واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی ایک عہد ساز سائنسدان

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-10-11, 04:29 PM   #1
ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی ایک عہد ساز سائنسدان
سید محمد عابد سید محمد عابد آف لائن ہے 15-10-11, 04:29 PM

وطن عزیز پاکستان کو خدا تعالیٰ نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ان میں سے ایک نعمت ملک کی عوام میں موجود بے پناہ ذہانت اور ہنر ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر، ڈاکٹر ثمر مبارک مند، حکیم محمد سعید شہید اور دیگر کا تعلق اسی ارض پاک سے ہے جن کی صلاحیتوں اور قابلیتوں کا ایک زمانہ معترف ہے۔ ان تمام افراد کے بارے میں جان کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں ذہانت، صلاحیت اور قابلیت کی کمی نہیں۔ اس وقت میں جس عظیم اور قابل ہستی کا تذکرہ کرنے لگا ہوں ان کا نام مرحوم ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی ہے اور یہ وہ قابل انسان تھے جنہوں نے نہ صرف پاکستان و ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں اپنے سائنسی تجربات کا لوہا منوایا۔ پاکستان ان ہی کی بدولت سائنسی اور صنعتی تحقیق کے راستے پر گامزن ہوا۔

ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی 19 اکتوبر1897ء کو بھارت کے قصبے سوبیہا (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم لکھنوء سے حاصل کی۔ ڈاکٹر صدیقی نے 1919ء میں ایم اے او کالج (جو کہ بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بن گئی) سے اردو اور فلسفے میں گریجویشن مکمل کی، 1920ء میں لندن چلے گئے جہاں ایک سال ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کی۔ 1921ء میں کیمیا کی تعلیم کے لئے فرینک فرٹ یونیورسٹی چلے گئے۔ 1927ء میں ڈاکٹر صدیقی نے جرمنی میں پروفیسر جولیس وون بریم کی زیرنگرانی فلسفے کی ڈگری حاصل کی اور پھر واپس بھارت آگئے اور طبیا کولج دہلی میں آیورویدک اینڈ یونانی طبی ریسرچ انسٹیٹیوٹ حکیم امجد خان کی زیر سرپرستی کھولا جس میں ڈاکٹر صدیقی نے ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا۔

ڈاکٹر صدیقی کی طب کے شعبے میں پہلی تحقیقی کامیابی 1931ء میں ہوئی جب انہوں نے روولفیاءسپرینٹینا کی جڑ سے ایک اینٹی ارریتھمیک ایجنٹ کو الگ کیا۔ انھوں نے اپنے دریافت کردہ نئے کیمیائی احاطے کا نام اجملین رکھا جو کہ ان کے استاد حکیم اجمل خان کے نام پر تھا۔ اس اہم کامیابی کے بعد ڈاکٹر صدیقی نے روولفیاءسپرینٹینا سے دیگر کئی مرکبات جن میںاجملی نائن، اجملی سائن۔ آئی ایس او اجملین، این ای او اجملین، سرپنٹائن اور سرپنٹی نائن جیسے مرکبات کے گروہ کو نکالا۔ اب بھی دنیا بھر میں ان کے متعدد مرکبات کا استعمال ذہنی و قلبی بیماریوں کے علاج کے لئے کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صدیقی نے کیمیات سائنس پر کافی تحقیق کی اور کئی عرصے تک نیم اور دوسرے پودوں کے منفرد کیمیائی مرکبات کی کلاسی فکیشن میں مصروف رہے جس میں انہیں کامیابی بھی ملی۔ ڈاکٹر صدیقی وہ پہلے سائنسدان تھے جو این تھملیٹک،اینٹی فینگل، اینٹی بیکٹیریکل اور وائرس کے خلاف عمل نیم کے مرکباتی اجزاءتیار کرنے میں کامیاب ہوئے۔ 1942ء میں انھوں نے نیم کے تیل سے تین مرکبات نمبین، نمبنین اور نمبدین تیار کئے۔ یہ مرکبات مستحکم ہیں اور نیم میں کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر صدیقی نے پچاس سے زائد مرکبات تجربات کے ذریعے دریافت کئے۔

حکیم امجد خان کی وفات کے بعد 1940ء میں انھوں نے انڈین کونسل فور سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ میں کام شروع کیا جوکہ 1951ء تک جاری رہا۔ 1947ء میں جب پاکستان بنا تو ملک کو سائنسی اور صنعتی اعتبار سے ترقی کی ضروت تھی۔ اس سلسلے میں 1951ء میں ڈاکٹر صدیقی نے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی درخواست پر پاکستان ہجرت کی اور پاکستان کونسل اوف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) کی بنیاد رکھی اور ادارے کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ ڈاکٹر صدیقی کی سربراہی میں پی سی ایس آئی آر نے سائنسی اور صنعتی تحقیق پر کام شروع کیا۔ اس ادارے کی ضلعی لیبارٹریز مشرقی پاکستان کے ڈھاکہ، راج شاہی اور چٹاگانگ جبکہ مغربی پاکستان کے لاہور اور پشاور میں کھولیں۔ پھر 1953ء میں انھوں نے ذاتی طور پر ملکی سائنسدانوں کے لئے پاکستان اکیڈمی اوف سائنسز قائم کی اور دیگر اداروں پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ اس اکیڈمی میں بھی تحقیقاتی سرگرمیوں کو فروغ دیتے رہے۔

1956ء میں جب پاکستان میں جوہری تحقیق کے لئے (پی اے ای سی) پاکستان اٹومک انرجی کمیشن کا قیام کیا گیا تو ڈاکٹر صدیقی کو ادارے کا تکنیکی رکن مقرر کیا گیا۔ 1958ء میں ڈاکٹر صدیقی کو ان کی سائنسی قیادت کے اعتراف میں فرینکفرٹ یونیورسٹی نے ڈی میڈ ہونورس کوسا کی ڈگری دی اور اسی سال گورنمنٹ اوف پاکستان نے بھی انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا۔

1960ء میں ڈاکٹر سلیم الزمان پاک انڈین اوشن سائنس ایسوسی ایشن کے صدر اوررویل سوسائٹی کے فیلومنتخب ہوئے۔ 1962ء میں ان کو سائنس اور طب کے شعبے میں بہترین کارکردگی کے اعتراف میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔ 1966ء میں ڈاکٹر صدیقی کو ریٹائرمنٹ کے وقت ان کی قابلانہ خدمات کے اعتراف میں صدر پاکستان کی طرف سے پرائیڈ اوف پرفورمنس میڈل عطا کیا گیا جب وہ صرف پی سی ایس آئی آر کے ڈائریکٹر اور چیئرمین کی حیثیت سے ہی کام کر رہے تھے۔ ہمارے ملک میں ایسے بہت کم لوگ ہیں جنہوں نے اپنی کارکردگی کے اعتراف میں سات سے زائد ایوارڈز حاصل کئے ہوں۔

1967ء میں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر صدیقی کو کیمسٹری کے پوسٹ گریجویٹ انسٹیٹیوٹ کو قائم کرنے کے لئے مدعو کیا اور ان کو ادارے کے بانی و ڈائریکٹر کا عہدہ دیا جبکہ ادارے کے لئے دیگر تحقیقی اسٹاف پی سی ایس آئی آر کی طرف سے فراہم کیا گیا۔ بعد میں ڈاکٹر صدیقی نے اس ادارے کو کیمیا اور قدرتی اجزاءکی تحقیق کے ایک بڑے ادارے میں بدل دیا اور یہ ادارہ حسین ابراھیم جمال ریسرچ انسٹیٹیوٹ اوف کیمسٹری کے نام سے مشہور ہوا۔

1975ء میں ڈاکٹر صدیقی کی تحقیقاتی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے انہیں نیشنل کمیشن فور انڈی جینس میڈیسن کا سربراہ بنا دیا گیا۔ 1980ء میں گورنمنٹ اوف پاکستان نے ڈاکٹر صدیقی کو سائنس و ٹیکنولوجی کے فروغ کے لئے انتھک محنت اور کاوشوں کی بدولت ہلال امتیاز کا تمغہ دیا۔ 1983ء میں ڈاکٹر صدیقی نے دنیا کی تیسری سائنس اکیڈمی بنانے کے لئے اہم کردار ادا کیا۔ ڈاکٹر صدیقی نے 1990ء سے لے کر اپنی زندگی کے آخری ایام تک حسین ابراھیم جمال ریسرچ انسٹیٹیوٹ اوف کیمسٹری میں ڈائریکٹر کی حیثیت سے اپنی تحقیقاتی سرگرمیاں جاری رکھیں۔

ان تمام سرگرمیوں کے علاوہ ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی بہترین شاعر، موسیقی کے ماہر اور مصور بھی تھے۔ ان کی مصوری کی نمائش پاکستان، جرمنی اور بھارت میں کی گئی۔ ڈاکٹر صدیقی نے اپنے جرمنی کے دورے کے دوران جرمن شاعر رائنر ماریہ رلکیز کی شاعری کا اردو میں ترجمہ بھی کیا۔ ڈاکٹر صدیقی کی وفات طویل علالت کے باعث 14 اپریل 1994ء کو کراچی میں ہوئی۔ ڈاکٹر صدیقی نے اپنی ساری زندگی صرف ملکی تحقیقی خدمات میں صَرف کی اور وہ پاکستان کی تحقیق ترقی کے فروغ میں لگے رہے۔

گورنمنٹ اوف پاکستان نے 14 اپریل 1999ء کو ڈاکٹر صدیقی کی یاد میں پی سی ایس آئی آر کراچی سے منسلک سڑک کا نام شاہراہ ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی رکھا جبکہ پاکستان پوسٹ نے بھی اسی سال ڈاکٹر صدیقی کی یاد میں خصوصی پوسٹ ٹکٹس کا اجراءکیا۔ اس کے علاوہ ان کے چاہنے والے دوست اور طالب علم بھی ان کے نام سے اداریے اور تحقیقی مضامین لکھتے رہتے ہیں۔

ڈاکٹر صدیقی ہمارے ملک کی قابل شخصیت تھے اور انھوں نے ملک کی ترقی کے لئے دن رات کام کیا لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ اردو خصوصاً درسی کتب ، اخبارات اور رسالوں سمیت انٹرنیٹ پر اردو زبان میں ان کے نام کا ایک مضمون بھی نہیں۔ میڈیا تقریباً ہر سال بیسیوں فلم اسٹارز و دیگر کی سالگرہ اور وفات مناتا ہے مگر سائنسدان سلیم الزمان صدیقی جیسے عظیم لوگوں کی یاد میں کوئی دن نہیں منایا جاتا۔

ہمارے ملک کے کسی بھی عام و خاص شخص سے ڈاکٹر سلیم الزمان صدیقی کے بارے میں پوچھا جائے تو اس کو ان کے بارے میں کچھ معلوم نہیں گویا ڈاکٹر صدیقی خاص نام ہوتے ہوئے بھی گم نام ہیں۔ وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کرتیں جو اپنے ہیروز اور قابل لوگوں کو بھول جایا کرتی ہیں۔ ان کے نام کا استعمال ٹکٹس اور شاہراہوں پر کرنے سے بہتر ہے کہ ہم ان کی تحقیقی سرگرمیوں کو مزید فروغ دیں تاکہ ڈاکٹر صدیقی کی محنت اور کاوشوں کا مقصد پورا ہو سکے۔

تحریر:سید محمد عابد

ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی ایک عہد ساز سائنسدان

ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی ایک عہد ساز سائنسدان

 
سید محمد عابد's Avatar
سید محمد عابد
Senior Member
مقبول
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مقام: Pakistan
عمر: 24
مراسلات: 188
شکریہ: 159
117 مراسلہ میں 349 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 207
Reply With Quote
15 قاری/قارئین نے سید محمد عابد کا شکریہ ادا کیا
فرحان دانش (17-10-11), پاکستانی (21-10-11), ننھا بچہ (15-10-11), نبیل خان (17-10-11), منتظمین (15-10-11), محمد یاسرعلی (16-10-11), محمدعدنان (16-10-11), مرزا عامر (18-10-11), احمد نذیر (15-10-11), بلال الراعی (16-10-11), حیدر (15-10-11), رضی (17-10-11), سیفی خان (16-10-11), عدنان دانی (17-10-11), عروج (17-10-11)
پرانا 15-10-11, 04:38 PM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,387
شکریہ: 52,449
11,148 مراسلہ میں 35,183 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میرا اُن سے تعارف پاکستان کے سائنسی جریدے "عملی سائینس" کے توسط سے ہوا۔ وہ باوجود اپنی تمام تر مصروفیات کے پاکستان میں سائنس کی ترویج کے لیے کوشاں رہتے تھے ، چناچہ عملی سائینس کی بھی انہوں نے نہ صرف اخلاقی بلکہ عملی مدد بھی کی۔

عملی سائنس سے کنارہ ہوئے عرصہ بیت گیا۔۔۔۔اسی وجہ سے ان کی رحلت کا علم نہ ہو سکا۔ وہ ایک عظیم انسان ، عظیم سائینس دان اور عظیم پاکستانی تھے۔ اللہ انکے درجات کو بلند فرمائے۔ آمین
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (15-10-11), نبیل خان (17-10-11), محمد یاسرعلی (16-10-11), محمدعدنان (16-10-11), بلال الراعی (16-10-11), رضی (17-10-11), سیفی خان (16-10-11), سید محمد عابد (15-10-11), عروج (17-10-11)
پرانا 15-10-11, 07:58 PM   #3
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے اپلائی کریں۔
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (17-10-11), محمد یاسرعلی (16-10-11), سیفی خان (16-10-11), سید محمد عابد (16-10-11), عروج (17-10-11)
پرانا 16-10-11, 07:15 PM   #4
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,441
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شئیرنگ کا شکریہ ۔ ۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اٰمین
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
حیدر (16-10-11), سید محمد عابد (16-10-11), عروج (17-10-11)
پرانا 16-10-11, 07:46 PM   #5
Senior Member
مقبول
 
سید محمد عابد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مقام: Pakistan
عمر: 24
مراسلات: 188
کمائي: 5,199
شکریہ: 159
117 مراسلہ میں 349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اللہ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔۔۔امین
سید محمد عابد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سید محمد عابد کا شکریہ ادا کیا
حیدر (16-10-11), عروج (17-10-11)
پرانا 16-10-11, 09:55 PM   #6
Senior Member
مقبول
 
سید محمد عابد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مقام: Pakistan
عمر: 24
مراسلات: 188
کمائي: 5,199
شکریہ: 159
117 مراسلہ میں 349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پاکستان کو ڈاکٹر صدیقی جیسے کئی لوگوں کی ضرورت ہے تب ہی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔۔۔۔۔۔۔
سید محمد عابد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سید محمد عابد کا شکریہ ادا کیا
حیدر (16-10-11), سیفی خان (17-10-11), عروج (17-10-11)
پرانا 17-10-11, 12:34 PM   #7
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,441
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

درست کہا عابد بھائی ۔
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
حیدر (17-10-11), عروج (17-10-11)
پرانا 17-10-11, 01:36 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,466
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شئیرنگ کا شکریہ ۔ ۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اٰمین
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
حیدر (17-10-11), عروج (17-10-11)
پرانا 17-10-11, 08:02 PM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,387
شکریہ: 52,449
11,148 مراسلہ میں 35,183 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

آپکی تحریر سرورق پر شائع ہو گئی ہے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
سید محمد عابد (19-10-11), عروج (17-10-11)
پرانا 17-10-11, 11:41 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سید محمد عابد مراسلہ دیکھیں
پاکستان کو ڈاکٹر صدیقی جیسے کئی لوگوں کی ضرورت ہے تب ہی ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔۔۔۔۔۔۔
ان شاء اللہ ۔ ایسا ھی ھوگا۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-10-11, 03:36 PM   #11
Senior Member
مقبول
 
سید محمد عابد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2011
مقام: Pakistan
عمر: 24
مراسلات: 188
کمائي: 5,199
شکریہ: 159
117 مراسلہ میں 349 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ حیدر بھائی۔۔۔۔
سید محمد عابد آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کالج, کراچی, پوسٹ, پاکستان, وائرس, وزیراعظم, لیاقت علی خان, لوگ, لندن, مکمل, معلوم, انٹرنیٹ, انسان, اردو, استاد, بہترین, تعلیم, خلاف, خان, خدا, دریافت, درسی کتب, سالگرہ, شاعری, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:07 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger