واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


کراچی سیاسی قاتلوں کے نرغے میں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-05-11, 12:26 PM   #1
کراچی سیاسی قاتلوں کے نرغے میں
JISOUTH JISOUTH آف لائن ہے 26-05-11, 12:26 PM

وکی لیکس امریکی سفارتکاروں کے حوالے سے پاکستان کے بارے میں جو انکشافات کررہی ہے وہ ضروری نہیں کہ 100 فیصد درست ہوں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان انکشافات کی بنیاد امریکی سفارتکاروں کی رائے اور تجزیہ ہے جو غلط بھی ہوسکتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آخر پاکستان ہی کیوں؟شروع میں ایسا لگا تھا کہ وکی لیکس امریکا کے پول کھول رہی ہے اور اسے بدنام کررہی ہے جس پر امریکا نے احتجاج بھی کیا تھا اور وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کوگرفتار بھی کیا گیا۔ لیکن اب یہ واضح ہوگیا کہ اس کھیل کے پیچھے امریکا ہے اور اصل نشانہ مسلم ممالک ہیں۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ اسرائیل کے حوالے سے کوئی انکشاف نہیں کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق وکی لیکس اور اسرائیلی حکومت کا اس ضمن میں معاہدہ ہے۔ یہ بات طے ہے کہ جو چیز اسرائیل کے مفاد میں ہو وہ امت مسلمہ کے لیے نقصان دہ ہے۔ امریکا کے حوالے سے شروع میں جو چند انکشافات کیے گئے ان کا تجزیہ کیا جائے تو آسانی سے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ ان کا مقصد امریکا کی طاقت کی دھاک بٹھانا اور کمزور ممالک کو مزید خوفزدہ کرنا تھا۔ بہرحال یہ ثابت ہوگیا ہے کہ امریکی سفارتکار دوسرے ممالک میں سفارتکاری کے بجائے جاسوسی کرتے رہے ہیں۔ تاہم امریکی سفارتکاروں کے تجزیوں اور رائے کو یکسر مسترد بھی نہیں کیا جاسکتا۔ مبالغہ اور شرارت کا عنصر ہوسکتا ہے لیکن ان میں کسی حد تک صداقت بھی ہے۔ پچھلے دنوں کراچی کے حوالہ سے ایک رپورٹ دی گئی جس کا لب لباب یہ تھا کہ اس شہر میں قاتلوں‘ گروہ بند اور قانون شکن عناصر کی تعداد پولیس سے کہیں زیادہ ہے اور وہ پولیس کے مقابلہ میں کہیں زیادہ بہتر اور جدید اسلحہ سے لیس ہیں۔ یہ وہ پہلو ہے جو کراچی کے ہر شہری کے مشاہدے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بے کھٹکے ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم کا سلسلہ جاری ہے اور طاقتور گروہوں کے مقابلہ میں پولیس بے بس ہے۔ بات صرف پولیس کی نہیں جس کے پاس وسائل بھی بہت کم اور غیرمعیاری ہیں بلکہ دیگر طاقت ور ایجنسیاں بھی یا تو بے بس ہیں یا ان کی مصروفیات کچھ اور ہیں۔ البتہ ان کا زور ایسے شہریوں پر خوب چلتا ہے جو اپنی مدافعت نہیں کرسکتے۔قانون نافذ کرنے والے اہلکار ویسے تو کسی کے بھی گھر میں گھس کر من مانی کرجاتے ہیں مگر گروہ بند بدمعاشوں اور سیاسی پشت پناہی رکھنے والے مجرموں کے علاقے ان کے لیے بھی علاقہ ممنوعہ ہیں اور وکی لیکس نے بھی اس پہلو کی نشاندہی کی ہے۔ وکی لیکس نے نام بنام ان جرائم پیشہ گروہوں اور سماج دشمن عناصر کا ذکر کیا ہے۔ امریکی قونصل جنرل اسٹیفن فیکن نے اپریل 2009 ءمیں جو رپورٹ تیار کی تھی اس کے مطابق کراچی میں جو مسلح گروہ کام کررہے ہیں ان میں پاکستان پیپلزپارٹی‘ متحدہ قومی موومنٹ‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ ایم کیو ایم حقیقی‘ سنی تحریک او رپشتون دہشت گردوں کے علاوہ دیگر مسلح جتھہ بند بھی ہیں جولیاری او رشہر کے دوسرے حصوں میں اپنی کارروائی میں مصروف ہیں۔ مہاجروں او رپشتونوں میں شہر پر قبضے کی جنگ جاری ہے۔ بیشتر گروہوں کا تعلق کسی سیاسی جماعت ‘کسی سماجی تنظیم یا دہشت گرد گروپ سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکمران پیپلزپارٹی کا ایسا کوئی مسلح ونگ نہیں ہے لیکن صوبائی وزیر داخلہ نے پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو بڑی تعداد میں اسلحہ لائسنس جاری کیے تاکہ وہ بھی متحدہ قومی موومنٹ کے برابر مسلح ہوجائیں ‘ان کے پاس بغیر لائسنس کا اسلحہ بھی ہے۔ یہ رپورٹ اس سے پہلے کی ہے جب وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا نے لیاری امن کمیٹی کو پیپلزپارٹی کے بچے کہا تھا اور متحدہ نے انہیں ٹارگٹ کلر اور دہشت گرد قرار دیا تھا۔ رپورٹ کا یہ پہلو انتہائی تشویشناک ہے کہ وزیر داخلہ سندھ نے مسلح دہشت گردوں کو پکڑنے‘ اسلحہ برآمد کرنے کے بجائے پی پی کے کارکنوں کو بھی مقابلے کے لیے مسلح کرنے کو ترجیح دی۔ ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں مزید خون خرابہ ہوگا اور یہ نظر بھی آرہا ہے۔ ایسے حالات میں پاکستان دشمن دہشت گردوں کو مقامی جرائم پیشہ عناصر اور ٹارگٹ کلرز کا تعاون حاصل کرنے میں کیا مشکل پیش آسکتی ہے۔شہر میں قتل وغارت گری میں مصروف جن گروہوں اور ان کے سرپرستوں کا نام مذکورہ رپورٹ میں دیا گیا ہے ان کی ”کارکردگی“ بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ اب تو ایجنسیاں بھی گرفتار قاتلوں کی وابستگی پر پردہ ڈالنے میں ناکام رہی ہیں۔ وکی لیکس کے مطابق کراچی میں متحدہ کے 10 ہزار مسلح افراد سرگرم ہیں اور 25 ہزار ریزروفورس میں ہیں ۔ گزشتہ دنوں ایسے کئی ا فراد پکڑے گئے جنہوں نے دوسری پارٹی کے لوگوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا۔ متحدہ اور اے این پی کے ساتھ سنی تحریک بھی میدان میں کود پڑی ہے گو کہ اس کے زیر تسلط علاقے کم ہیں مگر اٹھان ایم کیو ایم جیسی ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہو کہ ایم کیو ایم حقیقی کے معتوب افراد نے سنی تحریک میں پناہ حاصل کی۔ قائد سے غداری کرنے والوں کے لیے موت کا فتویٰ کبھی واپس نہیں لیا گیا۔ ایم کیو ایم حقیقی کے دو دھڑے ہوگئے اور ایک دھڑے کے چیئرمین عامر خان جیل سے رہا ہوکر نائن زیرو کی طرف جارہے ہیں تاکہ جیل سے باہر محفوظ رہ سکیں۔ لیکن کیا انہیں متحدہ کی روایت کا علم نہیں۔ متحدہ کے ”حق پرست“ ارکان سندھ اسمبلی مطالبہ کررہے ہیں کہ سیکٹر یونٹ 181 کے جوائنٹ انچارج افتخار حسین کے بہیمانہ قتل میں ملوث سفاک قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ ضرور گرفتار کیا جانا چاہیے۔ لیکن اس سے پہلے متحدہ کے کئی گرفتار قاتل متعدد افراد کی ٹارگٹ کلنگ کا اعتراف کرچکے ہیں۔ پولیس نے سولجر بازار سے مقابلے کے بعد ایک مذہبی تحریک کے سیکٹرانچارج اور 3 کارکنوں کو گرفتار کیا ہے جنہوں نے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے یوسی ناظم سمیت متحدہ کے 8 کارکنوں او رکالعدم سپاہ صحابہ سے تعلق رکھنے والے پیش امام کو قتل کیا ہے۔ یہ جواد قادری‘احسن قادری‘ وقاص اور عقیل وغیرہ ہیں اور نام سے ظاہر ہے کہ ان کا تعلق کس ”مذہبی “ تحریک سے ہوگا۔ ملزمان کی نشاندہی پر مختلف علاقوں سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ وکی لیکس کی رپورٹ میں امریکی قونصل جنرل نے سہواً سپاہ محمد کا نام نہیں لیا۔ وہ بھی سرگرم قتل ہے۔ بدھ کی صبح ہی پولیس نے گلشن کی امام بارگاہ سے گرفتار ہونے والے سپاہ محمد کے ٹارگٹ کلر کی نشاندہی پر اورنگی ٹاﺅن میں امام بارگاہ کے عقب سے مدفون اسلحہ برآمد کیا ہے۔ کالعدم سپاہ محمد کے ٹارگٹ کلر منتظر امام نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر کالعدم سپاہ صحابہ کے کارکنوں کو قتل کیا۔ اس کے دیگر ساتھیوں کی تلاش میں چھاپے مارے جارہے ہیں۔ اے این پی کے ٹارگٹ کلرز بھی پکڑے گئے ہیں۔ صورتحال سے ظاہر ہے کہ سفاک قاتلوں کے بے شمار گروہ سرگرم عمل ہیں اور ہر ایک شور بھی مچارہا ہے کہ سفاک قاتلوں کو گرفتار کیا جائے۔ اب ایسا نہیں کہ قاتلوں نے دستانے پہن رکھے ہوں‘ نقاب ڈالا ہوا ہو۔ امریکی سفارتکار تک قاتلوں کی نشاندہی کررہے ہیں تو باقی کیا رہ جاتا ہے۔ لیکن حکمران اپنے اقتدار کی خاطر کسی پر ہاتھ نہیں ڈالتے‘ ذوالفقار مرزا شور مچا کر امریکا جا بیٹھے۔ وفاقی وزیر داخلہ صرف حکومت بچانے میں لگے ہوئے ہیں‘ عوام کو بچانے والا کوئی نہیں۔ مسلح جتھوں نے عوام کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ حکومت ڈرون حملے کیا رکوائے گی اور فوجی تنصیبات کی حفاظت کون کرے گا‘ یہاں تو گھٹیا قسم کے گروہ بندوں کے سامنے بھی سب بے بس ہیں۔ شہر کے اندر حکومتیں قائم ہیں جہاں قانون نافذ کرنے والے قدم نہیں دھر سکتے۔ حالات کس رخ پر جارہے ہیں کیا کسی کو اندازہ نہیں؟

JISOUTH
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مراسلات: 66
شکریہ: 16
53 مراسلہ میں 142 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 85
Reply With Quote
JISOUTH کا شکریہ ادا کیا گیا
skjatala (26-05-11)
جواب

Tags
کراچی, پولیس, پاکستان, وزیر, قدم, نظر, موت, مقابلہ, مجرموں, معلوم, احتجاج, تلاش, جیل, خون, خان, ذوالفقار, شہر, شور, طاقتور, صوبائی, صورتحال, صبح, صحابہ, صداقت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سہیل احمد سیاسی فنکاروں کے روپ میں ایس اے نقوی آپ اور ہم - دکھ سکھ کے ساتھی 2 21-05-11 07:12 PM
کراچی میں سیاسی دہشت گردوں کا راج ALI-OAD خبریں 0 17-01-11 08:49 PM
سیاسی یتیموں نے حکومت غیر مستحکم کرنے کیلئے سیاسی اداکاروں سے گٹھ جوڑ کر لیا ہے: زرداری جاویداسد خبریں 0 01-10-10 07:27 PM
سیاسی مفاہمت عوام کے خلاف سیاستدانوں کا اتحاد ہے ، جماعت السنہ عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 12:49 PM
کسی سیاسی جماعت کو وکلا تحر یک پر اثر انداز نہیں ہو نے دینگے،بار کونسلوں ک عبدالقدوس خبریں 0 22-06-08 08:42 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:14 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger