|
پل صراط کا سفر,,,,…عرفان صدیقی

07-09-08, 07:47 AM
آصف علی زرداری تکمیل آرزو کی آخری سیڑھی پہ قدم رکھتے ہوئے ایوان صدر میں داخل ہورہے ہیں۔ بلاشبہ یہ جمہوری عمل کی کارفرمانی کا کرشمہ ہے۔ کسی کو اچھا لگے یا برا، جمہوریت بندوں کو تولنے کے بجائے گننے پر یقین رکھتی ہے۔ اگر صدر کے انتخابی کالج نے واضح اکثریت کے ساتھ یہ فیصلہ صادر کردیا ہے کہ آصف زرداری ہی منصب صدارت کے شایان شان ہیں تو اس فیصلے کو خوش دلی سے قبول کرلینا چاہئے۔ جمہوریت کی روح یہی ہے ہر شخص اپنی رائے رکھ سکتا، اس کا اظہار کرسکتا اور اس کے مطابق اپنے ووٹ کا استعمال کرسکتا ہے لیکن فیصلہ وہی ہوگا جو اکثریت دے گی۔ جمہوری عمل اسی فراخ قلبی کے ساتھ پروان چڑھتا اور اسی تحمل و برداشت کے ساتھ برگ و بار لاتا ہے۔ آصف زرداری ایک سیاسی شخصیت کے طور پر سیاسی عمل کے ذریعے صدر منتخب ہوئے ہیں۔ یہ امر جمہوریت پر یقین رکھنے اور آمریت سے نفرت کرنے والے ہر شخص کے لئے آسودگی کا باعث ہوگا کہ آج ایوان صدر ایک وردی پوش صدر کے غاصبانہ تسلط سے واگزار ہوچکا ہے اور اب شاہراہ دستور کے کنارے کھڑی پرشکوہ عمارت میں ایک دستوری صدر داخل ہورہا ہے۔
پاکستان میں صدارتی منصب کی کہانی بالعموم فوجی آمروں کے جابرانہ قبضے کی کہانی ہے۔ عہدہ صدارت کی تخلیق 1956ء کے آئین کے تحت ہوئی۔ میجر جنرل سکندر مرزا، گورنر جنرل کا عہدہ چھوڑ کر 23/مارچ 1956ء کو پاکستان کے پہلے صدر بن گئے۔ 18/فروری 2008ء تک عہدہ صدارت کی عمر تقریباً 52برس ہوچکی ہے۔ ان باون سالوں کے دوران جرنیلی صدور نے 32برس سے زائد حکمرانی کی جبکہ جرنیلی کلغی سے عاری سویلین صدور کا مجموعی عرصہ صدارت بیس برس سے بھی کم ہے۔
1973ء کا آئین 14/اگست کو نافذ ہوا۔ اس آئین کی رو سے صرف چار سویلین صدر آئینی تقاضوں کے مطابق منتخب ہوئے۔ فضل الٰہی چوہدری، غلام اسحٰق خان، فاروق احمد خان لغاری اور محمد رفیق تارڑ۔ ان چاروں کا مجموعی عرصہ صدارت 17سال، 7ماہ، 12دن بنتا ہے۔ ان میں سے بھی تقریباً تین برس ایسے ہیں جب منتخب صدور پر وردی پوش مارشل لا ایڈمنسٹریٹر سایہ فگن تھے۔ 1973ء کے بعد جلوہ گر ہونے والے دو فوجی آمروں کا مجموعی عرصہ اقتدار بیس برس کے لگ بھگ بنتا ہے جس میں سے 17برس وہ صدارت کے منصب پر بھی براجمان رہے سقوط ڈھاکہ کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے 20/دسمبر 1971ء کو باقی ماندہ پاکستان کے صدر کا عہدہ سنبھالا اور ایک سال سات ماہ 24دن اس عہدے پر فائز رہنے کے بعد، نئے آئین کے نفاذ پر، 14/اگست کو وزیر اعظم بن گئے۔
اس تصویر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارا ایوان صدر گزشتہ باون سالوں کے دوران کس طرح رومن اکھاڑہ بنا رہا۔ منصب صدارت پر قبضہ جمانے والے تمام جرنیلوں نے آئین کو پامال کیا، جمہوری اداروں کو قتل کیا، فوجی قوت کے زور پر دیواریں پھلانگ کر ایوان ہائے اقتدار پر قبضہ جمایا، دھونس کے ذریعے عدالتوں سے اپنے غیرآئینی اقدام کی توثیق کروائی اور لمبے عرصے تک ناقوس حکمرانی بجاتے رہے۔ یہ آمروں کا پسندیدہ عہدہ رہا ہے کیوں کہ اس میں شخصی آمریت کی وسیع گنجائش ہوتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ پہلے فوجی آمر نے 1956ء کے آئین کو روبہ عمل آنے سے پہلے ہی قتل کردیا اور اپنے آمرانہ ذوق کی تسکین کے لئے صدارتی دستور رائج کردیا۔ بعد میں آنے والے سارے فوجی حکمرانوں نے صدارت ہی کو اپنی کلغی بنایا۔ ضیاء الحق نے محدود عرصے تک چوہدری فضل الٰہی کو برقرار رکھا لیکن کام نکلتے ہی چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے ساتھ ساتھ صدر کا عہدہ بھی سنبھال لیا۔ پرویز مشرف نے بھی مختصر مدت کیلئے چیف ایگزیکٹو کے پھیکے سے خطاب پر گزارا کیا اور پھر سارے وعدے وعید توڑ تاڑ کر محض اس بہانے منصب صدارت پر قابض ہوگئے کہ انہیں بھارت کے سرکاری دورے پر جانا تھا اور وہ آگرہ میں سربراہ مملکت کا استقبال چاہتے تھے۔
جمہوری پارلیمانی آئین میں صدارتی نظام کا پیوند لگانے کی پہلی کامیاب کوشش 1985ء میں ہوئی۔ جب غیرجماعتی انتخابات کے نتیجے میں بننے والی غیرجماعتی اسمبلی نے صدر ضیاء الحق کے دباؤ تلے آٹھویں آئینی ترمیم کی منظوری دے دی۔ اس ترمیم کے ذریعے پارلیمانی نظام کی رگ جاں صدر کی مٹھی میں آگئی۔ صدر نے یہ عجوبہ روزگار اختیار حاصل کرلیا کہ وہ جب چاہے اسمبلی توڑ کر وزیر اعظم کو گھر کا راستہ دکھا دے۔ اس نے مسلح افواج کے سربراہوں اور گورنروں کی تقرری کا اختیار بھی حاصل کرلیا۔ یوں ایوان صدر میں براجمان شخص جمہوری نظام کے سر پر لٹکتی تلوار کی شکل اختیار کرگیا۔ یہ عہدہ اسٹیبلشمنٹ کے ان جادو گروں کا مورچہ بھی بن گیا جو عوام، پارلیمینٹ اور وزیر اعظم سے کھیلتے رہنے کا شغل اپنائے ہوئے تھے۔ ستم یہ ہوا کہ سویلین صدور نے بھی جنرل محمد ضیاء الحق کو ”رول ماڈل“ بنالیا اور انہوں نے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو محمد خان جونیجو بنانا چاہا۔ آٹھویں ترمیم نے چار بار اسمبلیوں اور وزرائے اعظم کے سر قلم کئے۔ منتخب جمہوری قیادت پر اپنا تحکم قائم کرنے کیلئے ایوان صدر کو سازشوں کی آماجگاہ بنالیا گیا۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے باہمی سیاسی رقابتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے 1997ء میں تیرہویں آئینی ترمیم کے ذریعے آٹھویں ترمیم کا ناسور آئین سے خارج کردیا۔ آئین کا جمہوری پارلیمانی تشخص بحال ہوتے ہی اسٹیبلشمنٹ انگاروں پر لوٹنے لگی چنانچہ چوتھے فوجی آمر نے سترہویں ترمیم کے ذریعے ایک بار پھر آٹھویں ترمیم کو، تیز تر ناخنوں کے ساتھ، داخل آئین کردیا۔
آصف زرداری آمرانہ عہد کے انہی صدارتی اختیارات کے ساتھ ایوان صدر کی جادو نگری میں داخل ہورہے ہیں۔ وہ حکمران جماعت کے سربراہ بھی ہیں اور پیپلزپارٹی کی ڈور ان کی مرضی و منشا سے بندھی ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم بھی ان کے انگوٹھے تلے ہے۔ فاروق نائیک فارمولے کو بروئے کار لانے کے بعد ان کی آرزوؤں کو سیراب کرنے والی عدلیہ بھی وجود میں آگئی ہے۔ یہ اختیار کلی کا وہ نقشہ ہے جو شاید ہی کسی بے وردی صدر کے خواب و خیال میں آیا ہو۔ لیکن یہی سب سے بڑی آزمائش بھی ہے۔ وہ بندوق بردار کمانڈو کے طور پر ایوان صدر میں نہیں جارہے۔ ان کا جمہوری تشخص ان کا امتیاز ہے اور اس حوالے سے انہیں خوش آمدید کہا جائے گا لیکن ان کے عہد صدارت کے ایک ایک لمحے کی جانچ پرکھ ان کے کردار و عمل کی بنیاد پر ہوگی۔ جس طرح سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اسی طرح صحافت بھی ایک حد تک ہی مروت و لحاظ کرتی ہے۔ پیپلزپارٹی کی جدوجہد، آصف زرداری کی طویل قید اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت نے تاریخ کے ایک موڑ پر یکجا ہوکر آصف زرداری کو منصب صدارت پر بٹھا دیا ہے لیکن آگے کا سفر انہوں نے خود طے کرنا ہے اور وہ جان لیں کہ یہ پل صراط کا سفر ہے جو تلوار سے تیز اور بال سے باریک ہوتی ہے۔ اب صدر آصف زرداری کو اپنا نامہ اعمال خود رقم کرنا ہے اور انہیں یاد رکھنا ہوگا کہ پاکستان، آئین اور جمہوریت کا وقار و استحکام ہی نہیں، بھٹو خاندان کی ساری سیاسی میراث اور پیپلزپارٹی کا مستقبل بھی، ان کے نامہ اعمال سے جڑا ہے۔
|
تفسیر حیدر
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Gujrat
مراسلات: 1,716
شکریہ: 1,293
980 مراسلہ میں 1,851 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|