واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


ڈینگی کی صنعت!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-09-11, 06:29 AM   #1
ڈینگی کی صنعت!
سیفی خان سیفی خان آف لائن ہے 21-09-11, 06:29 AM

ڈینگی کی صنعت!

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

حکومتِ پنجاب ان دنوں ڈینگی مچھر کے پیچھے لٹھ لئے پڑی ہے۔ لاہور سمیت متعدد شہروں میں دفعہ ایک سو چوالیس کے تحت چار سے زیادہ ڈینگی مچھروں کے اجتماع پر پابندی کے علاوہ گلی محلوں میں گاڑیاں دھونا، ٹائروں کو کھلی جگہ رکھنا، پانی کی ٹنکیاں اور دیگر ذخائر نہ ڈھانپنا قابلِ دست اندازیِ جرم قرار پایا ہے۔

جب حکومتِ پنجاب نے اسکول کے بچوں کواحکامات جاری کیے کہ وہ صبح تا دوپہر پوری آستین کی قمیضیں پہن کر تعلیم حاصل کریں، سرکاری گاڑیاں دن بھر مختلف علاقوں میں دھوئیں کا سپرے کریں اور جوہڑوں پر مٹی کا تیل اور دیگر آمیزے چھڑکےجائیں تو ڈینگی اپنے دشمنوں کی سادہ لوحی سے خوب لطف اندوز ہوا جو یہ بھی نہیں جانتے کہ مچھر کمیونٹی میں ڈینگی کا وہی مقام ہے جو انسانی سماج میں سید اور برہمن کو حاصل ہے۔

یہ عام سےگھٹیا مچھروں کے برعکس صاف پانی پر پلتا ہے اور سرسبز ماحول میں رہائش پسند کرتا ہے۔ وقت بے وقت نہیں کاٹتا بلکہ طلوعِ آفتاب یا غروب آفتاب کے اوقات میں واردات کرتا ہے۔

جب سری لنکن ماہرین کی ڈینگی دشمن ٹیم گزشتہ دنوں لاہور کے ایک ہسپتال میں مریضوں کی کیفیت دیکھنے پہنچی تو ڈاکٹروں کے علاوہ اردگرد کے گملوں میں قیام پذیر ڈینگیوں نے بھی اپنے انڈوں سمیت استقبال کیا۔ چنانچہ مہمان ٹیم نے ڈینگی کی دلیری سراہتے ہوئے حکومتِ پنجاب کی مستعدی کو بھی زیرِ لب داد دی۔جس طرح کچھ عرصہ پہلے شریف حکومت نے مہنگی چینی سستی کروانے کے لیے اتنے جوش سے شوگر ملز اور پرچون دوکانوں پر چھاپے مارے کہ چینی سستی ہونے کے بجائے بازار سے ہی غائب ہوگئی۔ جس طرح آٹھ روپے کی روٹی پانچ روپے میں فراہم کرنے کے لیے سستے تندوروں کی سکیم میں اربوں روپے جلا کر ہاتھ جھاڑ لیے گئے اسی طرح ڈینگی سے نمٹنے کی کوشش ہورہی ہے۔

پرائیویٹ لیبارٹریوں کو پابند کیا گیا کہ وہ ڈینگی کی تشخیص کا بلڈ ٹیسٹ نوے روپے میں کریں۔ زیادہ قیمت طلب کرنے کے الزام میں اب تک لاہور میں ایک سو دس لیبارٹریوں پر سیل لگ چکی ہے۔

کئی لیبارٹریوں میں پولیس اور انتظامی افسران طبی تجربے سے عاری ٹیکنیشنز کے بغیر پہنچے اور ٹیسٹ کرنے اور کرانے والوں کو باہر نکال کر تالہ لگا دیا۔اس اقدام سے نا صرف ڈینگی کے مشتبہ مریض بلکہ دیگر ہزاروں ضرورت مند بھی متاثر ہوئے۔

حکومتِ پنجاب نے متبادل کے طور پر شہر بھر میں دس بلڈ ٹیسٹنگ سنٹرز قائم کیے جہاں لوگوں کو سرکاری ہسپتالوں کی طرح مفت ٹیسٹ کی سہولت دی گئی ہے۔ لیکن سرکاری طبی سہولتیں بس اتنی ہیں کہ لاہور میں ستر فیصد مریض نجی شعبے سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں۔

البتہ حکومتی جوش و خروش سے یہ ضرور ہوا کہ سرکاری ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کے باہر لائنیں اور لمبی ہوگئیں۔ حالانکہ جو مقصد مہنگے ٹیسٹ کرنے والی لیبارٹریوں کو بند کر کے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی وہی مقصد انہیں بند کیے بغیر بھاری جرمانوں کی مدد سے بھی حاصل ہوسکتا تھا۔

بھولی بھالی صوبائی حکومت کی اس ذہانت آمیز حکمتِ عملی نے ڈینگی مچھر کے احساسِ تحفظ میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ اس کا اندازہ یوں ہوسکتا ہے کہ اب تک صوبۂ پنجاب میں ڈینگی بخار میں مبتلا جو چھ ہزار چھ سو چھیاسٹھ کیسز سامنے آئے ہیں ان میں سے صرف پانچ سو چالیس لاہور سے باہر کے ہیں۔اب تک جو چھتیس اموات ہوئی ہیں ان میں سے پچیس لاہور اور اس کے مضافات میں ہوئی ہیں۔پنجاب کے بعد ڈینگی نے خیبر پختون خوا پر توجہ دی جہاں اب تک چوہتر مریض اور پانچ اموات سامنے آئی ہیں۔ لیکن وہاں بھی محکمۂ صحت ڈینگی اور دیگر مچھروں کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک رہا ہے اور لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ وہ گندے جوہڑوں پر مٹی کا تیل اور استعمال شدہ موبل آئل چھڑک دیں۔ اندھیرے میں لٹھ چلانے سے ڈینگی کا بھلے بال ڈینگا نا ہو مگر عام مچھروں کو ضرور جان کے لالے پڑ گئے ہیں۔

پنجاب اور خیبر پختون خوا میں انتہائی مصروفیت کے سبب ڈینگی دیگر علاقوں پر کماحقہ توجہ نہیں دے پایا۔ سندھ میں شدید بارشوں کے باوجود اب تک ڈینگی بخار کے چار کیسز اور ایک موت سامنے آئی ہے جبکہ بلوچستان ڈینگی کو اس لیے وارہ نہیں کھا رہا کہ ایک ایسے علاقے میں پہنچنا کون سی عقل مندی ہے جہاں فی مربع میل چار زندگی سے تنگ لوگ بستے ہوں۔

بفضلِ ڈینگی الیکٹرونک میڈیا کی ریٹنگ اور اشتہارات کی بھی چاندی ہے۔ جو ماسکیٹو سپرے اور کوائل عام مچھروں کو دور رکھنے کے لئے بیچے جارہے تھے اب انہیں ڈینگی شکن قرار دے کر صارفین کی لاعلمی منافع میں نچوڑی جا رہی ہے۔ جو صابن دس بڑے جراثیموں کے خاتمے کے لیے تیر بہدف بتایا جارہا تھا اب ڈینگی کے لیے بھی اکسیر ہوگیا ہے۔ ایک شیمپو بھی بتایا جارہا ہے جس کی خوشبو سے ڈینگی یوں بھاگے ہے جیسے شیمپو سے دھلی دھلائی ہیروئن پرستاروں سے !مگر کوئی یہ بتانے کو تیار نہیں کہ ڈینگی بخار میں مبتلا ننانوے فیصد مریض درست تشخیص اور طبی مدد کے سبب زیادہ سے زیادہ پندرہ روز میں صحت یاب ہوجاتے ہیں۔ ڈینگی بخار سے تو پاکستان میں ہر سال سو لوگ بھی بمشکل مرتے ہیں لیکن ملیریا سے تقریباً پچاس ہزار مرجاتے ہیں۔ مگر جتنی فکر اور ڈرامائی تشویش ڈینگی کے بارے میں پھیلی یا پھیلائی جارہی ہے اس کا دس فیصد بھی ملیریا کو میسر نہیں۔

وجہ صرف اتنی سی ہے کہ ڈینگی مچھر نسبتاً نیا، پراسرار اور اعلٰی ذات ہے لہٰذا سرکار، کارپوریٹ سیکٹر اور میڈیا کے لیے پرکشش و منافع بخش ہے۔ نجی ہسپتال میں ڈینگی بخار کا پندرہ روزہ علاج اوسطاً ایک لاکھ روپے میں ہوتا ہے جبکہ ملیریا کا مریض پانچ سو روپے کی تشخیص و دوا میں خود ہی لوٹ پوٹ کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے یا لیٹ جاتا ہے ۔

ایسے میں صاف پانی پر پلنے والے مچھر کے بجائے جوہڑ کے اندر اور جوہڑ کے اردگرد بسنے والی مخلوقات کو بھلا کیوں زیادہ سر چڑھایا جائے۔
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/

 
سیفی خان's Avatar
سیفی خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 274
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
فکری (22-09-11), نبیل خان (22-09-11), مرزا عامر (21-09-11), حیدر (21-09-11), حسن قادری (22-09-11), رضی (21-09-11)
پرانا 21-09-11, 10:51 AM   #2
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,387
شکریہ: 52,449
11,148 مراسلہ میں 35,183 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وسعت اللہ ان ایکشن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ک یا خوب لکھا ہے۔ طنز بہدف جملے ہیں۔لیکن شہباز حکومت پر اثر نہیں ہونے والا

ادھر رحیم یار خان میں البتہ شہباز حکومت نے "تیر بہدف نسخہ" استعمال کیا ہے۔ چونکہ بار بار کہا جاتا ہے کہ ڈینگی مچھر صرف صاف پانی پر پلتاہے۔/۔۔۔۔ اس لیے رحیم یار خان میں ہر طرف گٹروں کے منہ کھول دئیے گئے ہیں۔ پائپوں میں سرکاری طور پر بوریاں ٹھونس دی گئی ہیں۔ تاکہ ہر طرف گندہ پانی ہو اور ڈینگی مچھر کو کوئی جائے پناہ نہ ملے۔
اب کیا کرے گا ڈینگی مچھر۔ اس کو بھی تو معلوم ہو کہ پاکستانیوں سے پالا پڑا ہے۔ خود ہی مر مرا جائے گا
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (22-09-11), مرزا عامر (21-09-11), احمد بلال (22-09-11), حسن قادری (22-09-11), رضی (21-09-11), سیفی خان (21-09-11), عبدالقدوس (21-09-11)
پرانا 21-09-11, 02:24 PM   #3
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,441
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
ادھر رحیم یار خان میں البتہ شہباز حکومت نے "تیر بہدف نسخہ" استعمال کیا ہے۔ چونکہ بار بار کہا جاتا ہے کہ ڈینگی مچھر صرف صاف پانی پر پلتاہے۔/۔۔۔۔ اس لیے رحیم یار خان میں ہر طرف گٹروں کے منہ کھول دئیے گئے ہیں۔ پائپوں میں سرکاری طور پر بوریاں ٹھونس دی گئی ہیں۔ تاکہ ہر طرف گندہ پانی ہو اور ڈینگی مچھر کو کوئی جائے پناہ نہ ملے۔
اب کیا کرے گا ڈینگی مچھر۔ اس کو بھی تو معلوم ہو کہ پاکستانیوں سے پالا پڑا ہے۔ خود ہی مر مرا جائے گا
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
فکری (22-09-11), نبیل خان (22-09-11), حسن قادری (22-09-11)
پرانا 21-09-11, 03:52 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ھم اپنی دیسی زندگی کی طرف لوٹ آئیں اور سرکے والا پیاز ،نیاز بُُو والی چٹنی کھائیں اورقہوہ جات روز کا معمول بنائیں تواپنے بزرگوں والی صحّّت پا لیں گے۔ ان شاءاللہ۔
__________________
اے اللہ میرےوالدین پر رحم فرما۔ جیساکہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا۔ آمین۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عروج کا شکریہ ادا کیا
فکری (22-09-11), نبیل خان (22-09-11), حسن قادری (22-09-11), سیفی خان (22-09-11)
پرانا 22-09-11, 07:23 AM   #5
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,441
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : عروج مراسلہ دیکھیں
ھم اپنی دیسی زندگی کی طرف لوٹ آئیں اور سرکے والا پیاز ،نیاز بُُو والی چٹنی کھائیں اورقہوہ جات روز کا معمول بنائیں تواپنے بزرگوں والی صحّّت پا لیں گے۔ ان شاءاللہ۔
مشورہ تو اچھا ہے
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
فکری (22-09-11), نبیل خان (22-09-11), حسن قادری (22-09-11)
پرانا 22-09-11, 09:43 AM   #6
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,130
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مشورہ اچھا ھی نھیں بہت ھی اچھا ھے۔،،،،،،،،،،
حسن قادری آف لائن ہے   Reply With Quote
حسن قادری کا شکریہ ادا کیا گیا
نبیل خان (22-09-11)
پرانا 22-09-11, 09:56 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,466
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حسن قادری مراسلہ دیکھیں
مشورہ اچھا ھی نھیں بہت ھی اچھا ھے۔،،،،،،،،،،
جناب صرف اچھا ہی نہیں بلکہ اس پہ عمل کرنا بھی ضروری ہے
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
نبیل خان کا شکریہ ادا کیا گیا
فکری (22-09-11)
پرانا 22-09-11, 01:11 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2008
مراسلات: 617
کمائي: 11,180
شکریہ: 363
473 مراسلہ میں 1,332 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راشد احمد آن لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
پولیس, پاکستان, پسند, ڈاٹ, مفت, موت, ملیریا, اللہ, الزام, اردو, بچوں, تعلیم, جرم, روزہ, زندگی, سال, عقل, علاج, صنعت, صاف, صابن, صارفین, صبح, صحت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کامن ویلتھ گیمز پر ڈینگی وائرس کا حملہ ، متعدد کھلاڑی ہسپتال پہنچ گئے ، گیمز ویلج پر مچھروں کا قبضہ جاویداسد خبریں 2 04-10-10 02:20 PM
بھارت مزید دس ڈیم بنانے کا منصوبہ بنا رہا ہے،جماعت علی ابن جلال خبریں 0 11-10-08 02:50 PM
بجلی کا بحران،ادویہ کی صنعت برآمدات کاہدف پورا نہیں کر سکے گی ابو کاشان خبریں 0 16-01-08 11:22 PM
بائیکاٹ نہ ہو تو چارٹر آف ڈیمانڈ کی 6 شرائط کی حمایت کرینگے، شجاعت عبدالقدوس خبریں 0 08-12-07 08:02 AM
جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 08:28 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:09 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger