واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


کثرت کو مٹانا ہے قلت سے اگر

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 30-12-09, 03:11 PM   #1
کثرت کو مٹانا ہے قلت سے اگر
راجہ اکرام راجہ اکرام آن لائن ہے 30-12-09, 03:11 PM

شیطان نے جس دن حضرت آدم علیہ السلا م کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا اس دن سے ہی حق و باطل، خیر و شراور نیکی و بدی کے درمیان کشمکش کا آغاز ہو گیا تھا۔ زمین پر انسان کے نزول کے بعد ابلیس نے اپنا کام شروع کر دیا ، عباد الرحمن کے مقابلے میں اس نے اپنے کارندے تیار کرنا شروع کر دیئے ۔ طاقت اور صلاحیتوں کو استعمال کر کے اس نے ابتدائی دور ہی سے اپنے ہمنوا تلاش کر لئے تھے۔

اس سلسلے میں اس کی سب سے پہلی کامیابی ہابیل اور کابیل کا واقعہ ہے۔ اور اس کے بعدحرص و ہوس کے پجار ی ایک ایک کر کے اس کی صف میں شامل ہوتے ہوگئے ، اپنے رب کے انعامات کی احسان فراموشی کر کے شیطان کے پیچھے چل پڑے ۔ تب سے آج تک تاریخ انسانی حزب اللہ اور حزب الشیطان کے معرکوں سے لبریز ہے کہ کس طرح ابلیس اور اس کے پیروکاروں نے حق پرست بندگان خدا کو راہ راست سے باز رکھنے اور باز نہ آنے والے افراد کو مختلف انداز سے ایذا رسانی کا سلسلہ جاری رکھا جو کہ ہنوز جاری ہے۔ہابیل و کابیل، ابراہیم علیہ السلام و نمرود، موسی علیہ السلام و فرعون علی ہذا القیاس۔۔ اقبال نے اسی بات بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے کہ
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بو لہبی


اسلام کی آمد کے بعد دنیا میں رائج کفر کی سلطنتوں کے خلاف بے شمار جنگیں ہوئیں ، بڑی کامیابیاں ہوئیں اور تاریخ اسلام فتوحات کے طویل ابواب سے بھری پڑی ہے ۔ لیکن یہی تاریخ اپنی تمام تردرخشانیوں کے علی الرغم بعض ایسے واقعات بھی اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے جو خون کے آنسو رلانے کے لئے کافی ہیں ، جن کو رونما ہوتے دیکھ کر زمین و آسماںپر سکتا طاری ہو جاتا تھا۔ ان واقعات میں سے واقعہ کربلا سب سے دردناک ہے۔ اس واقعے کی تفصیلات سے شاید ہی کوئی مسلمان ناواقف ہو ۔ نواسہ رسول ، جگر گوشہ بتول اپنے بہتر جانثاروں کے ساتھ نکلے اور اپنے نانا صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت پر عمل کرتے ہوئے باطل کے خلاف ڈٹ گئے۔ ان کی نگاہ میں تعداد اور مال و اسباب کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ کبھی یہ قدم نہ اٹھاتے ۔
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشا لب بام ابھی

جب خلافت ملوکیت میں تبدیل ہو گئی ، حکمران طبقہ عیش و عشرت میں مشغول ہو گیا ، شاہی خزانے کو اپنی ملکیت سمجھا جانے لگا ، اسلام کی بنیادی اقدار کا خاتمہ ہو گیا، نسلی اور قومی عصبیتوں کا دور شروع ہو گیا ،اسلامی طریقے کے خلاف ایک شخصی حکومت ہو گئی اور اس کی زبردستی بیعت لی جا رہی تھی ۔ امام حسین رضی اللہ عنہ نے بیعت سے انکار کر دیا ۔ اور بیعت کر بھی کیسے کر سکتے تھے ۔ اپنے نانا کی سنتوں سے کیسے منہ موڑ سکتے تھے ۔ تربیت ہی ایسی تھی کہ اسلام کے خلاف کوئی قدم اٹھانا تو کجا سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔

کوفہ کا علاقہ اسلامی تاریخ میں مختلف وجوہات کی بنا پر اچھے نام سے یاد نہیں کیا جاتا۔ اس واقعہ میں بھی ان کا کردار قابل تعریف نہ رہا۔ انہوں نے خطوط بھیج کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلایا کہ آئیے ہم آپ کی بیعت کریں گے ۔ حضرت حسین اپنے اہل و عیا ل کے ساتھ کوفہ جانے کے لئے تیا ر ہوئے ۔ آپ کے قافلے میں معصوم بچے اور خواتین بھی شریک تھیں۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت مشیت الہی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خبر پہلے ہی دے دی تھی کہ حسین رضی اللہ عنہ اپنی جان کا نذرانہ دے کر اسلام کی آبیاری اپنے خون سے کریں گے ۔ لیکن جن حالات میں یہ واقعہ پیش آیا ، اس کا جو پس منظر تھا اسے جاننے سے اس قربانی کی اہمیت مزید اجاگر ہوجاتی ہے اور دل میں عظمت حسین رضی اللہ عنہ میں اضافہ ہوتا ہے ۔

تعداد صرف بہتر ، جن میں سے بھی 32سوار اور 40پیادہ ۔ کوئی فوج نہیں ۔اپنوں سے سینکڑوں میل دور ، خواتین اور بچوں کے ساتھ ۔ دوسری جانب چار ہزار فوج ، مسلح اور تربیت یافتہ ۔ان حالات میں اتنا بڑا قدم اٹھانا اور ناحق کے سامنے جھکنے سے انکا ر کر دینا بلا شبہ قربانی کا بہت اعلی مرتبہ ہے۔ ایں سعادت بزور بازہ نیست
معرکہ بپا ہو گیا ایک ایک کر کے تمام جانثار شہید ہوتے گئے ۔ آخر میں جنت کے نوجوانوں کے سردار رہ گئے ، نماز عصر کا وقت ہوا آپ نے نماز شروع کی جب آپ سجدے میں اپنے رب کے قریب ہوئے تو شمر نے آپ علیہ السلام کو شہید کر دیا ۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون)

ہر سال کی طرح اس سال بھی 10محرم الحرام کا دن گزر گیا۔ ہم میں سے ہر کسی نے روایتی انداز میں اپنی محبت کا اظہار کرنے کی کوشش کی ۔ جلسے جلوس ہوئے، ریلیاں نکالی گئیں، ماتم ہوئے الغرض ہر کسی نے اپنے انداز سے اظہار محبت کے لئے کوشش کی۔

لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اس طرح ہم محبت کا حق ادا کرنے میں کامیاب ہوگئے؟

کیا سنت شبیری ہم سے یہی تقاضا کرتی ہے ؟ کیا روز حشر ہم سر اٹھا کر یہ کہہ سکیں گے کہ ہم نے حق ادا کر دیاتھا؟ کہیں ہم دیگر رسم و رواج کی طرح یہ دن بھی صرف تقریبات میں تو نہیں گزار رہے؟

آج امت مسلمہ جن حالات سے دوچار ہے وہ ان سے چنداں مختلف نہیں ہیں جن میں امام شہید رضی اللہ عنہ نے عظیم قربانی دی۔ اگر مسلمان کفار کے مقابلے میں عددی لحاظ سے کم ہیں تو وہ بھی چار ہزار کے مقا بلے میں صرف بہتر تھے۔ اگر ہم جدید جنگی سازو سامان کے لحاظ سے دشمن سے کم ہیں تو ان72میں سے بھی صرف 32سوار تھے باقی پا پیادہ تھے۔

اس پر مزید یہ کہ یہ قافلہ جنگ کے لئے تیار ہو کر نہیں گیا تھا کیوں کہ بچوں اور خواتین کو جنگی فوج میں نہیں رکھا جاتا۔ اور ہمارے پاس تیاری کے لئے بے شمار وقت ہے ۔ اگر ایک بار پھر وہی جذبہ بیدار ہوجائے تو وہ وقت دور نہیں جب چہار دانگ عالم میں ایک بار پھر اسلام کا پرچم لہرا رہا ہو اور پوری انسانیت امن اور چین کے ساتھ اسلام کی رحمتوں سے بہرہ ور ہو۔

اور اگر ہم کامیاب نہ بھی ہوئے تو کم از کم تاریخ ہمیں اچھے الفاظ میں یاد تو رکھے گی ۔ کیوں کہ کربلا میں اگرچہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اپنے چند جانثاروں کے ساتھ شہید ہو گئے اور بظاہر ابن زیاد میدان جنگ میں کامیاب رہا ۔ اور جنگ کے بعد کوفہ کی جامع مسجد میں اس نے امام حسین رضی اللہ عنہ کا سر رکھ کر یہ اعلان بھی کیا کہ امام حسین ہار گئے اور یزید جیت گیا لیکن تاریخ گواہ ہے کہ امام حسین ہار کر جیت گئے اور یزید جیت کر ہار گیا کیوں کہ یہ خالق کائنات کی سنت ہے کہ فتح ہمیشہ حق کی ہوتی ہے ۔

اس پر مزید یہ کہ جو حیات جاوداں اور تذکرہ خیر حسین کے حصے میں آیا وہ دوسروں کے لئے کہاں۔
نہ شمر کی وہ جفا رہی نہ ابن زیاد کا وہ ستم رہا
رہا تو نام حسین کا جسے زندہ رکھتی ہے کربلا


آج کا دن ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم ایک بار پھر متحد ہو جائیں ، آپس کے اختلافات کو ختم کر کے اسلام کے حیقیقی پیغام کو دنیا تک پہنچانے کے لئے نواسہءرسول صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت پر عمل پیرا ہو جائیں تاکہ کسی اسرائیل کی دوبارہ یہ ہمت نہ ہو کہ فلسطین کے نہتے مسلمانوں پر چڑھ دوڑے۔ کسی افغانستان اور عراق پر امریکہ کو حملہ کرنے کی جرات نہ ہو ۔ لیکن اس کے لئے ہمیں وہ جگر پیدا کرنا ہوگا کیوں کہ۔۔۔
کثرت کو مٹانا ہے قلت سے اگر
احمد کے نواسے کا جگر پیدا کر
__________________
محتاج اصلاح و دعا


 
راجہ اکرام's Avatar
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 311
Reply With Quote
13 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (31-12-09), فیصل ناصر (30-12-09), یاسر عمران مرزا (30-12-09), نیلم خان (11-01-10), منتظمین (30-12-09), ایس اے نقوی (30-12-09), ام طلحہ (31-12-09), ابن حسن (12-01-10), بزم خیال (30-12-09), حیدر (31-12-09), رضی (12-01-10), سفر زندگی کا (31-12-09), سحر (30-12-09)
پرانا 30-12-09, 03:32 PM   #2
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,614
شکریہ: 9,805
7,524 مراسلہ میں 22,595 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سرورق کے لیے پیش کریں۔

والسلام
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
sahj (31-12-09), نیلم خان (11-01-10), ایس اے نقوی (30-12-09), بزم خیال (30-12-09), حیدر (31-12-09), راجہ اکرام (30-12-09), سفر زندگی کا (31-12-09)
پرانا 30-12-09, 05:28 PM   #3
Senior Member
 
ایس اے نقوی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
عمر: 32
مراسلات: 5,924
کمائي: 352,016
شکریہ: 20,508
4,952 مراسلہ میں 14,662 بارشکریہ ادا کیا گیا
ایس اے نقوی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں ایس اے نقوی کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شکریہ راجا اکرام آپکا
آپ کی تحریر موجودہ وقت و حالات کے مطابق ہے
ایک اچھی تحریر پر آپکو 1000 پوائینٹ انعام میں ارسال کئے جاتے ہیں شکریہ
اکرام صاحب آپکے 850 پوائینٹ ہم پر ادھار رہے انشاءاللہ سسٹم میں بہتری کےساتھ ہی ارسال کر دیئے جائیں گے شکریہ
منتظمین ابھی تک وہ ہی مسئلہ درپیش ہے
Sorry, you do not have that amount to donate

Last edited by ایس اے نقوی; 30-12-09 at 05:30 PM.
ایس اے نقوی آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے ایس اے نقوی کا شکریہ ادا کیا
sahj (31-12-09), نیلم خان (11-01-10), ام طلحہ (31-12-09), بزم خیال (30-12-09), حیدر (31-12-09), راجہ اکرام (30-12-09), سفر زندگی کا (31-12-09)
پرانا 30-12-09, 07:14 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شاہ جی آپ بھائیوں کی حوصلہ افزائی ہی کافی ہے۔ پوائنٹس تو آنی جانی چیز ہے۔
بس دعا کیا کریں اللہ میاں مجھے ہدایت عطا فرمادے۔۔ آمین
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
sahj (31-12-09), ام طلحہ (31-12-09), ابن حسن (12-01-10), بزم خیال (30-12-09), حیدر (31-12-09)
پرانا 30-12-09, 11:39 PM   #5
ذیلی ناظم
 
نیلم خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2009
مقام: Rawalpindi
مراسلات: 11,872
کمائي: 560,375
شکریہ: 25,518
10,398 مراسلہ میں 38,457 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

ماشاء اللہ اچھی تحریر ہے اللہ پاک مزید برکتوں سے نوازے آمین
نیلم خان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے نیلم خان کا شکریہ ادا کیا
sahj (31-12-09), حیدر (31-12-09), سفر زندگی کا (31-12-09)
پرانا 30-12-09, 11:42 PM   #6
Senior Member
 
بزم خیال's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2009
مراسلات: 1,328
کمائي: 29,425
شکریہ: 4,416
1,048 مراسلہ میں 3,152 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

راجہ بھائی بہت شکریہ آپ نے ایک اہم موضوع پر قلم اٹھایا اور خوبصورت انداز میں حق و سچائی کو تاریخی آئینہ سے دکھایا !
والسلام
بزم خیال آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے بزم خیال کا شکریہ ادا کیا
sahj (31-12-09), ام طلحہ (31-12-09), حیدر (31-12-09), راجہ اکرام (31-12-09), سفر زندگی کا (31-12-09)
پرانا 31-12-09, 10:20 AM   #7
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,363
کمائي: 95,392
شکریہ: 52,449
11,148 مراسلہ میں 35,184 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اکرام بھائی بہت خوبصورت اور جامع تحریر ہے آپکی۔ اللہ آپکے قلم کو مزید جولانیاں عطا کرے۔ آمین
مزے کی بات یہ ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں سب سے خطرناک دوراہا وہ ہوتا ہے جس میں ایک ہی دین کے ماننے والے ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہو جاتے ہیں اور ہر کوئی خود کو ہی حق پر گردان رہا ہوتا ہے۔مجھے یاد ہے کہ جب امام حسین میدان مقتل میں حق اور باطل والی آیات تلاوت کر رہے تھے تواس وقت عربی جاننے والے قاتل ان کے گرد گھوڑے دوڑا دوڑا کر چلا چلا کر کہہ رہے تھے کہ بے شک ہم ہی حق ہیں اور تم ہی باطل ہو اور بے شک حق کو فتح ہو رہی ہے۔لیکن آپ نے بجا حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ حق یا باطل ہونے کا فیصلہ جنگیں یا فتوحات نہیں کیا کرتیں بلکہ تاریخ کیا کرتی ہے۔آج اس دنیا کے کسی بھی ذی شعور شخص کو اس بات کا ذرہ برابر شک نہیں ہے کہ امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ اللہ کی طرف سے حق پر تھے اور یزید ملعون باطلین میں سے تھا۔تاریخ آج کے جاری معرکوں میں سے بھی حق اور باطل کا فیصلہ ضرور کرے گی۔لیکن افسوس محض یہ ہے کہ ہم تاریخ سے کچھ سبق نہیں سیکھتے۔ ہر طاقتور خود کو حق پر گردانتے ہوئے کمزورکو قتل کر دینے کے در پے ہے۔ہر دور کا یزید ہر دور میں اک نیا کربلا بپا کر دیتا ہے
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
sahj (31-12-09), ام طلحہ (31-12-09), سفر زندگی کا (31-12-09)
پرانا 31-12-09, 11:00 AM   #8
ناظم اعلی
 
ام طلحہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
عمر: 36
مراسلات: 4,759
کمائي: 118,659
شکریہ: 8,154
3,796 مراسلہ میں 11,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت ہی اعلیٰ راجہ بھائی!! جزاک اللہ
ام طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ام طلحہ کا شکریہ ادا کیا
حیدر (31-12-09), راجہ اکرام (31-12-09), سفر زندگی کا (31-12-09)
پرانا 31-12-09, 02:03 PM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

تمام احباب کا بہت شکریہ
اللہ آپ سب کو جزائے خیر دے
دعاؤں کی درخواست
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
ابن حسن (12-01-10), حیدر (31-12-09)
جواب

Tags
کربلا, واقعات, قدم, چین, نماز, محبت, مسجد, آج, اللہ, انسان, امریکہ, اسلامی تاریخ, بچوں, تلاش, جیت, حزب اللہ, خون, خواتین, خلاف, خبر, خدا, دل, سال, عشق, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:13 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger