|
چالیس صلیبی لشکر تھے، افغانوں سے کیوں ہار گئے؟

26-10-11, 01:23 PM
ہمارے سوہنے رب نے فرمایا ہے:یقولون نحن جمیع منتصر، سیھزم الجمع و یولون الدبر“O ”وہ (کافر) کہتے ہیں کہ ہم غلبہ پانے والی جمعیت ہیں، (نہیں) جلد ہی یہ لاﺅ لشکر شکست کھا جائے گا اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے“۔ رب جلیل کا وعدہ سچاتھا اورسچا ہے۔ کفار کے بڑے بڑے لشکر بدر، احد، خندق، قادسیہ، یرموک، حطین، ملازکرد اور زلاقہ میں شکست کھا گئے تھے اور تھوڑی نفری والے صاحب ایمان فتح یاب رہے تھے۔ یہ تاریخ اکیسویں صدی میں پھر دہرائی جا رہی ہے۔ دنیا بھر کے 40 صلیبی لشکر لاکھوں کی تعداد میں ہونے کے باوجودچند ہزار ایمان کی حرارت والوں سے شکست کھا چکے ہیں اور اب سرزمین افغان سے نکل بھاگنے کی تگ و دو میں ہیں۔ دس برس پہلے تین بڑے صلیبی ممالک امریکہ، برطانیہ اور فرانس افغانستان پر حملہ آور ہوئے تھے اور طالبان ایک حکمت عملی کے تحت پسپا ہو کر پہاڑی وادیوں میں چلے گئے تھے۔ پھر ان صلیبیوں نے ”مفتوحہ“ افغانستان پر اپنا ناجائز قبضہ پکا کرنے کے لئے مزید 39 ممالک کی فوجیں یہاں بلا لیں جن میں جاپان اور ترکی کے سوا سب صلیبی ممالک تھے۔ ان میں جنوبی کوریا بھی تھا جو امریکی چھتری تلے اب ایک مسیحی اکثریت کا ملک بن چکا ہے جہاں عیسائی آبادی 49 فیصد ہے اور بدھمت 47 فیصد رہ گئے ہیں۔ کوریا والے کچھ عرصہ پہلے افغانستان سے بھاگ گئے۔ ترکی کا فوجی دستہ بھی سیکولر جرنیلوں نے نائن الیون کے بعد یہاں بھیجا تھا جبکہ رجب طیب اردگان کی جماعت ابھی برسر اقتدار نہیں آئی تھی۔ چھوٹے بڑے امریکی گرگے کچھ عرصہ پہلے تک کہتے تھے: ہمیں افغان جنگ جیتنی ہے.... نحن جمیع منتصر.... ہم سپر پاور اور ایساف کی جمعیت ہیں۔ لیکن حقیقی سپر پاور اللہ تعالیٰ ہے ،اس کے دشمنوں کا دعویٰ بوگس تھا، سچے رب کا فرمان پورا ہوا اور اب 40صلیبی لشکر افغانستان سے نکل بھاگنا چاہتے ہیں۔ وہ کبھی طالبان سے امن معاہدہ کے مذاکرات کی بھیک مانگتے ہیں اور کبھی حقانی گروپ کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہیں مگر دونوں نے ظالم صلیبیوں کی ابلیسی درخواست مسترد کر دی ہے۔
اب دیکھیے چالیس صلیبی لشکروں کی اس شکست فاش کو ایک مغربی صحافی کس نظر سے دیکھتا ہے۔ سکاٹ ٹینکل ”مڈل ایسٹ آن لائن“ میں ”افغانستان: جنگ کی دہائی جس کا اختتام نظر نہیں آتا“ کے زیر عنوان لکھتا ہے: ”اکتوبر 2001ءمیں امریکہ نے ”آپریشن اینڈیورنگ فریڈم)“ (دیرپا، آزادی کے لئے آپریشن) کا آغاز کیا تھا۔ صدر بش نے حملے کے شروع میں بتایا تھا کہ امریکی فوجی اقدام کا مقصد سینئر القاعدہ رہنماﺅں کو گرفتار یا ہلاک کرنا، تنظیم کا ڈھانچہ تباہ کرنا اورطالبان کو اقتدار سے ہٹانا ہے۔ اب دس سال بعد جائزہ لیں تو القاعدہ کو شکست دی جا چکی اور وہ امریکہ یا مغرب کی سرزمین پر حملوں کے قابل نہیں رہی اور اب اسے اپنی بقا کے تحفظ کا مسئلہ درپیش ہے۔ طالبان حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور ہزاروں القاعدہ جنگجو ہلاک کر دیئے۔ اگرچہ ان کا نظریہ بدستور کارفرما ہے اور نئی بھرتی جاری ہے۔ یہ نہ ختم ہونے والی فوجی کارروائیوں کا عشرہ تھا جس میں اوباما نے ڈرون طیاروں سے ٹارگٹ ہلاکتوں کو بیش از بیش ترجیح دی اور بن لادن کے کمپاﺅنڈ پرحملے سے معلومات کا خزانہ ہاتھ آیاہے جس سے القاعدہ کی صلاحیت اور عملیت شدید متاثر ہوئی ہے، مگر القاعدہ کے ذیلی گروہ بہت سے ہمدرد ملکوں اور ناکام ریاستوں میں موجود ہیں اور وہ مغربی مفادات کے لئے بدستور خطرہ بنے رہیں گے تاہم تنظیم کی سرمایہ کاری، حمل و نقل، انٹیلی جنس، عسکری تربیت اور آپریشنل صلاحیتیں بہت متاثر ہوئی ہیں “۔
ٹینکل مزید لکھتا ہے:”لیکن طالبان اپنے آپریشنز جس کامیابی کے ساتھ بروئے کار لارہے ہیں وہ کسی کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں تھے۔ انہوں نے جنگ میں اپنی مزاحمت و مقاومت کا باربارثبوت دیا ہے۔ حریم اقتدار سے نکالے جانے کے باوجود اپنی بغاوت روبہ عمل لانے کے لئے طالبان کی صلاحیت بدستور نمایاں ہے اور دیہی علاقوں میں ان کا اثر و رسوخ کم نہیں ہو رہا بلکہ بڑھ رہا ہے۔ اتحادی افواج کے لئے طالبان جو خطرہ بنے ہوئے ہیں اس کی ظاہر و باہر مثال نائن الیون کی برسی پر دس طالبان کا کابل کے امریکی سفارت خانے پر خوفناک خود کش حملہ ہے جس میں پانچ افغانی مارے گئے اور 77 امریکی فوجی زخمی ہوئے۔ مزید برآں اگست 2011ءامریکی فوجیوں کے لئے سب سے زیادہ تباہ کن رہا جب طالبان نے ایک چینوک ہیلی کاپٹر مار گرایا (جس میں 35 امریکی جہنم رسید ہوئے) طالبان کے خاصے جانی نقصانات کے باوجود ان کے حق میں دس سالہ جنگ نے جو کامیاب نتائج دیئے ہیں وہ مغربی اتحاد کے لئے ناممکن الحصول ثابت ہوئے ہیں“۔
آگے چل کر سکاٹ ٹینکل مغربی صلیبیوں کی ناکامیوں اور نامرادیوں کے اسباب کچھ یوں بیان کرتاہے: ”بہت بھاری فوجی قوت کے باوجود امریکی جرنیل ایک متعین سٹرٹیجی پر کاربند رہنے میں ناکام رہے جس سے میدان جنگ میں ان کی ”کامیابیاں“ دیرپا ثابت نہ ہوئیں۔ انہوں نے جس افغان آرمی اور سکیورٹی فورسز کو تربیت دی اس کے ذریعے عراق جیسے نتائج حاصل نہ ہو سکے کیونکہ کرزئی حکومت بدترین کرپشن میں مبتلا ہے اور سکیورٹی فورسز افغان شہریوں کو تحفظ دینے اور دیہی علاقوں میں ”دہشت گردوں“ سے لڑنے میں ناکام رہی ہیں۔ (عقل کے اندھے امریکی نہیں جانتے کہ کرائے کے ٹٹو کبھی نہیں لڑتے اور طالبان عالمی دہشت گرد صلیبیوں کے لئے واقعی ”دہشت گرد“ ہیں جن کی دہشت اور خوف کا یہ عالم رہا کہ اطالوی صلیبی فوجی اپنی جانیں بچانے کے لئے طالبان کو معقول بھتہ دے کر نقل وحرکت کرتے تھے۔ ان کی جگہ لینے فرانسیسی صلیبی آئے تو وہ اطالویوں کی اس خاموش سودا بازی سے بے خبر ہونے کے باعث مفت میں اپنا جانی نقصان کرا بیٹھے)۔
ٹینکل صلیبی شکست کے اسباب پر مزید یوں روشنی ڈالتا ہے: ”نیٹو کی جنگی پالیسی سٹریٹجک پوزیشنوں اور سپلائی روٹس پر قبضے سے عبارت تھی تاکہ طالبان کی نقل و حرکت روکی جا سکے۔ اتحادی بیرونی چوکیاں (outposts) طالبان کو شہروں سے نکالنے میں کامیاب رہیں،جنہیں Bullet Magnets (گولی مقناطیس) کہا جاتا تھا.... اور طالبان دیہی اور پہاڑی علاقوں میں جا کر مصروف پیکار ہوئے۔ اتحادیوں نے ان دور دراز علاقوں میں کئی اڈے بنائے مگر بھاری اخراجات اور جانی نقصان کے باعث انہیں چھوڑنا پڑا۔ جنگ کی پہلی نصف دہائی میں کوئی خاص کامیابی نہ ہوئی تو نئی امریکی فوجی سٹریٹجی بروئے کار آئی۔ عراق میں جنرل پیٹریاس کا انسداد بغاوت کا نظریہ کامیاب رہا تھا (اس کامیابی کی ایک ابلیسی مثال نومبر 2004ءمیں عراقی شہر فلوجہ پر ٹینکوں، توپوں اور طیاروں سے اندھا دھند بمباری کی وحشیانہ کارروائی تھی جس میں ایک لاکھ عراقی شہید کر دیئے گئے) اب پیٹریاس کو افغانستان لا کر وہ نتائج حاصل کرنے کی بیکار سعی کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ افغان عوام کے دل و دماغ جیتنے کے لئے ”Hearts and Minds“مہم چلائی گئی۔ پیٹریاس کی انسداد بغاوت مہم امریکی فوجی نفری کی قلت کے باعث مطلوبہ نتائج نہ دے سکی کیونکہ امریکی فوج ابھی عراق میں بھی پھنسی ہوئی تھی۔ امریکی فوج کے بیرونی چوکیاں چھوڑنے کے باعث طالبان کی رسد کے راستے کھل گئے اور وہ اپنے دور دراز اڈوں میں پھر متحرک ہو گئے۔ تب اوباما نے 30 ہزار مزید امریکی فوجی جنگ میں دھکیل دےئے تاکہ وہ مقامات پر کر سکیں جو ”دل و دماغ جیتنے“ کی مہم میں خالی پڑے تھے جبکہ پاک افغان سرحد بھی غیر محفوظ ہو چکی تھی۔ اب سپیشل فورسز آپریشنز اور ڈرون حملوں میں تیزی لائی گئی، خصوصی اہداف کو نشانہ بنایا گیا اور رات کو دروازہ توڑ کارروائیاں اور گرفتاریاں کی جانے لگیں....“
صلیبی ٹینکل کے خیال میں ”اگرچہ طالبان غیر ملکی افواج کے خلاف جنگ میں اپنے آپریشنز جاری رکھے ہوئے ہیں مگر ان کی یہ کارروائیاں مایوسی کے اقدامات لگتی ہیں۔ ان کے موجودہ حملے خطرناک اور مہلک ہونے کے باوجود خود کش کارروائیوں کی شکل میں بروئے کار آتے ہیں“ تاہم وہ تسلیم کرتا ہے کہ اتحادی فوجیوں کو خوفناک مزاحمت پیش آ رہی ہے اور افغانستان عالمی (یعنی صلیبی و صہیونی) برادری کے لئے اپنا سرمایہ ڈبونے کا گڑھا بنا ہوا ہے، پھر وہ لکھتا ہے: ”بن لادن اور کئی اعلیٰ القاعدہ قائدین کی موت کے بعد امریکہ کے لئے عقل مندی کا راستہ یہ ہے کہ وہ اس کامیابی کو ”فوجی فتح“ قرار دے اور اسے افغانستان سے نکل جانے اور طالبان کے خلاف جنگ ختم کرنے کا عذر بنا لے۔ بن لادن کی موت نے امریکیوں کو ایک موقع دیا ہے جس کے ذریعے وہ اس جنگ سے پیچھا چھڑانے کی شاندار سٹریٹجی اختیار کر سکتے ہیں، انہیں افغانستان کو محفوظ بنانے اور اس کی تعمیر نو کا خیال چھوڑ کر جنگ کے بنیادی مقصد کی طرف لوٹ کر سنجیدگی سے امریکی افواج کے انخلاءکی ضرورت پر غور کرنا چاہیے خواہ طالبان کے (غالب آنے کے) حالات درپیش ہوں۔ کرزئی حکومت اور طالبان میں کسی نوع کی شراکت اقتدار کا اہتمام بھی ضروری ہے ورنہ یہ ملک ابتری اور خونریزی کا شکار ہو جائے گا“۔
واہ ٹینکل جی! آپ نے تو امریکی گوروں کے نخچیر بارک حسین اوباما مرتد کا کام آسان کر دیا لیکن اس جنگ سے پیچھا چھڑانا اتنا آسان بھی نہیں۔ ہزاورں افغانوں کو شہید اور ان کا ملک تباہ کرنے کا تاوان کون دے گا؟ امریکی حکمران اپنے لاڈلے یہودیوں کو ”اسرائیل“ دلوانے کے بعد نصف صدی تک جرمنی سے تاوان دلواتے رہے ہیں۔ ایسے ہی افغانوں کو تاوان دیئے بغیر امریکیوں اور دیگر صلیبیوں کے لئے فرار کی کوئی سبیل نہیں۔ امریکی اب بھی عقل سے کام لیں توطالبان کا مذاکرات سے پہلے فوجی انخلاءکا مطالبہ پورا کریں اور اپنی کٹھ پتلی کرزئی حکومت کو افغانستان پر مسلط کئے رکھنے کا خناس ذہن سے نکال دیں۔ کیا تمہاری ”تھیو حکومت“ کی کٹھ پتلی ویت نام میں برسر اقتدار رہ سکی تھی؟ کرزئی حکومت کو اب جانا ہی جانا ہے، اسے بھول جائیں اور افغانستان سے نکل بھاگیں ورنہ تمہارے ہاں مزید فوجی قبرستان آباد ہوتے رہیں گے۔ افغان مجاہدین تو اللہ کی راہ میں شہادتیں پیش کرتے رہیں گے کہ انہیں موت اتنی ہی عزیز ہے جتنی کہ تمہیں زندگی پیاری ہے۔ ایک افغان کمانڈر نے کچھ عرصہ پہلے ایک مغربی صحافی سے بجا کہا تھا کہ ”گھڑیاں تمہارے پاس ہیں مگر وقت ہمارے پاس ہے“۔ صلیبیو! تم تو دس برس میں تھک گئے، افغان وقت کی قید سے ماورا ہیں، انہوں نے 82 برس تک انگریزوں کو ناکوں چنے چبوائے تھے، یہ بات بش کے ”پوڈل“ ٹونی بلیئر نے اسے نہیں بتائی تھی ورنہ شاید وہ یہ صلیبی جنگ چھیڑنے کی حماقت نہ کرتا۔
٭٭٭
بشکریہ ہفت روزہ جرار
والسلام۔۔۔۔علی اوڈراجپوت
alioadrajput
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)
|
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|