واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


کراچی کے مرکز میں توہین قرآن و سنہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-11-10, 07:45 PM   #1
کراچی کے مرکز میں توہین قرآن و سنہ
ALI-OAD ALI-OAD آف لائن ہے 01-11-10, 07:45 PM

کراچی کے مرکز میں توہین قرآن و سنہ نزہت منعم حوادثِ ہوں یا انقلاباتِ زمانہ.... تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ، ہر جگہ اور ہر حال میں اپنا علیحدہ تشخص برقرار رکھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لاالٰہ الا اللہ محض ایک کلمہ نہیں بلکہ ایک ایسا نظریہ ہے جو حیات ِانسانی سے وابستہ ہر شئے اور ہر تعلق پر اثرانداز ہوتا ہے۔ بود و باش ہو یا طرزِ تعمیر، اسلام کا ایک خاص مزاج اور رنگ ہے جو ہر چیز سے جھلکتا ہے۔ اب جبکہ دنیا کو یونی پولر ورلڈ بنانے کی جانب تیزی سے پیش قدمی ہورہی ہے تو اس راہ میں بھی مسلمان ہی حائل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں پر ہر چہار جانب سے حملے کیے جارہے ہیں۔ مسلمانوں کی اس اجتماعی انفرادیت کو ختم کرنے کے لیے کہیں اسکارف پر پابندی ہی، تو کہیں میناروں کی تعمیر ممنوع قرار دی جارہی ہے۔ لیکن تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ بادِ مخالف کی تندی و تیزی مسلمانوں کے قدم مزید جما دیتی ہے۔ اس کی ایک چھوٹی سی مثال یورپ میں گز بھر کے اسکارف کے لیے مسلم خواتین کی جدوجہد ہی، جبکہ مسلم معاشروں میں خواتین کا بغیر حجاب کے باہر آنا عام بات ہے۔

اسی طرح ہندوستان میں ماتھے پر بندیا اور مانگ کا سیندور عورت کے ہندو ہونے کی نشانی ہے اور اسلامی عقائد کی رو سے ہندوستان کی مسلم خواتین اسے اپنانا گناہ سمجھتی ہیں، جبکہ پاکستان جو ایک اسلامی مملکت ہے وہاں یہ فیشن کا حصہ بنتا جارہا ہے۔ ایک طرف جہاں دارالکفر میں مسلمان اپنے علیحدہ تشخص کو برقرار رکھنے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف دارالاسلام میں مسلمانوں کی عظیم اکثریت شعائرِ اسلام کی توہین ہوتے دیکھ رہی ہے۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو اسلامی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا، اور جس کے قیام کے لیے بے پناہ قربانیاں دی گئیں۔ صرف اسلام کی خاطر اپنے گھر بار، کاروبار اور خونیں رشتوں کو چھوڑ کر بڑی تعداد میں لوگوں نے ہجرت کی۔ یوں ہجرت ِ مدینہ کی یاد تازہ کی۔

اسی ہجرت کے نام پر مہاجر کہلانے والوں نے اس ملک میں جس شہر کو بنایا، بسایا اور سجایا اسی شہر میں ”مہاجر“ کا اعزاز صرف ایک قومیت بن کر رہ گیا۔ پڑھے لکھے اور باشعور عوام کے شہر کراچی کی داستانِ غم تو بہت طویل ہے مگر آج یہاں ذکر ہورہا ہے ایک ایسی عمارت کا جو کراچی کے خوب صورت علاقے فیڈرل بی ایریامیں ہجرت کے چودہ سو سال گزر جانے اور پندرہویں صدی ہجری کے آغاز یعنی سن 1400 ہجری کے آغاز پر تعمیر کی گئی۔ اس عمارت کا سنگِ بنیاد کراچی کے میئر جناب عبدالستار افغانی مرحوم کے دور میں رکھا گیا۔ ”المرکز اسلامی“ کا خوب صورت نام پانے والی یہ عمارت اسلامی طرزِ تعمیر کا خوب صورت شاہکار ہے۔ سفید سنگِ ِمرمر سے مزین، درمیان میں وسیع گنبد اور محراب اس کے حسن میں اضافہ کرتے ہیں۔

اس عمارت میں خوب صورت اور وسیع آڈیٹوریم ہے جس کا مقصد تعلیمی کانفرنسوں کا انعقاد تھا۔ اس میں کئی وسیع ہال، لائبریری اور اسلامی اسکالرز کے قیام کے لیے مہمان خانے بھی موجود ہیں۔ وسیع و عریض ہال میں معروف خطاط جناب صادقین مرحوم کے تیار کردہ قرآنی آیات کے طغرے آویزاں ہیں، جبکہ دیواروں پر خوب صورت خطاطی میں قرآنی آیات اور کلمہ طیبہ کندہ ہیں۔ سابق سٹی ناظم جناب نعمت اللہ خان کے دورِ نظامت میں اس دیدہ زیب عمارت میں حسن قرات اور نعتیہ مقابلے منعقد ہوتے رہے ہیں، رمضانوں میں تراویح کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے اور مختلف علمی و قومی موضوعات پر مذاکرے اور سیمینارز کا اہتمام بھی ہوتا رہا ہے۔ 16جون 2003ءکو”شہری ضلع کونسل“ کراچی نے قرارداد نمبر302کے تحت 2002-2003ءکے میزانیہ میں شامل منصوبہ برائے قرآن و حدیثِ نبوی ریسرچ اکیڈمی کے قیام کی موثر پیش رفت کے لیے ایک خودمختار ادارہ قائم کرنے کی منظوری دی جو ضلع ناظم کی نگرانی میں ایک بورڈ آف گورنر زکے تحت کام کرنے لگا۔

یہ ادارہ المرکز اسلامی کی عمارت میں قائم کیا گیا جس کا مقصد اسلام کی ترویج تھا۔ قرآن و حدیث ریسرچ اکیڈمی کے اغراض و مقاصد یہ تھی: (1) معاشرے میں ایسے طرزِ فکر، تہذیب و تمدن اور ثقافت کا احیاءجو قرآن وسنہ کے تقاضوں کے مطابق ہوں۔
(2) معاشرے کو اسلامی تعلیمات کے مطابق رہنمائی فراہم کرنا۔ یہ کام بذریعہ مطبوعات، الیکٹرانک میڈیا، سیمینارز، کانفرنسز، صوبائی، قومی و بین الاقوامی اداروں کے اشتراک و تعاون سے کیا جائے گا۔
(3) ایک مرکز کا قیام جہاں قرآن و سنہ کے حوالے سے کیا گیا تحقیقی کام یکجا و ذخیرہ کیا جاسکے۔
(4) اکیڈمی قرآن وسنہ کی تعلیمات پر مبنی معلومات فراہم کرنے کا ذریعہ بھی بنے گی اور یہ کام مختلف اداروں، محققین، ذہین طالب علموں کے اشتراک سے کیا جائے گا۔
(5) قرآن و سنہ کے حوالے سے مقالی، کتابچی، کتابیں، رسائل، سمعی وبصری کیسٹس، سی ڈیز، ویڈیوز وغیرہ کی تیاری وفراہمی اور اشاعت۔ (6)اکیڈمی کے اغراض ومقاصد کی تکمیل کے لیے ورکشاپ، تربیتی پروگرام، مختصر دورانیہ کے کورسز اور کانفرنسوں کا انعقاد۔
(7) اسلامی موضوعات پر تعلیمی اداروں اور دیگر ذرائع کے تعاون سے مقامی، صوبائی، قومی و بین الاقوامی سطح پر مقابلوں کا اہتمام کرنا جن میں خواتین کے پروگراموں کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہو۔
( خواتین، نوجوان، مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد خصوصاً اساتذہ، تاجر، سول و پولیس انتظامیہ اور تعلیمی اداروں سے متعلق افراد جو قرآن وسنہ کا تعارف حاصل کرنا چاہیں، ان کے لیے ابتدائی کورسز کا انعقاد۔
(9) منتخب نمائندوں، پولیس اور شہری و ضلعی حکومت کے ملازمین کے لیے حسب خواہش کورسز کا انعقاد جس میں اسلامی نظام حکومت میں ان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے تربیت کی جاسکے جو کہ دورانِ ملازمت ترقی کے لیے لازمی ہوں گے۔ قرآن وحدیث ریسرچ اکیڈمی کے اغراض و مقاصد سے واضح ہے کہ یہ عبدالستار افغانی کے دور میں قائم ہونے والے المرکز اسلامی کے مقصد ِقیام کی جانب قدم تھا، لیکن آج جب آپ اس پرشکوہ عمارت کے سامنے سے گزریں تو فیصلہ کرنا مشکل ہوجائے گا کہ یہ گنبد نما عمارت کوئی اسلامی مرکز ہے یا سینما گھر!!
بھانڈ اور میراثیوں کی بہت ساری تصاویر کے درمیان سے یہ عمارت ہم مسلمانوں سے سوال کرتی ہے کہ کیا اب یہ درو دیوار ناچ اور گانے کی آوازوں سے گونجیں گی؟؟ کیا یہ توہینِ قرآن نہیں؟؟

صرف 31 برس میں المرکزِ اسلامی سی، مرکزِ علم و ثقافت اور پھر ”شانزے آڈیٹوریم“.... کیا یوں ہم اپنی شناخت گم نہیں کررہی؟؟ گزشتہ شہری حکومت کے دور میں یہ جگہ بیچ دی گئی، اب یہاں اسٹیج ڈرامے منعقد ہوں گے۔ مال و دولت کی ہوس میں یوں تو کراچی کی بہت سی زمینیں، پارک، یہاں تک کہ نالے بھی قبضہ گروپ کے ہاتھوں اونے پونے داموں بیچے جاچکے ہیں جہاں بلند و بالا تعمیرات ملکی قوانین کا مذاق اڑا رہی ہیں۔ لیکن یہ معاملہ کسی پارک یا خالی پلاٹ کا نہیں بلکہ ایک ایسی عمارت کا ہے جو قرآن کے حوالے سے اپنی پہچان رکھتی ہے۔

مرکز اسلامی یا قرآن و سنہ اکیڈمی میں رقص و سرود کی محفلیں اور ناچ گانا نہ صرف پاکستانی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ توہینِ قرآن بھی ہے۔ آج جب ساری دنیا کے مسلمان یہود و نصاریٰ کی جانب سے قرآن پاک کی توہین پر سراپا احتجاج ہیں تو کیا اپنے شہر کے مرکز میں ہونے والی اس واردات کو ہم برداشت کرلیں گی؟؟ موجودہ انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ کسی ناخوشگوار واقعہ سے پہلے اس جگہ کو واگزار کرایا جائی، اس کی سابقہ حیثیت بحال کی جائے اور آیات ِ قرآنی کی توہین کے مرتکب افراد کو سزا دی جائے۔

http://karachiupdates.com/v2/index.p...6-29&Itemid=33
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)

 
ALI-OAD's Avatar
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 559
Reply With Quote
21 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
ARHAM (02-11-10), sahj (01-11-10), Shafaq (03-11-10), shafresha (02-11-10), فیصل ناصر (01-11-10), پاکستانی (02-03-11), ھارون اعظم (20-03-11), یاسر عمران مرزا (24-11-10), نورالدین (03-11-10), موجو (25-11-10), محمد عاصم (20-03-11), مرزا عامر (02-11-10), حسنین ایوب (25-11-10), شمشاد احمد (03-03-11), شاہ جی 90 (03-11-10), طلحہ (25-11-10), طارق راحیل (20-03-11), عبداللہ آدم (24-11-10), عبداللہ حیدر (20-03-11), عروج (21-11-10), غلام خان (24-11-10)
پرانا 02-11-10, 03:57 PM   #2
Senior Member
 
ARHAM's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2010
مقام: کراچی
مراسلات: 1,290
کمائي: 32,348
شکریہ: 868
1,147 مراسلہ میں 4,168 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم !
جزاک اللہ بھائی ۔۔
یہاں ہر وہ کام ہو رہا ہے جس کی ضرب نظریہ پاکستان پر پڑرہی ہے
میڈیا پر بھی ایسے لوگوں جو لایا جا رہا ہے جو بحثیں کر کر کے لوگوں کا زہن بنا رہے ہیں کی پاکستان اسلام کے نام پر حاصل نہیں کیا گیا
قرآن و سنہ مرکز کو "شانزے سینٹر" میں تبدیل کئے جانے پر حتجاج کے باوجود حکمرانوں کے کانوں پر جو نہیں رینگ رہی ۔۔
روشن خیالی اور سوفٹ امیج دنیا کو دکھا کر ڈالر بٹورے والے حکمرانوں کے دیس میں یہی کچھ ہونا ہے ۔۔
اور عوام کا منہ بند رہنا ہے
میڈیا پر ایسےڈ رامے دکھائے جارہے ہیں جس میں کھلم کھلا حدود اور اسلامی احکامات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے
خاص کر " چھوٹے استاد دو دیسوں کی ایک آواز " میں بھی اس نظریہ کی تکمیل ہو رہی ہے
اور ہم پھر بھی انپروگرامات کے شائقین ہیں
__________________
دختراسلام ڈاکٹر عافیہ صدیقی اور ان کے اہل خانہ کی عظمتوں کو سلام۔
مدہوش حکمرانو! ہوش میں
آؤ۔۔۔
ARHAM آف لائن ہے   Reply With Quote
12 قاری/قارئین نے ARHAM کا شکریہ ادا کیا
Shafaq (03-11-10), shafresha (03-11-10), فیصل ناصر (02-11-10), ھارون اعظم (20-03-11), یاسر عمران مرزا (24-11-10), موجو (25-11-10), مرزا عامر (02-11-10), حسنین ایوب (25-11-10), شمشاد احمد (03-03-11), شاہ جی 90 (03-11-10), عبداللہ حیدر (20-03-11), غلام خان (24-11-10)
پرانا 02-11-10, 11:47 PM   #3
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,689
کمائي: 29,749
شکریہ: 1,514
1,086 مراسلہ میں 3,337 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بے شک /
ALI-OAD آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے ALI-OAD کا شکریہ ادا کیا
Shafaq (03-11-10), shafresha (03-11-10), فیصل ناصر (03-11-10), شمشاد احمد (03-03-11), شاہ جی 90 (03-11-10)
پرانا 03-11-10, 12:08 AM   #4
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,732
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی اس شئیرنگ پر شکریہ قبول فرمائی!!!!

واقعی یہ ایک نہایت افسوس ناک بات ہے!!!!
اللہ عزوجل ہم پر اپنا رحم و کرم نازل فرمائے، آمین ثم آمین ۔۔ ۔ ۔
__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (04-11-10), Shafaq (03-11-10), مرزا عامر (04-03-11), شمشاد احمد (03-03-11), غلام خان (24-11-10)
پرانا 03-11-10, 12:50 PM   #5
Member
اجنبی
 
Shafaq's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مراسلات: 38
کمائي: 4,900
شکریہ: 106
26 مراسلہ میں 48 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

Allah maaf kry

toba
Shafaq آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 24-11-10, 09:16 AM   #6
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,411
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بھائی یہ لوگ وہ مہاجر نہیں ہیں جنہوں نے پاکستان کے خاطر اپنا سب کچھ قربان کیے

یہ ٹولہ تو بھارت ، امریکہ ، بریطانیہ ، اسرائیل کا ٹولہ ہے ان کے چمچے ہیں ، ان کے زر خرید غلام ہیں ، خصوصا متحدہ کو مہاجر کہنا لفظ مہاجر کی تو ھیں ہے،
اللہ ھم سبکو ھدایت دیے۔
غلام خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا
پرانا 25-11-10, 12:35 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مراسلات: 301
کمائي: 7,142
شکریہ: 256
262 مراسلہ میں 945 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

چلو سب مل کر پیسے جمع کریں‌اور اسے واگزار کرانے کے لیے زرداری کو کمیشن کے طور پر دے دیں ۔
طلحہ آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے طلحہ کا شکریہ ادا کیا
موجو (25-11-10), محمدمبشرعلی (20-03-11), حسنین ایوب (25-11-10)
پرانا 25-11-10, 09:46 PM   #8
Senior Member
 
موجو's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: Pakistan
مراسلات: 434
کمائي: 9,562
شکریہ: 1,636
318 مراسلہ میں 928 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اِنا للہ واِنا الیہ راجعون
استغفراللہ واتوب الیہ
موجو آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 26-11-10, 08:27 AM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مراسلات: 594
کمائي: 8,411
شکریہ: 2,421
379 مراسلہ میں 903 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default جماعت الدعوة-محض فلاحی ادارہ یا تحریک

جماعت الدعوة-محض فلاحی ادارہ یا تحریک
محمد عامر رانا
جماعت الدعوة ایک فلاحی ادارہ ہے، مذہبی نظریاتی اصلاح کار، عسکری یاجہادی تنظیم یا پھر سیاسی تنظیم؟ یہ سوال ہے جواقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے انسدادِ دہشت گردی کے ادارے کی طرف سے جماعت الدعوة کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے بعد ابھرا۔ خصوصاً جب جماعت کی طرف سے خود کو لشکرِطیبہ سے الگ قرار دینے کی تشہیری مہم چلائی گئی اور اسے محض بطور خدمتِ خلق کا ادارہ اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ مہم ممبئی میں دہشت گرد حملوں کے بعد پیدا ہونے والی پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں تھی جس میں لشکرِ طیبہ ان حملوں کی ذمہ دار قرار دی گئی۔

لیکن یہ کوشش زیادہ بار آور ثابت نہ ہو سکی اور 10 دسمبر 2008ء کو اقوامِ متحدہ کی طرف سے جماعت الدعوة پر پابندیوں کے بعد حکومتِ پاکستان کو بھی اس کے خلاف اقدامات اٹھانا پڑے۔ اگرچہ اب یہ بحث بھی جاری ہے کہ اقوامِ متحدہ نے جس قرارداد نمبر 1267 کے تحت جماعت الدعوة کو دہشت گرد قرار دیاوہ القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے والی جماعتوں اور تنظیموں پر لاگو ہو سکتی ہے، جماعت الدعوة جیسی علاقائی مقاصد کی حامل جماعتوں پر نہیں۔ ان تمام قانونی تیکنیکی پہلوئوں اور سیاسی بحثوں سے قطع نظر اس سوال کا جواب اتنا لاینحل نہیں۔ اگرچہ حالیہ برسوں میں جماعت الدعوة نے ایک فعال فلاحی ادارے کے طور پر بھی اپنی پہچان کروائی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ عسکری جدوجہد، مذہبی، سیاسی، معاشرتی، تعلیمی میدان میں بھی اپنے سلفی نقطۂ نظر کے مطابق تبدیلیوں کے لیے بھی جدوجہد کر رہی ہے۔ جماعت الدعوة کو اگر ایک ادارے کے بجائے تحریک قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہو گا جس کا تقابل پاکستان میں کسی اور عسکری، مذہبی، فلاحی ادارے یا مذہبی جماعت سے نہیں کیا جا سکتا جو ملتے جلتے مقاصد کے لیے محدود میدانوں میں کام کر رہے ہیں۔ جماعتِ اسلامی کے ساتھ شاید اس کا تقابل تنظیمی پھیلائو، طریقۂ کار اور تنظیمی ڈھانچے کے ساتھ تو کیاجا سکتا ہو، جیسا کہ اس کے بیشتر مرکزی رہنما جماعتِ اسلامی سے وابستہ رہ چکے ہیں لیکن سیاسی میدان میں جماعتِ اسلامی وسیع تناظر کی حامل ہے جبکہ جماعت الدعوة موجودہ جمہوری سیاسی نظام پرسِرے سے ایمان ہی نہیں رکھتی۔ یہی وجہ ہے کہ جماعت الدعوة کا ہر کارکن خود کو انتخابی جمہوری عمل سے الگ رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ جماعت الدعوة سیاسی اموراور معاملات سے خود کو الگ رکھتی ہے بلکہ نہ صرف قومی، علاقائی اور عالمی سیاسی امور پر اپنا واضح مؤقف رکھتی ہے بلکہ پاکستان میں کئی مذہبی سیاسی تحریکوں کی بانی بھی ہے۔ حافظ خالد ولید کے زیرنگرانی جماعت کا سیاسی امور کا شعبہ بھی کافی فعال رہا ہے۔ فاٹا میں فوجی آپریشن کے خلاف تحریک ہو یا سویڈش اخبارات میں نبی کریمۖ کے گستاخانہ خاکوں کامعاملہ، ڈاکٹر عبدالقدیر پر پابندیاں ہوں یا عافیہ صدیقی کی حراست، جماعت الدعوة نے ان پر نہ صرف اپنے نقطۂ نظر کے مطابق واضح مؤقف اختیار کیا بلکہ دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر باقاعدہ احتجاجی پلیٹ فارم بھی تشکیل دیے۔ تحریک حرمت رسولۖ، مجلس تحفظ حقوق اللہ اور متحدہ علماء کونسل ایسے ہی کثیرالجماعتی اتحاد ہیں جو جماعت الدعوة کی تحریک پر وجود میں آئے۔ تحفظ حقوقِ نسواں بِل کے خلاف جماعت نے وسیع پیمانے پر دستخطی مہم چلائی اور اس کے دعویٰ کے مطابق ایک کروڑ پندرہ لاکھ افراد نے اس قرارداد پر دستخط کیے۔

حال ہی میں پاکستان میں جاری خودکش حملوں کے خلاف تمام مسالک کی طرف سے اجتماعی فتوے کا اہتمام بھی جماعت الدعوة نے ہی کیاتھا۔ جماعت کے اہم مذہبی، سیاسی امور اور اتحادی سیاست پر نوابزادہ نصراللہ خان اور مولانا سمیع الحق کی طرزِ سیاست کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ جماعت الدعوة کے قومی سیاسی امور میں بڑھتے ہوئے کردار کے باعث اس کا فرقہ ورانہ تصور (Image) بہتر ہوا ہے۔ جماعت کے ابتدائی سالوں میں اس کا فرقہ ورانہ کردار زیادہ نمایاں تھا۔ نہ صرف شیعہ بلکہ بریلوی اور دیوبندی مکاتبِ فکر کے بارے میں انتہائی سخت نقطۂ نظر کی حامل تھی لیکن سیاسی دھارے میں شمولیت کے بعد جماعت نے اپنے اتحادوں میں بریلوی، دیوبندی، شیعہ مسالک کے علاوہ مرکزی دھارے کی چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں کو بھی ساتھ ملانے کی کوشش کی ہے۔

اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ جماعت نے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے مسلکی تشخص پر کوئی سمجھوتہ کر لیا ہے، بلکہ اسے کئی حوالوں سے مضبوط بنانے کی کوشش کی ہے۔ اپنے تربیتی پروگراموں اور چودہ سے زائد باقاعدہ صحافتی مجلّوں اور اخباروں میں مضبوط مسلکی بنیاد پر اب بھی زور دیا جاتا ہے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ جماعت کی سیاسی معاملات میں وسیع المسلکی سوچ اس کے عوام میں تاثر کو زیادہ قابل قبول بنانے کا ایک طریقہ ہے کیونکہ سلفی، وہابی یا اہلِ حدیث ابھی تک ایک اقلیتی مسلک ہے اور عمومی عوامی تاثر بھی زیادہ اچھا نہیں ہے۔ اس قابلِ بحث پہلو سے قطع نظر جماعت نے مملکتِ سعودی عرب سے اپنے نظری اور مذہبی تعلق کو فروغ دیا ہے۔ جماعت کے بیشتر قائدین سعودی یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہیں اور ان تعلیمی اداروں سے ان کا تعلق نہ صرف ابھی تک قائم ہے بلکہ وہاں کے نصاب کو اپنے مدارس اور سکولوں میں رائج بھی کیا ہے۔ سعودی مملکت سے وفاداری کے اظہار کے لیے جماعت کی مطبوعات خصوصی توجہ دیتی ہیں۔

جہاد، جماعت الدعوة کی بنیاد ہے۔ جماعت الدعوة کی اٹھان میں دو شخصیات کا کردار کلیدی ہے۔ ایک ذکی الرحمن لکھوی جنھوں نے جماعت کو عسکری تنظیمی ڈھانچہ دیا اور دوسرے حافظ محمد سعید کے سسر اور ماموں حافظ محمد عبداللہ جنھوں نے اسے فکری بنیاد فراہم کی۔ جماعت الدعوة کے اہم رہنما مولانا امیر حمزہ نے اپنی کتاب ''قافلۂ دعوت و جہاد'' میں اس کا اجمال تفصیل سے بیان کیا ہے کہ ذکی الرحمن لکھوی نے کس طرح سلفی علماء کو جہاد کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی اور اس کی یہ کاوشیں اس وقت رنگ لائیں جب پروفیسر حافظ محمد سعید ان کی دعوت پر جہاد پر آمادہ ہوئے۔ پروفیسر حافظ محمد عبداللہ نے تائید کی اور سلفی علماء کو پیغام دیا کہ ''یہ جمہوری ریاست جسے ہم نے اپنا رکھا ہے، یہ ہمارے لیے مناسب نہیں۔ آئو اس گندی سیاست کو ترک کر کے ہم سب ایک ہو جائیں، اپنی جماعت کے اندر امارت کا نظام قائم کریں، اس جماعت کو منظم کریں اور جہاد کی راہ پر لگائیں۔'' (قافلۂ دعوت و جہاد، صفحہ95)۔ اس محرک کی بنا پر 1987ء میں ایک جماعت تشکیل دی گئی جس کا نام ''مرکز دعوة الارشاد'' رکھا گیا اور مرکز کا پہلا جہادی قافلہ 10 اگست 1987ء کو لاہور سے افغانستان روانہ ہوا (صفحہ99)۔ جہادِ افغانستان کے بعدجب کشمیر میں جہاد شروع ہوا تو مرکز دعوة الارشاد کے سپریم کمانڈر ذکی الرحمن لکھوی کی کاوشوں سے 1992ء میں لشکر طیبہ وجود میں لائی گئی اور لالہ ابوحفص کو اس کا امیر مقرر کیا گیا جو 1993ء میں مقبوضہ کشمیر میں شہیدہو گئے تو کشمیر کا محاذ بھی لکھوی نے براہِ راست اپنے کنٹرول میں لے لیا۔ یہ مرکز دعوة الارشاد اور لشکرطیبہ کے لیے نقطۂ عروج تھا اور مرکز کے عسکری شعبے لشکر طیبہ کا نام اس قدر معروف ہوا کہ اصل تنظیم کے نام پر غالب آ گیا۔ یہ سلسلہ دسمبر 2001ء تک ایسے ہی چلتا رہا اور جب نو ستمبر 2001ء کے واقعات کے بعد پاکستان میں جہادی تنظیموں پر دبائو بڑھا تو لشکرِ طیبہ کو مولانا عبدالواحد کشمیری کی زیرسرپرستی اور کمانڈر لکھوی کی کمان میں الگ حیثیت میں کشمیر تک محدود کر دیا گیا اور مرکز کا نیانام جماعت الدعوة تجویز ہوا۔ جنوری 2002ء میں لشکر پر پاکستان میں پابندیاں عائدکر دی گئیں لیکن کشمیر میں یہ گروپ متحرک رہا۔ اسی تسلسل میں حافظ سعید نظربند کر دیے گئے اور ان کی رہائی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ہوئی جس میں جماعت الدعوة عدالت کو یہ قائل کرنے میں کامیاب ہو گئی کہ عسکری تنظیم لشکر طیبہ کا جماعت الدعوة سے کوئی تعلق نہیں۔

رہائی کے بعد حافظ سعید نے ملک بھر کے طوفانی دورے کیے اور جہاد کے پیغام کو زوروشور سے پھیلایا۔ اکتوبر 2003ء میں مرکز یرموک، پتوکی میں جماعت کے سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ''آج میں یہ اعتراف کرتا ہوں کہ لشکر طیبہ اور جماعت الدعوة کے مجاہدین کشمیر، ہندوستان اور ہر اس جگہ جہاں مسلمانوں پر ظلم و ستم جاری ہے، جہاد کر رہے ہیں۔ جہاد ہم سب پر فرض ہے۔ یہ ہمارا بنیادی مقصد ہے اور جہاد کو بچانے کے لیے ہم اپنی جانیں تک قربان کر دیں گے۔''(ڈیلی ٹائمز، 18اکتوبر 2003ئ)

لیکن اس کے ساتھ ساتھ جماعت الدعوة نے اپنے فلاحی کاموں کا سلسلہ بھی وسیع کیا۔ خاص طور پر اس کے ذیلی ادارے شعبۂ خدمت ِخلق نے کشمیر کے زلزلے، سندھ اور بلوچستان میں سیلابوں اور دیگر قدرتی آفات کے دوران انسانی خدمت کے اعلیٰ معیار قائم کیے ہیں۔ جماعت الدعوة پر اقوام متحدہ کی پابندیوں سے قبل تک ملک بھر میں اس کی 148 ڈسپنسریاں، 7 ہسپتال، 82ایمبولینسز اور 65 بلڈ بینک کام کر رہے تھے۔ جماعت کے منافع بخش اداروں میں 400ماڈل سکول، 5 سائنس کالج اور 51مدارس کام کر رہے تھے جبکہ ملک بھر میں اس کے 73 مراکز بھی مصروف عمل تھے۔

اس پس منظر میں جماعت الدعوة ایک مکمل تحریک معلوم ہوتی ہے جو خدمت اور جہاد سے لے کر سیاست تک میں اپنا کردار ادا کرتی رہی ہے.
غلام خان آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے غلام خان کا شکریہ ادا کیا
ALI-OAD (03-03-11), shafresha (02-03-11), مرزا عامر (04-03-11)
پرانا 02-03-11, 11:19 PM   #10
ناظم اعلی
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,660
کمائي: 254,732
شکریہ: 53,107
7,704 مراسلہ میں 22,599 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کل المرکز اسلامی کو ایک نئے رنگ میں‌دیکھ کر مجھے بھی بہت افسوس ہوا!!!!!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
shafresha کا شکریہ ادا کیا گیا
مرزا عامر (04-03-11)
پرانا 20-03-11, 08:10 PM   #11
Senior Member
 
طارق راحیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
کمائي: 31,695
شکریہ: 4,003
1,175 مراسلہ میں 2,379 بارشکریہ ادا کیا گیا
طارق راحیل کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں طارق راحیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شکریہ.................
طارق راحیل آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-03-11, 08:42 PM   #12
Senior Member
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,240
کمائي: 121,342
شکریہ: 15,085
4,225 مراسلہ میں 12,894 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

المرکز الاسلامی کا نام اور کام بدلنے میں سیاسی اختلافات کا بھی بڑا ہاتھ ہوسکتا ہے۔
ھارون اعظم آف لائن ہے   Reply With Quote
ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
php, کراچی, گانے, پہچان, پولیس, پاکستان, پاکستانی, قرآن, قرآنی, میناروں, موجودہ, منصوبہ, آج, اللہ, انتظامیہ, احتجاج, اسلام, اسلامی, تصاویر, حال, حسن, خواتین, خطاطی, عورت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جعلی پیر کا خاتون پر تشدد،کپڑے پھاڑ دیے‘متاثرہ خاتون کا خود سوزی کا اعلان ابن جلال خبریں 21 06-06-11 08:45 PM
حماقت نہیں توکیا ہے؟ زارا گپ شپ 2 26-01-11 10:45 AM
توہین رسالت کرو..........باہر بھجوا دیں گے!!! عبداللہ آدم عمومی بحث 81 02-12-10 07:24 AM
توہین رسالت کے قانون میں ترمیم ۔ایک سازش ؟ قاسم شاہ اسلامی عقیدہ 2 21-11-10 05:15 PM
بھارت میں " بعض " کھلاڑی کنٹر ول میں نہیں تھے،ڈسپلن توڑنے والوں کو آئندہ قو می ٹیم میں جگہ نہیں ملے گی،نسیم اشر ف خرم شہزاد خرم کرکٹ 0 17-12-07 02:50 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:18 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger