واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > اپکے کالم



اپکے کالم ہم اپکے کالم کے نام سے ایک نیا سلسلہ شروع کر رہے ہیں۔ جس میں ہم تمام لکھاری حضرات کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنے کالم یہاں پر پوسٹ کریں۔


کچھ اس پار سے!

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 02-06-11, 02:23 PM   #1
کچھ اس پار سے!
skjatala skjatala آف لائن ہے 02-06-11, 02:23 PM

اسامہ کا قتل اور ہندوستانی میڈیا کا پروپیگنڈہ
عابد انور
ہندوستانی میڈیا کا رویہ مسلمانوں کے تئیں ہمیشہ معاندانہ رہا ہے۔ وہ مسلمانوں کی دل آزاری کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ ہمیشہ اس تاک میں رہتا ہے کہ کوئی ایسا موضوع ہاتھ لگ جائے جس سے مسلمانوں کو بدنام کرنے میں اسے لطف آئے اور ذہنی تسکین ہو۔
مسلمانوں پر مظالم، وقف املاک کی لوٹ کھسوٹ، فسادات میں مسلمانوں کی تباہ حالی، مسلمانوں کے تئیں پولس کا دہشت گردانہ رویہ اور بے قصور مسلمانوں کو کسی جعلی معاملے میں ملوث کرنے کی بات اور بال کی کھال نکالنے والا ہندوستانی میڈیا کبھی غیر جانبدار نظر نہیں آتا۔ گزشتہ دنوں جب جنگ پورہ بھوگل میں نور مسجد کی شہادت عمل میں آئی تھی تو اس وقت میڈیا کو سانپ سونگھ گیا تھا۔ کسی چینل نے اس کی خبر نہیں دی اور نہ ہی کسی طرح کا کوئی کوریج دیا۔ میڈیا نے یہ بھی کبھی دکھانے کی کوشش نہیں کی کہ یہ مسجد وقف بورڈ کی زمین پر تعمیر کی گئی تھی جسے ڈی ڈی اے ہڑپنا چاہتی ہے۔
چونکہ یہ معاملہ مسلمانوں کا تھا اس لیے میڈیا نے مکمل پردہ پوشی کی اور اس بات کا خیال رکھا کہ مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی بھنک دنیا کو نہ لگے۔ اس کے برعکس جب کوئی منفی معاملہ ہوتا ہے تو ہندوستانی میڈیا (خواہ وہ الیکٹرانک میڈیا ہو یا قومی میڈیا) نمک مرچ اور بے سر پیر کی اسٹوری گھنٹہ دو گھنٹہ یا ایک دو دن نہیں بلکہ ہفتوںتک چلاتا ہے۔ اسے دیو مالائی شکل میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ابھی حال ہی میں اسامہ بن لادن کو امریکی آپریشن میں قتل کیے جانے کے بعد میڈیا نے جس طرح مسلمانوں کے خلاف ماحول بنانے کی کوشش کی وہ ایک بار پھر مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کی انتہائی گھنائونی کوشش تھی۔ پوری دنیا نے اسے قتل قرار دیا ۔ یوروپی ممالک نے بھی امریکہ کے اس فعل کی مذمت کی ہے لیکن ہندوستانی میڈیا ہر امریکی فرمان اور خبر کو گیتا کا پاٹھ سمجھ کر من و عن تسلیم کرتے ہوئے امریکی پروپیگنڈہ کا ایک اٹوٹ حصہ بن گیا۔جرمن وزیر داخلہ فریڈرش نے کہا’’ ہمیں صرف یہ پتہ ہے کہ امریکی خصوصی دستہ اسامہ کے کمپاؤنڈ میں داخل ہوا تھا جس کے بعد فائرنگ کے تبادلے میں القاعدہ کے قائد کی موت ہو گئی۔ بس ہمیں اتنا ہی معلوم ہے اور اس کے علاوہ صرف قیاس آرائیاں ہیں اور میرے خیال میں وہ نہ تو مناسب اور نہ ہی جائز ہیں‘‘ ۔خود امریکہ کے بیانات میں تضاد تھا جسے پوری دنیا کے میڈیا نے محسوس کیا اور سبھوں نے سوالات قائم کیے لیکن ہندوستانی میڈیا اسے آسمانی صحـیفہ سمجھ کر امریکی مشن میں شامل ہوگیا۔محض اس لیے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ تھا، اس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی اور ان کے جذبات برانگیختہ ہوتے ہیں۔ یہاں اسامہ بن لادن کی حمایت کرنا مقصودد نہیں ہے بلکہ عدل و انصاف کے تقاضے کے تحت اس امر کی جانب توجہ مبذول کرانا ہے جسے ہندوستانی میڈیا نے عمداً ترک کردیا کہ کوئی ملزم اس وقت تک مجرم نہیں ہوتا جب تک عدالت اسے قصوروار قرار نہ دے دے۔
اسامہ بن لادن کو دنیا کی کسی عدالت نے قصوروار نہیں ٹھہرایا ہے اور نہ ہی کسی عدالت میں ان پر آج تک کسی طرح کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں جو بھی تھیوری ہیں وہ سب امریکی ہیں۔ان پر امریکہ نے جتنے بھی الزامات عائد کیے ہیں وہ ہمیشہ مشکوک رہے ہیںاور امریکہ کے توسیع پسندانہ ذہنیت کی غمازی کرتے ہیں۔ امریکہ سمیت مغربی اور یوروپی ممالک کے دانشوروں اور انصاف پسند طبقہ نے امریکہ کے اس رویے اور تھیوری پر شک کا اظہار کیا ہے۔جس چیز کو خود مغربی ممالک کے دانشوروں نے مسترد کردیا ہندوستانی میڈیا کو اس چیز کو ڈھونے کی کیا وجہ ہے۔ محض اس لیے کہ اس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوگی؟ فرانسیسی مصنف نوم چوسکی نے ورلڈ ٹریڈ ٹاور اور دیگر امریکی منصوبوں کی پول کھول دی ہے لیکن ہندوستانی میڈیا اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اسامہ بن لادن کے آپریشن کے بارے میں عالمی میڈیا نے ہمیشہ شک و شبہ کا اظہار کیا ہے کیوں کہ امریکہ نے جوتھیوری پیش کی ہے وہ ادنیٰ عقل رکھنے والوں کے دماغ نہیں سماتا۔ جب دنیا نے امریکہ سے اسامہ کے قتل کا ثبوت پیش کرنے کے لیے کہا تو چہ جائے کہ وہ اسامہ کے قتل کرنے کی تصویریں پیش کرتے، یا ہیلی کاپٹر سے اترتے وقت اور اسامہ کو گھیرے میں لیتے وقت کا فوٹو دکھاتے، یا گولی مارتے ہوئے ویڈیو دکھاتے، ہیلی کاپٹر سے لاش لے جانے کی فلم سامنے لاتے،
یا لاش کو سمندر میں دفن کرنے کی تصویر پیش کرتے، یا اسامہ کی نماز جنازہ جیسا کہ امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسلامی شریعت کے مطابق اس کی آخری رسوم ادا کی ہے، ویڈیو جاری کرتے تاکہ دنیا کو یہ یقین ہوجاتا کہ واقعی اسامہ آپریشن میں مارا گیا ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ور نہ ہی ہندوستانی میڈیا نے اس پر سوال اٹھایا، آخر کیوں؟
ہندوستانی میڈیا کی دیدہ دلیری کی حد اس وقت اور بڑھ گئی جب امریکہ نے پاکستان میں اسامہ بن لادن کے گھر سے اسپیشل فورس کے آپریشن کے دوران قبضے میں لیے گئے ویڈیوز جاری کردیے جس میں انہیں دنیا بھر کے ٹیلی ویژنوں کے لیے اپنے پیغامات کی ریکارڈنگ کی ریہرسل کرتے اور پھر انہیں ٹیلی ویژن چینل پر دیکھتے ہوئے دکھایا گیاہے۔ جس میں دکھا یا ہے کہ اسامہ اپنا ویڈیو خود دیکھ رہا ہے۔ویڈیو میں ایک 70-80 سال کے بوڑھے شخص کو دکھایا گیا ہے جب کہ اسامہ بن لادن کی عمر 53برس ہے۔اس کے علاوہ اسامہ کو جس بوسیدہ اور بے ترتیب جگہ میں دکھایا گیا ہے وہ خوداس بات کی نفی ہے وہ اسامہ نہیں ہے، لیکن ہندوستانی میڈیا نے اس ویڈیو پر گھنٹوں خصوصی پروگرام چلایا ۔ کوئی ہندوستانی چینل نہیں تھا جس پر اس ویڈیو کی حقانیت ثابت کرنے کی کوشش نہ کی جارہی ہو۔
ایک چینل نے اسامہ کی بہادری کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ اسامہ بوڑھادکھائی دینے سے خوف کھاتا تھا۔ وہ ہر وقت جوان دکھائی دینا چاہتا تھا۔ اس لیے وہ اپنا کوئی ویڈیو ریکارڈ کرانے سے قبل اپنے بال میں خضاب لگاتا تھا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ آج امریکہ یا دیگر ذرائع نے جتنے بھی ویڈیو ز جاری کیے ہیں اس کے بارے میں شبہ رہا ہے اور آزاد ذرائع سے اس کے حقیقی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے کہ وہ اسامہ کا ہی کا ویڈیو ہے یاکسی اور کا ہے۔ تکنالوجی اتنی ترقی کرگئی ہے کہ اب کچھ بھی ممکن نہیں ہے۔ جو اسامہ کو جانتے ہیں یا جن لوگوں نے اسامہ کا انٹرویو لیا ہے وہ اس بات کی نفی کرتے ہیں کہ اسامہ ایسی چیزوں سے خوف کھاتا تھا۔ امریکہ نے اسامہ آپریشن کے ضمن میں جتنے بھی ویڈیوز جاری کیے ہیں ان پر شکوک و شہبات کی دبیز چادرہ پڑی ہے۔ اسے عالمی میڈیا نے یکسر مسترد کردیا ہے کہ بوڑھا نظر آنے والا شخص جسے امریکہ اسامہ بن لادن بناکر پیش کر رہا ہے اور جسے ہندوستانی میڈیا اور خصوصاً الیکٹرانک میڈیا نے من و عن قبول کرلیا ہے رات و دن اس پر خصوصی پروگرام نشر کرنے لگے ہیں۔ دراصل اس جعلی ویڈیو کی آڑ میں ہندوستانی مسلمانوں پر دبائو بنانا تھا اور انجانے طور پر یہ احساس کرانا تھا کہ مسلمان دہشت گرد ہیں، خونخوارہیں اور ہندوستان میں مسلمانوں کے خلاف ایک طرح سے نفرت کا ماحول پیدا کرنا تھا۔
اگر امریکہ نے واقعتا مار ڈالا ہے تو وہ اسامہ کا ویڈیو کیوں نہیں جاری کرتا جس طرح اس نے عراق کے معزول صدر صدام حسین کے بیٹوں کی ہلاکت کے بعد فوراً ان کی لاشوں کی تصاویر جاری کی تھیں۔ اسی طرح طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد ان کی لاش کی بھی تصاویر اس خبر کی تصدیق کا اہم جزو تھا۔ امریکی ’میڈیا منیجر‘ کے پاس اس لمحے کی تیاری کے لیے دس سال ہونے کے باوجود وہ تیاری نہیں کرسکے کہ کب کب کون کون سا اسکرپٹ جاری کرنا ہے۔ اس لیے آپریشن اسامہ تضادسے پر ہوگیا۔
سرد جنگ کے دوران 1967 میں امریکیوں نے جنوبی امریکہ کے چے گیوارا کی لاش کی تصاویر تو بنا لیں لیکن پھر لاش کو ایک نا معلوم مقام پر دفن کردیا۔ تدفین سے پہلے گیوارا کے ہاتھ کاٹ کر فنگر پرنٹس کی تصدیق کے لیے آرجنٹینا بھیج دیا گیا۔اسی طرح 1961 میں افریقی ملک کانگو کے عوامی سوشلسٹ رہنما پتریس لمومبا کو ہلاک کر کے ان کی لاش کو نا معلوم مقام پر پہلے دفن کیا اور بعد میں اس قبر کو بھی کھول کر ان کی میت کو تیزاب سے جلانے کی کوشش کی گئی۔لیکن اس کے باوجود کوئی اور فوٹو نہیں جاری کی گئی۔اب سوال یہ ہے کی نیو میڈیا کے اس جدید دور میں امریکہ نے اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بارے میں کوئی پلان کیوں نہیں بنایا؟ کیا لاش اس حالت میں نہیں تھی کہ اس کی تصویر بنائی جاتی؟ یا پھر امریکی اور پاکستانی حکام ابھی اس بات پر متفق نہیں ہو سکے ہیں کہ ان کا اس بارے میں حتمی بیان کیا ہوگا؟ اس کے علاوہ کیا امریکہ کو زندہ اسامہ یامردہ اسامہ خطرناک نظر آیا؟
امریکہ کے جاری کردہ ویڈیوز پر عالمی میڈیا سمیت بی بی سی اور جرمن ریڈیو ڈوئچے ویلے نے کئی سوالات قائم کیے ہیں ۔بی بی سی نے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پہلا اور اہم سوال یہ ہے کہ کم از کم ایک ویڈیو میں دیکھا جانے والا بوڑھا آدمی واقعی بن لادن ہے؟ سامنے سے انکی تصویر ہوتی تو ان کی شناخت آسان ہوتی۔ لیکن سفید داڑھی والا یہ انسان جو دائیں ہاتھ میں ریموٹ کنٹرول سے اپنی ویڈیو ریکاڈنگ کا معائنہ کر رہا ہے وہ بن لادن سے زیادہ ضعیف معلوم ہوتا ہے۔بن لادن 54 سال کے تھے۔بن لادن کے بارے میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے اہلکاروں کاعام خیال ہے کے وہ اپنی امیج کا کافی خیال رکھتے تھے اور ہمیشہ کنٹرول میں نظر آنا چاہتے تھے۔ اس ویڈیو میں وہ جس پوشاک میں نظر آتے ہیں وہ اس تاثر کے برعکس ہے۔ ان پانچ ویڈیوز میں سے کسی ویڈیو میں یہ ظاہر نہیں ہورہاہے کہ وہ ایبٹ آباد والے مکان میں ہیں۔تین دیگر کلپس میں پیغام ریکارڈ کرانے کی ریہرسل کی گئی ہے۔اسامہ بن لادن کی یہ ویڈیو 2007 کے بعد پہلی ویڈیو ہے جو منظرِ عام پر آئی ہے۔دوسرا سوال یہ اٹھتا ہے کے آڈیو کو مٹا کیوں دیا گیا؟ اس کا خاطر خواہ جواب نہیں ملتا۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کے میڈیا کو جاری کیے گئے ویڈیو کو امریکی اہلکاروں نے ایڈٹ کر کے پیش کیا ہے۔ اب یہ صرف قیاس کرنے کے مانند ہوگا کہ ایڈٹ کیے گئے ویڈیو میں کیا تھا؟تیسرا اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کے ان فلموں میں سے ایک میں وہ پچھلے سال اکتوبر میں امریکہ کے خلاف پیغام جاری کیوں کر رہے تھے؟ اس وقت ایسا کیا ہوا تھا کے اسامہ کو پیغام ریکارڈ کرنے کی ضرورت پڑی؟ دوسری بات یہ کہ انہوں نے ویڈیو کو ریلیز کیوں نہیں کیا؟ یہاں ایک اہم ضمنی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بن لادن نے دو ہزار سات کے بعد کوئی ویڈیو پیغام جاری نہیں کیا تھا۔ ان کے سارے پیغام آڈیو میں ہوتے تھے، تو پچھلے سال انہوں نے ویڈیو میں کیوں ریکارڈنگ کی؟ ان دونوں سوالوں کا جواب امریکی اہلکاروں کے پاس نہیں تھا۔
اس وقت ہندوستانی میڈیا میں دائود ابراہیم کا نام چھایا ہوا ہے ۔وہ ایک مجرم ہے اور مجرم کی طرح ہی سلوک کرنا چاہیے لیکن کیا وہ ہندوستان میں واحد مجرم ہے؟ اس کے علاوہ کوئی اورمفرور مجرم نہیں، چھوٹا راجن کیا سادھو ہے؟ اس کی کھوج خبر کوئی حکومت یا میڈیالینے کو تیارکیوں نہیں ہے ؟ نہ ہی عمداََ اور نہ ہی خطا ً۔ حیرانی اور افسوسناک بات یہ ہے کہ جرم کا معیار یہاں ہندو اور مسلمان کودیکھ کر طے کیا جاتا ہے۔دائود ابراہیم پر 1993 میں ممبئی بم دھماکہ کا الزام ہے جس میں 256 افراد مارے گئے تھے اور ڈھائی سو کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا لیکن اس سے پہلے بابری مسجد کی شہادت کے نتیجہ میں ہندو مسلم فسادات میں ڈھائی ہزار مسلمان مار دیے گئے تھے اورانہیں ڈھائی ہزار کروڑ روپے کا نقصان ہوا تھا لیکن اس کے خطاکاروں کو اب تک سزا نہیں ملی ۔ بم دھماکوں کے الزام میں ایک درجن سے زیادہ مسلمانوں کو پھانسی سمیت مجموعی طور پر 117 مسلمانوں کوعمر قید اور مختلف سزا ئیں دی جاچکی ہیں۔ ہندوستان میں سزا کا دوہرا پیمانہ کیوں ہے؟ ہندوستانی میڈیا نے اس بات کو کبھی بھی اٹھانے کی کوشش کیوںنہیں۔ سنٹر فار اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز کے سینئر فیلو یوگیندر یادو، آزاد صحافی انل چمڑیا اور میڈیا اسٹڈی گروپ کے جتندر کمار کی طرف سے کیے گئے مشترکہ سروے نے ان باتوں پر اپنی توجہ مرکوز کی تھی اور اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی کہ اعلیٰ ذات کے علاوہ دیگر پسماندہ قوم کے مسائل میڈیا میں کیوں نہیں اٹھائے جاتے اور ان کی آواز صدا بصحرا کیوں ثابت ہوتی ہے۔ سروے میں حیران کن نتائج سامنے آئے تھے۔ سروے کے دوران پتہ چلا کہ 88 فیصد اعلیٰ ذات کے ہندومیڈیا میں فیصلہ ساز عہدوں پر فائز ہیںجو یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سی خبر کتنی اور کہاں چھپے گی یا اسے کتنی جگہ نہیں دی جائے گی۔ اس شعبہ میں صرف برہمن ہی 94 فیصد جگہوں پر قابض ہیں۔ ہندوستان کے نیشنل میڈیامیںاس طرح کے عہدوں پر مسلمانوں کی موجودگی صرف 4 فیصد ہے جب کہ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق مسلمانوں کی آبادی 13.4 فیصد ہے۔ اس کے مقابلے ہندی میڈیا میں مسلمانوں کا تناسب قدرے بہتر6 فیصد ہے۔ پسماندہ ذات سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کا فیصد بھی صرف چار ہے۔
__________________
اس دور میں تعلیم ہے امراضِ ملت کی دوا
ہے خونِ فاسد کے لیے تعلیم مثل نیشتر

Last edited by skjatala; 02-06-11 at 02:25 PM..

 
skjatala's Avatar
skjatala
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,651
شکریہ: 9,762
1,373 مراسلہ میں 4,248 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 207
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (02-06-11), ارشد کمبوہ (02-06-11), حیدر (02-06-11), راجہ اکرام (02-06-11)
پرانا 02-06-11, 02:33 PM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,567
کمائي: 315,065
شکریہ: 25,210
16,387 مراسلہ میں 41,618 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
سروے کے دوران پتہ چلا کہ 88 فیصد اعلیٰ ذات کے ہندومیڈیا میں فیصلہ ساز عہدوں پر فائز ہیںجو یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سی خبر کتنی اور کہاں چھپے گی یا اسے کتنی جگہ نہیں دی جائے گی۔ اس شعبہ میں صرف برہمن ہی 94 فیصد جگہوں پر قابض ہیں۔
جب صورتحال یہ ہو تو پھر ان سے کیا امید رکھنی
راجہ اکرام آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
skjatala (02-06-11), فیصل ناصر (02-06-11), حیدر (02-06-11)
پرانا 02-06-11, 02:33 PM   #3
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,850
کمائي: 277,997
شکریہ: 1,151
6,264 مراسلہ میں 14,132 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

سچ وہ ہے جو سچ ہے اورجھوٹ وہ ہے جو ہمیں دیکھایا جاتا ہے لیکن ہم اُسکو سچ مان کر چل پڑتے ہیں۔
__________________
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
skjatala (02-06-11), فیصل ناصر (02-06-11), حیدر (02-06-11)
پرانا 02-06-11, 05:50 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,220
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
جب صورتحال یہ ہو تو پھر ان سے کیا امید رکھنی
بےدینوں سے امید رکھ کر الزامات کے ناختم ھونے والے سلسلے ''مول ''لے تو لیے ھیں۔
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
عروج کا شکریہ ادا کیا گیا
skjatala (02-06-11)
پرانا 03-06-11, 09:35 PM   #5
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,441
شکریہ: 4,038
2,386 مراسلہ میں 5,923 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
کوئی ملزم اس وقت تک مجرم نہیں ہوتا جب تک عدالت اسے قصوروار قرار نہ دے دے۔
اسامہ بن لادن کو دنیا کی کسی عدالت نے قصوروار نہیں ٹھہرایا ہے اور نہ ہی کسی عدالت میں ان پر آج تک کسی طرح کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔ اس ضمن میں جو بھی تھیوری ہیں وہ سب امریکی ہیں۔ان پر امریکہ نے جتنے بھی الزامات عائد کیے ہیں وہ ہمیشہ مشکوک رہے ہیں
درست بات لکھی ۔ ۔ ۔

اسامہ کی موت ہر کفار اور کفار کے اتحادیوں کے لئیے 1 خوشی کی بات تھی مگر اہل ایمان کے لیئے 1 دھچکہ ۔ ۔

اسامہ کی موت کا اعلان سن کر خوشیاں مناتے ہوے امریکیوں کو دیکھ کر ہی ہمیں سمجھ جانا چاہیئے کہ اسامہ کن کے لئیے دہشت گرد تھا ۔ ۔ ۔
اگر کفار کے لیئے اور یقیناً کفار کے لئیے ہی تھا تو یہ تو مؤمن کی صفت ہے ۔ ۔

باقی رہا بھارتی میڈیا ۔ ۔ تو یہ رب کا فیصلہ کافر و مشرک کبھی مؤم کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا اسے جب بھی موقعہ ملے گا وہ ضرور ڈسے گا ۔ ۔

کاش کہ یہ بات سب کو سمجھ آجائے
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/
سیفی خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
skjatala (03-06-11), ننھا بچہ (03-06-11)
جواب

Tags
فوٹو, پاکستان, پاکستانی, وزیر, قید, نفرت, چینل, نماز, نظر, مکمل, موت, ممکن, مسائل, مسجد, معلوم, آپریشن, آڈیو, اللہ, امریکہ, اعلیٰ, تصاویر, دھماکہ, داڑھی, طالبان, عقل


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 07:25 PM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger