واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-06-10, 11:17 AM   #1
پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ
بزم خیال بزم خیال آف لائن ہے 05-06-10, 11:17 AM

درختوں کا زیادہ سے زیادہ لگانا انسانی زندگی کے لئے مفید سمجھا جاتا ہے ۔کیونکہ آکسیجن پیدا کرنے کا سب سے بڑا قدرتی ذریعہ درخت ہی ہیں ۔زندہ رہنے کے لئے صاف آب و ہوا کا ہونا ضروری ہے ۔ سائنس بہت پہلے ہی بتا چکی ہے ۔مگر اب حکومت پنجاب کی طرف سے محکمہ جنگلات نے بھی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔
ہمارےملک میں تعلیم مکمل کرنے کے بعد نو جوان نسل کے لئے اہم مسئلہ زندہ رہنے کے لئے برسرروزگار ہونا ہے ۔آفت زدہ انتظام حکومت سے لے کر آلودہ آب وہوا تک انسان معاشی و معاشرتی ناہمواریوں کا شکار رہتا ہے ۔آفت زدگی ٹھیک کرنے کی طرف ابھی تک توجہ نہیں ہے ۔ البتہ آلودگی کے خاتمہ کے لئے ایک اچھا پروگرام تشکیل دیا گیا ہے ۔پنجاب کے بے روزگارزرعی، ویٹرنری اور فارسٹری گریجوایٹس کو پچیس ایکڑ اراضی جنگلات لگانے کے لئےآلاٹ کی جائے گی ۔ تاکہ وہ وہاں پودوں کی شجرکاری کریں ۔ تناور درخت بننے تک آلودگی سے پاک آب و ہوا میں زندہ رہیں ۔پھر انہیں کاٹ کر بھوک مٹانے کے لئے ایندھن کے طور پر استعمال میں لا سکیں ۔صرف ایندھن سے بھوک تو نہیں مٹائی جا سکتی تو ظاہر ہے ان میں سے بیشتر فروخت کئے جائیں گے۔ تاکہ سبزی ترکاری کا بھی انتظام کیا جا سکے ۔ آئیڈیا تو برا نہیں ہے ۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہے کے فارمولہ کو ذہن میں رکھ کر پروگرام تشکیل دیا گیا ہے ۔
اب اگر کسی کو ہماری مدد کی ضرورت ہو تو بلا معاوضہ حاضر ہیں ۔ کیونکہ اٹھارہ سال پہلے بے روزگاری کے خاتمے کے لئے بھی کچھ ایسا ہی پروگرام اپنی مدد آپ کے تحت شروع کیا تھا ۔ بیس ہزار کے قریب سفیدہ ، پاپولر اور سمبل لگانے کا شرف حاصل ہوا مگر چند سو سے زیادہ تنا ور درخت نہ بن پائے ۔ دس سال پال پوس کر جوان کیا ۔ بیچنے پر جو رقم ہاتھ لگی اتنی نا کافی تھی کہ بےروزگاری تو ختم نہیں ہوئی البتہ ہاتھ کھلا ہو گیا ۔
جیسا کہ اس سے پہلے بھی سرکاری سطح پربے روزگاری ختم کرنے کے لئے پیلی ٹیکسی کے پروگرام کو حتمی شکل دی گئی تھی ۔ ملک کا کروڑوں کا زر مبادلہ خرچ کرنے کے بعد بھی وہ ٹیکسی کہیں دیکھائی نہیں دیتی ہیں ۔ میری طرح بہت سے لوگ ایسے بےروزگاروں کو جانتے ہوں گے ۔ جنہوں نے مرسڈیز ٹیکسیاں گھروں میں چولہا جلانے کے لئے ایندھن بھر کر سڑکوں پر دن رات چلائی ہوں گی ۔ اور آج بھی وہ ٹیکسیاں پیلے رنگ میں ہی ایک جگہ سے دوسری جگہ مسافروں کو لا نے لےجانے میں بھاگ رہیں ہوں گی ۔مگر ایسا دیکھنے میں نہیں آتا ۔ صرف ایل پی ٹی کی نمبر پلیٹ چغلی کرتی ہے کہ بے روزگاری کا مسئلہ حل ہو چکا ہے ۔انہیں مزید محنت کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔
بے روزگاری ختم کرنے کا پروگرام آغاز کرنے کے بعد حکومت اپنے فرض منصبی سے فارغ ہو چکی ۔حکومتی کارکردگی سے صرف کبوتر کی طرح آنکھ بند کر کے مسائل کی بلی سے اوجھل رکھنے کی ہر دور میں کوشش کی جاتی ہے ۔مسائل کی بلی سبز باغ دیکھ دیکھ کر موٹا ہونے والے عوامی اُمنگوں کے کبوتر ہڑپ کر کے موٹی ہو چکی ہے ۔جسے تھیلے میں ڈال کر بار بار باہر پھینکا جاتا ہے۔ مگر ہر بار وہ لوٹ کر واپس آ جاتی ہے ۔جسے دیکھتے ہی اُمنگ و آرزو کے کبوتر آنکھیں موندھ لیتے تھے ۔ اب اس کی ضرورت باقی نہیں رہی ۔کیونکہ اُمنگیں آ بیل مجھے مار کی بجائے آ بلی مجھے کھا کے فارمولہ پر عمل پیرا ہو چکی ہیں ۔
سیاسی داؤ پیچ اس انداز میں استعمال کئے جاتے ہیں کہ مسائل کی جڑیں تو وہیں رہتی ہیں ۔ مگر توجہ اصل موضوع سے ہٹا دی جاتی ہے ۔ جیسے بجلی کی آنکھ مچولی کو پانی کی بندش اور دریاؤں میں پانی کے کم بہاؤ کا نتیجہ قرار دے دیا جاتا ہے ۔مگر چالیس سال سے کالا باغ ڈیم سرد خانے میں پڑا ہے ۔ جو صرف بحث کی فائلوں سے مکمل کیا گیا ہے ۔ وہ کیا وجوہات ہیں کہ چند ہزار افراد کے حق کی آواز بلند کر کےاٹھارہ کروڑ عوام پر لوڈ شیڈنگ اور بھاری بلوں کی بجلی گرا دی جاتی ہے ۔ لیکن ابھی تک کسی بھی خفیہ ہاتھ یا بیرونی مداخلت کا ا لزام کسی کے سر نہیں لگایا گیا ۔
انتظام مملکت چلانے کے لئے سیاسی شکاریوں پر تکیہ کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ اٹھارہ کروڑ عوام کی بھلائی و بہتر مستقبل کے لئے کسی بھی طرح کا کوئی ایسا ادارہ جو تھنک ٹینک کے نام سے بھی جانا جاتا ہے ۔ سرے سے اس کا وجود ہی نہیں ہے ۔جو حکومتیں اپنے پانچ سال کی مقررہ مدت معیاد کو پورا کرنے کے لئے پر اُمید نہیں ہوتیں ۔ وہ کیا پچاس سالہ پروگرام تشکیل دے پائیں گی ۔یہاں تو پانچ نکاتی پروگرام ، پیپلز پروگرام اور تعمیر وطن جیسے ہی پروگرام فائلوں کی زینت بنتے ہیں ۔ جن کے نام سے ملک کی ترقی چاہے نہ نظر آئے مگر سڑک پر لگے کتبہ پر لکھے پروگرام سے سیاسی پارٹی کا نام معلوم ہو جاتا ہے ۔نالے کا پل ہو، محلے میں بچوں کے کھیلنے کاپارک ہو یا محلے کا ٹیوب ویل تعمیر کرنے پر ایم این اے کا نام کتبہ کی زینت بنتا ہے ۔
بچے جب ضد کریں یا انہیں منانا ہو تو ایک عدد لالی پاپ وہ کام کر جاتی ہے ۔ جو ماں باپ بہن بھائی لاکھ محبت سے نہ کر پائیں ۔ جب الیکشن کے دن قریب آتے ہیں تو دھڑا دھڑ سڑکوں پر پیچ ورک شروع ہو جاتا ہے ۔ جنگلے پینٹ قبرستانوں کی چار دیواری کی تعمیر ریت سے شروع ہو جاتی ہے ۔ جو کچھ عرصہ بعد پھر وہی ریت رہ جاتی ہے اور اینٹیں ، جنگلے غائب ۔
ہمیں صرف ایک ہی سبق بار بار دیا جاتا ہے کہ
پیوستہ رہ شجر سے اُمید بہار رکھ

در دستک / محمودالحق
__________________
شائد میرا سفر یہیں تک تھا

 
بزم خیال's Avatar
بزم خیال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 202
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
shafresha (05-06-10), احمد بلال (07-06-10), حیدر (05-06-10)
پرانا 05-06-10, 11:35 AM   #2
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,732
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

السلام علیکم محمودالحق بھائی!

آپ کی یہ تحریر بھی آپ کی دیگر تحاریر کی طرح‌قابل تحسین ہے ۔

آپ اپنی تحاریر فورم سے پہلے "پاک نیٹ‌میگ" کے لیئے پیش کیا کریں۔ ۔ ۔ ۔
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (05-06-10)
پرانا 05-06-10, 05:25 PM   #3
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,387
شکریہ: 52,449
11,148 مراسلہ میں 35,183 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حکومت کے ساتھ ساتھ ہم عوام بھی قابل ملامت مندرجہ بالا تمام سکیموں کی ناکامی کے لیے۔ حصہ بقدر جُثہ
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (07-06-10), احمد بلال (07-06-10), عبداللہ آدم (07-06-10)
جواب

Tags
com, فروخت, فرض, کوشش, پاک, لوگ, نظر, مکمل, ماں, محبت, مسائل, معلوم, آلودگی, آج, بھائی, بچوں, تعلیم, حل, رات, زندگی, سال, سائنس, عرصہ, غائب, صاف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ماہ رمضان سے پیوستہ ::: ماہ شوال اور ہم 1::: زکوۃ الفطر عادل سہیل ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 2 23-08-11 01:37 AM
ماہ رمضان سے پیوستہ ::: ماہ شوال اور ہم4 ::: شوال کے روزے عادل سہیل ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 5 08-10-08 01:20 AM
ماہ رمضان سے پیوستہ ::: ماہ شوال اور ہم ::: عید کی مبارک باد عادل سہیل ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 0 07-10-07 03:00 AM
ماہ رمضان سے پیوستہ ::: ماہ شوال اور ہم 2 ::: چاند رات عادل سہیل ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 0 07-10-07 02:59 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:02 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger