واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


چہ نسبت خاک را با عالمِ پاک

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 28-09-11, 08:55 PM   #1
چہ نسبت خاک را با عالمِ پاک
skjatala skjatala آف لائن ہے 28-09-11, 08:55 PM

(نورم خان)
کچھ لوگوں کو ہر بات میں خواہ مخواہ کیڑے نکالنے کی عادت ہوتی ہے اور وہ بغیر سوچے سمجھے جو منہ میں آئے ، بکنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ہمارے مخدوم اور صوفی منش وزیرِ اعظم کی سواری کراچی آئی تو حسبِ عادت و روایت ہماری ایجنسیوں کے حفاظتی اہل کار اپنی درجنوں گاڑیوں کے گھیرے میں لے کر انہیں ان کی منزل پر پہنچانے کی جنونی کیفیت میں مبتلا نظر آئے۔ ان کی اس بیچارگی پر اظہارِ ہمدردی کی بجائے اعتراضات کی بھر مار سے ایک گو نہ بیزاری سی محسوس ہوئی اور لوگوں کی بے حسی پر رونا آگیا۔ اس وقت یہ تلخی مزید بڑھ گئی جب شام کو ایک حکومت مخالف چینل نے اس معاملے کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے لیے نہ صرف جنابِ وزیر اعظم کی اسمبلی کے فلور پر وہ تقریر دکھانا شروع کردی جس میں انہوں نے حلفاً کہا تھا کہ وہ صرف تین چارگاڑیوں کے قافلے کے ساتھ سرکاری سفر کرتے اور ڈرائیونگ بھی خود کرتے ہیں اگر انصاف سے دیکھا جائے تو اس زمانے میں ایسی بے لوث بے اعتنائی شاید ہی دنیا کا کوئی اور فرمانروادِکھاپائے گا۔

لیکن بجائے اس کے کہ اس پر ان کی تعریف کی جاتی اوروزارتِ عظمیٰ کے دوسرے دعوے داروں کو اس روشن مثال کو گرہ میں باندھنے کا مشورہ دیا جاتا، مذکورہ چینل نے کراچی میں ان کے حالیہ سفر پر درجنوں پولیس اور دوسری ایجنسیوں کی رنگ برنگی جلتی بجھتی بتیوں والی گاڑیوں کو اس طرح دکھانا شروع کردیا جیسے بے شمار ستارے اور سیارے اپنے مرکز کے مدار میں والہانہ گردش کررہے ہوں۔ صرف اس وِڈیو ہی پر بس نہیں کیا گیا بلکہ پسِ پردہ صوتی اثرات یعنی رَننگ کمنٹری بھی جاری رہی:

'' دیکھئے ناظرین !ان گاڑیوں کی تعداد سو سے زیادہ ہے جو انہیں اپنے جلو میں لئے ہٹو بچو کا ہوٹر بجاتی معصوم شہریوں کو خوفزدہ کررہی ہیں اور یہ بھی دیکھئے ناظرین کہ جنابِ وزیر اعظم خود ڈرائیونگ اس لیے کررہے ہیں کہ انہیں بیش قیمت گاڑیوںکی ڈرائیونگ کا بے انتہا شوق ہے۔بتائیے ناظرین انہیں کس نے حق دیا ہے کہ وہ شہر ِقائد کی سڑکوں پر فاتحانہ قبضہ کرکے بے بس شہریوں کو یر غمال بنائیں؟ ٹریفک میں پھنسے بے بس عوام، بوڑھوں ، عورتوں اور گرمی اور حبس سے بلبلاتے شِیر خوار بچوں کی حالت ِ زارملاحظہ کریں اور ذرا یہ دیکھئے کہ ایدھی کے ایمبولینس میں کراہتے مریض اور تڑپتی حاملہ خاتون کا کیا حال ہوگیا ہے۔ کیسی بے چارگی، کیسی بے بسی ہے یہ…؟''

جب اس نیوز ریڈر نمااینکر اور اس کے پروڈیوسر نے یہ محسوس کیا کہ بات اب بھی نہیں بنی تو ایک قدم اور آگے جاتے ہوئے انہوں نے ''10۔ڈائوننگ اسٹریٹ'' پہ ریکارڈ شدہ کسی برطانوی وزیراعظم کی رخصت کا منظر دکھانا شروع کردیا کہ'' دیکھئے! تاجِ برطانیہ کی یہ سادگی اور ہم جیسے غریب اور خیرات پر پلنے والے ایک مسکین ملک کے مسکین وزیر اعظم کی یہ شان و شوکت۔'' اس سے پہلے کہ اس چینل کی اس چھچھوری حرکت پر کوئی تبصرہ کیا جائے''10۔ڈائوننگ اسٹریٹ'' کے بارے میں اتنا جاننا کافی ہے کہ یہ امریکی وائٹ ہائوس، پاکستانی ایوانِ وزیراعظم یا 70۔کلفٹن اور 90 ۔عزیزآباد قبیل کی چیزہے۔ عام فہم زبان میں اسے وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ کہا جاتا ہے۔ مزید وضاحت کے لئے اسے سرکاری ایوان یا محل سمجھ لیںجِسے فارسی میں ''کاخ'' بھی کہا جاتاہے۔ اگر اسے اُلٹ کر پڑھیں تولفظ ''خاک'' وجود میں آتا ہے۔ اتنا جاننے کے بعدآپ اچھی طرح سمجھ گئے ہوں گے کہ ہمارے پاکستانی محلات اور کروفر کے مقابلے میں ''10۔ڈائوننگ اسٹریٹ'' پر خاک ہی ڈالنے کوجی چاہتا ہے۔ مگر اس تفصیل سے یہاں ہم اُس مشہور مثل کی یاد دلانا چاہتے ہیں جو صدیوں پہلے کسی دیسی ناسٹراڈیمس (فرانسیسی مفکر) نے ایک سچی پیش گوئی بطور مثل کے زبان زد عام کر ڈالی تھی۔ وہ مشہور مثل'' چہ نسبت خاک را باعالم پاک'' ہے یعنی خاک کو عالم پاک یعنی آسمان سے کیا نسبت؟ شروع شروع میں یہ'' خاک'' کی بجائے ''کا خ'' یعنی برطانوی محل کی طرف واضح اشارہ تھا جو غلط العوام کی وجہ سے صدیوں بعد ''خاک'' کی شکل اختیار کرگیا ہے۔ تاہم مفہوم اب بھی واضع ہے کہ برطانوی محل یعنی ''10۔ ڈائوننگ اسٹریٹ'' اورپاکستانی محلات میں کیا نسبت؟ یعنی خاک(برطانیہ) پاک (پاکستان) کی برابری کر ہی نہیں سکتا۔

اس لیے اے بھائیو! ان بے جا اعتراضات کو چھوڑواور ذرا ٹھنڈے دل سے سوچو کہ آخر اقوامِ عالم میں ہمیں بھی اپنی عزت و حرمت اور رعب و دبدبہ دِکھانا ہے۔امریکا اور برطانیہ کے یہاں دِکھانے کو بہت کچھ ہے مگر ہم تو کسی کو ٹھینگا بھی نہیں دکھا سکتے۔اس لیے اسے ہماری مجبوری سمجھو اوران پُر شکوہ سواریوں پر معترض ہوکر بلاوجہ'' ضمیر ضمیر'' نہ کھیلو کیونکہ بقول استا ذی عطاء الحق قاسمی '' ضمیر کسی غلط کام پر روکتا نہیں ، صرف اس کا مزا کرکرا کردیتا ہے۔''

پھر یہ بھی سوچو کہ ہمارے رہبرانِ قوم اس عالمِ دہشت گردی بشمول ڈینگی مچھروں کی شر انگیزی کے ماحول میں اپنی جان ہتھیلی پر لیے عوام کے دردکادر ماں کرنے نکلتے ہیں تو کیا ہمارا اتنا بھی فرض نہیں بنتا کہ ہم چند سڑکوں پر چند گھنٹوں کی رکاوٹ برداشت کرلیں؟ ایسے میں ڈھونڈ ڈھونڈکر ایمبولینس میں کسی مریض اور رکشے میں درد ِ زِہ سے تڑپتی کسی خاتون کی بے بسی دکھا کر احساسِ ترحم وبیزاری بڑھاکر دنیا والوں کو ہم کوئی اچھا پیغام نہیں دے رہے۔دوچار گھنٹوں میں کوئی آسمان نہیں ٹوٹ پڑتا۔ اگر خدا نخواستہ کوئی ضدی بچہ اس دنیا میں وارد ہونے کی جلدی میں ایک رکشے ہی کا انتخاب کرلے تو تالیفِ قلب کے لیے ایسے بچوں کے والدین کی پہلے بھی سرکاری امداد کی جا چکی ہے اور انشاء اللہ آئندہ بھی ہمارے حکمرن اس معاملے میں کسی کنجوسی سے کام نہیں لیں گے۔ آخر انواع و اقسام کے ٹیکس کیوں وصول کئے جاتے ہیں!

تاہم ہمیں ایک شبہ ہے۔ کہیں ایسے مریض اور اس طرح کی خواتین جانتے بوجھتے کسی شاہی سواری، معاف کیجئے، سرکاری سواری کے منتظر تو نہیں رہتے کہ اسی بہانے سرکارِ عالی دربار سے دو چار لاکھ روپے اینٹھ سکیں؟ اس لیے ان جیسوں کی حوصلہ شکنی کے لیے ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ وی آئی پیز کی نقل و حرکت کے لیے شہری حدود میں ہیلی کاپٹر ز استعمال کئے جائیں ۔ ویسے تو ہیلی کاپٹر ہر جگہ اتر سکتے ہیں تاہم کسی جگہ ہیلی پیڈ کا مسئلہ ہو تو اس کا بھی ایک آسان حل ہے۔ کریں یہ کہ ایک وسیع و عریض مصنوعی ہیلی پیڈ زنجیروں سے باندھ کر چند دیو ہیکل ہیلی کاپٹرز آگے آگے اُڑیں اور جہاں ظلِ سبحانی اور ان کے درباریوں کا دربار لگا نا مقصود ہو، وہاں آناً فاناً یہ ہیلی پیڈ نصب کر دیئے جائیں ۔ اللہ اللہ، خیرصلٰی!

لوجی! ان ہڈ حرام مریضوں اور ہر معاملے میں امداد مانگ کر عالیجاہوں کی خلوت و جلوت کے مزے کِر کِرا کرنے والی عورتوں کے شر سے چھٹکارے کا ہم نے ایک بہترین حل پیش کر دیا ہے۔مگراللہ کرے اس کا بھی وہی حشر نہ ہو جو کوئلے سے گیس بنا کر بجلی پیدا کرنے کا مشورہ دینے اور اس کے لیے فنڈز لینے والے سائنس دانوں کی کوششوں کا ہو رہا ہے۔
بشکریہ : کراچی اپڈیٹس ڈاٹ کام
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر

 
skjatala's Avatar
skjatala
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
شکریہ: 9,762
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 223
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
ابوسعد (29-09-11), حیدر (28-09-11), حسن قادری (28-09-11), عبداللہ آدم (29-09-11)
پرانا 28-09-11, 09:02 PM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,387
شکریہ: 52,449
11,148 مراسلہ میں 35,183 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ہیلی کاپٹر پر شاہان پاکستان کو بھیج کر آپ انکو بھی "شہیدان وطن" میں شامل کروانا چاہتے ہیں جن کے قرض اُتار اُتار کر ہماری اُتر گئی ہے۔ ارے واہ بابو۔۔۔ ایک راکٹ چلنا ہے نیچے سے اور صاحبانِ شہیدانِ وطن میں کئیوں کا اضافہ ہو جانا ہے۔
مریضوں کو تڑپنے دیں، حاملاوں کا بلکنے دیں، کاروباریوں کے اربوں کے نقصان ہونے دیں۔۔۔لیکن حکمرانوں کو رسک میں نہ ڈالیں حضور۔ وطن مزید قرض کا متحمل نہیں ہو سکتا
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (30-09-11), ابوسعد (29-09-11), حسن قادری (28-09-11), عبداللہ آدم (29-09-11)
پرانا 28-09-11, 11:08 PM   #3
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,130
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

غریب وزیروں کی حفاظت ایسے ھی ھوتی ھے کیونکہ نایا نمونے ھیں صرف پاکستان میں دستیاب ھیں اسلے سو گاڑیوں سے حفاظت کی ضرورت ہڑتی ھے
حسن قادری آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا
skjatala (30-09-11), حیدر (29-09-11)
پرانا 28-09-11, 11:21 PM   #4
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,168
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,299 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حد ہوگئی یار
یعنی ایک تو ان عوامی خدمت گاروں نے ملک کا نام روشن کیا کے ان جیسا رعب داب اور شاندار قافلہ امریکہ اور برطانیہ جیسے ممالک میں بھی نہیں ہے
پوری دنیا کو یہ پیغام دیا کے کشکول تھامنے کے باجود ہماری آن شان بان میں کوئی کمی نہیں آتی
اور
آپ لوگ انہیں خراج تحسین پیش کرنے کے بجائے ۔۔۔
ہنہہ دس کروڑ یہ گ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (30-09-11), حیدر (29-09-11), حیدر Rehan (29-09-11)
پرانا 29-09-11, 09:48 PM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,387
شکریہ: 52,449
11,148 مراسلہ میں 35,183 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یہ بھی تو انکی شان ہی پیش کی تھی کہ ان کی خاطر دیکھو کس طرح ہماری قوم اپنی جان، آن بان، قربان کر دیتی ہے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (30-09-11), حیدر Rehan (29-09-11)
جواب

Tags
فرض, کراچی, ٹریفک, پولیس, پاک, پاکستانی, ڈاٹ, وزیراعظم, قدم, نیوز, چینل, نظر, ماں, اللہ, بہترین, بچوں, خواتین, خان, خدا, سفر, سیارے, سائنس, ستارے, شام, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:04 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger