واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


پہچان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-08-11, 12:04 AM   #1
پہچان
اداس ساحل اداس ساحل آف لائن ہے 17-08-11, 12:04 AM

پہچان

کسی چیز کو سمجھنے کے لیے اس کی پہچان بہت ضروری ہے۔ یہ ایک بہت عام سی بات ہے جو کہ ہر ایک کو معلوم ہے۔ مثال کے طور پر جانور کی کیا پہچان ہے؟ جانور کی پہچان سے انسان بخوبی واقف ہیں۔ جانور صرف ایک محدود حد تک عقل استعمال کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ ان کی سوچ، فکر اور توجہ صرف چند ضروریات زندگی تک محدود ہوتی ہیں۔ جانوروں کی حساسیت محض کچھ خاص اشیاء کے لیے وقف ہوتی ہے۔ ان میں اچھے اور برے کی بہت کم تمیز ہوتی ہے۔ اگر کوئی غذا ان کے شایان شان ہوتی ہے تو وہ ذیادہ سے ذیادہ اس کے لیے باگ دوڑ کرتے ہیں۔ اپنی غذا کے لیے وہ چیرپھاڑ بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ ان کی یہ وحشت صرف غزا یا کچھ مخصوص ضروریات زندگی کے لیے ہوتی ہے۔
اس سے پہلے میں اور تمہید باندھوں، انسانوں کی بات کرتے ہیں۔ انسان جس کا ذکر قرآن مجید میں کئی مرتبہ آیا ہے اور اس اشرف المخلوقات کو فرشتوں اور جنوں نے بھی سجدہ کیا ہے۔ حضرت انسان عاقل بھی ہے، عارف و عابد بھی ہے لیکن کیا عاجز بھی ہے؟ انسان جس کی روز اوّل سے ابلیس سے جنگ چلی آ رہی ہے کیا وہ نغوذ باللہ من ذالک کہیں ابلیس کی فتح میں تو بدل نہیں گئی ہے؟ انسان جو اس سیارے کا ایک اہم رکن ہے، اس نے اپنی ایجادات، دریافت اور کاوشوں سے اس سیارے کر کرّے سے نکل کر اور جہاں میں بھی اپنے نقش گاڑ دئیے ہیں۔ انسان نے فاصلوں کو مٹا کر ایک دوسرے سے اسقدر قریب کر دیا ہے کہ سات سمندر پار کیا ہوتا ہے، پل بھر میں آپ کی انگلیاں ان معلومات کو حاصل کرنے کے لیے کبھی فون پر تو کبھی کمپیوٹر پر ناچ رہی ہوتی ہیں۔ انسان خدا کا بنایا ہوا ایک ایسا شاہکار ہے، جو جہاں بھی نظر اٹھائیں ملتا ہے۔ انسانوں کی کئی تقسیم ہیں۔ کہیں رنگ کے حساب سے ہے تو کہیں سرحد کے حساب سے۔ کہیں زبان کے لحاظ سے ہے تو کہیں ذات کے لحاظ سے ہے۔ ان سب کے لیے ان گروہوں کی پہچان بنا دی گئی۔ ہر ایک کے حصے میں پہچان اس گروہ کے کردار کو ملحوظ خاطر رکھ کر کی گئی۔ کچھ گروہ فاتح کہلائے، کچھ گروہ حاکم ہوئے، تو کچھ محکوم۔ کچھ غلام تو کچھ آقا۔ ان ہی گروہوں میں سے انسانوں کی ایک اور پہچان رکھی گئی جو خدوخال سے انسان ہی معلوم ہوتے ہیں لیکن ان کے جسم اور جاں صرف اور صرف چلتی ہوئی موت ہیں جو دوسری پہچان والے انسانوں کو پلک جھپکتے ہی موت کا نوالہ بنا دیتے ہیں۔ ان کی پہچان کیا ہے؟؟؟ یہ شہر کی گلیوں میں چلتے پھرتے انسانوں کو پل بھر میں دھماکوں سے بغیر کسی مقصد کے مار دیتے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ جانور بھی غذا کے مقصد کے لیے وحشت دکھاتا ہے تو پھر یہ انسان کس مقصد کے تحت اپنی پہچان کراتے ہیں۔
__________________
نہیں ہوں پر میں قائل شدت پسندی کا
میں ترے عشق کی آخری حد چاہتا ہوں


اداس ساحل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 203
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے اداس ساحل کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (23-08-11), عبداللہ آدم (24-08-11)
پرانا 23-08-11, 08:47 PM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Apr 2010
مراسلات: 572
کمائي: 12,515
شکریہ: 11
399 مراسلہ میں 934 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

گزشتہ کچھ روز سے کراچی کے واقعات، مسجد میں خودکش حملہ اور دیگر دہشت گردی کے واقعات۔ ان سب سے دہل رہا ہے۔ یقین نہیں ہوتا ہے کہ انسانیت کی وہ کون سی حد ہے جو یہاں ختم نہیں ہوئی ہوئی ہے۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ افغانستان کے شہری جن کا بہت کم احساس ہوتا ہے، وہ بھی طالبان کے ہاتھوں کٹ رہے ہیں۔ کوئی تھانہ ایسا نہیں ، چاہے پاکستان ہو یا افغانستان جہاں پر خطرہ نہ ہو۔ پولیس کیا کرے، سیکورٹی اہلکار کیا کریں، کتنے محاظ ہیں جہاں پر ان کو لڑنا ہے۔ ہر دم ایک کی خطرہ ہے کہ کہیں کوئی طالبان ان کے گلے نہ پڑ جائے۔
اداس ساحل آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہے۔, کمپیوٹر, گئی, پہلے, پہچان, قرآن, نظر, موت, مقصد, مجید, معلوم, انسان, توجہ, خدا, دریافت, زندگی, سیارے, شہر, طور, عقل, عابد, عارف, غلام, غذا, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 06:58 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger