واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


کنیز اور مالک کے تعلقات - اختلافات

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 16-10-09, 10:06 AM   #1
کنیز اور مالک کے تعلقات - اختلافات
فاروق سرورخان فاروق سرورخان آن لائن ہے 16-10-09, 10:06 AM

ایک دوسرے دھاگہ میں درج ذیل خیالات کا اظہار کیا گیا۔ چونکہ وہ دھاگہ ایک الگ موضوع پر ہے، لہذا اس کو یہاں‌نقل کررہا ہوں تاکہ احباب و اصحاب اس پر اپنے خیالات کا اظہار کرسکیں۔

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : مہوش علی مراسلہ دیکھیں
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
فاروق صاحب نے رسول اللہ ص کی تمام احادیث کا منہ چڑاتے ہوئے کنیز عورت سے آقا کے تعلقات کو "بڑا جرم" کہہ کر شریعت اسلامیہ میں اپنی مرضی سے ایک نص کو حرام قرار دے دیا اور عادل سہیل اس پر جزاک اللہ کہیں۔
آپ کی عقد متعہ کی مخالفت تو بجا، مگر یہ کیا کہ اس ضد میں آ کر آپ ایک ایسی نص کے "بڑا جرم" قرار دیے جانے پر جزاک اللہ کہیں کہ جس پر ان منکرین حدیث حضرات کے ظہور سے قبل پوری امت کا اجماع تھا۔


آپ کے اس سٹینڈرڈ کے مطابق فاروق صاحب اللہ سے ایسی بات منسوب کر رہے جو اللہ نے نہیں کہی بلکہ یہ اپنی طرف سے اسے "بڑا جرم" قرار دے رہے ہیں۔ یا حیرت کہ اس پر کفر کا فتوی لگانے کی بجائے تعریف و توصیف کی جا رہی ہے۔

اللہ جانے ان صاحب کو فاروق صاحب کی بات سمجھ بھی آئی یا نہیں، یا پھر یہ عقد متعہ کی اتنی ضد ہے کہ کنیز عورت سے تعلقات کی اسلامی نص کو حرام اور بڑا جرم قرار دینے پر جزاک اللہ کہا جا رہا ہے۔
اللہ تعالی قرآن میں کسی کنیز عورت سے کسی قسم کا جسمانی فائیدہ اٹھانے کی تلقین نہیں‌کرتے۔ ایسی شعبدہ بازی جن صاحبان کا کام ہے ان کے پاس قرآن حکیم سے کوئی ثبوت نہیں۔

اللہ تعالی قرآن میں ، کنیز عورت سے شادی کرنے یا اس کی شادی کروادینے کا حکم دیتے ہیں۔ یہ قطعاً قرآنی قانون نہیں کہ کنیز عورت پر اس کے مالک کا حق بناء‌اس کی اجازت کے ہے۔ اگر کنیز بنانے کے لئے رقم ادا کردی گئی ہے تو اس رقم کو مہر میں شمار کردینے کے لئے اللہ تعالی کا فرمان ضرور مل جائے گا۔

رہی اجماع کی بات تو اجماع تو مسلمانوں‌میں‌کبھی ہوا ہی نہیں۔ میرے آپ کے پیدا ہونے سے پہلے سے تاریخ اس کی گواہ ہے۔ پھر کوئی بھی اجماع اگر خلاف فرمان الہی ہے تو ایسا اجماّ ایک دو سیاسی حکومتوں میں تو چل سکتا ہے لیکن جلد یا بدیر اس اجماع کا پول کھل جانا ہے۔

اس مراسلہ کے شروع میں طرح طرح کی روایات فراہم کی گئی ہیں۔ ان روایات کا لب لباب یہ ہے کہ پہلے یہ حکم آیا پھر اللہ تعالی نے اپنا ارادہ بدل کر حکم تبدیل کردیا۔ کبھی متعہ جائز تھا اور کبھی متعہ ناجائز قرار پایا۔

آپ نے ہی لکھا ہے کہ اللہ کی سنت نہ تبدیل ہوتی ہے اور نہ ہی تحویل ہوتی ہے تو یہ احکامات کے بدلنے کی کیا صورت حال ہے؟ اللہ تعالی اپنا ذہن درست طریقہ سے بنا نہیں پائے تھے کیا (نعوذ باللہ) یا یہ کہ یہ لکھنے والے اپنی مرضی کی روایات بنا بنا کر اللہ تعالی اور اس کے رسول پرنور پر بہتان عظیم باندھتے رہے؟

کیا رسول اکرم پر اور اللہ تعالی پر بہتان رسول اکرم کی حیات طیبہ میں نہیں لگائے گئے ؟

یہ میرے ایمان سے باہر ہے کہ اللہ تعالی آیات بھیج کر ان آیات کو بدلتے رہے۔ نکاح اور طلاق کا مضمون ایک انتہائی حساس معاملہ ہے اور اس اس کے قوانین انتہائی مظبوط ، واضح اور 1400 سال سے قابل عمل رہے ہیں۔ ان قوانین کو سورۃ النساء کی آیت نمبر 24 کے ایک لفظ "فائیدہ" سے توڑا نہیں جاسکتا۔ پھر رسول پرنور پر ان قوانین کو توڑنے کا الزام رکھنا، قرآن کے تبدیل ہوتے رہنے کی روایات جاری رکھنا، کسی طور ایک نیک شیوہ نہیں۔ میں‌جانتا ہوں کہ ایسا سب کچھ چھپتا رہے گا لیکن جو لوگ اللہ تعالی کے فرمان قرآن حکیم پر ایمان رکھتے ہیں وہ ان نکات کی تائید نہیں‌کریں گے۔


اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : rajaikram مراسلہ دیکھیں
اللہ تعالی قرآن میں ، کنیز عورت سے شادی کرنے یا اس کی شادی کروادینے کا حکم دیتے ہیں۔ یہ قطعاً قرآنی قانون نہیں کہ کنیز عورت پر اس کے مالک کا حق بناء‌اس کی اجازت کے ہے۔ اگر کنیز بنانے کے لئے رقم ادا کردی گئی ہے تو اس رقم کو مہر میں شمار کردینے کے لئے اللہ تعالی کا فرمان ضرور مل جائے گا۔



؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟؟؟؟
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف

فاروق سرورخان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,598
شکریہ: 7,102
2,934 مراسلہ میں 8,708 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1281
Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (28-10-11), محمدخلیل (17-10-09), حیدر Rehan (10-11-11)
پرانا 16-10-09, 10:54 AM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اللہ تعالی قرآن میں ، کنیز عورت سے شادی کرنے یا اس کی شادی کروادینے کا حکم دیتے ہیں۔ یہ قطعاً قرآنی قانون نہیں کہ کنیز عورت پر اس کے مالک کا حق بناء‌اس کی اجازت کے ہے۔ اگر کنیز بنانے کے لئے رقم ادا کردی گئی ہے تو اس رقم کو مہر میں شمار کردینے کے لئے اللہ تعالی کا فرمان ضرور مل جائے گا۔
وَالَّذِينَ ھمْ لِفُرُوجِھمْ حَافِظُونَ (5) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِھمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُھمْ فَإِنَّھُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ (6) فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ ھمُ الْعَادُونَ

برادرم میں اس موضوع پر بحث نہیں کر سکتا۔۔ کیوں کہ میں بارہا کہہ چکا ہوں کہ میں آپ کے مقابلے میں علم اور تجربے کے لحاظ سے اونٹ کے سامنے گلہری کی طرح ہوں

بس اس آیت کی تشریح۔ اور اس سے نکلنے والا حکم مجھے بتا دیں۔۔۔۔۔۔ نوازش ہو گی
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
مسافر (20-10-09)
پرانا 16-10-09, 12:29 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,598
کمائي: 31,037
شکریہ: 7,102
2,934 مراسلہ میں 8,708 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اکرام بھائی۔ السلام علیکم
ایسا نہ کہیے، میں ایک معمولی طالب علم ہوں، کوشش صرف حوالہ فراہم کرنے تک ہوتی ہے ، اس سے آگے جو کچھ کہتا ہوں اس کو آپ ایک طرف رکھ سکتے ہیں۔ ذیل میں آپ کی فراہم کی ہوئی آیت، مع ترجمہ اور اس آیت کی تشریح اللہ تعالی کے اپنے الفاظ میں اور احکامات کے حوالہ فراہم کررہا ہوں۔ اپ کے خیالات کا انتظار رہے گا۔
23 - سورۃ‌ المومنون
23:5 وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ --- 23:6 إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ---- 23:7 فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ
23:5 اور جو (دائماً) اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے رہتے ہیں --- 23:6 سوائے اپنی بیویوں کے یا ان باندیوں کے جو ان کے ہاتھوں کی مملوک ہیں، بیشک ان پر کوئی ملامت نہیں --- 23:7 پھر جو شخص ان (حلال عورتوں) کے سوا کسی اور کا خواہش مند ہوا تو ایسے لوگ ہی حد سے تجاوز کرنے والے (سرکش) ہیں

یہی آیات سورۃ المعارج میں دہرائی گئی ہیں۔
70:29 وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ 70:30 إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ --- 70:31 فَمَنِ ابْتَغَى وَرَاءَ ذَلِكَ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْعَادُونَ

ان آیات میں اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والوں کی وضاحت کی جارہی ہے۔ آزاد عورت کو بیوی بنانے کے لئے نکاح کی شرائط یا باندی کو بیوی بنانے کے لئے نکاح‌کی شرائط یہاں‌نہیں دی گئی ہیں اس کے لئے دیکھئے:
تشریح و حکم ، خود اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق:

24:32 وَأَنكِحُوا الْأَيَامَى مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
اور نکاح کر دیا کرو (ان مردوں اور عورتوں کا) جو مجّرد ہوں تم میں سے اور اپنے ان غلاموں اور لونڈیوں کا جو صلاحیّت رکھتے ہوں۔ اگر ہوں گے یہ مفلس تو غنی کردے گا اُن کو اللہ اپنے فضل سے۔ اور اللہ ہے بڑی وسعتوں کا مالک، سب کچھ جاننے والا۔


24:33 وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّى يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَن يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِن بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

اور چاہیے کہ پاکدامن رہیں وہ لوگ جو نہیں قدرت رکھتے نکاح کی حتی کہ غنی کردے اُنہیں اللہ اپنے فضل سے۔ اور وہ خواہش رکھتے ہیں مُکاتبت (معاہدۂ آزادی) کی تمہارے غلام اور لونڈیوں میں سے تو ان سے مُکاتبت کرلو، اگر پاؤ تم ان میں بھلائی۔ اور دو تم اُنہیں اللہ کے مال میں سے جو اُس نے تمہیں دیا ہے۔ اور نہ مجبور کرو تم اپنے لونڈیوں کو بدکاری پر۔ جبکہ چاہتی ہوں وہ پاکدامن رہنا۔ اس غرض سے کہ حاصل کر لو تم دُنیاوی زندگی کا فائدہ اور جو کوئی اُنہیں مجبور کرے گا تو بے شک اللہ اس بنا پر کہ وہ مجبور کی گئی ہیں معاف فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

باندیوں‌ یا ملکت ایمانکم سے نکاح کے مزید احکام ، نکاح اور مہر ادا کرنے کا حکم
4:25 وَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ مِنكُمْ طَوْلاً أَن يَنكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِن مِّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُم مِّن فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ وَاللّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُمْ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ فَانكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلاَ مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ وَأَن تَصْبِرُواْ خَيْرٌ لَّكُمْ وَاللّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
اور جو نہ رکھتا ہو تم میں سے قدرت اس بات کی کہ نکاح کرسکے آزاد مومن عورتوں سے تو (وہ نکاح کرے) ان سے جو تمہاری مِلک میں ہوں، کنیزیں ایمان والی اور اللہ خُوب جانتا ہے تمہارے ایمان کا حال، تم سب ایک دوسرے میں سے ہو، سو نکاح کرو ان کنیزوں سے، اجازت سے ان کے مالکوں کی۔ اور ادا کرو انہیں ان کے مہر دستور کے مطابق (تاکہ وہ) قیدِ نکاح میں محفوظ رہنے والیاں ہوں۔ نہ بدکاری کرنے والیاں اور نہ چوری چھُپے یارانہ گانٹھنے والیاں۔ پھر جب وہ قیدِ نکاح میں محفوظ ہوجائیں تو اگر ارتکاب کریں بدکاری کا تو ان کے لیے ہے نصف اس سزا کا جو ہے آزاد عورتوں کے لیے مقّرر ہ سزا۔ یہ (کنیز سے نکاح کی سہولت) اس کے لیے ہے۔ جسے ڈر ہو بد کاری میں مُبتلا ہونے کا تم میں سے اور یہ کہ صبر سے کام لو تم۔ یہ بہتر ہے تمہارے لیے۔ اور اللہ بہت بخشنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔

جب زوجہ یعنی بیوی بن جائے تو زوجہ کے ساتھ مساوی سلوک کی ہدایت کہ اب وہ لونڈی نہیں رہی۔
4:129 وَلَن تَسْتَطِيعُواْ أَن تَعْدِلُواْ بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلاَ تَمِيلُواْ كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ وَإِن تُصْلِحُواْ وَتَتَّقُواْ فَإِنَّ اللّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا
اور تم ہرگز اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ (ایک سے زائد) بیویوں کے درمیان (پورا پورا) عدل کر سکو اگرچہ تم کتنا بھی چاہو۔ پس (ایک کی طرف) پورے میلان طبع کے ساتھ (یوں) نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو (درمیان میں) لٹکتی ہوئی چیز کی طرح چھوڑ دو۔ اور اگر تم اصلاح کر لو اور (حق تلفی و زیادتی سے) بچتے رہو تو اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے

ملکت ایمانکم سے برابری کا سلوک کرنے اور ان پر خرچ کرنے کی ہدائت
16:71 وَاللّهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ فِي الْرِّزْقِ فَمَا الَّذِينَ فُضِّلُواْ بِرَآدِّي رِزْقِهِمْ عَلَى مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَهُمْ فِيهِ سَوَاءٌ أَفَبِنِعْمَةِ اللّهِ يَجْحَدُونَ
اور اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق (کے درجات) میں فضیلت دی ہے ، مگر جن لوگوں کو فضیلت دی گئی ہے وہ اپنی دولت اپنی باندیوں یعنی زیردست لوگوں پر نہیں خرچ کرتے حالانکہ وہ سب اس میں برابر ہیں، تو کیا وہ اللہ کی نعمتوں کا انکار کرتے ہیں

میری کوشش یہ رہی ہے کہ میں اپنا تبصرہ کم سے کم کروں۔ آپ ان آیات پر غور فرمائیے اور بتائیے کہ جن ملکت ایمانکم کی طرف آپ کی فراہم کردہ آیات میں‌ اشارہ کیا گیا ہے کیا ان سے نکاح کا حکم دیگر آیات میں موجود ہے؟

اللہ تعالی قرآن حکیم میں ہی قرآن کی تفسیر، الفاظ و اصطلاحات کے معانی ، اصولوں ، احکام اور سابقہ نبیوں کے اعمال کی مدد سے بیان فرماتے ہیں۔

امید کرتا ہوں‌کہ ان حوالہ جات سے اس موضوع کو سمجھنے میں‌مزید مدد ملے گی۔

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 16-10-09 at 12:42 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
rana ammar mazhar (28-10-11), حیدر Rehan (10-11-11)
پرانا 16-10-09, 12:50 PM   #4
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ -
ازواج کے ذکر کے ساتھ کنیز کا ذکر کیوں ضروری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا عقد نکاح میں آنے کے بعد وہ زوجۃ نہیں بن جاتی؟؟
کیا عقد نکاح کے بعد بھی اسے ملکت ایمانکم ہی کہا جائے گا؟
یقینا نہیں، بلکہ وہ زوجہ ہی کہلائے گی۔۔۔۔اس سے ظاہر ہوا کہ وہ کام جو زوج اور زوجہ کے لئے جائز ہیں وہی کنیز اور مالک کے لئے بھی جائز ہیں ۔ اسی لئے ام ولد کا ایک پورا باب ہے اور اس کے احکامات ہیں۔

باقی جو آیات آپ نے ذکر کی ہیں وہ میری معلومات کے مطابق صرف لونڈیوں سے نکاح کے جواز کے لئے اور ترغیب کے لئے ہیں ناکہ یہ ظاہر کرنے کے لئے کہ ان کے ساتھ تعلقات جائز نہیں۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (10-11-11)
پرانا 16-10-09, 12:59 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,598
کمائي: 31,037
شکریہ: 7,102
2,934 مراسلہ میں 8,708 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اہک بار پھر غور فرمائیے اس آئت پر
24:33 وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّى يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَن يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِن بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

اور چاہیے کہ پاکدامن رہیں وہ لوگ جو نہیں قدرت رکھتے نکاح کی حتی کہ غنی کردے اُنہیں اللہ اپنے فضل سے۔ اور وہ خواہش رکھتے ہیں مُکاتبت (معاہدۂ آزادی) کی تمہارے غلام اور لونڈیوں میں سے تو ان سے مُکاتبت کرلو، اگر پاؤ تم ان میں بھلائی۔ اور دو تم اُنہیں اللہ کے مال میں سے جو اُس نے تمہیں دیا ہے۔ اور نہ مجبور کرو تم اپنے لونڈیوں کو بدکاری پر۔ جبکہ چاہتی ہوں وہ پاکدامن رہنا۔ اس غرض سے کہ حاصل کر لو تم دُنیاوی زندگی کا فائدہ اور جو کوئی اُنہیں مجبور کرے گا تو بے شک اللہ اس بنا پر کہ وہ مجبور کی گئی ہیں معاف فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

نکاح‌کی ترغیب کس سے؟ اور بدکاری پر مجبور کیا جانے کا کیا مطلب؟

جب وہ چاہیں آزادی کی خواہش کا اظہار کریں تو آزادی دینا فرض کیا گیا ہے وہ بھی لکھ کے۔ تو گویا تعلقات کے بعد عدت ان کے لئے ضروری نہیں؟ جب چاہیں کسی دوسرے سے نکاح کرلیں؟ پھر طلاق کی کیا اہمیت رہ گئی اور طلاق کی شرائط کی کیا اہمیت رہ گئی؟

غور فرمائیے۔

Last edited by فاروق سرورخان; 16-10-09 at 01:05 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (10-11-11)
پرانا 16-10-09, 01:04 PM   #6
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا

جناب لفظ البغاء کی لغوی و اصطلاحی تعریف کسی مستند عربی لغت سے، اور پھر یہاں اس کے صحیح مفہوم کی وضاحت اگر ہو جائے تو نوازش ہو گی
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (10-11-11)
پرانا 16-10-09, 01:11 PM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,598
کمائي: 31,037
شکریہ: 7,102
2,934 مراسلہ میں 8,708 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

19:20 قَالَتْ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلاَمٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا
Tahir ul Qadri (مریم علیہا السلام نے) کہا: میرے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں اور نہ ہی میں بدکار ہوں
Ahmed Ali کہا میرے لیے لڑکا کہاں سے ہوگا حالانکہ مجھے کسی آدمی نے ہاتھ نہیں لگایا اور نہ میں بدکار ہوں
Ahmed Raza Khan بولی میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہ لگایا نہ میں بدکار ہوں،
Shabbir Ahmed مریم نے کہا کیونکر ہوگا میرے ہاں لڑکا جبکہ نہیں چھُوا ہے مُجھے کسی آدمی نے اور نہیں ہُوں میں بدکار۔
Fateh Muhammad Jalandhary مریم نے کہا کہ میرے ہاں لڑکا کیونکر ہوگا مجھے کسی بشر نے چھوا تک نہیں اور میں بدکار بھی نہیں ہوں
Mehmood Al Hassan بولی کہاں سے ہو گا میرے لڑکا اور چھوا نہیں مجھ کو آدمی نے اور میں بدکار کبھی نہیں تھی

Arabic English Online Dictionary

بغي : نتيجة البحث عن بغي
absolutism complete power and authority
adulteress a woman who commits adultery
bitch spiteful, malicious or ill-tempered woman
cocotte fashionable prostitute
contravention act of contravening (a law,etc)
despotism tyrannyictatorshipppression
draggle-tail litrary a woman with dirty trailing skirts , used to describe a woman of a bad reputation
harlot a prostitute; whore
hussy a woman who is sexually immoral
injustice lack of fairness
moll a criminal's girlfriend; prostitute
oppression the act or instance of oppressing; the state of being oppressed, or harsh and cruel treatment
outrage an extreme or shocking violation of others' right or fierce anger
persecution persecuting or being persecuted
prostitute a woman who engages in sexual activity for payment
streetwalker a prostitute seeking customer in the street
totalitarianism a political system in which ordinary people have no power and are completely controlled by the government.
transgression trespass or infringement .
trespass a voluntary wrongful act against the person or property of another, esp. unlawful entry to a person's land or property .
trespassing noun gerund of verb ( to trespass )
tyranny the cruel and arbitrary use of authority or a tyrannical act .
unfairness the state of being unfair
violation failing to comply with (an oath, treaty, law etc)
whore a prostitute; a promiscuous woman
wrong what is morally wrong; a wrong action; injustice; unjust action or treatment

Last edited by فاروق سرورخان; 16-10-09 at 01:18 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (10-11-11)
پرانا 16-10-09, 01:52 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,598
کمائي: 31,037
شکریہ: 7,102
2,934 مراسلہ میں 8,708 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مزید دیکھئے

4:24 وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا

اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) اللہ نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک اللہ سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-10-09, 02:08 PM   #9
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اگر کسی عربی لغت کا حوالہ
بدکاری اور اپنے مالک کے ساتھ یکسانیت پر کوئی دلیل۔۔ مل جائے تو میرے علم میں اضافے کا سبب ہوگی
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 16-10-09, 07:07 PM   #10
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,598
کمائي: 31,037
شکریہ: 7,102
2,934 مراسلہ میں 8,708 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

آپ 4:24 کو بغور دیکھئے، اس میں ایسی عورتیں جو کہ باندیاں ہو یعنی ملکت ایمانکم ہوں ان سے فائدہ اٹھانے ( نکاح کرنے) اور ان کا مہر دینے کے لئے کہا گیا ہے۔

تھوڑا سا سوچئیے کہ رب العالمین نے حضرت محمد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رحمت للعالمین بنا کر بھیجا ، انہوں‌نے جنگ میں بے سرو سامان ، بے آسرا ، یتیم عورتوں کو جو کہ جنگ میں‌ہاتھ آئیں ، ان کو سمجھ دار ، شریف لوگوں کی سرپرستی میں دیا یا ان کو جنسی تلذز کے لئے بانٹ دیا ؟

ذرا ان عورتوں کے ذہن سے دیکھئے کہ وہ سوچ رہی ہیں‌ کہ رحمت للعالمین ان کی طرف آ رہے ہیں تاکہ جب ان کے مرد جنگ ہار جائیں تو ان عورتوں کو جنسی تلذذ کے لئے لوگوں میں بانٹ سکیں کہ ایک کا دل بھر جائے تو دوسرے کے حوالے کردیں گے؟

یا پھر رحمت للعالمین درض ذیل حکم دیں‌گے؟

کہ ایسی مصیبت زدہ عورتوں‌کو مناسب لوگوں‌کی سرپرستی میں دے دیا جائے کہ وہ ان کا نکاح جہاں‌بہتری پائیں کروادیں یا پھر یہ مناسب لوگ خود اپنے آپ سے نکاح کرلیں؟

سوچئیے کہ عدل و انصاف کہ یہ عظیم پیامبر (ص) کیا فیصلہ کرے گا؟

عدل یہ ہے کہ جو کچھ اپنے لئے وہی اصول دشمن کے لئے؟

اگر مسلم امت جنگ میں‌آئی ہوئی عورتوں کی اس طرح بے سروسامانی میں کوئی عزت نہیں کرتی ہے اور ان کو جنسی تلذذ کا ذریعہ بنا لیتی ہے ، قانوناً اور شریعاً --- تو کیا یہی امت کسی معاہدہ کی میز پر دشمن سے اپنی عورتوں کے لئے بہتر سلوک کا تقاضہ کرسکتی ہے؟

ان آیات کی روشنی میں دیکھئے اور بتائیے کہ ‌ان کے سرپرستوں کو کہاں ان سے جنسی تعلقات کی بلا کسی شرط آزادی دی جارہی ہے، جن کی یہ خواتین زرخرید یا جنگ میں‌ ہاتھ آئی ہوئی باندیاں ہیں۔

اسی روشنی میں‌یہ مثالیہ سوال کرتے ہیں۔
ایک شخص پاکستان سے بنگلہ دیش آتا ہے اور ایک عورت کے خاندان سے ماہانہ 10 ہزار روپے پاکستانی مہینہ پر ، اس عورت کو ملازم رکھ کر پاکستان لے جانا چاہتا ہے جہاں یہ عورت ایک خاندان کے ساتھ رہے گی، اس کی بیوی کی مدد کرے گی، اس کے بچے پالے گی اور اس کے گھر کے روز مرہ کے کام کاج سر انجام دے گی۔ اور دوران ملازمت شادی نہیں کرے گی اور نہ ہی ملازمت چھوڑ کر جائے گی۔

بات آگے بڑھتی ہے اور اس عورت کے خاندان کے ساتھ معاملہ طے ہوجاتا ہے کہ ٹھیک ہے۔ اس وقت یہ شخص یہ شرط رکھتا ہے کہ وہ اس 20 سالہ عورت کو 40 سال کے کنٹریکٹ پر لے جانا چاہتا ہے اور اس 40 سال کی ادائیگی اکٹھی کردے گا، اگر یہ عورت اس کنٹریکٹ کو توڑنا چاہے تو ادا شدہ رقم کا 100 گنا ادا کیا جائے گا۔ سب ہنسی خوشی رضا مند ہوجاتے ہیں۔

وہ عورت پاکستان ، بنگلہ دیش سے آجاتی ہے۔ خاندان کے ساتھ رہنے لگتی ہے۔ بچے دیکھتی ہے، روز مرہ کے کام کاج کرتی ہے۔ بیوی کا ہاتھ بٹاتی ہے ۔

کیا اس ادائیگی کرنے والے کو اس عورت سے جنسی تلذذ کا حق حاصل ہے؟
کیا یہ عورت شادی کرسکتی ہے؟
کیا یہ عورت اپنی 40 سالہ ملازمت کے بعد جس کی ادائیگی ایک دم کردی گئی ہے کسی کام کی رہ جائے گی؟
کیا یہ غلامی ہے؟

کیا یہ عورت اس گھر کے کسی بھی فرد کی جنسی طور پر بھی غلام ہونی چاہئیے؟

ان سوالات اور اس مثال کا مقصد ذہن میں اس صورت حال سے پیدا ہونے والے مسائیل کو ابھارنا ہے۔ کسی رحمت للعالمین کا اس عورت کے لئے کیا حکم ہوگا؟ کہ اس عورت کی ادائیگی کرنے والے کو اس سے جنسی تلذذ کا حق دے دیا جائے؟ کیا منطقی نکتہ نگاہ سے ایسا کرنا جائز ہے ؟ اگر ایسا کرنا جائز ہے تو پھر نکاح کی شرائط کا کیا جواز رہ جاتا ہے؟ تنخواہ کے لئے تیار ہوجانا کیا ایجاب و قبول کے زمرہ میں آئے گا؟

یا پھر اس عورت کو جب یہ عورت چاہے آزاد کردیا جائے یعنی جانے دیا جائے ایک نارمل زندگی کی طرف؟

اگر وہ عورت اس شخص کے جنسی استعمال میں ‌ہے تو کیا طلاق کی ضرورت ہے جبکہ نکاح‌ہوا ہی نہیں؟ اور اگر طلاق نہیں تو پھر عدت کیسی؟ کیا وہ شخص دل بھر جانے پر اس عورت کو پیسہ کے عوض کسی دوسرے آدمی (خاندان)‌ کو ایسی ہی "ملازمت" کے لئے بیچ سکتا ہے؟ کیا یہ انسانوں (‌جنسی غلاموں) کی تجارت نہ ہوگی؟ کیا وراثت اور سلسلہ نسب قائم کرنے کی کاوشوں کے خلاف یہ نظریہ نہیں؟

کیا رحمت للعالمین عدل و انصاف کی آیات ، ان ملکت ایمانکم سے نکاح کی آیات، آزاد عورتوں سے نکاح کی آیات اور طلاق کی آیات کی موجودگی میں ان بے کس و مجبور، سرپرستی سے محروم عورتوں سے ایک رات کا فائیدہ اٹھانے کا حکم دے سکتے ہیں ( جیسا کہ ایک فراہم کردہ روایت میں منسوب کیا گیا ہے)؟ ہم سب کو عدل کا سبق پڑھانے والی عظیم ہستی کیا ایسا سلوک کرستی ہے؟

ان نکات پر سوچئیے اور پھر دوبارہ ان آیات کو دیکھئے کہ آیا مالک یا کوئی اور ایک سرپرستی سے محروم عورت سے جنسی تلذذ کا حق رکھتا ہے ؟ اگر نہیں تو کیا ایسا جنسی تلذذ بدکاری مین شمار ہوگا؟

والسلام

Last edited by فاروق سرورخان; 16-10-09 at 07:49 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan (10-11-11)
پرانا 17-10-09, 04:29 PM   #11
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

برادرم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سلام مسنون
پیر کو بات ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔انشاء اللہ
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 19-10-09, 12:49 PM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جی ایچ کیو کے بعد لاہور۔۔۔۔۔۔ کافی ہے یا کچھ اور؟؟
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-10-09, 04:03 PM   #13
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
اہک بار پھر غور فرمائیے اس آئت پر
24:33 وَلْيَسْتَعْفِفِ الَّذِينَ لَا يَجِدُونَ نِكَاحًا حَتَّى يُغْنِيَهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَن يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِن بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

اور چاہیے کہ پاکدامن رہیں وہ لوگ جو نہیں قدرت رکھتے نکاح کی حتی کہ غنی کردے اُنہیں اللہ اپنے فضل سے۔ اور وہ خواہش رکھتے ہیں مُکاتبت (معاہدۂ آزادی) کی تمہارے غلام اور لونڈیوں میں سے تو ان سے مُکاتبت کرلو، اگر پاؤ تم ان میں بھلائی۔ اور دو تم اُنہیں اللہ کے مال میں سے جو اُس نے تمہیں دیا ہے۔ اور نہ مجبور کرو تم اپنے لونڈیوں کو بدکاری پر۔ جبکہ چاہتی ہوں وہ پاکدامن رہنا۔ اس غرض سے کہ حاصل کر لو تم دُنیاوی زندگی کا فائدہ اور جو کوئی اُنہیں مجبور کرے گا تو بے شک اللہ اس بنا پر کہ وہ مجبور کی گئی ہیں معاف فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
غور فرمائیے۔
سلام فاروق بھائی
مجھے نہیں معلوم آپ آیات کو سمجھنے میں شان نزول یا سبب نزول کو کتنی اہمیت دیتے ہیں؟
البتہ میں تو آیات کو سمجھنے کے لئے سبب نزول کی اہمیت پر یقین رکھتا ہوں۔
لہذا اس آیت کا سبب نزول اگر ذکر کر دیں تو مجھے اس آیت کا مطلب سمجھنے میں اسانی ہو گی۔۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-10-09, 04:14 PM   #14
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
مزید دیکھئے

4:24 وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا

اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام ہیں) مگر وہ مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ جو (اسیر ہو کر لونڈیوں کے طور پر) تمہارے قبضے میں آجائیں (یہ حکم) اللہ نے تم کو لکھ دیا ہے اور ان (محرمات) کے سوا اور عورتیں تم کو حلال ہیں اس طرح سے کہ مال خرچ کر کے ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ (نکاح سے) مقصود عفت قائم رکھنا ہو نہ شہوت رانی تو جن عورتوں سے تم فائدہ حاصل کرو ان کا مہر جو مقرر کیا ہو ادا کردو اور اگر مقرر کرنے کے بعد آپس کی رضامندی سے مہر میں کمی بیشی کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بےشک اللہ سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
اس آیت پر اگر آپ خود تھوڑا سا غور فرمائیں تو میرے خیال میں آپ کو اندازہ ہو جائے کہ یہ آپ کے خلاف جا رہی ہے۔
تھوڑی دیر کے لئے پانے موقف کو بھول کر صرف سمجھنے کے لئے غور فرمائیں
یا ترجمے کو ہی غور سے پڑھ لیں۔۔ پھر مجھے بتائیں کہ اس سے کیا حکم اخذ ہوتا ہے؟؟؟
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
پرانا 19-10-09, 04:23 PM   #15
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

4:24 وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن حکیم کو سمجھنے کے لئے عربی زبان پر کسی حد تک دسترس ہونا لازمی ہے۔
اگر آپ مستثنی اور مستثنی منہ کے قواعد کا تھوڑا بہت بھی علم رکھتے ہیں تو یہاں غور فرمائیے۔
وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلاَّ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ
یہاں ان کا ذکر ہو رہا ہے جو کہ آپ کے لئے حرام ہیں۔۔ پہلے تمام محرم رشتوں کا ذکر کر دیا گیا۔ پھر عمومی حکم سنایا گیا تمام خواتین کے بارے میں چاہے وہ آپ کی رشتہ دار ہیں یا نہیں
ان تمام میں سے ما ملکت ایمانکم کو مستثنی قرار دیا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ غور کریں کہ ایسا کیوں کیا؟؟؟
ورنہ المحصنات من النساء میں یہ بھی شامل تھیں۔۔۔ لیکن مستثنی قرار دیا گیا۔۔۔
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
جواب

Tags
color, کنیز, قرآن, قرآن حکیم, قرآنی, لوگ, ایمان, اللہ, الزام, جلد, جرم, حکم, حال, حدیث, حضرات, خلاف, سال, شادی, طلاق, عورت, عقد, علی, عادل, عظیم, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
تحریک طالبان کی طرف سے راولپنڈی کے دو تعلیمی اداروں کو دھمکی آمیز خطوط گلاب خان خبریں 40 03-01-11 01:01 AM
کیا پاکستان کا نظام تعلیم کالے انگریز اور فتنہ جو مُلا پیدا کر رہا ہے؟(Part-1) حیدر اپکے کالم 14 12-12-09 10:53 PM
کچی آبادیوں میں رہائش پذیر منارٹی سے تعلق رکھنے والوں کو لیز دی جائے،رفیق عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 12:47 PM
پلیز بی۔اے کے متعلق مدد کریں ! جان جی طالب علموں کی بیٹھک 8 16-06-08 09:11 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:23 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger