورت حال پیدا کرسکتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی رپورٹ میں زرعی شعبے میں کپاس ، چاول، گنا اور مویشی کو نقصان پہنچنے کا تذکرہ کیا گیا ہے اور اس سے ہماری معیشت اور نمو کی شرح خاص طور پر متاثر ہوئی اس نے سال رواں کے لئے 2 اور 3 فی صد شرح کا اندازہ لگایا ہے۔ موجودہ تاریک ماحول میں امید کی جو ایک کرن دکھائی دی ہے وہ برآمدات میں اضافہ ہے۔ ہمارے پاس پچھلے سالوں کے گندم کے وافر ذخائر تھے۔ ان میں سے 20 لاکھ ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کی برآمد شروع ہوچکی ہے، گو چاول کی فصل کو نقصان پہنچا ہے پھر بھی سات ماہ میں ایک ارب ڈالر کا چاول برآمد کیا جاچکا ہے۔ 25ہزار ٹن آلو روس اور دوسرے ممالک کو جاچکا ہے۔2لاکھ 25ہزار ٹن کینو باہر جاچکا ہے۔ پہلی مرتبہ ڈنمارک 800 ٹن کھجور مالیتی 6لاکھ 50ہزار ڈالر ہر سال خرید لے گا۔ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان پیاز نے تو سیاسی شکل اختیار کرلی تھی، جب پیاز کی برآمد روکی گئی تو ہندوستان نے بدلے میں روئی کی برآمد روک دی۔ جاپان نے پاکستانی آموں کی درآمد سے پابندی اٹھالی ہے۔ سات ماہ میں پاکستانی برآمدات کا حجم 13.28ارب ڈالر رہا، خصوصاً جنوری میں برآمد 2.33ارب ڈالر رہی۔ اس امید پر حکومت نے برآمدات کا ہدف 20ارب ڈالر سے بڑھا کر 22ارب ڈالر کردیا جبکہ درآمدات 36ارب ڈالر کے قریب تک پہنچ سکتی ہیں۔ 26 جنوری تک ایف بی آر نے 747.21ارب روپے کے محاصل جمع کئے، گو ریونیو کا ہدف 1595ارب کردیا گیا ہے کیا بورڈ اگلے پانچ ماہ میں 848ارب روپے جمع کرسکے گا۔ وزارت خزانہ کو اندیشہ ہے کہ اس سال مالی خسارہ جی ڈی پی کا 8 یا 8.4 فی صد رہے گا۔ جو 1500 بلین کے قریب ہوگا۔ حکومت اس خلا کو کم کرنے کی کوشش کررہی ہے مثلاً وفاقی ترقیاتی اخراجات میں 125ارب اور صوبوں کو دی جانے والی رقم میں 110ارب کی کمی کردی۔ اوائل فروری تک وفاقی کابینہ 79ارکان پر مشتمل تھی ان میں 42 وزرائ، 18 وزرائے مملکت، 19 مشیر ، خصوصی معاون، وزرائے مملکت کے مساوی مراعات یافتہ شامل تھے۔ اس کو تحلیل کردیا گیا اور 11 فروری کو 21 وزراءاور ایک وزیر مملکت نے حلف اٹھایا۔ وزیر خارجہ کی اسامی خالی ہے۔ فی الحال یہ وزارت خاتون وزیر مملکت کے سپرد کی گئی ہے حالانکہ وزیر خزانہ کا تقرر بہت ضروری تھا کیونکہ ایک طویل تعطل کے بعد بھارت خارجہ وزیروں کی ملاقات پر تیار ہوا تھا۔ اب یہ ملاقات غالباً جولائی میں نہ ہوسکے گی۔
اسی دوران کا ایک اہم واقعہ ن لیگ کی طرف سے دس نکاتی ایجنڈے پر 45 دن میں عمل درآمد کا مسئلہ ہے جس کو حکومت ٰنے تسلیم کرلیا اور دونوں طرف کے نمائندے مذاکرات میں مصروف ہیں اب تک دس اجلاس ہوچکے ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ بات چیت کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے۔ فی الحال کابینہ کی تبدیلی سے مصارف میں کمی کے علاوہ اور کوئی ایسی پیشرفت نظر نہیں آئی جس سے اندازہ ہو کہ معیشت کی بہتری کی جانب کوئی قدم اٹھ گیا ہے۔
صدر مملکت نے ان تمام سیاسی رہنماﺅں کو جن کی نمائندگی قومی اسمبلی میں موجود ہے۔ گول میز کانفرنس طلب کی ہے، بظاہر اس کانفرنس کا مقصد پاکستان کی تمام سیاسی اکائیوں کو ایک نکتہ پر آمادہ گفتگو کرنا ہے کہ ملک جس معاشی دلدل میں پھنس گیا ہے اور روز بروز جو حالات ابتر صورت اختیار کرتے جار ہے ہیں ان پر کس طرح قابو پایا جائے۔ بینکوں کی ادائیگی کے متعلق جو ایک منفی رجحان عوام کے ذہنوں میں پرورش پاتا نظر آرہا ہے اس کا تدارک کس طرح کیا جائے، غیرضروری اخراجات کو کیسے کم کیا جائے۔ زر اعانتوں کا کس طرح خاتمہ کیا جائے۔ سرکاری ملازمین بالخصوص وزراء، مشیروں 20 سے 22تک عہدےداروں کی مراعات کو کس حد تک ختم کیا جائے (مثلاً یو کے میں نہ تو وزیروں کو سرکاری گھر ملتا ہے اور نہ سرکاری کار، سرکاری ڈرائیور، سرکاری قاصد، مفت بجلی ، پانی اور فون وغیرہ) وزیر خزانہ نے اس سلسلے میں یہ تجویز رکھی تھی کہ سرکاری ملازمین کو پچاس فی صدی اضافہ اس سال دیا گیا ہے اس کو آئندہ 6 ماہ میں نصف کردیا جائے۔ صدر اور وزیراعظم نے اس تجویز کو مسترد کرکے حکومت کو ایک نئی کشمکش کے خطرے سے بچالیا۔گزشتہ ہفتے اخباروں میں یہ خبر شائع ہوئی کہ ارکان قومی اسمبلی نے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا مطالبہ کیا ہے ان سب کو بڑی گاڑیاںدر کار ہیں۔ ان اصحاب کے نوٹس میں لایا جائے کہ صدر بارک اوباما اپنی بچیوں کو اسکول چھوڑنے خود جاتے ہیں اور امریکی خاتون اول اپنے کچن کے لئے سبزیاں وائٹ ہاﺅس میں اگاتی ہیں۔ یہ متوقع کانفرنس دباﺅ کو کم کرنے میں مدد دے گی جو دو بے گناہ پاکستانیوں کے امریکی قاتل کی رہائی کے لئے اعلیٰ ترین حلقوں سے ڈالا جارہا ہے۔ متفقہ فیصلوں پر پہنچنے کے لئے یہ کانفرنس دو تین روز بھی ہوسکتی ہے۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,463
شکریہ: 1,529
2,954 مراسلہ میں 8,195 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 83
Reply With Quote
جواب

Tags
فارم, کوشش, پاکستان, پاکستانی, ڈنمارک, وزیر, وزیراعظم, قدم, نظر, مہنگائی, مفت, موجودہ, منتقلی, ممکن, متوقع, امریکہ, اعلیٰ, حال, خبر, خصوصی, راستہ, سال, غربت, صوبوں, صدی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
مچھلیوں کی خوبصورت تصاویر عارف اقبال دلچسپ اور عجیب 8 17-06-11 01:10 AM
بارش کی چند خوبصورت تصاویر ابو عمار گپ شپ 14 16-06-11 01:51 AM
خوبصورت تصاویر lordforkland گپ شپ 5 15-06-11 05:53 AM
ضلع صوابی کے کچھ تصاویر عدنان دانی میرا پاکستان 24 12-02-11 03:40 PM
کچھ اور خوبصورت تصاویر J.S دلچسپ اور عجیب 9 16-11-08 06:24 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:55 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger